batakh aur murghi ka choza

Batakh Aur Murghi Ka Choza

بطخ اور مرغی کا چوزا

میں ہمیشہ یہ بات کرتی ہوں کہ ہمارے نو نہال ہمارا روشن مستقبل ہیں۔ اگر آج ہم ان کی مضبوط اور اعلی اخلاقی اقدار پر مبنی تربیت کریں گے تو کل یہ ہمیں ایک بہترین معاشرہ دینے کے قابل ہو نگے۔

عیشتہ الرّاضیہ پیرزادہ
میں ہمیشہ یہ بات کرتی ہوں کہ ہمارے نو نہال ہمارا روشن مستقبل ہیں۔ اگر آج ہم ان کی مضبوط اور اعلی اخلاقی اقدار پر مبنی تربیت کریں گے تو کل یہ ہمیں ایک بہترین معاشرہ دینے کے قابل ہو نگے۔

ابھی یہ عمر کے جس حصے میں ہیں اس میں ان کی بہترین تربیت سبق آموز کہانیوں کے ذریعے کی جا سکتی ہے۔اس طرح یہ آپ کی نصیحت زیادہ تو جہ اور دلچسپی سے سنیں اور ذہن نشین رکھیں گے۔اسی خیال کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے میں ایک کہانی بیان کر رہی ہوں ۔
کہانی کچھ یوں ہے کہ
بی بطخ اور مرغی دونوں نے انڈے دیئے۔ دونوں کو اپنے اپنے انڈوں پر بہت فخر تھا۔ جب یہ اپنے اپنے انڈوں پر بیٹھتیں تو ان کے چہروں پر ایک بیوقوف سی مسکراہٹ ہوتی۔ مرغی نے بی بطخ سے کہا کہ بہن کیا ہم اپنے انڈے ساتھ ساتھ رکھ کر دیکھیں کہ کس کے انڈے زیادہ خوبصورت ہیں ؟
بی بطخ نے کہا کہ اگر تم چاہو تو ایسا کر لیتے ہیں مگر میں جانتی ہوں کہ میرے انڈے زیادہ خوبصورت ہیں۔

(جاری ہے)

بی مرغی یہ سن کر غصے میں آ گئی اور کہا کہ بہن پہلے میرے انڈے دیکھو پھر بات کرنا۔
بی بطخ اپنے انڈے لائی اور فرش پر بچھے بھوسے پر قطار میں رکھ دیئے۔ پھر اپنے ایک انڈے کی طرف اشارہ کرکے کہنے لگی کہ دیکھو یہ انڈہ کتنا گول مٹول ہے۔
پھر بی مرغی نے بھی اپنا ایک انڈہ اٹھایا اور کہا کہ یہ انڈہ دیکھو کتنا صاف شفاف اور گول مٹول ہے۔ پھر انہوں نے یہ دو انڈے نیچے رکھے اور مزید دو انڈے اٹھا لئے۔ بی بطخ بولی ’’یہ انڈہ گول بھی ہے اور شفاف بھی‘‘ اور اس کے اوپر باریک سی دھاریں بھی ہیں ۔
اسی طرح انڈوں پر بحث کرتے ہوئے جب انہوں نے آخری انڈہ نیچے رکھا تب تک مرغی اور بطخ کے انڈے مکس ہو گئے تھے۔
یہ دیکھ کر دونوں پریشان ہو گئیں۔ بی مرغی بولی کہ چونکہ میں بہت موٹی تازی ہوں اس لئے میرے انڈے بھی بڑے والے ہیں۔
یہ سن کر بی بطخ نے چھوٹے انڈے اٹھائے اور انہیں اپنے گھونسلے میں رکھ دیا۔ اسی طرح مرغی نے بڑے انڈے اٹھائے اور انہیں اپنے قبضے میں لے لیے۔ پھردونوں اپنے اپنے انڈوں پر تب تک بیٹھی رہیں جب تک ان میں سے پیارے پیارے ننھے منے گول مٹول چھوٹے چھوٹے چوزے نہیں نکل گئے۔
ایک دن دونوں اپنے اپنے چوزوں کو لئے سیر پر نکلیں تو ایک دوسرے کا سامنا ہو گیا۔
بی بطخ بڑے فخر سے بولی کہ کیا میرے سب سے پیارے چوزے نہیں ہیں ؟ کیا بی مرغی تم نے میرے پیارے چوزے پہلے کبھی نہیں دیکھے ؟ بی مرغی نے جواب دیا کہ واقعی بہت خوبصورت چوزے ہیں تمہارے۔
مگر یہاں بھی تو دیکھو کیا تم نے اس سے پہلے اتنے خوبصورت چوزے پہلے کبھی نہیں دیکھے۔؟ جواب میں بطخ نے بھی مرغی کے چوزوں کی تعریف کی۔ اگلے دن بطخ اپنے چوزوں کو کہنے لگی کہ چلو ایک قطار بنائو اور میرے پیچھے چلو آج میں تمہیں تیرنے پر پہلا سبق سکھائوں گی۔
لیکن قطار نہیں بن رہی تھی۔ وہ بار بار قطار سے باہر نکل جاتے۔ چوزے تو بس ماں کے ارد گرد بھاگتے دوڑتے رہے۔
بطخ انہیں سمجھا سمجھا کر تھک چکی تھی۔ جب وہ تالاب کے پاس پہنچے تو چوزوں نے اپنے پائوں پانی میں ڈالے اور پانی میں اترنے سے انکار کردیا۔
ادھر بی مرغی اپنے چوزوں کو مرغی کی طرح چوگنا سکھا رہی تھی ۔ وہ انہیں زمین کو کھرونچ کر کیڑے مکوڑے پکڑنا سکھا رہی تھی۔ لیکن چوزے پکڑ نہیں پا رہے تھے۔ ماں انہیں بتا رہی تھی کہ کھیل میں ادھر ادھر بھاگ دوڑ کر اپنی خوراک تلاش کریں جبکہ بچے ماں کے پیچھے پیچھے چل رہے تھے۔
تھوڑی دیر بعد مرغی نے کسی کام سے منہ کسی اور طرف کیا تو چوزے کتے کے پانی پینے والے برتن میں چلے گئے اور باہر آنے سے انکار کردیا۔ کتا ساتھ ہی سو رہا تھا‘ شور سے اس کی آنکھ کھل گئی۔
صورتحال سے پریشان بی مرغی اور بی بطخ نے ٹھنڈی آہیں بھریں اور مسئلے کے حل کیلئے ساتھ ساتھ بیٹھیں۔
اب یہ دونوں سمجھ چکی تھیں کہ انہوں نے غلطی سے اپنے انڈے ایک دوسرے سے بدل لئے تھے۔ دونوں نے ایک دوسرے سے کہا کہ اب ہم اس بحث میں نہیں پڑیں گے۔ کہ کس کے چوزے پیارے ہیں۔ ہم دونوں کے چوزے ہی بہت پیارے ہیں۔ پھر دونوں شام تک خوب باتیں کرتی رہیں اور اپنے اپنے چوزوں کو دیکھ کر خوش ہوتی رہیں۔
بی بطخ کے چوزے پانی کے پیالے میں تیر رہے تھے جبکہ مرغی کے چوزے ادھر ادھر بھاگ دوڑ کر اپنی خوراک تلاش کررہے تھے۔
تو پیارے بچو اس کہانی سے یہ سبق ملتا ہے کہ خود پسندی اچھی عادت نہیں ہے۔ کیونکہ اگر آپ کے پاس کو ئی بہترین چیز ہے تو یہ ضروری نہیں کے وہ صر ف آپ ہی کے پاس ہو۔دوسروں کی اچھائی کو بھی سراہنا چاہیے۔ اس طرح آپس میں پیار بڑھتا ہے۔

Your Thoughts and Comments