Jinn Dost

Jinn Dost

جن دوست

انور دوپہرے کے کھانے کے بعد” پکی تالاب“ کی سیڑھیوں پر بیٹھا بڑے انہماک سے اپنا سبق یاد کر رہا تھا کہ کسی نے پیچھے سے آکر بڑے زور سے ہاؤ کہہ کراسے ڈرادیا۔

عبدالرؤف تاجور:
انور دوپہرے کے کھانے کے بعد” پکی تالاب“ کی سیڑھیوں پر بیٹھا بڑے انہماک سے اپنا سبق یاد کر رہا تھا کہ کسی نے پیچھے سے آکر بڑے زور سے ہاؤ کہہ کراسے ڈرادیا۔ انوربوکھلاکرکھڑاہوگیا۔
اگرفوری طور پرخود کو سنبھال نہ لیتا تو لڑھکتا ہواتالاب کے پانی میں جاگرتا۔ گھر میں چھوٹے بچوں کے شوزوگل سے تنگ آکروہ اکثر یہیں آکراپنا سبق یادکرلیا کرتاتھا۔ آج تک کبھی ایسا نہیں ہواکہ کسی نے اسے اس طرح ڈرادیا ہو۔ انورنے ڈرتے ڈرتے گردن گھما کردیکھا توپشت پراس کابہترین دوست اور کلاس فیلو صفدر کھڑا مسکرارہاتھا۔
دونوں میں بڑی گہری اور پکی دوستی تھی۔ لڑنا جھگڑنا تودور کی بات ان میں کبھی معمولی اختلاف تک پیدانہیں ہوتاتھا۔

(جاری ہے)

گاؤں بھرمیں ان کی دوستی ایک مثال بن گئی تھی اور لوگ انھیں ایک جان دو قالب کہتے تھے۔
اوہو․․․․ تویہ تم ہوصفو! میں توسچ مچ ڈرہی گیاتھا۔

آؤ بیٹھو کہاں سے آرہے ہو۔ انورنے اسے دیکھ کر اطمینان کی سانس لیتے ہوئے پوچھا۔
میں پورے گاؤں میں تمھیں ڈھونڈتاپھررہاتھا، لیکن کچھ پتاہی نہیں چل رہاتھا کہ کہاں چھپے بیٹھے ہو، پھر اچانک خیال آیاکہ کہیں تم اپنا سبق یاد کرنے پکی تالاب کی طرف نہ آگئے ہو۔
بس میں ادھر آگیا۔ امرود کھاؤگے؟
انورنے سوالیہ نگاہوں سے صفدر کودیکھا۔
لو، کھاؤ۔ تم بھی کیایادکروگے کہ کسی رئیس دوست سے پالاپڑاتھا۔ اتنا کہہ کر صفدر نے قمیص کی تینوں جیبوں سے درجن بھر چھوٹے بڑے امرود نکال کرانور کے سامنے ڈھیرکردیے۔
پکے ہوئے امرودوں کی تیز خوشبو میں پھیل گئی۔
کہاں سے توڑ کرلارہے ہو۔ تمھارے گھر میں توامرود کاکوئی درخت نہیں ہے۔ صفدر نے کہا: کھاکر تو دیکھو، خودہی پتاچل جائے گا۔
انور نے ایک چھوٹا ساامرود اٹھایا۔ قمیص کے دامن سے رگڑکراسے صاف کیااور دانتوں سے آدھا کاٹ لیا۔
اندرگہرے گلابی رنگ کاگودادیکھ کرانور بوکھلاگیا۔ پورے گاؤں میں ا یسا ایک ہی درخت تھا، جو پرانی حویلی کے اندر تھا۔ حویلی کے مالک بڑے زمیندار صاحب نے شہرمیں کاربارجمالیا اور خود بھی شہر چلے گئے توحویلی پرجنوں کے پورے قبیلے نے قبضہ کرلیا۔
یہ گاؤں والوں کاخیال تھا، ورنہ حقیقت کیاتھی یہ تواللہ ہی کوبہترمعلوم ہوگا۔ یوں پرانی حویلی خوف ودہشت کی علامت بن چکی تھی اور لوگ اس کے قریب سے گزرتے ہوئے بھی ڈرتے تھے۔ حالانکہ حویلی کاکوئی جن آج تک کسی گاؤں والے کو نظر نہیں آیا تھا۔

انور نے خوف زدہ لہجے میں کہا۔ یہ توپرانی حویلی کے درخت کے امرود ہیں۔ تمھیں کہاں سے مل گئے؟
میں خود توڑکرلارہاہوں۔ صفدر ہنسنے لگا۔
تم․․․․ تم․․․․ حویلی کے اندر گئے تھے؟ انورنے بوکھلاکرپوچھا۔
ہاں بالکل گیا تھا، ورنہ یہ امرودکہاں سے لاتا۔

اور حویلی کے جنوں نے تمھیں کچھ نہیں کہا۔
کیا کہتے؟ میں کوئی ان سے کشتی لڑنے تونہیں گیاتھا۔ یوں بھی حویلی کے اندر میں نے کسی جن کونہیں دیکھا۔ ممکن ہے میری بہادری اور دلیری دیکھ کرسب چھپ گئے ہوں۔ صفدر پھر ہنسنے لگا۔

بڑے نڈرہویار! مگر تما ندر گئے کیسے؟ صدردروازے پر توبڑا ساتالا پڑا رہتا ہے۔ دیکھو میں پوری بات تمھیں بتاتاں ہوں۔ میں جب تمھیں تلاش کرتاہواپرانی حویلی کی طرف سے گزرا تودیکھا کہ صدر دروازہ چوپٹ کھلاہوا ہے۔بس میرے دل میں امرودوں کالالچ پیداہوگیا اور موقع غنیمت جان کرمیں چپکے سے حویلی کے اندرداخلی ہوگیا۔
پورادرخت کچے پکے امرودوں سے لداپڑا تھا۔ پہلے تودل بھر کر خود کھایااور پھر کچھ تمھارے لیے لیتا ہوادبے پاؤں باہرآگیا۔ صدردروازہ کس نے کھولا، کیسے کھولا، کون اندرگیاتھا، مجھے کچھ نہیں معلوم۔ اندرگاؤں کاکوئی آدمی مجھے نظر نہیں آیا۔

صفدر! تم اتنے بہادرکب سے ہوگئے۔ میں جانتاہوں کہ رات کے وقت تم اپنے ہی گھر کے کسی اندھیرے کمرے میں جانے سے ڈرتے ہو۔
اب میں وہ ڈرپوک صفدر نہیں رہا۔ صفدر ہنسنے لگا: ویسے انور! ایک بار میری سمجھ میں نہیں آئی کہ جب میں حویلی سے نکل کرکچھ دورآگیا اور مڑکرپیچھے دیکھاتو صدردروازہ بدستوربند تھا اور وہ بڑاساتالا پہلے کی طرح لٹک رہاتھا۔

یہ کیسے ممکن ہے۔ انورنے بے اعتباری سے کہا: کہیں تم مجھے بے وقوف تو نہیں بنارہے؟
اچھا بتاؤ، پھریہ امرود کہاں سے آئے؟ صفدر نے شوخی سے ہنستے ہوئے کہا: کیا گاؤں میں گلابی گودے والا کوئی دوسرا درخت بھی ہے۔
انور کے پاس اس کاکوئی جواب نہیں تھا۔

کیاتم ابھی بیٹھو گے۔ تھوڑی دیربعد صفدر نے پوچھا۔ ہاں تھوڑا سا سبق رہ گیا ہے۔ اسے بھی یاد کرلوں پھر گھرجاؤں گا۔
اچھا تومیں چلتاہوں۔ کل رات سے بابا کی طبیعت سخت خراب ہے۔ ممکن ہے مجھے قصبے جاکرحکیم صاحب کوگھرلانا پڑے۔
صفدر مغموم لہجے میں کہا۔
اگر ایسی بات ہے توپھرچلو میں بھی قصبے تک تمھارے ساتھ چلتاہوں۔ انور کتابیں سمیٹنے لگا۔
نہیں تم اپناسبق یادکرو۔ میں گھر جاکردیکھتا ہوں۔ ممکن ہے بابانے بڑے بھائی کوقصبے دور ہے، واپسی میں رات ہوجائے گی۔

رات کاکھانا کاکرانورنے میزکی درازسے اپنی چھوٹی سے ٹارچ نکالی اور اسے جلاتابجھاتا اپنے دوست کے گھر پہنچ گیا۔ دروازہ صفدر کی امی نے کھولا اور اسے پہچان کربولیں : کون انورمیاں! خیرتوہے بیٹے! اپنی رات گئے آؤ اندرآجاؤ۔

صفدر کہاں ہے؟ انورنے بے تابی سے پوچھا: کیااکیلے قصبے چلاگیا۔
وہ قصبے کیوں جائے گا۔ البتہ وہ صبح کی گاڑی سے اپنے بابا کے ساتھ شہر جاچکا ہے اور تین چار دن کے بعد واپس آئے گا۔ اس کے بابا کے بچپن کے کوئی دوست دس سال بعد بیرون ملک سے لوٹے ہیں۔
وہ ان سے ملنے گئے ہیں۔ صفدر بھی ضد کرکے ان کے ساتھ ہی چلاگیا۔
انورکے پاؤں کے نیچے سے زمین سرکنے لگی۔ اس نے گھبرا کراپنی قمیص کی بائیں جیب کوٹٹولا، جہاں دو چھوٹے چھوٹے امرود اب بھی موجود تھے۔ اچھا تویہ جن بھائی کا تحفہ ہیں۔

Your Thoughts and Comments