Baroo Ka Adab

Baroo Ka Adab

بڑوں کا ادب

وہ اپنے رویے پر سخت نادم تھی اور عزم کرچکی تھی کہ وہ آپی سوزی سے معافی مانگے گی اور آئندہ اُن سے کبھی بدتمیزی نہیں کرے گی نہ اُن سے چلا چلا کر غصے سے بات کرے گی

سارہ شاہد:
نینی ایک خوبصورت اور ذہین بچی تھی مگر غصے کی بڑی تیز تھی ۔ بات بات پر لڑتی اورغصہ کرتی تھی اسکی بڑی بہن سوزی اُسے بہت پیار سے سمجھاتی تھی کہ تم بڑوں کا ادب کیا کرو غصہ نہیں کی کیاکرو کیونکہ ایسا کرنا کسی طور پر بھی مناسب نہیں ہے۔
مگر نینی ایک کان سے سنتی اور دوسرے کان سے نکال دیتی۔ کل نینی کے سکول کا رزلٹ تھا۔ چونکہ وہ ہونہار طالبہ تھی، اُسے پورا یقین تھا کہ وہ ضرور فرسٹ پوزیشن لے گی اور ایسا ہی ہوا۔ رزلٹ سنایا گیا تو فرسٹ پوزیشن اُسی کی تھی سکول کی پرنسپل صاحبہ نے اُسے انعام میں شیلڈ دی۔
نینی خوشی خوشی گھر آئی اور زور زور سے آپی کو آوازیں دینے لگی؛”سوزی آپی کہاں ہیں آپ؟؟؟“ آج نینی تم بہت خوش ہو خیریت ہے کیا ہوا؟“ سوزے آپی نے پوچھا۔

(جاری ہے)

ہے ہی خوشی کی بات میں اپنی کلاس میں فرسٹ آئی ہوں“ نینی نے کہا۔

آپی یہ سن کر بہت خوش ہوئیں نینی نے شیلڈ آپی کی طرف بڑھادی مگر یہ کیا شیلڈ آپی کے ہاتھ سے گر کر ٹوٹ گئی۔ جس پر نینی کو بہت غصہ آیا وہ غصے میں آگ بگولا ہو کر آپی پر برس پڑی۔ نینی نے اپنی بڑی آپی سے بہت زیادہ بدتمیزی کی اتنی بدتمیزی پرآپی کی آنکھوں سے آنسو نکل پڑے اور وہ رونے لگی۔
نینی ، آپی کو روتاچھوڑ کر اپنے کمرے میں چلی گئی بیڈ پر لیٹتے ہی اسکو نیند آگئی اور وہ گہری نیند میں سو گئی۔ نینی نے خواب میں دیکھا کہ وہ ایک باغ میں اپنی آپی سوزی کیساتھ کھیل رہی ہے اور اچانک اسکی نظر جھولے پر پڑی ، اس نے ضد کرنا شروع کردی کہ اُسے جھولا جھولنا ہے لیکن آپی سوزی نے اُسے سمجھایا کہ ایسے جھولے جھولنا ٹھیک نہیں مگر نینی ضد کررہی تھی کہ وہ جھولا ضرور جھولے گی۔
یہ کہہ کر وہ بھاگ کر جھولے پر بیٹھ گئی۔ نینی جھولے پر بیٹھی ہی تھی کہ اسکا ہاتھ جھولے سے چھوٹ گیا او ر وہ خودپر قابو نہ رکھ سکی اور جھولے سے نیچے گر پڑی جس کی وجہ سے اسکو شدید چوٹ آئی۔ نینی نے آپی سوزی کو اونچی اونچی آوازیں دینا شروع کردی۔
آپی سوزی بھاگ کر نینی کو اٹھانے اسکی طرف لپکی۔ آپی نے جیسے ہی نینی کا ہاتھ پکڑا اسکی آنکھ کھل گئی ۔ وہ بے حد گھبرائی ہوئی اور اسکی پیشانی پسینے سے تر تھی۔ بیڈ پر بیٹھ کر نینی اِدھر اُدھر دیکھنے لگی ، وہ آپی سوزی کے بارے میں سوچ رہی تھی کہ کس طرح وہ اُن سے لڑتی اورغصہ کرتی ہے۔
برا رویہ اختیا ررکھتی ہے، اُن کا کہنا بھی نہیں مانتی حالانکہ وہ تو ہمیشہ میری بھلائی ہی سوچتی ہیں اور ہر مشکل میں مدد کرتی ہیں۔ وہ اپنے رویے پر سخت نادم تھی اور عزم کرچکی تھی کہ وہ آپی سوزی سے معافی مانگے گی اور آئندہ اُن سے کبھی بدتمیزی نہیں کرے گی نہ اُن سے چلا چلا کر غصے سے بات کرے گی۔
آپی سوزی کو ڈھونڈتے ہوئے وہ اُن کے کمرے تک پہنچ گئی اور آپی کو آوازیں دینے لگی اور معذرت کرنے لگی کیونکہ وہ اپنے کئے پر شرمندہ تھی۔ آپی سوزی نینی کے اِس رویے پر حیران تھی، آپی کی حیرت کو بھانپتے ہوئے اُس نے انہیں اپنا خواب سنایا اور کہا میرے ساتھ ایسا بڑوں کا کہنا نہ ماننے اور بڑوں کا ادب نہ کرنے کی وجہ سے ہوا ہے۔ آپی سوزی نینی کی باتیں سن کر مسکرا دی اور اُسکو معاف کردیا اور سوچنے لگی خواب کے ذریعے ہی سہی نینی کا اصلاح تو ہوئی

Your Thoughts and Comments