Behan Jaisi Padosan

بہن جیسی پڑوسن

انتہائی نیک سیرت خاتون ،راضیہ اگر چہ میری پڑوسن تھیں ،مگر مجھے بہن کی طرح عزیز تھیں ۔پورامحلّہ ان کا شیدائی تھا۔ایک سچّی عاشقِ رسول ہونے کے ناتے اپنے گھر میں ہر ہفتے باقاعدگی سے

منگل اکتوبر

behan jaisi padosan

گوہر خالد
انتہائی نیک سیرت خاتون ،راضیہ اگر چہ میری پڑوسن تھیں ،مگر مجھے بہن کی طرح عزیز تھیں ۔پورامحلّہ ان کا شیدائی تھا۔ایک سچّی عاشقِ رسول ہونے کے ناتے اپنے گھر میں ہر ہفتے باقاعدگی سے خواتین کا مذہبی اجتماع کرتیں ،جس میں ایک عالمہ قرآن پاک کی ایک آیت مبارکہ یا کوئی حدیثِ مبارکہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیان کرتیں ،بعدازاں اجتماعی طور پر گریہ وزاری کے ساتھ دعا کے علاوہ محلّے کی خواتین اپنی اپنی پریشانیاں اور حاجات بتا کر خصوصی دعائیں بھی کرواتیں ۔


ان کا اخلاق اتنا اچھاتھا کہ ہر ایک کے آگے بچھی جاتیں ۔کبھی کسی کے کام سے انکار نہیں کرتیں ،سب ہی ان سے اپنے دکھ درد شےئر کرتے تھے۔وہ بہت سوں کی ہم راز تھیں ۔محفل کے اختتام پر سب کی تواضع کرنا ان کا معمول تھا اور کبھی کسی بات پر زیادہ بحث و تکرار نہیں کرتیں ۔

(جاری ہے)

میرا ایک بیٹا اُن دنوں بسلسلہ روزگار ملک سے باہر تھا ،وہ کسی بات پر مجھ سے ناراض ہو گیا،تو میرا فون تک ریسیو کرنا چھوڑ دیا۔اس کے اس طرح ناراض ہو جانے پر میرا رورو کر براحال ہوگیا تھا ۔
اسی پریشانی کے عالم میں اگلے ہفتے اجتماع میں گئی ،تو وہاں بھی اپنے اس مسئلے پر خصوصی طور پر عالمہ صاحبہ سے دعا کروائی۔
یقینا یہ دعا ہی کی برکت تھی کہ میرے گھر میں داخل ہوتے ہی بیٹے کا فون آگیا اور فوراََ ہی سارے گلے شکوے دُور ہو گئے۔میری اس پیاری اور ہر دل عزیز سہیلی ،راضیہ کے ،دوستی نبھانے اور رشتے ناتوں کا احترام کرنے کا اندازہ اس بات سے لگا یا جا سکتاہے کہ پہلی جماعت کی بہت سی سہیلیوں سے آخردم تک ان کا رشتہ برقرار رہا۔

جب وہ بیمار پڑیں ،تو گھر میں لا ہور ،اسلام آباد ،برطانیہ اور دیگر جگہوں سے مزاج پرسی کے لیے آنے والی خواتین کا تانتابندھ گیا۔2015ء کے آخر میں سرطان جیسے موذی مرض کا شکار ہوئیں ،تو اس کا مردانہ وار مقابلہ کیا۔باقاعدگی سے علاج کرواتی رہیں ۔
دو سال پہلے بڑی بیٹی کی شادی کی ،تو کچھ ماہ بعد شوہر کا انتقال ہو گیا،اس دوران چھوٹی بیٹی اور بیٹا بیرونِ ملک زیر تعلیم تھے۔کچھ عرصے بعد وہ دونوں بھی پاکستان آگئے تو ،ان دونوں کی شادی کے بعد اس باہّمت اور حوصلہ مند خاتون نے اپنا آپریشن کروایا ،لیکن مرض ختم نہ سکا۔

محلّے کی سب خواتین نے مل کر ان کی صحت یابی کے لیے کئی بار ”قرآن خوانی ،آیتِ کریمہ اور ”یا سلام “کا ختم کیا۔اور سب دل سے گڑ گڑ ا کر اللہ تعالیٰ سے ان کی صحت کے لیے دعا کرتیں،مگر اللہ تعالیٰ کو کچھ اور ہی منظور تھا۔
”مرض بڑھتا گیا،جوں جوں دوا کی۔ “ کسی طور مرض میں افاقہ نہیں ہورہا تھا ،اس موقعے پر ان کا صبر دیکھنے والا تھا ،کبھی چہرے پرپریشانی یا تکلیف کے آثار نظر نہیں آتے،جب بھی خیریت دریافت کی جاتی ،ہمیشہ ایک ہی جواب ملتا”الحمداللہ “،لیکن سرطان کے مرض نے انہیں اندر سے توڑ کر رکھ دیا تھا ،روزبہ رو ز حالت بگڑتی جارہی تھی ،بالآخر انہیں وینٹی لیٹر پر منتقل کرنا پڑا اور دوڈھائی برس سخت تکالیف جھیلنے کے بعد 13جنوری کی شام اپنے خالقِ حقیقی سے جاملیں ۔
آج بھی جب ہفتے کا وہ مخصوص دن آتا ہے ،تو ان کا چہرہ آنکھوں میں گھوم جاتا ہے ۔ان کے گھر والی مقدّس محافل میں قائم ہونے والا پیار ومحبت اور خلوص وعقیدت کا رشتہ آج بھی برقرار ہے ۔

Your Thoughts and Comments