Badshah Ki Neend

بادشاہ کی نیند

ہفتہ اکتوبر

Badshah Ki Neend
اعتبار ساجد
بادشاہ سلامت کو نیند نہیں آتی تھی۔کئی حکیموں ،جو تشیوں اور سیناسیوں سے رجوع کر چکے تھے لیکن لال چہرہ ویران جسم نڈھال ۔کبھی چھینک رہے ہیں۔کبھی کھانس رہے ہیں۔کبھی بڑ بڑا رہے ہیں ۔کبھی دانت کچکچارہے ہیں۔محل کے ملازمین،امراء روساء اور صاحبان دربار کی شامت آئی ہوئی تھی۔سب کے سب بادشاہ سلامت کے ساتھ جاگنے پرمجبور تھے۔ملکہ الگ پریشان تھی۔

شاہی حکیم الگ حیران تھے۔چہرے فق اوررنگ اڑے ہوئے۔جسے دیکھو تصویر یاس بنا چلا آرہا ہے بادشاہ جاگ رہا تھا لیکن رعایا سورہی تھی۔ایسے عالم میں چوروں ،ڈاکوؤں ،اٹھائی گیروں اور نقب زنوں کی چاندی ہو گئی۔ایک ایک رات میں کئی کئی گھر لٹنے لگے۔بے خوابی نے بادشاہ سلامت کا مزاج حد درجے چڑ چڑا بنا دیا تھا اس لئے لوگ اپنے لٹنے کی فریاد لے کر دربار کارخ نہیں کرتے تھے ۔

(جاری ہے)

آپس ہی میں مل بیٹھ کر سینہ کو بی کر لیتے تھے۔آنسو بہا لیتے تھے۔وہ بھی دھیمی آواز سے ۔دروددیوار سے محتاط ہو کر۔صاحبان دربار پر بھی بادشاہ کی شب بیداریوں کا بھر پور عکس پڑا تھا۔سب خون بہاتے پھرتے تھے۔دھاڑتے تھے ۔ذر ذراسی بات پر تیغ وشمشیر نکال لیتے تھے۔لیکن بادشاہ سلامت کے پاس جاتے تو بھیگی بلی بن کر۔ منہ سے میاؤں کی آواز بھی نہیں نکالتے تھے کہ بادشاہ وقت جائیداد اور منصب کی ضبطی اور زن وبچہ کو ہلو میں پلوانے کا فرمان نہ جاری کردیں۔

امور سلطنت کے معاملے میں بادشاہ پہلے نرم دل مشہور تھا۔نیند اڑی تو رحم دلی اور کشادہ ظرفی بھی ہوا ہو گئی۔بات کرتا،تو تلخ لہجے میں کرتا۔جو فرمان لکھواتا،سنگین زبان میں لکھواتا۔کسی کے منصب ومرتبے کی پروانہ کرتا۔کسی سے میٹھے بول نہ بولتا۔حد تو یہ ہے کہ ملکہ کو بھی ملکہ عالیہ کی بجائے”اوئے ملکہ نی‘کہہ کے پکارتا“مقربین خاص یعنی قریبی خوشامدیوں کو”اوے توئے“اور ”توں تڑاک“سے مخاطب کرتا،برا بھلا صاف ان کے منہ پر کہہ دیتا اوئے چمچو،کڑ چھو باز آجاؤ ”خوشامدی مصاحب کھسیانی ہنسی ہنستے تو اور جھنجھلا اٹھتا۔

مٹھیاں بھینچ کر کہتا۔“بندے بن جاؤ۔ورنہ بتیسی نکلواکرہاتھ پہ رکھو ادوں گا۔“
سب سے زیادہ افتادمگس رانی اور مورچھل برادری کرنے والی خادماؤں پر پڑی۔بچاری اپنی جگہ سے ہل نہیں سکتی تھی ۔مورچھل ہلانااور مگس رانی کرنا ان کا ہمہ وقت فرض تھا۔اس میں ذراسی بھی غفلت موت کو دعوت دینے کے مترادف تھی ایک دن کرنا خدا کا کیا ہوا کہ جاگتے جاگتے بادشاہ کو محل کی چھت پر سیر کرنے کی سوجھی ۔

اپنے جملہ لاؤ لشکر کے ساتھ چھت پر پہنچا تو کیا دیکھتا ہے کہ محل تو خوب جگمگ جگمگ کررہا ہے البتہ شہر تاریک پڑا ہے۔کہیں کہیں
 دھند لی سی روشنی نظر آتی ہے۔وہ بھی ڈوبتی اور معدوم ہوتی ہوئی ۔گویا سارا شہر بادشاہ کی بے خوابی سے بے نیاز مزے سے سورہا ہے ۔وہ کوتوال کو تلوار کے دستے کی ضرب لگا کربولا۔کیوں اوئے نظر بٹو۔دیکھ رہا ہے شہر کا حال۔


”دیکھ رہا ہوں عالی جاہ۔غریب پرور،بندہ نواز“۔کو توال ضرب شدید سے کراہتے ہوئے بولا۔
”حد ہو گئی نمک حرامی کی۔“بادشاہ نے دانت پیس کر کہا۔”شاہ وقت تو ساری ساری رات جاگ کے گزار دے اور کمبخت رعایا پاؤں پھیلا کر آرام سے سوتی رہے۔“
کو توال اور دروغہ کو تھر تھرکا نپتے دیکھ کر بادشاہ کو مزید جلال آگیا۔دنا دن ان کی کھوپڑیوں پر عصائے شاہی سے وار کئے اور اسی وقت فرمان جاری کردیا کہ آج سے رعایا کا سونا موقوف ۔

جب تک بادشاہ کو نیند
 نہ آئے کوئی شخص سو نہیں سکتا اپنے گھر کا دیا نہیں بجھا سکتا۔ہر طرف روشنی رہنی چاہیے۔خلاف ورزی کی سزا موت ہے۔
اس کے ساتھ ہی شاہی کارندوں کو حکم دے دیا گیا کہ وہ غروب آفتاب سے طلوع آفتاب تک ہر گلی اور ہر کوچے میں ڈھول بجاتے رہیں شہنائیاں اور تو تنیاں بجاتے رہیں تاکہ کسی کو نیند نہ آنے پائے۔مخبروں کی تنخواہوں میں اضافہ کرکے انہیں اس کام پر لگا دیا گیا کہ اونٹ یا ہاتھی پر سوار ہو کر گلی کوچوں میں پھریں۔

مختلف گھروں می جھانک کر دریافت کریں کہ گھر میں کل کتنے افراد ہیں۔کتنے سورہے ہیں۔ کتنے جاگ رہے ہیں۔اور جاگ رہے ہیں توکیا کررہے ہیں۔
عبادت کررہے ہیں ۔باتیں کررہے ہیں تو کس موضوع پر بات چیت ہو رہی ہے ۔اور کہا ں تک پہنچی ہے۔
یہ سلسلہ شروع ہوا تو رعایا بلبلا اٹھی۔مگر فریاد کس سے کرتی ۔یہ سب کچھ تو بادشاہ کے فرمان کے عین مطابق تھا اور زمانہ قدیم سے یہ دستور چلا آتا ہے کہ بادشاہ فرمان تو جاری کر سکتے ہیں اسے منسوخ نہیں کرسکتے ۔

کیونکہ اس میں ان کی سبکی ہوتی ہے اور ان کی معاملہ نافہمی اور بد انتظامی کا پول کھلتا ہے۔بادشاہ اپنا پول کھلوانا پسند نہیں کرتے لہٰذا دوسروں کے سر کھلوادیتے ہیں۔پرچہ نویسوں نے بادشاہ سلامت کو اطلاع دی کہ رعایا شاہی فرمان کے مطابق جاگ تو رہی ہے مگر بڑی بیزاری اور بے دلی کے ساتھ ۔لوگ سہمے ہوئے انداز میں باتیں کر تے ہیں ۔ان کے پاس گفتگو کے موضوعات ختم ہو چکے ہیں لہٰذا بات آگے بڑھانے اور وقت گزارنے کے لئے آپس میں اس طرح بات چیت کرتے ہیں:
نمبر1:اور سناؤ۔

کیا حال ہے؟
نمبر2:اللہ کا فضل ہے ۔تم سناؤ۔
نمبر1:ادھر بھی اللہ کا فضل ہے ۔تم سناؤ۔
نمبر2:اللہ کا لاکھ احسان ہے ۔تم سناؤ۔
نمبر1:اللہ کا لاکھ احسان ہے ۔تم سناؤ۔
یہ سلسلہ گھنٹوں جاری رہتا اور بسااوقات ”تم سناؤ ۔تم سناؤ“میں رات بیت جاتی ہے ۔قابل مواخذہ کوئی بات نہیں ملتی۔دن بھر لوگ جمائیاں لیتے رہتے ہیں اور دو فقروں میں دن گزار دیتے ہیں۔

”کیا حال ہے؟“
اللہ کا فضل ہے۔“
ان اطلاعات سے بادشاہ اور برہم ہوا۔ فرمان شاہی جاری ہوا کہ لوگ دن کو جمائیاں اور انگڑائیاں لینی بند کر دیں۔بار بار ایک دوسرے سے حال نہ پوچھیں کسی کام میں بیزاری یا بددلی کا مظاہرہ نہ کریں۔حکم عدولی کی سزا موت ہے۔
اس فرمان کی تعمیل میں لوگ دن کے چین سے بھی گئے۔لیکن حکم شاہی بہر حال حکم شاہی تھا۔

سر جھکاتے ہی بنی۔اس قسم کے فرمان کے جہاں نقصانات ہوتے ہیں وہاں فائدے بھی ہوتے ہیں۔سب سے بڑا فائدہ یہ ہوا کہ لوگ چوروں ڈاکوؤں سے محفوظ ہوگئے سب جاگ رہے ہوں تو کسی کی کیا مجال کہ گھرمیں نقب لگاجائے۔لیکن چوروں ڈاکوؤں رہز نوں اور نقب زنوں کے گلشن کا کاروبار ٹھپ ہو گیا۔اب تو نقب زن اور ڈاکو حضرات بہت پریشان ہوئے۔چپکے چپکے آپس میں صلاح اور مشورے شروع کئے۔

آخر ڈاکوؤں کی تنظیم نے ایک ویران علاقے میں آدھی رات کو اپنا اجلاس منعقدکیا۔سلطنت کی صورت حال اور رعایا کے ہر وقت بیداررہنے پر تشویش کا اظہار کیا گیا۔بڑے غوروخوض کے بعد طے پایا کہ مسئلہ کا واحد حل یہ ہے کہ کسی
 طرح بادشاہ کو نیند آجائے۔جب وہ سکون کی نیند لینا شروع کرے گاآہستہ آہستہ اس کے اعصاب معتدل ہو جائیں گے۔عوام بھی سکھ کا سانس لیں گے شاہی فرامین بھی خود بخود غیر موٴثر ہو جائیں گے۔

تین بڑے چوروں نے اس کام کے لئے خود کو رضا کارانہ طور پر پیش کیا۔لائحہ عمل یہ طے پایا کہ وہ جوگیوں اور سنیا سیوں کے روپ میں دربارتک رسائی حاصل کریں گے اور بادشاہ کوخواب آور دواؤں کا عادی بنائیں گے تاکہ بادشاہ زندہ بھی رہے ،کھائے پیئے اور تاج پہنچے ،تحت پر بیٹھے اور امور سلطنت سے غافل بھی رہے۔
قصیدہ گو شاعروں ،جھوٹے سنیاسیوں،جعلساز نجومیوں اورمصلحت کوش،سفید پوش ڈاکوؤں کے لئے کسی بادشاہ کے درتک رسائی حاصل کرنا کچھ مشکل نہیں ہوتا۔

بادشاہ تک پہنچے سے پہلے جتنے مراحل آتے ہیں ان سب کو عبور کر لینا ان لوگوں کے بائیں ہاتھ کا کھیل ہے کیونکہ دایاں ہاتھ یہ ہمیشہ اپنی جیب میں رکھتے ہیں ۔چنانچہ یہ تین بڑے چور مختلف رکاوٹیں عبور کرتے ،مختلف مراحل و منازل سے گزرتے ہوئے ایک مقرب خاص کی معرفت بادشاہ تک پہنچے ۔
بادشاہ اس وقت اپنی خواب گاہ میں تھا اور حسب مزاج ومنصب برہم تھا۔

اردگرد خاص عملے کا ہجوم تھا۔ملکہ بھی ایک تحت پر متمکن تھی۔مقرب خاص نے انہیں بادشاہ کی خدمت میں پیش کیا۔اس وقت بادشاہ طیش کے عالم میں دانت نکو سکے،مٹھیاں بھینچے شاہی کا تب کو یہ فرمان لکھوارہا تھا۔
”ہم دیکھ رہے ہیں کہ مابدولت کی بے خوابی کا سلسلہ دراز ہوتا جارہا ہے اور رعایا بدبخت کے کان پر جوں تک نہیں رینگتی ۔ہمارے علم میں نہیں کہ اب تک ہماری پر سکون نیند کے لئے کوئی اجتماع منعقد کیا گیا ہو یا اجتماعی دعائیں مانگی گئی ہوں۔

عوام کی اس بے حسی،کٹھوردلی اور
 لا پرواہی پر مابدولت کے علاوہ ملکہ عالیہ بھی برہم ہیں لہٰذا حکم دیا جاتاہے کہ اگر ہماری بے خوابی کاسلسلہ مزید دراز ہوا تو کل سے پچاس پچاس مردوزن کو پھانسی دی جائے گی۔پھانسی پانے والے ناموں کا فیصلہ قرعہ اندازی سے کیا جائے گا۔“
تھر تھر کا نپتا ہوا شاہی کا تب لکھ بھی رہا تھاپسینہ بھی پونچھ رہا تھا۔

پسینے کا ایک قطرہ ٹپ سے فرمان شاہی پر بھی گرا۔بادشاہ نے دیکھ لیا۔ اسی وقت حکم صادر ہوا۔”اس پانی کے بلے کو لے جاکر نہرم یں غوطے دئیے جائیں اور ”شاہی مگر مچھوں کی ضیافت کا اہتمام کیا جائے۔“
اس پر واہ واسبحان اللہ کا شور مچ گیا۔ سب نے فرط سے مسرت سے نتھنے پھلا کراور ہاتھ لہرا کر بادشاہ کے عدل کی داد دی کہ انسانوں کے علاوہ انہیں حیوانوں کی خوراک کا بھی کتنا خیال رہتا ہے بادشاہ اس داد وتحسین کے غلغلے سے ببا طن حد درجے خوش ہوا بظاہر سوکھا سامنہ(
 بنا کر بولا۔

”اوئے چمچو ،کڑچھو۔باز آجاؤ۔“
اسی وقت مقرب خاص نے تینوں جعلسازوں کو بادشاہ کی خدمت میں دھکیلا کہ حضور عالی!یہ تینوں سنیاسی کو ہ ہمالیہ سے عالی جاہ کے علاج کے لئے حاضر ہوئے ہیں۔ چور کو رنش بجالائے۔بادشاہ نے تینوں کو سر سے پاؤں تک گھور کے دیکھا۔غضب ناک لہجے میں بولا۔”ہمارا علاج کیا مطلب ۔ہم بیمار کب ہیں۔ اس سپاہی مقرب خاص کی گردن ناپنے آگے بڑھے ہی تھے کہ ایک چور نے مت سے کام لے کر کھنکھار کے گلہ صاف کیا۔

خشک ہونٹوں پر زبان پھیرکے بولا۔”عالی جاہ۔انصاف پرور۔بیمارہوں آپ کے دشمن۔ہم تو صرف سلام کے لئے حاضرہوئے تھے۔اور تحفے کے طورپر ایک عرق خاص لے کر حاضر ہوئے تھے جسے پی کر عالی جاہ کو پر سکون اور میٹھی نیند آئے گی۔“
عر ق خاص پیش کیا جائے۔”بادشاہ نے کچھ تو قف کے بعد حکم دیا۔
تینوں چوروں نے جلدی سے ایک بقچی کھولی۔”چاندی کا ایک پیمانہ اور لبالب بھری ہوئی شیشے کی ایک نازک سی صراحی نکالی ایک چورنے پیمانہ بھر کے ،دونوں ہاتھوں پہ رکھ کے،سر جھکاکے ،بادشاہ کی خدمت میں پیش کیا۔


بادشاہ نے وہ پیمانہ نہیں لیا۔اپنا خاص شاہی پیمانہ منگوایا۔بولا۔”زمانہ قدیم سے بادشاہوں کو زہر دینے کا فیشن چلا آتا ہے۔ہم نہیں چاہتے کہ ہمارے ملک میں بھی یہ فیشن فروغ پائے ۔لہٰذا آزمائش اور احتیاط لازم ہے۔“
یہ کہہ کر تینوں چوروں کو حکم دیاکہ سب سے پہلے وہ تینوں باری باری اپنا کشید کردہ عرق نوش فرمائیں۔اس کے بعد بادشاہ کوئی فیصلہ کریں گے۔

چوروں نے دزدیدہ نظروں سے مقرب خاص کی طرف دیکھا
 جو دیوار کی طرف دیکھتے ہوئے کان کھجا رہا تھا۔پھر”ہائے ظالما،مروادیا“کہہ کے طوہاً کرہاً باری باری عرق نوش جان کیا۔کچھ دیر تک تو وہ دیدے پٹپٹاتے رہے ،پلکیں جھپکتے رہے،عجیب عجیب سے منہ بناتے رہے پھر شاہی قالین پر لم لیٹ ہو گئے اورجلد ہی خرانے لیٹنے لگے۔
بادشاہ نے تینوں کو شاہی مہمان خانے میں بھجوا کر تخلیہ طلب کیا اور شاہی پیمانے میں عرق نوش کیا۔

اس سے پہلے احتیاطاً ملکہ عالیہ سے کہہ دیا۔”اگر خدانخواستہ ہمیں کچھ ہو جائے تو فوراً امور سلطنت سنبھال لینا۔اور اپنی تخت نشینی کا اعلان کر دینا۔اس کام کو ہماری تجہیز وتکفین سے پہلے سر انجام دینا۔ ہمارے غم میں آنسو نہ بہاتی رہنا اور شادی ذرا دیکھ بھال کے کرنا ۔عیش وعاشقی سے بھی پر ہیز لازم ہے کہ اس میں جاہ منصب کی مٹی پلید ہوتی ہے۔


یہ کہہ کر عرق خاص نوش فرمایا۔
اور یہ کہتے ہوئے بستر پر درازہو گیا
پنیا بھرن میں کیسے جاؤں․․․․․؟
موہے آئے رہے جگ سے لاج
میں ایسی جھوم کے ناچی آج
․․․․․کہ گھنگھرو ٹوٹ گئے
چند ہی لمحوں بعد بادشاہ کے خراٹوں سے خواب گاہ شاہی کے درود یوار گونجنے لگے۔بادشاہ کو اتنے دنوں بعدنیند اائی تھی اوروہ بھی ایسی نیند جس کے خراٹے فلک شگاف ہوتے ہیں۔

مارے خوشی کے ملکہ نے شہر میں منادی کروادی کہ بادشاہ سلامت کو بالآخر نیند آگئی ہے اب رعایا پر سونے جاگنے پر کوئی پابندی عائد نہیں جس کا جی چاہے جاگے جس کاجی چاہے سوئے۔
لیکن اس اعلان کا رعایا پر کوئی خاص اثر نہیں ہوا۔سب اس ڈر سے جاگتے رہے کہ نجانے کب بادشاہ کی آنکھ کھل جائے اور ایک مرتبہ پھر اس پہ شب بیداری کا دورہ پڑ جائے۔ایسے لمحوں میں اگر رعایا سوگئی تو معلوم نہیں جاگنے والا بادشاہ ان کے ساتھ کیا سلوک کرے۔

کیونکہ بادشاہوں کا سلوک ان کے موڈ پر منحصر ہوتاہے۔اسی خوف سے رعایا نے پلکیں تک نہیں جھپکیں ۔اب تک رعایا جاگ رہی ہے اور بادشاہ سورہا ہے ۔کیونکہ زمانہ قدیم سے یہ دستور چلا آتا ہے کہ تخت وتاج کے مالک جا چین وآرام ہر شخص کے آرام وسکون پر مقدم ہے ۔کوئی بد دماغ یا سر پھرا اس دستور کو نہیں مانتا تو نہ مانے۔اس سے بادشاہ کی نیند پر کیا فرق پڑ سکتاہے؟

Your Thoughts and Comments