Ap Ka Kaam Ho Jaye Ga

آپ کا کام ہو جائے گا

جمعرات نومبر

Ap Ka Kaam Ho Jaye Ga
اعتبار ساجد
ظہورالدین عہد ہمارے دوست ہیں۔ ان کی وجہ شہرت ان کا تخلص نہیں ان کا شغل ہے۔ ان کا مشغلہ ہے۔ لوگوں سے وعدہ کرنا اور کرکے بھول جانا۔ سچ پوچھئے، تو انہیں سیاستدان ہونا چاہیے تھا۔ لیکن شروع ہی سے وہ ادب کے طالب علم رہے ہیں ، لہٰذاسیاست دان بننے سے بال پوائنٹ تک بھی جائیں گے تو وہ آپ کو نہیں ملے گا۔ البتہ ظہورالدین عہد صاحب وعدہ ضرور کرلیں گے۔

“ فکر کی کوئی بات نہیں۔ کل آکر پتہ کرلیں ، آپ کاکام ہوجائے گا۔ “ آپ اگلے دن جائیں گے تو پھر یہی وعدہ آپ کا منتظرہوگا۔ ظاہر ہے ایک معمولی بال پوائنٹ کے لئے آپ تیسری دفعہ تو جانے سے رہے۔ لہٰذا قدرتاًآپ کاکام ہوجاتا ہے۔ یعنی آپ اپنا مطلوبہ قلم یا کوئی اور چیز کسی دوسرے سے خرید لیتے ہیں۔
بات صرف اسٹیشنری کے سامان کی ہوتو یہ کہا جاسکتا ہے۔

(جاری ہے)

کہ بسااوقات بڑے سے بڑے اسٹیشنرکے پاس آپ کی مطلوبہ چیز نہیں ہوتی۔ عہد صاحب تو پھر بھی بہت چھوٹی سی دکان کے مالک ہیں۔ لہٰذا ان کے ہاں کسی چیز کا بروقت نہ ملنا کوئی ایسی تشویش ناک یا حیرانی کی بات نہیں۔ لیکن عہد صاحب کے وعدوں کا سلسلہ محض اپنی دکان تک ہی محدود نہیں ۔ ماشاء اللہ آپ زندگی کے ہر شعبے کے متعلق وعدہ کر لینے کے ماہر ہیں۔ مثلاً آپ کے بچے کو اسکول یا کالج میں داخلہ درکار ہے اور بہ ہزار کوشش یہ مسئلہ حل نہیں ہو رہا۔

اتفاقاً اس مسئلے کی سن گن عہد صاحب کو ہو جاتی ہے۔ وہ فوراً آپ کو تسلی دیتے ہیں۔
” فکر نہ کریں۔ میں خود وزیر تعلیم سے بات کروں گا۔
آپ کاکام ہوجائے گا۔“ آپ یہ خوشخبری سن کر نہال ہوجاتے ہیں۔ عہد صاحب کو ڈھیروں دعائیں دیتے ہیں۔ اور احباب واقرباء میں عہد صاحب کے وسیع تعلقات اور انسان دوستی کا پرچار کرتے ہیں۔ جب کئی دن بیت جاتے ہیں اور عہد صاحب کے ذریعے وزیر تعلیم کی جانب سے کوئی حوصلہ افزا پیغام یا خبر موصول نہیں ہوتی تو آپ لامحالہ پریشان ہوجاتے ہیں اور عہدصاحب کے پاس پہنچتے ہی علیک سلیک کے بعد دریافت کرتے ہیں۔

” کیوں عہد صاحب میرے کام کا کیا بنا؟ “
عہد صاحب ماتھے پر درجن بھر شکنیں ڈال کر انتہائی حیرت سے پوچھتے ہیں ۔
 ” کون سا کام ؟“
” وہی وزیر تعلیم والا۔؟ “ آپ مسکرا کر انہیں یاد دلاتے ہیں۔
” وزیر تعلیم والا۔؟“ وہ مزید شکنیں ڈال کر پوچھتے ہیں۔ کون سے وزیرتعلیم ۔ ” وفاقی کویا صوبائی۔ “
اب آپ ان کی پریشانی دور کرنے اور ان کی کھوئی ہوئی یادداشت بحال کرنے کے لئے ازسرنواپنے بچے کا مسئلہ بیان کرتے ہیں۔

اس پر عہد صاحب دونوں ہاتھ اٹھا کرکہتے ہیں۔ اچھااچھا سمجھ گیا۔ فکر نہ کریں۔ میں موقع ملتے ہی وزیرتعلیم صاحب سے بات کروں گا۔ آپ کاکام ہوجائے گا۔“
کسی کو ٹرین، ہوائی جہازیا بحری جہاز میں سیٹ بک کروانی ہو۔ ٹریکٹر خریدنے کے لئے قرضہ لینا ہو۔ بیٹے یا بیٹی کے لئے مناسب برکی تلاش ہو۔ کسی ملازمت کا حصول مطلوب ہو۔ کسی مقدمے کا فیصلہ اٹکا ہواہو۔

کسی مریض کو اسپتال میں فوری داخل کرانا مقصود ہو۔ گمشدہ کسی بچے کی بازیابی کا مسئلہ ہو۔ الغرض کوئی سا بھی مسئلہ ہو عہد صاحب سے بیان کر دیجئے ۔ فوری طور پر تسلی مل جائے گی ۔ اور آپ کا دل خوش ہوجائے گا۔
ایک دن ہم نے عہد صاحب سے گزارش کی۔ ” ایک عدد پلاٹ درکار ہے۔ آسان قسطوں پر دلوادیجئے۔ مفت مل جائے تو اور بھی اچھا ہے۔ “
پوچھنے لگے،یہ ” پلاٹ کون دے گا؟“
ہم نے کہا۔

”حکومت دے گی اورکون دے سکتا ہے۔ “
بولے۔” حکومت کے کس کارندے سے بات کرنی پڑے گی۔ “
ہم نے عرض کی۔” کسی سے بھی بات کرلیں۔ حکومت کا تو ہر کارندہ کار آمد ہوتا ہے۔ “
کچھ دیر تک سوچتے رہے اور منہ ہی منہ میں ” ہوں، ہوں“ کرتے رہے۔ پھر بولے۔
” میں وزیر بلدیات سے بات کرتا ہوں۔ آپ فکر نہ کریں۔ آپ کاکام ہوجائے گا۔ “
ہم نے احتیاطاً پوچھا لیا۔

”آپ کس روز بات کریں گے۔ “
بولے۔ ” بس دو تین دن میں۔ آپ چوتھے دن ٹھیک اسی وقت آکر مجھ سے پتہ کر لیں۔“
ہم چوتھے دن عہد صاحب کے پاس پہنچے۔ انہیں سلام کیا اور وعدہ یاددلایا۔ ماتھے پر ڈیڑھ درجن شکنیں ڈال کر بولے۔ ” کوساوعدہ۔ “
” پلاٹ والا۔ “ ہم مسکرائے ۔
عہد صاحب چکرائے۔ ”پلاٹ ؟ کس کہانی کا پلاٹ ؟ “
”اب ہم چکرائے۔ عرض کی۔

” کہانی یا ڈرامے کا نہیں، حقیقی پلاٹ ۔ زمینی پلاٹ بولے۔ ”پلاٹ کا کیا مسئلہ ہے۔ ذرا کھل کر بیان کریں ، مجاز مرسل میں بات نہ کریں۔“
ہم نے پوری تفصیل سے اپنے اور ان کے درمیان ہونے والی چار روزہ قبل بات چیت یاد دلائی۔ وہ دونوں ہاتھ اٹھا کر بولے۔ ” بس․․․․․․ بس․․․․․ سمجھ گیا․․․․․سمجھ گیا․․․․․․․ آپ فکر نہ کریں، آپ کاکام ہوجائے گا۔


ہم نے پوچھا۔ ” کب تک ہوجائے گا۔ “
بولے۔” یہ کوئی چار چھ دن تک۔ “
”پھر کب آکے معلوم کیا جائے؟ ہم نے تشویش بھرے لہجے میں پوچھا۔“
وہ حسب معمول شاہانہ دریادلی سے بولے۔” ساتویں دن آپ آکر پتہ کرلیں۔ “
ہم ساتویں دن پھر عہد صاحب کے پاس پہنچے۔ اب کے انہوں نے ابتدائی تفتیش سے ہمیں جلدی فارغ کردیا۔ بولے۔
” پتہ کرلیں ۔ “
ایک غریب محلے دار کی بیوی کھو گئی۔

گھر سے سودا سلف خریدسانے گئی اور لوٹ کرنہیں آئی۔ میاں بیچارے نے ایک دن بچوں کو سنبھالا تو اس کی چیں بول گئی۔
بڑا پریشان ، خراب وخستہ حیران وپریشان بیٹھا ہوا تھا ، بیچ دالان کہ اتنے میں پہنچ گئے، ہمارے ظہورالدین عہد بھائی جان
پہلے تو درماندہ حال شوہر کو تسلیاں دیں۔ پھر بچوں میں سے بعض کو چمکارا۔ بعض کو دھمکایا۔ آخر اٹھتے اٹھتے بولے۔

’ ’ فکر نہ کریں ۔ میں ایس ایس پی صاحب سے بات کرتا ہوں۔ آپ کل آکر مجھ سے پتہ کریں ۔ آپ کاکام ہوجائے گا۔ “
دکھیارا شوہر اگلے دن ان کی دکان پر پہنچا۔ اس حالت میں کہ ایک بچہ اس کی بگل میں تھا، ایک کاندھے پر ،ایک ٹانگوں سے چپکاہوا اور ایک دامن سے لپٹا ہوا ۔ اس نے پہلے تو جاکر انہیں سلام کیا۔ ” سلام وعلیکم ۔‘ ‘
ماتھے پر بل ڈال کر بولے ۔

” وعلیکم سلام ․․․․ فرمائیے۔ “
دردناک شوہر نے کربنا ک آواز میں کہا۔ ”ان بچوں کی والدہ کے سلسلے میں حاضر ہوں ۔ “
” بولے ۔ ” کیا وہ تم سے طلاق کی طالب ہے۔ “
”شوہر گھبرا کر بولا۔ جی۔ وہ بات یہ ہے کہ ۔ ایس ایس پی صاحب ۔ “
عہد صاحب اپنی رومیں تھے۔ ” اچھا اچھا۔ تو تمہاری بیوی ایس ایس پی صاحب کے بنگلے پر کام کرنا چاہتی ہے۔ “
شوہر بوکھلا کرٹانگوں سے چمٹے ہوئے بچے کا ایک دھپ رسید کرکے بولا۔

” نہیں جی ․․․․․․ آپ کو مغالطہ ہوا ہے۔ آپ کو یاد ہوگا کہ کل آپ میرے گھر آئے تھے اور آج آپ نے مجھے بلایاتھا۔ “
عہد صاحب دونوں ہاتھ اٹھا کر بولے ۔ ” بس بس ․․․․ سمجھ گیا ․․․․ سمجھ گیا․․․․․ آپ پرسوں آکر مجھ سے بات پتہ کرلیں۔ آپ کاکام ہوجائیگا۔
پرسوں وہ غریب الدیاران کے پاس پہنچا۔ اب وہ تنہا تھا۔ جاتے ہی فرفراس نے ان کا وعدہ یاددلایا۔

پھر وہ کچھ کہنا ہی چاہتا تھا کہا اس نے ہاتھ اٹھا کر اسے روک دیا۔ بولے۔ ” اچھا، اچھا سمجھ گیا۔ سمجھ گیا۔ اب آپ یوں کریں کہ پانچویں دن آکر مجھ سے پتہ کرلیں۔ آپ کاکام ہوجائے گا۔ “
وہ غریب بھونچکا رہ گیا بولا۔” کون ساکام جناب عالیٰ۔ میں تو یہ بتانے آیاتھا کہ میری بیوی کل آئی تھی اور اب بچے بھی ساتھ لے گئی ہے اور پرسوں وہ میکے میں جا کر بیٹھ گئی تھی۔ “
عہد صاحب پھردونوں ہاتھ اٹھا کر بولے۔
” بس بس ۔ سمجھ گیا۔ سمجھ گیا۔ آپ اب یوں کریں۔ کہ ٹھیک دس دن بعد آکر مجھ سے پتہ کر لیں۔ میں آپ کی دوسری شادی کے لئے مناسب برڈھونڈلوں گا۔ فکر نہ کریں ۔ آپ کاکام ہوجائے گا۔ “

Your Thoughts and Comments