shehzadi aur lakar-hara

Shehzadi Aur Lakar-hara

شہزادی اور لکڑہارا۔۔تحریر:مختار احمد

ملکہ نے اس سے کہا بھی کہ وہ شہزادی کو گود میں لے لے مگر بادشاہ نے یہ کہہ کر انکار کر دیا کہ شہزادی اتنی سی تو ہے، ہماری گود سے گر نہ پڑے-

شہزادی سلطانہ بادشاہ کی شادی کے بعد بڑی منتوں مرادوں کے بعد پیدا ہوئی تھی- بادشاہ اور ملکہ تو اس کی پیدائش پر خوش تھے ہی مگر جس روز وہ پیدا ہوئی تھی پورے ملک میں خوشی کی ایک لہر دوڑ گئی تھی- ہر طرف جشن منایا جا رہا تھا- بادشاہ کو تو یقین ہی نہیں آرہا تھا کہ وہ اتنی پیاری بیٹی کا باپ بن گیا ہے- وہ بار بار ملکہ کے پاس جا کر بیٹھ جاتا اور ننھی شہزادی کو دیکھ کر خوش ہوتا- ملکہ اس کو دیکھ دیکھ کر مسکراتی تھی- ملکہ نے اس سے کہا بھی کہ وہ شہزادی کو گود میں لے لے مگر بادشاہ نے یہ کہہ کر انکار کر دیا کہ شہزادی اتنی سی تو ہے، ہماری گود سے گر نہ پڑے- شہزادی بے انتہا خوبصورت تھی- اس کی آنکھیں بڑی بڑی رنگ شہابی اور بال سنہری تھے- وہ روتی تھی تو یوں محسوس ہوتا تھا جیسے چاروں طرف جلترنگ بجنے لگے ہوں- اس کی ہنسی کی آواز کیسی تھی، یہ کوئی نہیں بتا سکتا کیوں کہ اتنے چھوٹے بچے ہنستے نہیں صرف مسکراتے ہیں- بادشاہ کا دل اب دربار میں بھی نہیں لگا کرتا تھا، اس کا تمام دھیان شہزادی سلطانہ میں ہی لگا رہتا تھا- شہزادی سلطانہ کی پرورش بڑے ناز و نعم سے ہو رہی تھی- اس کے کھلونے سات سمندر پار سے آتے تھے- ماہر کاریگر ریشم کے کیڑوں سے حاصل کردہ ریشم سے اس کے لباس بناتے تھے- اس کے جوتے نہایت ہلکے پھلکے ہوتے تھے کیوں کہ وہ جانوروں کی کھال کے بجائے قیمتی پرندوں کی کھال سے تیار کیے جاتے تھے- اس زمانے میں پیمپروں کا رواج نہیں تھا ورنہ ملکہ بیش قیمت پیمپر بھی منگوا کر رکھتی- شہزادی سلطانہ کی دیکھ بھال کے لیے خصوصی کنیزیں رکھی گئی تھیں، جو ہر وقت اس کے آس پاس رہتی تھیں- رات کو بستر پر ملکہ اس کونے پر سوتی تھی، بادشاہ دوسرے کونے پر اور بیچ میں شہزادی سلطانہ- وہ ایک ٹانگ بادشاہ پر اور دوسری ملکہ پر رکھ کر بے خبر سوجاتی تھی- شہزادی سلطانہ کی پرورش بہت لاڈ پیار سے ہو رہی تھی اور اس لاڈ پیار نے اسے کسی حد تک بگاڑ دیا اور وہ کافی بدتمیز ہو گئی تھی- وہ کسی کا کہنا نہیں مانتی تھی، کھانے کی کوئی چیز پسند نہ ہوتی تو اس کو پھینک دیتی- ملکہ سے چیخ کر بات کرتی تھی، باپ سے چیخ کر بات تو نہیں کرتی تھی، لیکن اگر اسے بادشاہ کی کوئی بات پسند نہ آتی تو دانت پیس کر اس کے چٹکی بھر لیا کرتی تھی- یہ بات نہیں تھی کہ وہ صرف ملکہ کا کہا ہی نہیں مانتی تھی، بادشاہ بھی اس سے کچھ کہتا تو وہ اس کی بات بھی نہیں مانتی تھی- یہ سب اس کے بچپن کی باتیں تھیں- بادشاہ اور ملکہ ان باتوں کو اس لیے نظر انداز کرتے رہے کا وہ بچی تھی اور اکلوتی تھی اور شادی کے بہت سالوں بعد پیدا ہوئی تھی- مگر بادشاہ کا ماتھا اس دن ٹھنکا، جب اپنی سولہویں سالگرہ کی تقریب میں غصے میں آ کر اس نے کیک کو زمین پر گرا دیا- اس تقریب میں وزیر، مشیر اور امرا اپنی بیگمات کے ساتھ شامل تھے- شہزادی سلطانہ کی اس حرکت سے بادشاہ کی سخت بے عزتی ہوئی تھی- وہ محفل سے اٹھ کر چلا گیا- خود ملکہ بھی سناٹے میں رہ گئی تھی- اس نے شہزادی کو سرزنش کی تو شہزادی اس سے بدزبانی کرنے لگی- اس نے میز پر رکھے ہوئے مشروبوں کے پیالے زمین پر پھینک دیے اور روتی ہوئی اپنے کمرے میں چلی گئی- اگلے روز اس کے اس سلوک کا جگہ جگہ چرچا ہو گیا تھا- لوگ سخت افسوس کر رہے تھے کہ ان کا بادشاہ کس قدر اچھا اور رعایا پرور ہے مگر اس کی بیٹی کو دیکھو، نہایت چڑ چڑی، بددماغ اور بداخلاق ہے- اللہ ایسی بیٹی دشمن کو بھی نہ دے- بادشاہ کے کانوں میں بھی یہ باتیں پڑنے لگی تھیں- وہ بہت غمزدہ تھا- اسے اندازہ ہو گیا تھا کہ اس کے اور ملکہ کے لاڈ پیار نے شہزادی کو دو کوڑی کا کردیا ہے- غلطی ان ہی کی تھی مگر اب کیا ہوسکتا تھا- ملکہ بھی بہت پریشان تھی- سالگرہ والے واقعہ کے بعد بادشاہ اور ملکہ نے شہزادی سے بات چیت کم کردی تھی مگر شہزادی کو اس بات کی پرواہ بھی نہیں تھی- اپنی غلطی اگر تسلیم کرتی تو خود کو بدلنے کی کوشش کرتی، مگر اس نے آج تک خود کو غلط سمجھا ہی نہیں تھا- بادشاہ چپ چپ رہنے لگا تھا- اگر ایسی بیٹی کسی اور کی بھی ہو تی تو وہ بے چارہ بھی چپ چپ ہی رہتا- بادشاہ کو یوں چپ چپ دیکھ کر ایک روز اس کے وفادار اور عقلمند وزیر نے کہا- "جہاں پناہ- ایسے تو حالات ٹھیک نہیں ہونگے- ان کو ٹھیک کرنے کی کوئی تدبیر کرنا ہوگی- میرا تو خیال ہے کہ شہزادی صاحبہ کی شادی کردی جائے- امید ہے کہ شادی کے بعد وہ ٹھیک ہو جائیں گی"- بادشاہ نے کہا- "منہ پھٹ اور بدتمیز لڑکیوں سے کون شادی کرتا ہے- شہزادی سلطانہ کے ساتھ کوئی نوجوان شادی پر تیار نہیں ہوگا"- بادشاہ کی بات سن کر وزیر سوچ میں پڑ گیا- بہت دیر تک سوچنے کے بعد اس نے کہا- "جہاں پناہ- اگر آپ میری بات پر عمل کریں تو مجھے پکّا یقین ہے کہ سب کچھ ٹھیک ہوجائے گا"- بادشاہ نے بے بسی سے کہا- اے وزیر اس پریشانی سے نکلنے کے لیے ہم تمھاری ہر بات ماننے کو تیار ہیں"- وزیر بولا- پہلی بات تو یہ ہے کہ آپ اپنے رویے اور لہجے میں سختی پیدا کریں- بچوں سے ہر وقت نرم لہجے کی گفتگو انھیں خودسر بنا دیتی ہے- دوسری بات میں آپ کو بعد میں بتاوٴں گا"- بادشاہ نے حامی بھرلی کہ وہ ایسا ہی کرے گا- بادشاہ جب محل میں پہنچا تو شہزادی سلطانہ کا موڈ خوشگوار تھا- باپ کو دیکھ کر وہ دوڑ کر اس کے قریب آئی اور محبت سے اس کا ہاتھ پکڑ لیا- "ابّا حضور آپ مجھ سے ناراض نہ ہوا کریں"- بادشاہ نے اپنا ہاتھ اس سے چھڑا لیا اور کچھ درشت لہجے میں بولا- شہزادی- آپ محل کے آداب کا خیال رکھا کیجیے- ہم اس سلطنت کے شہنشاہ ہیں، یہ ٹھیک ہے کہ ہم آپ کے باپ ہیں مگر تمیز بھی کوئی چیز ہوتی ہے"- یہ کہہ کر بادشاہ وہاں سے تیز تیز چلتا ہوا باہر نکل گیا- شہزادی سلطانہ کا منہ حیرت سے کھلے کا کھلا رہ گیا- بادشاہ کی اس بات نے اسے سہما دیا تھا حالانکہ اسے غصہ بھی آرہا تھا- اس نے اس بات کی شکایت ملکہ سے کی- ملکہ تو خود اس کے برے رویے سے تنگ تھی ، بیرخی سے بولی- "اتنی بڑی ہو گئی ہو، کچھ تو تمیز سیکھ لو"- شہزادی سلطانہ ماں کو تو کچھ سمجھتی ہی نہیں تھی، اس کی بات سن کر غصے میں پاوٴں پٹختے ہوئے چلی گئی- رات کو بادشاہ نے ملکہ سے کہا- "ملکہ ہم چاہتے ہیں کہ اب شہزادی سلطانہ کی شادی کر دی جائے"- ملکہ اداسی سے بولی- "اس سے کون شادی کرے گا- اس کی بدمزاجی کے قصے تو بچے بچے کی زبان پر ہیں"- ملکہ کی بات بادشاہ کے دل پر لگی تھی اور اس کی آنکھیں نم ہوگئیں- وہ خاموش ہوگیا- ان تمام واقعات کے بعد شہزادی سلطانہ اپنے کمرے میں ہی بند ہو کر رہ گئی تھی- شام کو وزیر بادشاہ سے ملنے آیا، اس کے آنے کی خبر سنی تو بادشاہ کو یاد آگیا کہ وزیر نے شہزادی والے معاملے میں کوئی بات بتانے کا وعدہ کیا تھا- اس نے فوراً وزیر کو طلب کرلیا اور وہ دونوں ایک کمرے میں بیٹھ کر چپکے چپکے باتیں کرنے لگے-اگلے بادشاہ کی ہدایت پر ملکہ نے شہزادی سلطانہ کو یہ اطلاع دی کہ اس کی شادی طے کردی گئی ہے - شہزادی نے یہ سنا تو وہ پھٹ پڑی- "ہاں ہاں کردیجیے میری شادی- میں خود اب یہاں نہیں رہنا چاہتی ہوں"- کچھ دنوں بعد شادی کی تقریب ہوئی- شام کو شہزادی کو اس کے شوہر کے ساتھ ایک بگھی میں بیٹھا کر روانہ کردیا گیا- شادی بڑی سادگی سے ہوئی تھی، نہ دھول تاشے بجے نہ آتش بازی کی گئی- شہزادی سلطانہ اس دوران اتنے غصے میں تھی کہ اس نے یہ بھی نہیں پوچھا تھا کہ اس کی شادی کس سے ہورہی ہے اور نہ ہی اس نے نظر بھر کر اپنے دولہا کو دیکھا، اور تو اور رخصتی کے وقت وہ بادشاہ اور ملکہ سے لپٹ کر روئی بھی نہیں، اس کی یہ وجہ نہیں کہ اس کو ڈر تھا کہ رونے سے اس کا میک اپ خراب ہو جائے گا- اس کا تو کسی نے بناوٴ سنگھار بھی نہیں کیا تھا، بلکہ وہ اس لیے نہیں روئی کہ اس کو رونا ہی نہیں آرہا تھا کیوں کہ وہ بادشاہ اور ملکہ سے سخت ناراض تھی- بگھی میں بیٹھی تو اس نے کن آنکھوں سے اپنے شوہر کی طرف دیکھا- وہ ایک بہت حسین و جمیل نوجوان تھا مگر اس کے چہرے پر ایک عجیب سی بیرخی تھی، شادی کے موقع پر تو چہرے پر خوشی کے اثار ہوتے ہیں، مگر وہ تو سنجیدہ شکل بناے بیٹھا تھا- شہزادی کو زندگی میں پہلی مرتبہ کچھ خوف کا احساس ہوا- تھوڑی دیر بعد بگھی رک گئی- ان کی منزل آگئی تھی، وہ اس نوجوان کا گھر تھا- وہ نوجوان اتر کر نیچے کھڑا ہو گیا- اس نے جب دیکھا کہ شہزادی اترنے کا نام ہی نہیں لے رہی تو سختی سے بولا- "شہزادی صاحبہ اب اتر بھی جاوٴ- یہاں کنیزیں نہیں ہیں کہ ہاتھ پکڑ کر اتاریں گی- میں تو ایک لکڑ ہارا ہوں پہلے سارا کام میں خود کرتا تھا اب تم سے کروایا کروں گا، میں نے زندگی میں بڑی تکلیفیں اٹھائی ہیں، اب سکھ کا وقت آیا ہے"- شہزادی تو ہکابکا رہ گئی- اس کی شادی ایک لکڑ ہارے سے کردی گئی تھی- دکھ اور شرمندگی سے اس کی آنکھوں میں آنسو آگئے- اسے روتا دیکھ کر لکڑہارا نرم پڑ گیا- "میری تکلیف کا سن کر تمھاری آنکھوں میں آنسو آگئے ہیں، مجھے خوشی ہوئی، اچھی بیویاں ایسی ہی ہوتی ہیں"- "غلط نہ سمجھو، میں تو اس بات پر روئی ہوں کہ میری شادی ایک لکڑ ہارے سے کردی گئی ہے- ابّا حضور سے مجھے یہ امید نہیں تھی"- شہزادی سلطانہ نے بگھی سے نیچے اترتے ہوئے کہا- لکڑہارا ہنسنے لگا- "تو تم کیا سمجھ رہی تھیں کہ تم جیسی بدتمیز لڑکی کی شادی کسی شہزادے سے ہوتی؟"- "تم مجھے میرے منہ پر بدتمیز کہہ رہے ہو"- شہزادی نے چیخ کر کہا- "میں تو منہ پر ہی کہہ رہا ہوں، لوگ تو تمہیں پیٹھ پیچھے بھی یہ ہی کہتے ہیں"- وہ تو بادشاہ سلامت کا حکم تھا کہ میں تم سے شادی کروں، میں مجبور ہو گیا تھا، ورنہ تم جیسی لڑکی سے کبھی بھی شادی کی حامی نہ بھرتا- انہوں نے اپنی مصیبت میرے گلے ڈالدی ہے اب زندگی بھر بھگتوں گا"- لکڑ ہارے کی یہ توہین آمیز باتیں سن کر شہزادی نے زور زور سے رونا شروع کر دیا- لکڑہارا اس کے رونیب سے گھبرا گیا تھا مگر اس نے ظاہر نہیں کیا، شہزادی سے بولا- "تم نے اگر رونا دھونا بند نہیں کیا تو میں تمہیں جنگل میں چھوڑ آوں گا- شیر چیتے دن میں تو نہیں البتہ رات کو ضرور باہر نکل آتے ہیں"- اس کی دھمکی کارگر ثابت ہوئی، شہزادی نے رونا بند کر دیا- لکڑہارا اسے لے کر گھر میں داخل ہوا- گھر کافی بڑا تھا اور اس سے بڑا اس کا صحن تھا مگر اس میں سامان بہت معمولی تھا- شہزادی منہ بنا کر ایک طرف بیٹھ گئی- لکڑہارے نے باورچی خانے میں جاکر کھانے کا انتظام کیا- شہزادی کو بھوک لگ رہی تھی اس لیے اس نے چپ چاپ کھانا کھا لیا- کھانے کے دوران وہ چپ ہی بیٹھی رہی تھی- کھانے کے بعد بولی- "میں اپنی قسمت پر شاکر ہوں مگر ابّا حضور اور امی حضور نے میرے ساتھ اچھا نہیں کیا ہے"- لکڑہارا تلخی سے بولا- "ان کی زیادتی تو تمہیں یاد ہے، تم کیا کرتی تھیں بھول گئیں- تم نے ان کے لاڈ پیار کا ناجائز فائدہ اٹھایا تھا- تم اکلوتی تھیں، اس لیے وہ تم سے بہت پیار کرتے تھے، تمھاری ہر بات مانتے تھے اور ہر خواہش پوری کرتے تھے اور تم نے اس کا یہ صلہ دیا کہ اپنی من مانی کرنے لگیں اور یہ من مانیاں بڑھ کر بدتمزیوں میں تبدیل ہوگئیں- ضد تو چھوٹے بچے کرتے ہیں اور ضد کرتے بچے اچھے بھی لگتے ہیں مگر تمھارے جیسی بڑی لڑکیاں ضد کرتے ہوئے کتنی واہیات لگتی ہیں، میرا بس چلے تو ایسی لڑکیوں کو مرکھنے بیل کے آگے ڈالدوں تاکہ وہ ان کے خوب ٹکریں ماریں اور مزہ چکھادیں- یہ سن کر شہزادی پھر رونے لگی- "تم میری بے عزتی کر رہے ہو"- "اب تم میری بیوی ہو، تمھاری بری باتوں کا تذکرہ اس لیے کر رہا ہوں کہ تم ان کو چھوڑ دو تاکہ ہماری زندگی ہنسی خوشی گزرے- یاد کرو سالگرہ والے دن تم نے کتنی بدتمیزی کی تھی"- لکڑہارے نے اسے یاد دلایا- شہزادی چونک گئی- "تمہیں کیسے پتا چلا؟"- "یہ بات تو ہمارے ملک کے بچے بچے کو پتہ ہے- اس دن ہمارے محلے میں دو عورتوں کی لڑائی ہو رہی تھی تو ان میں سے ایک عورت نے دوسری عورت کو یہ کہہ کر بددعا دی تھی کہ اللہ کرے تیری بچی شہزادی کی طرح بدتمیز ہوجائے"- یہ سن کر شہزادی کا چہرہ شرم سے سرخ ہو گیا- لکڑہارے کی باتیں سن کر اس کو احساس ہونے لگا تھا کہ واقعی اس نے اپنے ماں باپ کے ساتھ بہت زیادتی کی تھی- وہ اس سے اتنی محبت کرتے تھے مگر اس نے ہمیشہ اس محبّت کا ناجائز فائدہ اٹھایا تھا- اپنی یہ باتیں سوچ سوچ کر اس کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے- وہ ہچکیاں لے لے کر رونے لگی- لکڑ ہارے نے کہا- "صبح مجھے جلدی اٹھا دینا- اب ہم ایک سے دو ہوگئے ہیں- مجھے زیادہ لکڑیاں کاٹنا پڑیں گی تاکہ اتنے پیسے ملیں کہ ہمارے گھر کے اخراجات ٹھیک طرح سے چلیں، ویسے بھی تم بادشاہ کی بیٹی ہو، خرچ کے معاملے میں تمہارا ہاتھ کھلا ہوگا- اور دیکھو ہمارے گھر میں بہت سی مرغیاں بھی ہیں، ان کے انڈے سنبھال کر رکھنا، محلے والے انھیں خریدنے آئیں تو انھیں فروخت کردیا کرنا"- کمرے میں دو ہی آوازیں سنائی دے رہی تھیں، ایک لکڑہارے کے بولنے کی آواز اور دوسری شہزادی کی سسکیوں کی- شہزادی کو اپنی امی اور ابّا شدت سے یاد آ رہے تھے- اگلے روز لکڑہارے کو بڑی حیرت ہوئی، وہ سو کر اٹھا تو شہزادی نے اس کے لیے انڈے اور پراٹھوں کا انتظام کیا ہوا تھا- "ناشتہ تم نے بنایا ہے؟"- اس نے حیرت سے پوچھا- "نہیں یہ چیزیں میں نے محلے کے ایک بچے سے نانبائی کی دکان سے منگوائی تھیں- مجھے تو کچھ پکانا ہی نہیں آتا"- یہ کہتے ہوئے شہزادی کا شرم سے منہ سرخ ہوگیا وہ سوچ رہی تھی کہ اس کا لکڑہارا شوہر کیا سوچے گا کہ یہ اتنی بڑی ہو گئی ہے اور اسے کھانا بھی پکانا نہیں آتا- لکڑہارا شام کو گھر آیا تو اسے صبح سے بھی زیادہ حیرت ہوئی، شہزادی کمر سے دوپٹہ باندھے صحن میں جھاڑو دے رہی تھی، مرغیاں اس کے آگے پیچھے پھر رہی تھیں، گھر کا دروازہ حالانکہ کھلا ہوا تھا مگر وہ شہزادی کے پاس سے بھاگ کر باہر نہیں گئیں-"دیکھو میں تمہارے لیے کیا لایا ہوں" لکڑہارے نے کہا- وہ جلدی سے اس کے پاس آء، وہ ایک بدلی ہوئی لڑکی لگ رہی تھی، اس کے چہرے پر اب وہ وحشت اور کرختگی بھی نظر نہیں آرہی تھی جو لکڑہارے نے کل دیکھی تھی- لکڑہارے نے بہت سارے سرخ سرخ بیر اس کے ہاتھوں پر رکھ دئیے "انہیں میں نے جنگل میں سے تمہارے لیے توڑا تھا"- اس نے خوش ہو کر انھیں لے لیا اور مزے سے کھانے لگی- "یہ تو بڑے مزے کے ہیں"- اس کی آواز سن کر لکڑہارے کو بہت اچھا لگا، ایسا لگ رہا تھا جیسے کہیں آس پاس جلترنگ بج اٹھے ہوں- کل تو شہزادی کی آواز ایسی تھی کہ اسے سن کر لکڑ ہارے کا دل چاہ رہا تھا کہ کانوں میں انگلیاں ٹھونس لے- "میں نے محلے کے اسی لڑکے سے کھانا منگوالیا ہے- اس کو میں انعام میں دو سکے دیتی ہوں وہ بھاگ کر میرا کام کردیتا ہے"- کھانے کے بعد لکڑہارے نے کہا- "شہزادی مجھے خوشی ہے کہ تم بہت بدل گئی ہو"- وہ بولی- "آپ کی باتیں سن کر مجھے احساس ہوگیا ہے کہ میں کس قدر بدتمیز اور بداخلاق تھی- میں نے امی حضور اور ابّا حضور کو بہت دکھ دئیے ہیں- میں بہت شرمندہ ہوں- میں ان سے مل کر ان سے معافی مانگنا چاہتی ہوں- آپ مجھے ان سے ملانے لے جائیں گے؟"- لکڑہارے نے گھبرا کر کہا "کبھی بھی نہیں، تم وہاں جاوٴ گی تو وہیں رہ جاوٴ گی- میں کیا کروں گا- میری مرغیوں کو دانا کون ڈالے گا- گھر کی صفائی کون کرے گا؟"- شہزادی نے شرما کر کہا- "ان سے مل کر میں واپس آجاوٴنگی- میرا اصل گھر تو اب یہ ہی ہے"- لکڑہارے نے یہ بات سنی تو اس کا دل چاہا کہ مارے خوشی کے ایک زور کی چیخ مارے مگر اس نے ضبط کیا اور دھیرے سے بولا- "ٹھیک ہے ہم کل محل چلیں گے- مگر میں لکڑیاں کاٹنے جنگل نہیں گیا تو پیسے نہیں ملیں گے"- اس کی اس بات پر وہ بولی "اس کی تو تم فکر ہی مت کرو- میں نے بہت ساری اشرفیاں جمع کر رکھی ہیں جو محل میں میرے کمرے میں ہی ہیں- میں وہ بھی لیتی آوٴں گی"- اگلے روز وہ لوگ محل پہنچ گئے- انھیں دیکھا تو ملکہ نے جلدی سے شہزادی کو گلے سے لگا لیا ا ور رونے لگی- بادشاہ کو بھی اطلاع مل گئی تھی، وہ بھی وہاں آ گیا- اسے دیکھ کر شہزادی روتے ہوئے اس سے لپٹ گئی- "ابّا حضور مجھے معاف کردیں- مجھے اپنی غلطیوں کا احساس ہو گیا ہے، میں نے آپ لوگوں کو بہت تنگ کیا تھا اور اپنی حرکتوں سے آپ کو بہت دکھ پہنچایا تھا- میں وعدہ کرتی ہوں کہ اب آئندہ ایسی کوئی حرکت نہیں کروں گی"- بادشاہ کی آنکھیں نم ہو گئی تھیں- اس نے بھی شہزادی کو محبت سے لپٹا لیا اور بولا "غلطیاں بچے ہی کرتے ہیں- بڑوں کا فرض ہے کہ انھیں معاف کردیں- بیٹی- ہمیں تم سے کوئی شکایت نہیں ہے بلکہ اس بات کی خوشی ہے کہ تمہیں اپنی غلطیوں کا احساس ہو گیا ہے"- پھر وہ لکڑہارے کی طرف متوجہ ہوا- "شہزادہ بابر ہم تمھارے مشکور ہیں کہ تم نے شہزادی کو راہ راست پر لانے میں ہماری مدد کی"- لکڑہارا جو اصل میں شہزادہ تھا اس نے ہاتھ باندھ کر بادشاہ کو تعظیم دی اور بولا- "یہ میری خوش قسمتی ہے کہ مجھے شہزادی جیسی بیوی ملی ہے"- ان دونوں کی باتوں کو شہزادی بہت حیرت سے سن رہی تھی جب کہ ملکہ کھڑی مسکرا رہی تھی- اس کی حیرت بھانپ کر بادشاہ نے کہا- "بیٹی- ہمارے وزیر نے ہی ہمیں یہ صلاح دی کہ شہزادہ بابر کو ایک لکڑہارا بنا کر اس کی شادی تم سے کر دی جائے- شہزادہ بابر ایک ذہین نوجوان ہے، اس کی باتوں سے متاثر ہو کر تمہیں اپنی غلطیوں کا احساس ہوگیا ہے- ہم بہت خوش ہیں "- شہزادی کی اس تبدیلی سے ہر طرف خوشیوں کے شادیانے بجنے لگے تھے- شہزادی نے ان شاہی غلاموں اور کنیزوں سے بھی معافی مانگی جن کے ساتھ اس نے کبھی اچھا سلوک نہیں کیا تھا- ان لوگوں میں اس نے اشرفیاں بھی تقسیم کیں- وہ سب بھی خوش ہوگئے- رات کے کھانے کے بعد شہزادی نے شہزادہ بابر سے کہا- "میں تیار ہو کر آتی ہوں پھر چلتے ہیں"- ملکہ نے حیرت سے پوچھا- "بیٹی- کہاں جانے کا کہہ رہی ہو؟"- شہزادی نے شرما کر کہا- "اپنے گھر، جہاں ہماری مرغیاں ہیں اور محلے میں وہ لڑکا ہے، جو چھوٹے بھائیوں کی طرح بھاگ بھاگ کر میرے کام کرتا ہے"- اس کی بات سن کر بادشاہ اور ملکہ کھلکھلا کر ہنس پڑے- بہت دنوں بعد محل میں ان دونوں کی ہنسی لوگوں نے سنی تھی- خیر بادشاہ نے دوبارہ تو ان کو وہاں نہیں بھیجا، مرغیاں اس نے محل میں ہی منگوالی تھیں تاکہ شہزادی خوش ہوجائے- اس لڑکے کو جو بازار سے شہزادی کے لیے چیزہیں خرید کر لایا تھا، شہزادی نے بہت سے تحفے بھجوادیے تھے- پھر کچھ دن محل میں گزار کر شہزادہ بابر شہزادی سلطانہ کو لے کر اپنے ملک روانہ ہو گیا اور دونوں ہنسی خوشی رہنے لگے-

Your Thoughts and Comments