Mehnat Ka Samar

Mehnat Ka Samar

محنت کا ثمر

گل خان کی آنکھوں میں آنسو تھے۔ وہ بھوک سے مجبور اپنے آنسو ضبط کیے سیٹھ عثمان کے بیٹھے کے بوٹ پالش کر رہا تھا، جو اس کا ہم عمر ہی تھا۔سیٹھ عثمان کے بیٹے نے گل خان سے بوٹ پالش کروائے اور دس رپے کا نوٹ جیب میں ٹٹولا، نہ ملا تو چل دیا۔

حافظ مظفر محسن:
گل خان کی آنکھوں میں آنسو تھے۔ وہ بھوک سے مجبور اپنے آنسو ضبط کیے سیٹھ عثمان کے بیٹھے کے بوٹ پالش کر رہا تھا، جو اس کا ہم عمر ہی تھا۔سیٹھ عثمان کے بیٹے نے گل خان سے بوٹ پالش کروائے اور دس رپے کا نوٹ جیب میں ٹٹولا، نہ ملا تو چل دیا۔

” میں نے محنت کر کے تمہارے جوتے چمکا دیے ہیں اور تم نے میری مزدوری بھی مجھے نہیں دی، جو میرا حق تھا۔“ گل خان نے سیٹھ عثمان کے بیٹے کا ہاتھ پکڑا و اس نے دھکا دے کر گل خان کر گرادیا۔ سیٹھ عثمان دور کھڑا یہ منظر دیکھ رہا تھا۔
اس نے آکر اپنے بیٹے کو ایک تھپڑ رسید کیا۔ بیٹا پریشان ہو گیا اور گل خان گھبرایا۔ اس نے اپنے آنسو پونچھے اور چلنے لگا تو سیٹھ عثمان نے اسے آواز دے کر روک لیا۔ سیٹھ صاحب اپنے گھر کے باہر لان میں کھڑے تھے۔

(جاری ہے)

انہوں نے لان میں پڑی کرسیوں کی طرف اشارہ کرکے اپنے بیٹے اور گل خان سے بیٹھنے کو کہا۔

دونوں لڑکوں کے لیے یہ عجیب حیران کن منظرتھا۔کسی کوکچھ سمجھ نہیں آرہا تھا۔ گل خان جھجکتا ہوا کر سی پر بیٹھ گیااس کی آنکھوں میں نمی تھی ۔ وہ اپنی بے عزتی پر افسردہ تھا۔سیٹھ عثمان نے کہنا شروع کیا:” بیٹا! چالیس سال پہلے میرے والدین سڑک کے ایک حادثے میںہلاک ہو گے تھے اس وقت میری عمر دس سال تھی۔
میں اپنے ایک محلے دار کے ساتھ اس شہر میں آ گیا۔ بے روزگاری ، بھوک اور افلاس سے پریشان اس دنیا میں اکیلا تھا۔یہاں پہنچ کر میں نے بوٹ پالش کا کام شروع کر دیا۔ اس شہر میں مجھے طرح طرح کے خوف ناک اور نہایت مشکل حالات میں سے گزارا کرنا پڑا ۔
کئی کئی دن بھوکے پیاسے فٹ پاتھ پر سونا پڑا۔ میں نے اپنے ہم عمر بچوں پر بھیک مانگتے دیکھا لیکن میرے ضمیر نے مجھے ہر بار روکا، مجھے سہارا دیا۔ میں نے محنت کرنے کو ترجیح دی۔ لوگوں کو خوش کرنے کے لیے ان کے بوٹ خوب چمکائے۔ رات جب میں سونے کے لیے لیٹتا تو میرے بازو¿ں میں شدید درد محسوس ہوتا، لیکن میں نے خوب محنت کی اور اسے ایک روزگار کے طور پر اپنایا۔
میرے ساتھ کئی اور لاوارث لڑکے جس کار خانے کے ایک شیڈ کے نیچے سوتے تھے اس کا مالک ہمیں اکثر دیکھتا اور نصیحت بھی کرتا کہ کبھی مانگنا نہیں۔ محنت کر کے کھانا، کیوں کہ اللہ تعالیٰ محنت کرنے والے کو پسند بھی کرتا ہے اور اس کے کام میںبرکت بھی ڈالتا ہے۔
انھوں نے ہمیں قائداعظم کا وہ مشہور قول ” کام کام اور کام“ بھی سنایا۔ وہ نیک دل شخص ہمیں ہفتے میں دو تین بار کھانا بھی بھجواتا اور یوں ہم محنت سے کمائے پیسے بچاکے بھی رکھ لیتے۔ ایک صبح اس کار خانے کے مالک نے مجھے بلایا اور کہا:” آج ہمارا ایک کاری گر نہیں آیا ہے۔
تم اگر اس کی جگہ کام کر لو تو پیسے زیادہ ملیں گے۔ کام میں تمہیں سمجھا دوں گا۔“ میں تیار ہو گیا۔بعد میں وہ کاری گر کام چھوڑ کر چلا گیا ۔ اس طرح میں کارخانے میں مستقل ملازم ہو گیا اور تعلیم بھی حاصل کرنے لگا۔ دن کو کام کرتا، رات کو دیر تک پڑھتا تھا۔
میٹرک کیا تو مالک نے مجھے اپنے دفتر میں کلرک کا عہدہ دے دیا، چوں کہ محنت کرنے کی عادت پڑ چکی تھی۔ دل و دماغ میں یہ بات بیٹھ چکی تھی کہ خون پسینا ایک کر کے حلال کی روزی کمانے سے اللہ خوش ہوتا ہے اور رزق میں برکت بھی ہوتی ہے۔
اس دوران میں نے ڈرائیونگ بھی سیکھ لی۔ مالک کو گھر سے لاتا، لے جاتا ۔ میں نے محنت کی عادت بچپن میں اپنائی اور سیدھے راستے پر چلا، جو زندگی بھی میرے کام آیا۔ مالک نے اپنے بنگلے میں ایک کوارٹر بھی مجھے دے دیا تھا۔ میںنے کئی سال تک خوب محنت کی اور کافی پیسے بچا بھی لیے۔
ایک دن گاڑی چلاتے ہوئے میں نے محسوس کیا کہ مالک پریشان ہے۔ کاربار میں خسارے کی وجہ سے اس نے بینک سے قرض لیا تھا، اب بینک کے قرضے کی قسط دینا تھی جو وہ نہیں دے پارہا تھا۔ وہ قسط جمع نہ ہوتی تو بینک کا جرمانہ بہت زیادہ ہو جاتا۔
اس طرح روپے کی کمی سے کارخانہ ختم بھی ہو سکتا تھا۔ میں نے ہمت کر کے مالک سے درخواست کی کہ میرے پاس اتنے پیسے ہیں جن سے آپ کی یہ مشکل حل ہو سکتی ہے۔ مالک میری اس پیش کش سے بے حد خوش ہوا اور میں بھی خوش ہوا کہ میں اپنے محسن کے کام آیا۔
وہ میری زندگی کا اہم ترین موڑ تھا، جب اللہ نے مجھے زمین سے اُٹھا کر آسمان پر پہنچا دیا۔ وقت گزرتا چلا گیا۔ اب مالک مجھے اپنی اولاد کی طرح سمجھنے لگا۔ یہاں تک کہ جب میرا مالک بیمار ہوا اور اس کے بچنے کی اُمید نہ رہی تو اس نے یہ کارخانہ اور اپنی ساری جائیداد میرے نام کر دی ، کیوں کہ اس کا قریبی رشتے دار کوئی نہیں تھا، نہ اولاد تھی۔
بیوی کا انتقال ہو چکا تھا۔“سیٹھ عثمان نے اپنے بیٹے سے کہا:”بیٹا! میں تمہیں ساتھ لے کر جس قبر پر دعا کرنے جاتا ہوں، وہ میرے مالک قمرالدین خان کی ہے۔ اس حساب سے میں اور گل خان ہم پیشہ ہیں۔ میں بھی بچپن میں جوتے پالش کیا کرتا تھا اور گل خان بھی۔
“گل خان نے سیٹھ عثمان کے یہ تعریفی کلمات سنے تو اس کاسر فخر سے بلند ہو گیا اور خوشی کے آنسو اس کی آنکھوں میں جھلملانے لگے ۔ سیٹھ نے پھر بیٹے سے کہا:“ تمہیں گل خان سے معافی مانگنا ہو گئی، کیوں کہ آنے والے وقت کا پتا نہیں کہ گل خان شہر کا بڑا آدمی بن جائے اور وقت تمہیں غربت کی زندگی گزارنے پر مجبور کر دے۔“ گل خان، سیٹھ عثمان کو حیرت سے اور اس کا بیٹا شرمندگی اور پشیمانی سے گل خان کو دیکھ رہا تھا۔

Your Thoughts and Comments