Foori Khbar

Foori Khbar

فوری خبر

ناظرین! اب سے کچھ ہی دیر پہلے ایک لاوارث تھیلا اہم سرکاری عمارت کی دیوار کے ساتھ نظر آیا ہے۔ سرکاری عمارت خالی کرائی گئی ہے۔ یہ سن کر ہمارے کان کھڑے ہوگئے

عشرت جہاں:
تو بھائی ! اب کیا کریں اس تھیلے کا؟“ بڑے بھائی کے انداز نے ہمیں گڑبڑا دیا۔ اس سوال کا مقصد ہم سے مشورہ لینا نہیں تھا، بلکہ کرنا وہی تھا جو وہ ٹھان چکے تھے۔ ”ب․․․․․بھ․․․․ بھائی! ہم کیا بتائیں! “ ہم گڑبڑا کر بولے: اگر ایسا ویسا کچھ ہواتو ماں کی جوتی ہوگی اور ․․․․․اور․․․ ہماری کمریں۔
“ اماں کو بتائے گا کون؟ ان کا انداز حسب معمول طنز سے بھر پور تھا۔ ” ہم تو بتانے والے نہیں لیکن․․․․․․ اگر سامان کا یہ تھیلا خالہ محمودہ تک نہ پہنچا تو پھر خیز نہیں۔ “ ہم نے اندیشہ ظاہر کردیا۔اماں نے پہلے کبھی پوچھا ہے جو اب پوچھیں گی۔
پچھلی بار پھوپھی حمیدہ کو جو سامان دیا تھا،اس کا تذکرہ بھی نہیں کیا تھا۔ ان کا فلسفہ ہی یہی ہے، دوسرے کی مدد اس طرح کرو کہ کسی کی عزت نفس مجروح نہ ہو“ بھائی کا انداز فلسفیانہ تھا۔

(جاری ہے)

میں تو اسے پھینکنے والا ہوں، اب کون اتنی دور خالہ کو یہ تھیلا پہنچانے جائے۔

“ انہوں نے حتمی انداز سے کہا۔ کوئی غریب مستحق خود ہی تھیلے میں سے سامان نکال کر لے جائے گا۔“ ”بھائی! اگر آپ نے تھیلا یہاں پھینک دیا تو اماں کا زنانہ ہتھیار ہوگا اور آپ کی کمر۔ وہ ذرا دیر کورکے پھر ایک طرف سرخ اینٹوں کی بنی قدآدم دیوار کے ساتھ تھیلا رکھ کر اُلٹے قدموں لوٹ آئے اور اِدھر اُدھر دیکھے بغیر تھوڑی دیر مٹرگشت کرنے کے بعد ہم واپس گھر پہنچے ۔
گھر میں داخل ہوکر حسبِ معمول ہم نے سلام کیا۔ آگئے میرے بیٹے! اماں ہمیں دیکھ کر کھل اٹھیں۔ محمودہ باجی کیسی تھی؟ پہلا رسمی سوال ہماری طرف آیا۔ بالکل ٹھیک تھی۔ بڑے بھائی نے بھی رسمی جواب دیا۔ آپ کو سلام کہہ رہی تھیں۔ وعلیکم السلام۔
کہتے ہوئے انہوں نے ہمیں ہاتھ منھ دھونے کا کہا۔ ہم بھی تابعداری کا مظاہرہ کرتے ہوئے ہاتھ منھ دھو کر دسترخوان پر آبیٹھے۔ اگلے دن چوں کہ چھٹی تھی ، اس لیے خوب مزہ کیا۔ صبح دیر سے آنکھ کھلی ۔ پچھلی رات کی جاسوسی فلم اب بھی ذہن میں سمائی ہوئی تھی۔
بڑے بھائی ہم سے پہلے ہی سوفے پر موجود تھے۔ کوئی تفریحی پروگرام شدوسد سے جاری تھا کہ اچانک بریکنگ نیوز نے پروگرام بریک کردیا۔ دھماکے دار آواز کے ساتھ ہی براڈ کاسٹر کے ہیجانی انداز نے سب کو سانس روکنے پر مجبور کردیا۔ ناظرین! اب سے کچھ ہی دیر پہلے ایک لاوارث تھیلا اہم سرکاری عمارت کی دیوار کے ساتھ نظر آیا ہے۔
سرکاری عمارت خالی کرائی گئی ہے۔ یہ سن کر ہمارے کان کھڑے ہوگئے، جب کہ بڑے بھائی بھی سیدھے ہوکر بیٹھ چکے تھے۔ براڈ کاسٹر کا ہیجانی انداز لمحہ بہ لمحہ بڑھ رہا تھا۔ ایک لاوارث مشکوک تھیلے کی اطلاع ملی ہے۔ ناظرین! جیسا کہ آپ دیکھ سکتے ہیں ایک نامعلوم مشکوک تھیلا نظر آرہا ہے۔
اس کے ساتھ ہی ٹی وی اسکرین پر اس تھیلے کی تصویر دکھا دی ۔اماں جتنا نمودو نمایش سے دور رہنا چاہتی تھیں، ٹی وی چینل نے اتنی ہی مشہوری کردی تھی۔ تھیلے کے اردگرد پولیس اور دیگر عملہ موجود تھا۔ ٹی وی پر بتایا جارہا ہے کہ سرکاری عمارت خالی کرالی گئی ہے ۔
اسکے ساتھ والا علاقہ بھی خالی کرایا جارہا ہے اور ناظرین! بم اسکواڈ کا عملہ بھی موقع پر پہنچ چکا ہے۔ نیوز کاسٹر کی آواز بازگشت کی صورت میں ہمارے کانوں میں گونج رہی تھی:” ایک لاوارث تھیلا سرکاری عمارت کے ساتھ پایا گیا ہے۔
ایک تھیلا لاوارث ، نامعلوم ہے۔“ ناظرین! ہمارے نمائندے ندیم سرخی آپ کو مزید معلوم دیں گے، جی ندیم ! کیا دیکھ رہے ہیں آپ وہاں؟“ ندیم جو عبارت پڑھ رہے تھے تو سو پڑھ، لیکن اماں اسکرین کے قریب آکر تھیلا ضرور دیکھ چکی تھیں، بلکہ پہچان چکی تھیں۔
یہ تھیلا اماں نے خود اپنے ہاتھوں سے سیا تھا اور ایسے کئی تھیلے وہ گھر میں سی چکی تھیں، جن میں عید ،بقر عید کے موقعوں پر غریب اماں اور اماں کا زنانہ ہتھیار یعنی چمٹا ہم سے دورنہ تھا۔ ہم نے بڑے بھائی کی طرف دیکھا، جن کے چہرے پر ہوائیاں اُڑ رہی تھیں اور وہ اُڑنے کے لئے پَر تول رہے تھے۔ بڑا ہونے کے باعث اس تواضع کے پہلے حق دار تو وہ خود تھے۔ ہم نے زور سے آنکھیں میچ لیں، کیوں کہ بڑے بھائی کی درگت بنتے دیکھنا حدِ ادب کے خلاف جو تھا۔

Your Thoughts and Comments