jhot ki saza

Jhot Ki Saza

جھوٹ کی سزا

یہ ضرور کسی ڈائن کاکام ہے ۔ جنگل کے اوجھا نامی لکڑ بھگّے نے آنکھیں گول گول گھما کر کہا۔’’یہ جو آج کل ایک کے بعد ایک

یہ ضرور کسی ڈائن کاکام ہے ۔ جنگل کے اوجھا نامی لکڑ بھگّے نے آنکھیں گول گول گھما کر کہا۔’’یہ جو آج کل ایک کے بعد ایک بچّے مرتے جارہے ہیں ، ضرور اس میں اُسی کا ہاتھ ہے وہ ڈائن ہے ۔ اب اُس کی نظر تیرے بچّے پر ہے۔‘‘
’’ تو ہمارا کیا ہوگا؟ ‘‘براؤنی بھالو لگا رونے ۔

’’ہمارے دو بچّے ہوئے ایک تو پہلے ہی خدا کو پیارا ہوگیا۔ خدا جانے اسے کون سی بیماری لگی ہے۔ ‘‘
بنٹی لومڑی مانو سسکنے لگی :’’ بابا! کہیں یہ اُس سنہری ہرن کے کرتوت تو نہیں؟ اتنے بڑے کھیت اور کٹیا کی اکیلی مالکن بنی بیٹھی ہے۔
‘‘
سنہری ہرن تھی تو اکیلی اس کا کوئی بھی نہ تھا مگر کھیتوں پر راج تھا تو اسی کا ۔ جیسے ہی بنٹی لومڑی نے ہرن کی بات کی، تو مانو اوجھالکڑ بھگّا اسی موقع کی تلاش میں تھا ۔

(جاری ہے)

اس نے کہا :’’ ارے ! وہی تو ڈائن ہے اگر اس کانٹے کو راستے سے ہٹا دیا جائے تو کتنا اچھا ہوگا ؟ پھر سارے کھیتوں پر ہماراحکم چلے گا۔

‘‘ لکڑ بھگّے نے براؤنی بھالو کو اکساتے ہوئے مزید کہا کہ : ’’ ابھی اور اسی وقت جنگل کے راجا شیر سنگھ کے پاس چلو ۔ وہ پنچایت بلائے مَیں سب کے سامنے اس بات کااقرار کروں گا کہ سنہری ہرن ڈائن ہے اور اس کی نظر تمہارے بیٹے پر ہے ۔
وہ آنکھوں آنکھوں ہی سے بچّے کا خون چوس رہی ہے۔‘‘
براؤنی بھالو ان کے جھانسے میں آگیا:’’ ابھی چلو بابا! شیر سنگھ کے پاس ۔‘‘
پنچایت میں اوجھا لکڑ بھگّے اور بنٹی لومڑی نے سنہری ہرن کے خلاف گواہی دی ۔
شیر سنگھ نے فیصلہ سنادیا کہ :’’ سنہری ہرن ڈائن ہے، اس لیے آج رات جنگل کے تمام جانور میدان میں جمع ہوجائیں تاکہ اسے درخت سے باندھ کر زندہ جلادیا جائے۔‘‘
سنہری ہرن بہت روئی لیکن پتھر دل والے شیر سنگھ ، بنٹی لومڑی، اوجھا لکڑ بھگّے کے دل نہ پگھلے ۔
بل کہ بنٹی لومڑی اور اوجھا لکڑ بھگّے تو جیسے اسی بات کا انتطار کررہے تھے کہ کب راجا شیر سنگھ فیصلہ سنائے اور کب وہ سنہری ہرن کو دبوچ لیں؟ چناں چہ جیسے ہی راجا نے فیصلہ سنایا وہ دونوں دوڑے اور سنہری ہرن کو پکڑ کر درخت سے باندھنے لگے۔

ہرن کا کوئی بھی نہ تھا، وہ بالکل اکیلی تھی۔ جنگل کے کسی جانور میں یہ ہمت نہیں ہوئی کہ وہ راجا شیر سنگھ کے فیصلے کے خلاف زبان کھولیں۔ لیکن کھوکھو بندر اور میکو خرگوش نے دل میں یہ ٹھان لی کہ بدمعاشوں کو ہم ضرور سبق سکھائیں گے۔
کیوں کہ انھیں یہ پتا تھا کہ یہ سب بنٹی لومڑی اور اوجھا لکڑ بھگّے کی سازش ہے۔
سنہری ہرن کو درخت سے باندھ کر بنٹی لومڑی ، اوجھا لکڑ بھگّا اور اس کے دوسرے بدمعاش ساتھی درخت کے قریب ہی بیٹھ کر موج مستی کرتے ہوئے بے چاری سنہری ہرن کا مذاق اڑارہے تھے اور خوب کھاپی کر ناچتے گاتے ہوئے جشن منارہے تھے۔
جب شام ہوئی اور اندھیرا پھیلنے لگا تو ایک ایک کرکے دوسرے جنگلی جانور میدان میں درخت کے ارد گرد جمع ہونے لگے ۔ اندھیرے کا فائدہ اٹھا کر کھوکھو بندر درخت پر چھلانگ مار کر بیٹھ گیا۔ جب سب جانور راجا شیر سنگھ کے آنے کی خبر سُن کر اس کے استقبال میں مصروف ہوگئے تو کھوکھو بندر نے سنہری ہرن کو درخت سے کھول دیااور اس سے کہا کہ :’’سنہری ہرن ! جنگل میں جھیل کے پاس جھاڑی میں بھاگ کر چھپ جاؤ کل ہم تم سے ملیں گے۔
‘‘
اِدھر جیسے ہی سنہری ہرن کوکھوکھونے کھولا تو وہ چوکڑیاں بھرتے ہوئے وہاں سے بھاگ کھڑی ہوئی ۔ میکو خرگوش چند لکڑیاں اور گھاس پھوس اور چند ہڈیوں کے ٹکڑے لیے پہلے ہی سے تیار تھا ، کھوکھو بندر اور میکو خرگوش دونوں نے آگ جلادی اور اوجھا لکڑ بھگّے کو دھوکا دینے کے لیے ہڈیاں بکھیر دیں۔

سب جانور گھبرانے لگے۔ شیرراجا نے جب یہ دیکھا تو کہا :’’ گھبرانے کی کوئی بات نہیں ڈائن کو اس کے کیے کی سزا مل گئی ، آگ لگ گئی اور وہ اس میں جل کر مر گئی ۔‘‘
اتنا سُن کر بنٹی لومڑی اور اوجھا لکڑ بھگّے نے نعرہ مارتے ہوئے کہا کہ :’’ چلو اب اس کے کھیت اور کٹیا پر ہمارا قبضہ ہوجائے گا۔
‘‘
لیکن یہ کیا براؤنی کے گھر سے خبر آئی کہ اُس کا دوسرا بچّہ بھی مرگیا ۔ تمام لوگ حیران رہ گئے کہ سنہری ہرن جو کہ ڈائن تھی وہ تو مر گئی پھر براؤنی کا بچّہ کیسے مرا؟
جنگل سے لگ کر ایک کارخانہ تھا جہاں سے زہریلا دھواں اور خراب پانی نکل کر جنگل کے چشمے میں مل جاتا تھا۔
اسی پانی کو جنگلی جانوروں کے بچّے پی لیتے تھے وہی ان کے مرنے کا سبب تھا۔ میکو خرگوش اور کھوکھو بندر براؤنی بھالو کو تسلی دینے لگے :’’ دیکھا تم نے تمہارے بھولے پن کا فائڈہ اٹھا کر ان لوگوں نے ایک بے گناہ ہرن پر غلط الزام بھی لگایااور اس کی جان بھی لے لی ، بے چاری سنہری ہرن کتنی سندر اورخوب صورت تھی۔
یہ سب بنٹی لومڑی اور اوجھا لکڑ بھگّے کی سازش ہے وہ لومڑی کے کھیتوں اور کٹیا پر قبضہ جمانا چاہتے ہیں۔‘‘
میکو خرگوش کے دماغ میں ایک ترکیب آئی۔ اُسی رات سنہری ہرن کے کھیت میں بیٹھے بنٹی لومڑی اور اوجھا لکڑ بھگّا جشن منارہے تھے۔
اچانک بنٹی لومڑی بُری طرح ڈر کر چلّانے لگی:’’ لکڑ بھگّا بابا! بھوت … بھوت…بچاؤ… بچاؤ !!‘ ‘
ان دونوں نے دیکھا کہ ایک سفید رنگ کی ہرن اُسی زمین پر یہاں سے وہاں بے تحاشہ دوڑ رہی ہے اور اُس کی سینگ پر آگ جل رہی ہے۔

میکو خرگوش اور کھوکھو بندر ایک جگہ چھپ کر سارا ماجرا دیکھ رہے تھے۔ میکو خرگوش کے مشورے پر کھوکھو بندر نے سنہری ہرن کے جسم پر سفید رنگ پوت دیا تھا اور اس کے دونوں سینگوں پر موم بتّی جلا کر لگادی تھی اور اسے کہا تھا کہ جاکر تمہارے کھیت پر ان لوگوں سے تھورا فاصلے پر بے تحاشہ اِدھر اُدھر دوڑ لگاؤ۔

اوجھا لکڑ بھگّے کی ساری اوجھائی ہوگئی پھُر … لگا چلّانے :’’ ارے باپ رے… ارے باپ رے … کوئی ہے جو ہمیں اِس بھوت سے نجات دلائے … بچاؤ بچاؤ ۔‘‘
بنٹی لومڑی نے جب اوجھا لکڑ بھگّے کی یہ حالت دیکھی تو وہ لگی دھاڑیں مار مار کر رونے۔

میکو خرگوش ، کھوکھو بندر اور ان کے دوست نیٖل گائے، مور ،طوطا، بارہ سنگھاوغیرہ لگے زور زور سے چھپ کر چلّانے کہ :’’ سنہری ہرن کی آتما زمین پر لوٹ آئی ہے … اپنی موت کا بدلہ لینے… جھوٹوں کا پردہ فاش کرنے… اور بدمعاشوں کو سزادینے … بنٹی لومڑی اور اوجھا لکڑ بھگّے کا خون چوسنے … ‘‘
بنٹی لومڑی اور اوجھا لکڑ بھگّے نے جب یہ آواز سُنی تو ڈر کے مارے بے ہوش ہوگئے ۔
میکو خرگوش اور کھوکھو بندر کے ساتھیوں نے دونوں کو رسیوں سے جکڑ لیا اور راجا شیر سنگھ کے دربار میں لے گئے اور وہاںان لوگوں کے دھوکے اور جھوٹ کی قلعی کھول دی۔
راجا شیر سنگھ کو جب اصلیت کا پتا چلا تو اس نے فیصلہ سنایا کہ:’’ آج رات بنٹی لومڑی اور اوجھا لکڑ بھگّے کو درخت سے باندھ کرزندہ جلایا جائے گا۔
‘‘
براؤنی بھالو روتے ہوئے آگے بڑھا اور سنہری ہرن سے معافی مانگنے لگا۔ سنہری ہرن نے اسے معاف کردیا اور میکو خرگوش اور کھوکھو بندر کے گلے لگ کر رونے لگی ۔ اور کہتی جاتی کہ:’’ مَیں تم لوگوں کا شکریہ کیسے ادا کروں کہ تمہاری عقل مندی سے میری جان بچ گئی ، اور جھوٹے اور مکار لوگوں کو ان کے کیے کی سزا مل گئی۔

Your Thoughts and Comments