prize bond

Prize Bond

پرائز بانڈ

”ارے بیٹا ! مجھے صرف ایک سوروپے کی ضرورت ہے ۔تم اتنے سارے پیسے کیوں دے رہی ہو؟“بڑی بی نے بیگم صاحبہ سے کہا۔

جاوید اقبال صدیقی
”ارے بیٹا ! مجھے صرف ایک سوروپے کی ضرورت ہے ۔تم اتنے سارے پیسے کیوں دے رہی ہو؟“بڑی بی نے بیگم صاحبہ سے کہا۔
”رکھ لیں اماں ! میرے پاس کھلے پیسے نہیں ہیں ۔یہ850 کا پرائز بانڈ ہے ۔

کسی کے ہاتھ بینک بھجوا کر پیسے لے لینا،تمھارے کام آئیں گے ۔“
اماں پرائز بانڈ ہاتھ میں پکڑ کر گھر آگئیں ۔دوسرے دن صبح سویرے وہ قریبی بینک پہنچ گئیں ۔
”یہ لے لو اور مجھے پیسے دے دو۔“اماں نے پرائز بانڈ کیشےئر کی طرف بڑھایا ۔
اماں کے ہاتھ میں پرائز بانڈ دیکھ کر وہ زیرلب مسکرایا اور نوٹ ایک طرف رکھ کر کہنے لگا:”لاؤ،ابھی دیتا ہوں ۔“
پرویز ایک ہوشیار اور لالچی آدمی تھا۔وہ ہمیشہ موقعوں کی تلاش میں رہتا تھا ،جب کوئی ضرورت مند اسے پرائز بانڈ لا کر دیتا ،ایسے پرائزبانڈ وہ اکثر گھر لے جایا کرتا تھا۔

(جاری ہے)

اس نے اماں کے ہاتھ سے پرائز بانڈ لے کر دیکھا تو خوشی اس کے چہرے پر دوڑ گئی ،کیوں کہ ایک دن پہلے ہی اس بانڈ کی قرعہ اندازی ہوئی تھی ۔وہ اماں کو بھول کر کمپیوٹر میں مطلوبہ نمبر چیک کرنے لگا۔اچانک اس کے ماتھے پر پسینا آگیا۔
اس بونڈ پر پہلا انعام نکلا تھا۔اس نے جلدی جلدی پرائز بانڈ دراز میں رکھا اور ۷۵۰روپے گن کر اماں کو دینے لگا تو بڑی بی نے کہا:”اے بیٹا ! تمھارے تو ہاتھ کانپ رہے ہیں ،ماتھے پر پسینا بھی آیا ہوا ہے آج گھر جاکر ڈاکٹر سے دوا ضرور لے لینا۔
تمھاری طبیعت ٹھیک نہیں ہے ۔“
اماں ،پرویز کو نصیحت کرتے ہوئے بینک سے نکل گئیں۔
دوسرے دن پرویز نے بینک سے چھٹی کی اور سیدھا اسٹیٹ بینک آف پاکستان پہنچا،جہاں سے اس نے انعامی رقم وصول کی اور واپس گھر کی راہ لی۔ابھی وہ راستے میں ہی تھا کہ اس کی بیوی کا فون آگیا۔
وہ گھبرائی ہوئی لگ رہی تھی اور ساتھ ہی رو بھی رہی تھی ۔
پرویز نے پوچھا:”بتاؤ تو بات کیا ہے ،تم روکیوں رہی ہو؟“
اس کی بیوی نے روتے ہوئے بتایا کہ ان کا بیٹا اسجد اسکول نہیں پہنچا ۔پرویز جیسے تیسے گھر پہنچا تو دیکھا کہ گھر میں کہرام مچا ہواتھا ۔
اس کی بیوی نے رو رو کر بُرا حال کر رکھا تھا۔تمام عزیز ،رشتے دار اور محلے والے اس کے گھر میں جمع تھے ۔اسجد کو ہر جگہ تلاش کیا گیا ،مگر وہ کہیں نہ ملا۔اسی حالت میں شام ہو گئی۔
یکا یک پرویز کے دماغ میں عجیب خیال آیا۔وہ رپوں کا تھیلا اپنے سامنے رکھ کر رونے لگا۔
اس دوران بینک میں بھی اسجد کے گم ہونے کی اطلاع پہنچ چکی تھی ۔اس کے بینک کے ساتھی بھی اس کے گھر پہنچ گئے ۔انھوں نے جب یہ منظر دیکھا تو بہت حیران ہوئے ۔پوچھنے پر پرویز نے بتایا:”یہ میرے کیے کی سز ا ہے ۔میں نے اماں سے ۷۵۰روپے کا انعامی بانڈ لے کر دھو کے سے انعامی رقم حاصل کی ہے ۔
یہ سب اسی کی وجہ سے ہوا ہے ۔میں ہر صورت یہ رقم اماں کو واپس کرنا چاہتا ہوں ،لیکن میں اس کوتلاش کہاں کروں گا۔اس کا تو کوئی پتا بھی نہیں ۔“یہ کہہ کروہ رونے لگا۔
اس کے بینک کے ساتھیوں میں اشرف گارڈ قریب ہی کھڑا تھا۔اس نے کہا:”پرویز بھائی ! آپ پریشان نہ ہوں ۔
وہ اماں میرے گھر کے پاس ہی رہتی ہیں ۔“
یہ سن کر پرویز کو کچھ اطمینان ہوا اور وہ اشرف کے ساتھ اماں کے گھر روانہ ہو گیا۔اماں کے گھر پہنچ کر پرویز نے اماں سے کہا:”اماں ! مجھے معاف کردیں اور یہ رقم لے لیں ۔یہ سب پیسے آپ کے ہیں ۔
مجھے صرف میرے 850روپے دے دیں اور میرے بیٹے کے لیے دعا کریں کہ اللہ کرے،وہ مل جائے۔“
اماں نے رقم دیکھ کر کہا:”بیٹا ! میں اتنی بڑی رقم کا کیا کروں گی؟“
لیکن پرویز نہ مانا اور سارے پیسے اماں کو دے کر آگیا۔جب گھر پہنچا تو دیکھا کہ پولیس موبائل دروازے پر کھڑی تھی ۔انسپکٹر نے پرویز کو خوش خبری دی کہ اسجد مل گیا ہے ۔اس طرح پرویز کو اپنے کیے کی سزا بھی مل گئی اور تو بہ کا انعام بھی ۔

Your Thoughts and Comments