Jo Huwa Acha Huwa

Jo Huwa Acha Huwa

جوہوا اچھا ہوا

اٹلی کا ایک بادشاہ حکومت اور دولت کے گھمنڈ میں غریبوں سے بات کرنا بھی براجانتا تھا اس لئے اکثر لوگ اسے ناپسند کرتے تھے۔

اٹلی کا ایک بادشاہ حکومت اور دولت کے گھمنڈ میں غریبوں سے بات کرنا بھی براجانتا تھا اس لئے اکثر لوگ اسے ناپسند کرتے تھے۔ایک دن یہ شکاری میں کسی جانور کے پیچھے گھوڑا ڈالے انی دور نکل گیا کہ نوکر چاکر سب بچھڑ گئے اور بادشادہ تنہا رہ گیا۔
اتنے میں ایک کسان نے بادشاہ کے گھوڑے کی رکاب پکڑلی۔اس کی شکل ہوبہوبادشاہ سے ملتی تھی۔فرق یہ تھا کہ اس کی پوشاک اور حالت غریب جیسی تھی۔ اس نے بادشاہ سے کہا کہ میں تین دن سے حضور کی ڈیوٹی پر بھوکا پیاسا چلاآرہا ہوں مگر کوئی میری فریاد نہیں سنتا۔
بادشاہ غریب کو میلے کچیلے کپڑوں میں دیکھ کر یہ کہتے ہوئے آگے بڑھ گیا کہ میں ذلیل آدمیوں سے بات نہیں کرتا۔غریب کسان پھر بھی اس کے پیچھے پیچھے چلتا رہا۔یہاں تک کہ بادشاہ ایک تالاب پر پہنچ کر گھوڑے سے اترا۔

(جاری ہے)

اس نے باگ ڈور ایک درخت سے انکائی تاج اور کپڑے اتار کر ایک طرف رکھے اورنہانے کو تالاب میں اترگیا۔

یہ تالاب ایسے نشیب میں تھا کہ نہانے والے کو اوپر کا آدمی نظر نہ آتا تھا جب بادشاہ تالاب میں اُتر چکا تو غریب کسان نے اپنے کپڑے اُتار دیئے۔بادشاہ کے کپڑے پہن کرتاج سر پر رکھ لیا اور بادشاہ کے گھوڑے پر سوار ہوکر رفوچکر ہوگیا۔
کسان بادشاہ تھوڑی ہی دور گیا تھاکہ اسے شاہی نوکر چاکر مل گئے جنہوں نے اسے بادشاہ سمجھ کر ادب سے سلام کیا اور یہ بھی بے جھجھک شاہی محل میں جاپہنچا۔اصل بادشاہ تالاب سے نہا کر باہر نکلاتو کپڑے تاج اور گھوڑا کچھ بھی موجود نہ تھا۔
بہت گھبرایا مگر اب کیا ہوسکتاتھا؟نا چار غریب کسان کے میلے کپڑے پہنے اور کئی دن تک فاقے کرنے اور بھٹکنے کے بعد شہر پہنچا۔مگر اب اس کی یہ حالت ہوئی کہ جس سے بات کرتا کوئی منہ نہ لگاتا اور جب یہ کہتا کہ میں تمہارا بادشاہ ہوں تو لوگ اسے پاگل سمجھ کر ہنس دیتے۔
دوتین ہفتے اسی طرح گزرگئے۔ جب اس پاگل کا قصہ بادشاہ کی ماں نے سنا تو اسے بلوا کر اس کے سینے پر تل کا نشان دیکھا پھر اس کی سچائی کی تصدیق کی۔
کسان نے اصلی بادشاہ کی یہ حالت دیکھ کر کہاکیا تم وہی شخص ہوجودولت اور حکومت کے گھمنڈ میں غریبوں کی فریادنہ سنتے تھے؟اسی کی سزادینے کو میں نے یہ سب کیا۔
اگر تم وہ گھمنڈ چھوڑ کر رحم وانصاف کا اقرار کرو تو میں تمہارا تاج وتخت واپس کرنے کو تیار ہوں ورنہ ابھی قتل کا حکم بھی دے سکتا ہوں۔یہ سن کر بادشاہ نے عاجزی اور ندامت کے ساتھ اپنی غلطی تسلیم کی اور کسان اسے تاج وتخت واپس دے کر گھر چلاگیا۔جس کے بعد بادشاہ نے اپنی اصلاح کی اور چند دنوں میں اس کی نیک نامی کا ڈنکا دور دور تک بجنے لگا۔

Your Thoughts and Comments