Siana Bhulakkar

Siana Bhulakkar

سیانا بھلکّڑ

حیدرآباد سے بیس بائیس کلومیٹر دورایک چھوٹے سے خوب صورت گوٹھ میں ایک لڑکا منورعلی سومرد رہتا تھا۔ وہ بے انتہافرماں بردار، اخلاق، پڑھاکو، لیکن اول درجے کابھلکڑ تھا۔ مہینے بھر پہلے کی بات کاکیا ذکر۔۔۔

زینب تاجور:
حیدرآباد سے بیس بائیس کلومیٹر دورایک چھوٹے سے خوب صورت گوٹھ میں ایک لڑکا منورعلی سومرد رہتا تھا۔ وہ بے انتہافرماں بردار، اخلاق، پڑھاکو، لیکن اول درجے کابھلکڑ تھا۔ مہینے بھر پہلے کی بات کاکیا ذکر، وہ توگزشتہ کل کی بات بھی بھول جاتاتھا، اسے خودبھی اپنی اس کمزوری کااحساس تھا، لیکن بے چارہ کیاکرتا۔
ہزار کوشش کے باوجود منوراپنی اس کم زوری پر قابو پانے میں ناکام رہا۔ اس کے علاج معالجے میں کوئی کسرنہ چھوڑی گئی، لیکن سب بے فائدہ، بھلکڑپن جوں کاتوں برقرار رہا۔ بس ایک خوبی تھی کہ منور ہرسال امتحان میں اچھے نمبروں سے پاس ہوجاتا تھا۔
اس پر اس کے ابوبھی حیرت زدہ رہتے تھے۔
ایک اتوار کوصبح ناشتے سے فارغ ہوکرمنور اپنا ہوم ورک مکمل کررہاتھا کہ اس کے ابوکمرے میں آئے اور بولے: منور بیٹے! میں ایک ضروری کام سے جارہاہوں، شام تک آؤں گا۔

(جاری ہے)

تم ایسا کرو کہ حیدرآباد چلے جاؤ اور بازار سے گھر کاسودا سلف خرید کرلے آؤ۔

فہرست اپنی امی سے بنوالینا۔ ایک ہزار کانوٹ میں نے تمھاری ڈکشنری کے نیچے دباکررکھ دیاہے۔ بس کے کراے کے لیے کچھ پیسے امی سے لے لینا۔ ہوشیار رہنا کہ کوئی جیب کتراتمھیں اس نوٹ سے محروم نہ کردے۔
ٹھیک ہے بابا سائیں! جیسا آپ کاحکم۔
میں پوری احتیاط کروں گا۔
اور ہاں، ایک ضروری بات اور۔ اس کے ابو کمرے سے باہر جاتے جاتے رک کر بولے: اب تم خاصے بڑے ہوگئے ہو، اس لیے تمھیں میرا سہارا بننا چاہیے۔ آیندہ گھرکے چھوٹے موٹے کام تم خود ہی کرلیا کرو۔
جی بابا سائیں! میں پوری پوری کوشش کروں گا۔

منور بس اڈے پر پہنچا ہی تھا کہ بس آگئی۔ بس بھری ہوئی تھی۔ کنڈکٹرنے اس ایک موٹی عورت کے ساتھ بٹھادیا۔ پتانہیں وہ سورہی تھی یااونگھ رہی تھی۔ منور کے ساتھ بیٹھنے پراس نے لمحہ بھرکے لیے آنکھیں کھول کراسے دیکھاا ور پھر اونگھنے لگی۔
عورت حلیے سے غریب لگ رہی تھی۔ اس کے کپڑے معمولی اور میلے تھے۔ ہونٹوں پر پپڑیاں جمی ہوئی تھیں۔ اس کی گود میں ایک پرانا اور بدرنگ بٹوارکھا ہوا تھا، جس کافیتہ اس نے اپنی انگلیوں میں لپیٹ رکھا تھا۔ منور کواس غریب عورت سے خاصی ہمدردی محسوس ہوئی، لیکن وہ کیا کرسکتا تھا۔

بس چلی تو صبح کی ٹھنڈی ٹھنڈی ہواؤں نے منور کوبھی اونگھنے پر مجبور کردیا، لیکن پھر وہ چونک کرسیدھا ہوگیا مجھے جاگتے رہنا چاہیے۔ اس نے کود سے کہا: اگر میں سوگیااور کسی نے میری جیب سے ہزار کانوٹ نکال لیا توقیامت ہی آجائے گی۔

منور نے اپنی ران میں زور سے ایک چٹکی بھری۔ نیند تھوڑی دیر کے لیے ضرور غائب ہوگئی، لیکن کب تک صبح کی ٹھنڈی ٹھنڈی فرحت بخش ہواؤں نے اسے پھر تھپک کر سلادیا۔ پتانہیں کیاہوا تھا، شاید نیند کازور دار جھونکا تھا کہ منوراپنی طرف دیکھا سب کچھ ٹھیک ٹھاک تھا بچا۔
اس نے آنکھیں پھاڑ کر بس کے اندر چاروں طرف دیکھا سب کچھ ٹھیک ٹھاک تھا کچھ مسافر اونگھ رہے تھے اور کچھ باہر دیکھ رہے تھے۔ منور کو اچانک نوٹ کاخیال آیا اور اس نے فوراََ اپنی اوپری جیب میں ہاتھ ڈال دیا۔ ہزار کانوٹ غائب ہوچکا تھا۔
وہ بدحواس ہوگیا۔ جلدی جلدی ساری جیبیں دیکھ ڈالیں، لیکن نوٹ کاکہیں پتانہیں تھا۔ اس نے سیٹ کے نیچے بھی جُھک جُھک کر کئی بار دیکھا، لیکن نوٹ کونہ ملنا تھانہ ملا۔ اب میں کیا کروں، اس نے خود کلامی کے انداز میں کہا۔ کیامیں اس موٹی عورت سے پوچھوں یابس کنڈکٹر سے کہوں کہ کسی نے میری جیب سے ہزار کانوٹ نکال لیا ہے، لیکن اس سے کیا ہوگا۔
جیب کترا تونوٹ چُرا کر پچھلے کسی اسٹاپ پر اُتر گیاہوگا۔ منور دل ہی دل میں خود کو کوسنے لگاکہ اگروہ اتنی غفلت کاثبوت نہ دیتا اور خود کونیند دے محفوظ رکھتا تویہ نوبت نہ آتی۔ اب میں اپنے بابا سائیں کوکیامنھ دکھاؤں گا۔
اچانک منور کے ذہن میں ایک کونداسالپکا کہ کہیں وہ نوٹ اس موٹی عورت نے تومیری جیب سے نہیں نکال لیا۔
ضرور یہی بات ہے۔ اسے کسی طرح پتا چل گیا ہوگا کہ میری اوپری جیب میں ہزار کاایک نوٹ پڑا ہے۔ بس اس نے مجھے سوتا دیکھ کر چپکے سے نوٹ نکال لیا۔ اب میں کیا کروں۔ کیامیں کنڈکٹر سے کہوں کہ اس عورت نے میرا نوٹ چُرایا ہے، لیکن اگر تلاشی لینے پرنوٹ اس کے پاس سے نہ نکلا تومیری کتنی سبکی ہوگی۔
بہتر ہے کہ چوری کاالزام لگانے سے پہلے اس کے بٹوے کی تلاشی لے لوں۔
منور نے چور نظروں سے چاروں طرف دیکھا اور عورت کی گود سے پرس اُٹھالیا۔ اسے بالکل خبر نہ ہوئی اور وہ اسی طرح سوتی رہی۔ منور نے زپ کھول کردیکھا توسامنے ایک سرخ رنگ کے روما پر ہزار کانوٹ رکھا ہوا تھا۔
اسے حیرت کاایک شدید جھٹکا سا لگا: تومیرا شبہ درست نکلا۔ اس نے خودسے کہا، یہ عورت جیب کتری ہے۔ اسی نے میری جیب سے ہزار کانوٹ نکالا ہے۔خیر بات بڑھانے کاکوئی فائدہ نہیں۔ مجھے میرا نوٹ واپس مل گیا، اب اور کیا چاہیے۔ اس نے پرس سے نوٹ نکال کراپنی جیب میں رکھا اور زپ بند کرکے احتیاط سے دوبارہ عورت کی گود میں رکھ دیا۔
عورت ابھی تک سورہی تھی۔
شام کوچار بجے منور گھر میں داخل ہوا تواسے سامان سے لدا پھندا دیکھ کراس کے ابوہکابکارہ گئے۔
” ہائیں یہ کیا؟ منور! بغیر پیسوں کے اتنی ساری خریداری تم نے کیسے کرلی؟ اس کے ابو نے تعجب سے پوچھا۔

یہ آپ کیاکہہ رہے ہیں باباسائیں! کیا آپ نے مجھے ہزار روپے کانوٹ خریداری کے لیے نہیں دیا تھا۔ منور حیرت سے بولا۔
ضرور دیاتھا، لیکن وہ نوٹ تو تم گھرہی پر چھوڑ کرحیدرآباد چلے گئے تھے۔ اپنے کمرے میں جاکر دیکھو۔ ہزار کانوٹ ابھی تک ڈکشنری کے نیچے دبا ہوا رکھا ہے۔

Your Thoughts and Comments