zindah mashinain

Zindah Mashinain

زندہ مشینیں

تزئین کے نزدیک یہ ایک عجیب واقعہ تھا، جو اس نے اپنی ڈائری میں لکھا تھا۔ تاریخ سترہ مئی 2454ء تھی۔ اس نے لکھا: ”آج معاذ کو ایک ایسی چیز ملی ہے، جسے کسی زمانے میں کتاب کہتے تھے۔ وہ ایک بہت ہی پرانی کتاب تھی۔

احمد عدنان طارق

تزئین کے نزدیک یہ ایک عجیب واقعہ تھا، جو اس نے اپنی ڈائری میں لکھا تھا۔ تاریخ سترہ مئی 2454ء تھی۔ اس نے لکھا: ”آج معاذ کو ایک ایسی چیز ملی ہے، جسے کسی زمانے میں کتاب کہتے تھے۔ وہ ایک بہت ہی پرانی کتاب تھی۔
تزئین کے دادا نے ایک دفعہ اپنے چین کا ذکر کرتے ہوئے بتایا تھا کہ ان کے دادا کے زمانے میں تمام تحریریں کاغذ پر چھپا کرتی تھیں۔ تزئین اور معاذ نے کتاب کے اوراق کئی دفعہ اُلٹ پلٹ کر دیکھے۔ تمام اوراق پیلے اور بوسیدہ ہو چکے تھے۔
وہ حیرانی سے ورق پلٹ رہے تھے، کیوں کہ ان کے لیے یہ بہت حیران کن تھا۔معاذ بولا:” اس زمانے میں کاغذ کی کتاب بنانا تونری پیسوں کو ضائع کرنے والی بات ہوگی۔ مجھے لگتا ہے، جب کوئی ایک دفعہ اس طرح کی کتاب والی تحریر کو پڑھ لیتا ہوگا تو وہ کتا ب پھینک دیتا ہو گا۔

(جاری ہے)

ہمارے کمپیوٹر کی اسکرین میں تو ایسی لاکھوں تحریریں محفوظ ہیں اور کمپیوٹر کی یادداشت اتنی ہی اور کتابی تحریروں کو بھی محفوظ کرسکتی ہے۔تزئین گیارہ سال کی تھی۔ وہ ابھی کمپیوٹر اسکرین پراتنی کتابی تحریریں نہیں پڑھ سکتی تھی جتنی معاذ پڑھ چکا تھا، کیوں کہ وہ تیرہ سال کا تھا۔
تو میں نے پوچھا: معاذ تمھیں یہ کتاب کہاں سے ملی ہے؟ معاذ نے دیکھے بغیر اشارہ کرتے ہوئے کہا:کباڑیے سے ، شایدعجائب گھر والوں میں سے کسی نے بیچ دی ہو۔“وہ بدستور کتاب پڑھنے میں مصروف تھا۔ تزئین نے پوچھا: کس موضوع پر ہے؟“ معاذ بولا:” یہ اسکول کے متعلق ہے۔
“تزئین تعجب سے بولی: اسکول ؟ وہ اسکول جو دادا کے بچپن میں کسی عمارت میں ہوا کرتے تھے۔ اس کے بارے میں لکھنے والی کیا بات ہوسکتی ہے؟ ہمار امشینی استادتو ہمارے گھر کے اندر ہی ہوتا ہے۔“ پچھلے چند دنوں سے اس کا مشینی استاد جغرافیہ کا مضمون پڑھاتے ہوئے اس کے امتحان پر امتحان لے رہا تھا اور ہر امتحان کے بعد اس کا نتیجہ خراب سے خراب تر ہوتا جارہا تھا۔
۔ حتیٰ کہ امی نے ایک دن اسے پکڑ کر جھنجوڑا اور پھر اسے قصبے کے انسپکٹر کے پاس لے گئیں۔ وہ ایک سرخ چہرے والا گول مٹول شخص تھا، جس کا کمرا چھوٹے چھوٹے اوزاروں ، برقی تاروں اور مختلف جسامت کے ڈبوں سے بھرا پڑا تھا۔ وہ تزئین کو دیکھ مسکرایا اور کھانے کے لیے ایک سیب د یا۔
پھر انسپکٹر نے تزئین کے مشینی استاد کو،جس کے چہرے کی جگہ ایک بڑی سی کالے رنگ کی اسکر ین لگی ہوئی تھی ، منٹوں میں اُدھیڑ کررکھ دیا۔ انسپکٹر نے ایک گھنٹے میں ہی روبوٹ استاد کو دو با رہ جوڑ دیا۔ حالانکے تزئیں خواہش تھی کہ کاش ، انسپکٹرکو بھی اسے جوڑ نا نہ آ تا ہوتا۔
لیکن مشینی استاد کے چہرے پرلگی ہوئی اسکرین پر فورا ہی اس کے سبق کے لکھے ے ہوئے آنے لگے اور ساتھ سبق کے متعلقہ ہدایت بھی۔اس سارے سبق سے تزئین کو اتنی چِڑنہیں جتنی گھر میں بیٹھ کر گھریلو کا م سے، جو اسے استاد کے سبق دینے کے بعد کرنا ہوتا تھا۔
اسے یہ سارا ہوم ورک اسکرین کے نیچے لگی ہوئی ایک سلیٹ پرمشینی قلم سے لکھنا پڑتا تھا۔ روبوٹ استادا سے فورا نتیجہ بتا دیتا تھا۔ جواب غلط ہوتا تو اتنی زور سے گھنٹی بجتی کہ امی اپنے کمرے سے باہر نکل کر پوچھتیں، کون سا جواب غلط ہے۔
انسپکٹر اپنا کام مکمل کر کے دو بار مسکرایا اور پیار سے تزئین کے سر کو تھپتھپایا، پھر اس نے تزئین کی امی سے کہا: تزئین کا قصور نہیں تھا، بلکہ اس مضمون کے اگلی جماعتوں کے اسباق اسکرین پر سے گزرنے لگے تھے۔ کئی دفعہ کمپیوٹر میں اس طرح کی فنی خرابی ہو جاتی ہے۔
میں نے اسباق کو تزئین کی ذہنی سطح کے مطابق کر دیا ہے۔ اب تزئین کو جغرافیہ کے مضمون سے کو ئی مشکل نہیں ہو گی ،، ایک دن معاذ نے تزئین کو پھر اس کتاب کے بارے میں بتایا : جس اسکول کا ذکر اس کتاب میں ہے، وہ کئی صدیوں پہلے ہوا کرتے تھے۔
صدیاں پہلے کیاسمجھیں؟ تزئین نے کہا: ’واقعی مجھے صدیوں پہلے کے اسکولوں کے بارے میں مکمل پتا نہیں،لیکن یہ بات تو میں بھی سنی تھی کہ تب اسکولوں میں استاد ہوا کرتے تھے، جو پڑھاتے تھے۔‘ معاذ نے بتایا:” وہ آج کل کی طرح مشینی استاد نہیں ہوتے تھے، بلکہ انسان ہوا کرتے تھے۔
“ تزئین حیران ہوتے ہوئے بولی :’انسان؟ انسان استاد کیسے ہو سکتے ہیں؟ ان کی یادداشت کمپیو ٹر جتنی کیسے ہوسکتی ہے؟ معاذ بولا:” وہ بچوں کو سبق پڑھایا کرتے تھے۔ انھیں گھر میں کرنے کو کام دیتے تھے اور سوالوں کے جواب پوچھتے تھے۔
“ تزئین نے پوچھا: ” لیکن انسان تو ذہانت میں مشین کا مقابلہ نہیں کرسکتا۔ میں یہ ہرگز نہیں کروں گی کہ کوئی اجنبی شخص میر سے گھر آ کر بیٹھ جائے۔ یہ سن کر معاذ ہنسنے لگا ، پھر بولا : ارے ، وہ استاد گھروں میں ہمارے مشینی انسانوں کی طرح رہتے نہیں تھے۔
اسکولوں کے لیے علیحدہ عمارتیں ہوتی تھیں۔ جہاں طالب علم بچے پڑھنے جایا کرتے تھے۔ تزئین نے حیرت سے پوچھا : کیا سبھی بچے ایک طرح کے سبق پڑھتے تھے؟ معاذ نے بتایا:'ہاں، ایک جماعت کے بچے ایک طرح کا سبق پڑھتے تھے۔ تزئین بولی:” لیکن امی تو کہتی ہیں کہ ہمیں استادوں کو ایک مخصوص طرح سے سیٹ کرنا پڑتا ہے تا کہ وہ بچوں کو سبق پڑھا سکیں اور ہر بچہ مختلف سبق پڑھتا ہے بچوں کا جو پڑھنے کو دل چاہتا ہے،مشینی استاد کوو یسی ہدایت کر دی جاتی ہے۔
معاذ بولا:'' تم چاہو تو بے شک ان پرانے اسکولوں کے بارے میں بھی نہ پڑھوتزئین جلدی سے بولی:” میں نے کب کہا کہ مجھے پرانے اسکولوں کے بارے میں پڑھناپسند نہیں۔ میں ان پرانے عجیب و غریب اسکولوں کے بارے میں ضرور پڑھوں گی۔ابھی وہ باتیں کر ہی رہے تھے کہ ان کی امی کی آواز گونجی تزئین اسکول کاوقت ہو گیا۔
تزئین کا اسکول اس کے سونے والے کمرے کے برابر تھا۔تزئین کے اسکول کا روز انہ یہی وقت تھا ماسوائے ہفتہ اور اتوار کے۔ وہ بیٹھی تو اسکر ین روشن ہوگئی اور اس سے آواز آئی:آج ہم حساب میں کسروں کا سبق پڑھیں گے۔ مہربانی فرماکراپناکل کا کام مجھے دکھاؤ! تزئین کے منہ سے بے اختیار ایک ٹھنڈی سانس نکلی۔
وہ انہی پرانے اسکولوں کے بارے میں سوچ رہی تھی ، جن کے بارے میں اس کے دادا کے دادا با تیں کرتے تھے۔ پاس پڑوس کے سارے بچے جہاں پڑھنے جایا کرتے تھے۔ وہ اسکول کے صحن میں اونچا ہنستے تھے ، شور مچاتے تھے۔ اپنی اپنی جماعتوں میں اکٹھا بیٹھتے تھے اور پھر چھٹی کے وقت اکٹھا گھروں کو جاتے تھے۔
وہ سب ایک جیسا سبق روز پڑھتے تھے۔ اس لیے اسکول کا کام کرتے ہوئے گھروں پر ایک دوسرے کی مدد کیا کرتے تھے اور آپس میں باتیں بھی اور ہمدردی جیسی خوب صورت صفت لکھنے والے اساتذہ بھی انسان تھے۔ اُدھر روبوٹ استاد کی اسکرین پر لکھا جار ہا تھا:'' جب ہم دوکسروں کو جمع کرتے ہیں …… تزئین سوچ رہی تھی کہ پہلے سب لوگ ایک دوسرے سے کتنی محبت کرتے ہوں گے۔
بچوں کو اسکول جانے میں انھیں کتنی خوشی ملتی ہوگی۔ انسان ایک دوسرے سے ملتے ہیں تو خوش ہوتے ہیں ، ایک دوسرے کی مدد کر تے ہیں اور زندگی کا مزہ لیتے ہیں۔ ایک ہم ہیں کہ مصنوئی مشینی زندگی گزار رہے ہیں۔ لگتا ہے، جیسے ہم خود بھی زندہ مشینیں ہیں کاش! میں اسی دور میں پیدا ہوئی ہوتی ، کاش!

Your Thoughts and Comments