Aziyat

اذیت

حافظ مظفر محسن ہفتہ دسمبر

Aziyat
شام کو دفتر سے واپسی پر گھر میں داخل ہوا تو والدہ کو افسردہ پایا”ماں جی۔خیر تو ہے آپ یوں اداس بیٹھی ہیں؟“”ہاں،ہاں بیٹا۔باؤ مجید کے ہاں چوتھی بیٹی پیدا ہوئی اور وہ بھی بے چاری اپاہج لگتی ہے۔“توبہ یا اللہ خیر“میرے منہ سے نکلا۔
باؤ مجید نے سات آٹھ سال پہلے پڑوس میں کرایہ پر ایک کنال کا مکان حاصل کیا ۔اس وقت باؤ مجید اس کی نئی نویلی دلہن اور بوڑھی ماں اس چھوٹے سے خاندان کے کل افراد تھے۔

محلے والے حیرت زدہ ہوئے کہ کیوں حاصل کیا؟
صبح اذان سے کچھ دیر پہلے بڑی بڑی ویگنیں اکثر باؤ مجید کے گھر میں داخل ہوتیں کچھ ہلچل سی پیدا ہوتی اور اندھیرے میں ہی وہ ویگنیں واپس چلی جاتیں۔میں اکثر اس پر اسرار بات پر غور کرتا مگر باؤ مجید نے محلے میں اس طرح دوستیاں پیدا کرلیں کہ محلے دار اسے بہت اچھا انسان سمجھتے اور اس کے کسی فعل پر شک نہ کرتے۔

(جاری ہے)

سونے پہ سہاگے والی بات باؤ مجید نے ایک مذہبی اور سیاسی جماعت کی نہ صرف رکنیت اختیار کر لی بلکہ اس کے گھر اکثر اس پارٹی کے اجلاس وغیرہ بھی منعقد ہوتے۔
اس دوران باؤ مجید کے ہاں پہلی بیٹی کی ولادت ہوئی۔کچھ عرصہ تک تو کسی نے محسوس نہ کیا لیکن جب بچی کے چلنے پھرنے کی عمر شروع ہوئی تو کچھ عرصہ تاخیر کو بھی زیادہ محسوس نہ کیا گیا مگر جب یہ عرصہ بڑھتا چلا گیا تو باؤ مجید بچی کو لے کر بڑے بڑے ڈاکٹروں کے پاس لیکر گیا ڈاکٹروں کی ایک ہی رائے تھی کہ بچی اپنے پاؤں پر کھڑی نہ ہو سکے گی‘یہ پیدائشی طور پر اپاہج ہے۔


جب ڈاکٹروں نے صاف جواب دے دیا تو ہمارے رواج کے مطابق باؤ مجید نے بھی ادھر ادھر بیٹھے نیم حکیموں کی طرف رخ کیا۔جادو ٹونے والوں پر بھی دولت لٹانا شروع کی۔کسی نے شک ڈالا کہ تمہارے کزن کی بیوی نے کالاجادو کر دیا ہے۔باؤ مجید عاملوں کے پاس بھی جانے لگا۔وہی عامل جو ایک مہینہ میں پچاس پچاس ہزار روپے کے اخبارات میں اپنی شہرت اور کاروبار کے اشتہارات چھپواتے ہیں جب گاہک ان کے ہتھے چڑھتا ہے تو وہ ایک آدھ گاہک سے ہی مہینے بھر کے اشتہاری خرچے کے پیسے وصول کر لیتے ہیں۔


باؤ مجید کو بھی اونٹوں کا دل ہر پیر کو لانے کو کہا جاتا۔پھر دو منہ والا کالا ناگ لانے کی بھی فرمائش ہوئی۔جب یہ فرمائش پوری نہ کر سکا تو عامل نے اپنے کارندوں کے ذریعے یہ سانپ منگوایا اور کالی ہنڈیا میں اسے کئی دن بھوکا رکھا۔پھر اس پر کچھ منتر پڑھا اور دشمن کا نام لے کر کاغذ ہنڈیا میں پھینک دیا اور باؤ مجید کو حکم دیا کہ یہ کالی ہنڈیا قبرستان میں دفن کر آؤ۔

پھر دیکھو دشمن کا کیا حال ہوتاہے۔
جس دن مجید نے ہنڈیا سانپ سمیت قبر ستان میں دفن کی اسی دن باؤ مجید کے ہاں دوسری بیٹی پیدا ہوئی اور حیرت کی بات تھی کہ وہ بے چاری بچی بھی اپاہج تھی۔
یہاں تک کہ باؤ مجید کے ہاں چارا پاہج بیٹیاں پیدا ہوئیں۔اس نے لاکھوں روپیہ ڈاکٹروں اور عاملوں کو دیا مگر اس کے مرض کا علاج نہ ہو سکا۔پھر کسی جادو گرنے ایک عجیب وہم میں ڈال دیا کہ جس مکان میں تم کرائے پررہتے ہو یہاں سینکڑوں سال پہلے ہندوؤں کا کوئی مندر تھا اور یہ اسی وجہ سے ہوا کہ تم اس جگہ پر رہائش پذیر تھے۔


جس کی صبح شام عاملوں کے درپر گزرے وہ بھلا کیسے اس مکان میں رہ سکتا تھا۔باؤ مجید نے ایک ہفتہ میں مکان خالی کردیا اور کہیں اور منتقل ہو گیا کئی دن میری اس سے ملاقات نہ ہو سکی۔
ایک صبح سیر پر گیا تو پارک میں باؤ مجید سے میری ملاقات ہو گئی”سناؤ باؤ جی کیا حال ہے تمہارے عاملوں کا؟“میرے طنز پروہ سنجیدہ ہو گیا۔ہاں میاں ان عاملوں نے تو کنگال کر دیا ہے۔

شاید میں پورے کا پورا بک جاتا مگر خدا نے ہدایت دینی ہوتو کوئی نہ کوئی راہ نکل آتی ہے۔ایک دن میں ایک عامل عورت کے پاس گیا تو اس نے مجھے ایک منتر لکھ کر دیا اور کہا یہ کا غذ سورج نکلنے سے پہلے دریا میں پھینک آنا۔وہ پہلا موقع تھا کہ میں نے وہ کاغذ کھول کر پڑھ لیا۔”کیا لکھا تھا اس میں؟“۔میں نے پوچھا۔
”بس میاں بس۔اس میں کفر کے کلمے لکھے تھے۔

میں نے اس عامل عورت کو تو کچھ نہ کہا لیکن اپنی راہ بدل لی اور ہمیشہ کیلئے اس طرح کے لوگوں سے ملنے ملانے سے بھی توبہ کرلی۔میاں اگر میں تمہیں بتاتا کہ کیا لکھا ہے تو تم نہ جانے اس عامل عورت کا کیا حشر کرتے۔“
”باؤ مجید!مجھے کیا پتہ کہ یہ عامل اور نام نہاد معالج کیا کچھ کرتے ہیں؟مگر ہم تو اپنے فرقوں کی لڑائی سے ہی فارغ نہیں ہر ایک نے اپنی ڈیڑھ اینٹ کی مسجد بنا رکھی ہے۔


اس سے پہلے کہ میں وہاں سے رخصت ہوتا۔باؤ مجید نے میراہاتھ پکڑا اور ہم دونوں ایک بنچ پر بیٹھ گئے”اصل میں کچھ گناہوں کی سزا دنیا میں ہی مل جاتی ہے“۔”باؤ جی!کیا کہہ رہے ہو؟“میں نے حیرت سے پوچھا تو وہ بولا”جب ہم لوگوں نے تمہارے ہمسائے میں اپنی ضرورتوں سے بڑا گھر لیا تو اس کی وجہ صرف اور صرف میرا کاروبار تھا“۔”کیا مطلب باؤجی۔یہ کاروبار کا گھر سے کیا تعلق؟“
”تعلق تھا اور یہ کہ میں غلہ منڈی میں مرچوں،چائے وغیرہ کا کام کرتا تھا۔

میں اور میرے ملازم ساری ساری رات مرچوں اور چائے کی پتی میں چنے کے چھلکے اور مختلف دوسری چیزیں ملایا کرتے تھے۔اس طرح میں نے لاکھوں روپے اس ناجائز کام سے کمائے لیکن سب کے سب ڈاکٹروں اور عاملوں کی نذر ہو گئے اور چار اپاہج بیٹیاں۔؟یہ کیا کم عذاب ہے۔“باؤ مجید کی آنکھوں میں آنسو تھے لیکن توبہ نے اس کے اندر اعتماد پیدا کر دیا تھا۔
جب میں باؤ مجید سے اجازت لے کر چلنے لگا تو اس نے آنسو بھری آنکھوں سے مسکراتے ہوئے کہا”برائی کا راستہ چھوڑنے کا پھل بھی ملنا شروع ہو گیا۔

ایک سرجن نے میری بڑی بیٹی کی ٹانگوں کا آپریشن کیا ہے اور یقین دلایا ہے کہ جب اس کی ٹانگوں سے پٹیاں کھلیں گی تو انشاء اللہ وہ چلنے پھرنے کے قابل ہوجائے گی۔“
میراد ماغ سوچنے سمجھنے کی صلاحیت سے کچھ دیر تک مفلوج رہا۔یقینا جو دوسروں کو تباہ کرنے کی کوشش میں ہو گا اسے خود بھی بہت بڑی تباہی کا سامنا کرنے کے لئے تیار رہنا ہو گا جب کہ اچھے شخص کو دنیا وآخرت میں اچھائی ہی ملے گی۔

Your Thoughts and Comments