Sohbat Ka Asaar

صحبت کا اثر

یہ صحبت کا اثر ہے پہلے نماز کا اور دوسرا طبلہ سارنگی کا کہے گا ۔

منگل اپریل

Sohbat Ka Asaar
ساجد کمبوہ
صدیوں پرانی بات ہے کہ ملک یمن میں ایک بادشاہ حکومت کرتا تھا۔ وہ بہت انصاف پسند، نیک اور رعایا کا خیال رکھنے والا تھا۔ بادشاہ کا وزیر بہت دانا، عقل مند تھا۔ وہ بادشاہ کو اچھے اچھے مشورے دیتا جو رعایا کے لئے بہت فائدہ مند ہوتے ۔
وزیر بہت ضعیف ہو چکا تھا وہ بادشاہ کے والد کا بھی وزیر رہا تھا ۔اس نے ایک دن بادشاہ سلامت سے کہا کہ اب میری صحت اجازت نہیں دیتی آپ کوئی نوجوان ،ذہین وزیر رکھ لیں ۔مگر بادشاہ اس کے لئے تیار نہ تھا ۔بادشاہ نے کہا”وزیر محترم آپ کی موجودگی میں کسی وزیر اعظم کا سوچا بھی نہیں جا سکتا۔
آپ جیسا عقل مند اور ذہین وزیر نہیں ملے گا۔
”بادشاہ سلامت میں اپنی زندگی میں ایک اچھا، ذہین وزیر دیکر جانا چاہتا ہوں ۔

(جاری ہے)

آپ رعایا میں اعلان کر دیں ۔میں ان کا امتحان لونگا اور کامیاب ہونے والے کو وزیر رکھ لیں ۔پس بادشاہ نے اعلان کروا دیا کہ بادشاہ کو ایک نوجوان ،ذہین وزیر کی ضرورت ہے ملک بھر سے درجنوں افراد دربار پہنچ گئے ۔

وزیر نے ہر شخص کو تین تین دینار دیتے ہوئے کہا ۔وہ سوالوں کے جواب چاہیے اگر جواب مل جائیں تو دربار میں آجائیں ورنہ آنے کی زحمت نہ کریں ۔”انسانی زندگی میں خون کا اثر زیادہ ہوتاہے یا صحبت کا“؟
”دوسرا سوال اب ہے،تب ہو گا، نہ اب ہے نہ تب ہو گا۔

دونوں سوال سن کر سبھی اپنے اپنے علاقوں میں چلے گئے آخر ایک ماہ بعد ایک شخص حاضر ہوا اور کہا،”بادشاہ سلامت آپ کے دونوں سوالوں کے جواب لے آیاہوں۔“سبھی حیران تھے کہ سوالوں کی سمجھ نہیں آئی اور جواب بھی لے آیا ہے ،اس نے کہا پہلے سوال کا جواب صبح دوں گا۔

دوسرے سوال کا جواب یہ ہے یہ لیں ایک دینار کا پنیر لے آیا ہوں لیں اس کی مٹھاس چکہیں یہ اب ہے ایک دینار مسجد میں دے دیئے ہیں اس کا ثواب تب ہو گا جب آپ وفات پا جائیں گے ۔اور تیسرا دینار ایک شعبدہ باز کو دے دیتے ہیں ۔نہ فائدہ اب ہے اور نہ مرنے کے بعد تب ہو گا۔
بادشاہ نے وزیر کی طرف دیکھا اس نے سر ہلادیا گویا ٹھیک ہے ۔اگلے دن ابھی بادشاہ سورہاتھا اچانک آواز آئی۔”چلو بھی اُٹھو اور نماز کا وقت ہو گیا ہے ۔بادشاہ حیران رہ گیا کہ یہ طوطا کہاں سے آیا ہے اور نماز پڑھنے کا کہہ رہا ہے یوں دس بارہ دن طوطا بادشاہ کو بیدار کرتا رہا۔
بادشاہ کو اچھا لگنے لگا ۔ایک دن اچانک آواز آئی اُٹھو ہڈ حراموں طبلہ بجاؤ، سارنگی بجاؤ،چلو اُٹھو ہڈحراموں طبلہ․․․․بادشاہ کو بہت غصہ آیا کہ طوطے نے کیا حرکت کی ہے اس نے تالی بجائی اور خادم حاضر ہوا اس نے حکم دیا اس نامراد کو پکڑو جب دربار لگے تو اسے پیش کرنا کہ کس کی اتنی جرأت ”خادم طوطا لیکر چلا گیا۔

”جب دربار لگا بادشاہ نے حکم دیا“طوطے کو یہ الفاظ کس نے سکھائے“؟ پہلے نماز کا کہتا تھا اب طبلہ سارنگی کا کہہ رہا ہے وہی نوجوان اٹھا اس نے سر جھکاتے ہوئے کہا”بادشاہ سلامت یہ آپ کے پہلے سوال کا جواب ہے ۔
یہ ایک نہیں دو طوطے ہیں ایک طوطا ایک حافظ صاحب کے پاس رکھوایا تھا وہ نماز کا کہے گا اور دوسرا طوطا میرا ٹیوں کے ہاں رکھا تھا ۔یہ صحبت کا اثر ہے پہلے نماز کا اور دوسرا طبلہ سارنگی کا کہے گا ۔حالانکہ دونوں کا خون ایک ہے اور صحبت الگ الگ بادشاہ بڑا خوش ہوا وزیر نے کہا بادشاہ سلامت اسے وزیر رکھ لیں یہ عقل مند اور ذہین ہے ۔
چند ماہ بعد وزیر کا انتقال ہو گیا ۔کچھ عرصہ بعد پڑوسی ملک کے بادشاہ نے حملہ کر دیا۔ وزیر نے کہا بادشاہ سلامت آپ خود جائیں یا کسی تجربہ کار سپہ سالار کو بھیجیں مگر بادشاہ نے نو جوان شہزادے کو بھیج دیا۔بادشاہ خود شکار کو روانہ ہو گیا ۔
شہزادہ بھی خیمے میں آرام کرتا رہا اور فوجیوں کو بھیج دیا۔ فوج بے دلی سے لڑی اور شکست کھا کر بھاگ گئی ۔یہ خبر سن کر بادشاہ کو بہت صدمہ ہوا۔ بادشاہ نے وزیر کو حکم دیا کہ شکست کے اسباب معلوم کرلے ۔ایک دن بادشاہ ،شہزادے اور فوجیوں نے سنا کہ وزیر نے اعلان کروایا ہے کہ اس شخص کا انتقال ہو گیا جو جنگ میں شکست کا باعث بنا تھا جس نے دیکھنا ہو وہ چھاؤنی پہنچ جائے ۔
سبھی حیران تھے کہ یہ بد بخت کون ہے جو شکست کا سبب بنا تھا۔
بادشاہ شہزادے اور دربار اسے دیکھنے کے لئے چھاؤنی گئے ایک کمرے میں ایک جگہ کوئی کفن میں لپٹا پڑا تھا۔ بادشاہ نے اس کا کفن اٹھایا دیکھا ایک بڑا سا آئینہ پڑا تھا۔
اس کو اٹھاکر دیکھا اپنا چہرہ نظر آیا۔ ساتھ ایک رقعہ پڑا تھا جس پر بادشاہ نے وزیر سے پوچھا ہم ملک کے بادشاہ ہیں یہ عوام ہماری رعایا ہے ہم اس کے کیسے دشمن ہو گئے۔
وزیر نے سر جھکاتے ہوئے کہا”بادشاہ میں نے مشورہ دیا تاکہ کسی بہادر سپہ سالار کو بھیجیں مگر آپ نے میری بات نہ مانی اور شہزادے کو بھیج دیا ۔
شہزادہ خیمہ گاہ میں آرام کرتارہا اس نے فوج کو لڑنے کے لئے بھیج دیا۔ فوجیوں نے بھی بہادری کا مظاہرہ نہ کیا یوں سب اپنے دشمن آپ ہوئے ۔اب بھی موقعہ ہے آپ خود اس کی سر کوبی کے لئے جائیں ۔پھر دیکھیں بادشاہ خود لڑنے کے لئے گیا اس کی فوج بھی بڑی بہادری سے لڑی اور دشمن کو شکست دی۔

دیکھا بچو!اسی طرح آپ بھی محنت کریں گے کامیابی آپ کے قدم چومے گی ۔اچھی صحبت اختیار کریں گے تو اچھے بنیں گے اور خدا نخواست بری صحبت اختیار کریں گے تو برے ہونے کا خدشہ ہے ۔اللہ تعالیٰ ہمیں نیک بننے اور زیادہ سے زیادہ علم حاصل کرنے کی توفیق دے ۔آمین

Your Thoughts and Comments