Charpoy Aor Culture

چارپائی اور کلچر

مشتاق احمد یوسفی منگل اکتوبر

Charpoy Aor Culture

ایک فرانسیسی مفکر کہتا ہے کہ موسیقی میں مجھے جو بات پسند ہے وہ دراصل وہ حسین خواتین ہیں جو اپنی ننھی ننھی ہتھیلیوں پر ٹھوڑیاں رکھ کر اسے سنتی ہیں۔ یہ قول میں نے اپنی بریّت میں اس لیے نقل نہیں کیا کہ میں جو قوّالی سے بیزار ہوں تو اس کی اصل وجہ وہ بزرگ ہیں جو محفلِ سماع کو رونق بخشتے ہیں۔ اور نہ میرا یہ دعویٰ کہ میں نے پیانو اور پلنگ کے درمیان کوئی ثقافتی رشتہ دریافت کر لیا ہے۔

حالانکہ میں جانتا ہوں کہ پہلی بار بان کی کھّری چارپائی کی چرچراہٹ اور ادوان کا تناؤ دیکھ کر بعض نووارد سیّاح اسے سارنگی کے قبیل کا ایشیائی ساز سمجھتے ہیں۔ کہنا یہ تھا کہ میرے نزدیک چارپائی کی دِلکشی کا سبب وہ خوش باش لوگ ہیں جو اس پر اُٹھتے بیٹھتے اور لیٹتے ہیں۔ اس کےمطالعہ سے شخصی اور قومی مزاج کے پرکھنے میں مدد ملتی ہے۔

(جاری ہے)

اس لیے کہ کسی شخص کی شائستگی و شرافت کا اندازہ آپ صرف اس سے لگا سکتے ہیں کہ وہ فرصت کے لمحات میں کیا کرتا ہے اور رات کو کس قسم کے خواب دیکھتا ہے۔


چارپائی ایک ایسی خود کفیل تہذیب کی آخری نشانی ہے جو نئے تقاضوں اور ضرورتوں سےعہدہ برآ ہونے کے لیے نِت نئی چیزیں ایجاد کرنے کی قائل نہ تھی۔ بلکہ ایسےنازک مواقع پر پرانی میں نئی خوبیاں دریافت کرکے مسکرا دیتی تھی۔ اس عہد کی رنگا رنگ مجلسی زندگی کا تصّورچارپائی کے بغیر ممکن نہیں۔ اس کا خیال آتے ہی ذہن کےافق پر بہت سے سہانے منظر اُبھر آتے ہیں- اُجلی اُجلی ٹھنڈی چادریں، خس کے پنکھے، کچّی مٹّی کی سن سن کرتی کوری صُراحیاں، چھڑکاؤ سے بھیگی زمین کی سوندھی سوندھی لپٹ اور آم کے لدے پھندے درخت جن میں آموں کے بجائے لڑکے لٹکے رہتے ہیں- اور اُن کی چھاؤں میں جوان جسم کی طرح کسی کسائی ایک چارپائی جس پر دِن بھر شطرنج کی بساط یار می کی پھڑ جمی اور جو شام کو دسترخوان بچھا کر کھانے کی میز بنا لی گئی۔

ذرا غور سے دیکھئے تو یہ وہی چارپائی ہے جس کی سیڑھی بنا کر سُگھڑ بیویاں مکڑی کے جالے اور چلبلے لڑکے چڑیوں کے گھونسلے اتارتے ہیں۔ اسی چارپائی کو وقتِ ضرورت پٹیوں سے بانس باندھ کر سٹریچر بنا لیتے ہیں اور بجوگ پڑ جائے تو انہیں بانسوں سے ایک دُوسرے کو سٹریچرکےقابل بنایا جا سکتا ہے۔ اسی طرح مریض جب گھاٹ سے لگ جائے تو تیمادارمؤخرالذِکر کے وسط میں بڑا سا سوراخ کرکے اوّل الذِکر کی مشکل آسان کر دیتے ہیں۔

اور جب ساون میں اُودی اُودی گھٹائیں اُٹھتی ہیں تو ادوان کھول کر لڑکیاں دروازے کی چوکھٹ اور والدین چارپائیوں میں جُھولتے ہیں۔ اسی پر بیٹھ کرمولوی صاحب قمچی کےذریعہ اخلاقیات کے بنیادی اُصول ذہن نشین کراتے ہیں۔ اسی پر نومولود بچّے غاؤں غاؤں کرتی، چُندھیائی ہُوئی آنکھیں کھول کر اپنے والدین کو دیکھتے ہیں اور روتے ہیں اور اسی پر دیکھتے ہی دیکھتے اپنے پیاروں کی آنکھیں بند ہو جاتی ہیں۔


اگر یہ اندیشہ نہ ہوتا کہ بعض حضرات اس مضمون کو چارپائی کا پرچہ ترکیبِ استعمال سمجھ لیں گے تو اس ضمن میں کچھ اور تفصیلات پیش کرتا۔ لیکن جیسا کہ پہلے اشارہ کر چکا ہوں، یہ مضمون اس تہذیبی علامت کا قصیدہ نہیں، مرثیہ ہے۔ تاہم بہ نظرِ احتیاط اِتنی وضاحت ضروری ہے کہ:
ہم اس نعمت کے مُنکر ہیں نہ عادی
نام کی مناسبت سے پائے اگر چار ہوں تو مناسب ہے ورنہ اس سے کم ہوں، تب بھی خلقِ خدا کے کام بند نہیں ہوتے۔

اسی طرح پایوں کے حجم اور شکل کی بھی تخصیص نہیں۔ انہیں سامنے رکھ کر آپ غبی سے غبی لڑکے کو اقلیدس کی تمام شکلیں سمجھا سکتے ہیں۔ اور اس مہم کو سر کرنے کے بعد آپ کو احساس ہوگا کہ ابھی کچھ شکلیں ایسی رہ گئی ہیں جن کا صرف اقلیدس بلکہ تجریدی مصّوری میں بھی کوئی ذکر نہیں۔ دیہات میں ایسے پائے بہت عام ہیں جو آدھے پٹُیوں سے نیچے اور آدھے اُوپر نکلے ہوتے ہیں۔

ایسی چارپائی کا اُلٹا سیدھا دریافت کرنے کی آسان ترکیب یہ ہے کہ جس طرف بان صاف ہو وہ ہمیشہ ”اُلٹا“ ہوگا۔ راقم الحروف نے ایسے ان گھڑ پائے دیکھے ہیں جن کی ساخت میں بڑھئی نے محض یہ اصول مدنظر رکھا ہوگا کہ بسولہ چلائے بغیر پیڑ کو اپنی قدرتی حالت میں جوں کا توں پٹیوں سے وصل کر دیا جائے۔ لیکن ساتھ ہی ساتھ ہماری نظر سے خراد کے بنے ایسے سڈول پائے بھی گزرے ہیں جنہیں چوڑی دار پاجامہ پہنانے کو جی چاہتا ہے۔

اس قسم کے پایوں سے نٹو مرحوم کو جو والہانہ عشق رہا ہوگا اس کا اظہار انہوں نے اپنے ایک دوست سے ایک میم کی حسین ٹانگیں دیکھ کر اپنے مخصوص انداز میں کیا۔ کہنے لگے:
”اگر مجھے ایسی چار ٹانگیں مل جائیں تو انہیں کٹوا کر اپنے پلنگ کے پائے بنوا لوں۔“
غور کیجئے تو مباحثے اور مناظرے کے لیے چارپائی سے بہتر کوئی جگہ نہیں۔ اس کی بناوٹ ہی ایسی ہے کہ فریقین آمنے سامنے نہیں بلکہ عموماً اپنے حریف کی پیٹھ کا سہارا لے کر آرام سے بیٹھتے ہیں۔

اور بحث و تکرار کے لیے اس سے بہتر طرزِ نشست ممکن نہیں، کیونکہ دیکھا گیا ہے کہ فریقین کو ایک دوسرے کی صورت نظر نہ آئے تو کبھی آپے سے باہر نہیں ہوتے۔ اسی بنا پر میرا عرصے سے یہ خیال ہے کہ اگر بین الاقوامی مذاکرات گول میز پر نہ ہوئے ہوتے تو لاکھوں جانیں تلف ہونے سے بچ جاتیں۔ آپ نے خود دیکھا ہوگا کہ لدی پھندی چارپائیوں پر لوگ پیٹ بھر کے اپنوں کی غیبت کرتے ہیں مگر دل برے نہیں ہوتے۔

اس لیے کہ سبھی جانتے ہیں کہ غیبت اسی کی ہوتی ہے جسے اپنا سمجھتے ہیں۔ اور کچھ یوں بھی ہے کہ ہمارے ہاں غیبت سے مقصود قطع محبت ہے نہ گزارش احوال واقعہ بلکہ محفل میں
لہو گرم رکھنے کا ہے اِک بہانہ
لوگ گھنٹوں چارپائی پر کسمساتے رہتے ہیں مگر کوئی اٹھنے کا نام نہیں لیتا۔ اس لیے کہ ہر شخص اپنی جگہ بخوبی جانتا ہے کہ اگر وہ چلا گیا تو فوراً اس کی غیبت شروع ہو جائے گی۔

چنانچہ پچھلے پہر تک مرد ایک دوسرے کی گردن میں ہاتھ ڈالے بحث کرتے ہیں اور عورتیں گال سے گال بھڑائے کچر کچر لڑتی رہتی ہیں۔ فرق اتنا ہے کہ مرد پہلے بحث کرتے ہیں، پھر لڑتے ہیں۔ عورتیں پہلے لڑتی ہیں اور بعد میں بحث کرتی ہیں۔ مجھے ثانی الذکر طریقہ زیادہ معقول نظر آتا ہے، اس لیے کہ اس میں آئندہ سمجھوتے اور میل ملاپ کی گنجائش باقی رہتی ہے۔


رہا یہ سوال کہ ایک چارپائی پر بیک وقت کتنے آدمی بیٹھ سکتے ہیں تو گزارش ہے کہ چارپائی کی موجودگی میں ہم نے کسی کو کھڑا نہیں دیکھا۔ لیکن اس نوع کے نظریاتی مسائل میں اعداد و شمار پر بے جا زور دینے سے بعض اوقات عجیب وغریب نتائج برآمد ہوئے ہیں۔ آپ نے ضرور سنا ہوگا کہ جس وقت مسلمانوں نےاندلس فتح کیا تو وہاں کے بڑے گرجا میں چوٹی کے مسیحی علما و فقہا اس مسئلہ پر کمال سنجیدگی سے بحث کر رہے تھے کہ سوئی کی نوک پر کتنے فرشتے بیٹھ سکتے ہیں۔


ہم تو اتنا جانتے ہیں کہ تنگ سے تنگ چارپائی پر بھی لوگ ایک دوسرے کی طرف پاؤں کیے اًاٍ کی شکل میں سوتے رہتے ہیں۔ چنچل ناری کا چیتے جیسا اجیت بدن ہو یا کسی عمر رسیدہ کی کمان جیسی خمیدہ کمر- یہ اپنے آپ کو ہر قالب کے مطابق ڈھال لیتی ہے۔ اور نہ صرف یہ کہ اس میں بڑی وسعت ہے بلکہ اتنی لچک بھی ہے کہ آپ جس آسن چاہیں بیٹھ اور لیٹ جائیں۔ بڑی بات یہ ہے کہ بیٹھنے اور لیٹنے کی درمیانی صورتیں ہمارے ہاں صدیوں سے رائج ہیں، ان کے لیے یہ خاص طور پر موزوں ہے۔

یورپین فرنیچر سے مجھے کوئی چڑ نہیں، لیکن اس کو کیا کیجئے کہ ایشیائی مزاج نیم درازی کے جن زاویوں اور آسائشوں کا عادی ہو چکا ہے، وہ اس میں میسر نہیں آتیں۔ مثال کے طور پر صوفے پر ہم اکڑوں نہیں بیٹھ سکتے۔ کوچ پر دستر خوان نہیں بچھا سکتے۔ سٹول پر قیلولہ نہیں کر سکتے۔ اور کرسی پر، بقول اخلاق احمد، اردو نہیں بیٹھ سکتے۔
ایشیا نے دنیا کو دو نعمتوں سے روشناس کیا۔

چائے اور چارپائی! اور ان میں یہ خاصیت مشترک ہے کہ دونوں سردیوں میں گرمی اور گرمیوں میں ٹھنڈک پہنچاتی ہیں۔ اگر گرمی میں لوگ کھری چارپائی پر سوار رہتے ہیں تو برسات میں یہ لوگوں پر سوار رہتی ہے اور کھلے میں سونے کے رسیا اسے اندھیری راتوں میں برآمدے سے صحن اور صحن سے برآمدے میں سر پر اٹھائے پھرتے ہیں۔ پھر مہاوٹ میں سردی اور بان سے بچاؤ کے لیے لحاف اور توشک نکالتے ہیں۔

مثل مشہور ہے کہ سردی رُوئی سے جاتی ہے یا دُوئی سے۔ لیکن اگر یہ اسباب ناپید ہوں اور سردی زیادہ اور لحاف پتلا ہو تو غریب غربا محض منٹو کے افسانے پڑھ کر سو رہتے ہیں۔
عربی میں اونٹ کے اتنے نام ہیں کہ دور اندیش مولوی اپنے ہونہار شاگردوں کو پاس ہونے کا یہ گُر بتاتے ہیں کہ اگر کسی مشکل یا کڈھب لفظ کے معنی معلوم نہ ہوں تو سمجھ لو کہ اس سےاُونٹ مراد ہے۔

اسی طرح اُردو میں چارپائی کی جتنی قسمیں ہیں اس کی مثال اور کسی ترقی یافتہ زبان میں شاید ہی مل سکیں:-
کھاٹ، کھٹا، کھٹیا، کھٹولہ، اڑن کھٹولہ، کھٹولی، کھٹ، چھپر کھٹ، کھرّا، کھری، جِھلگا، پلنگ، پلنگڑی، ماچ، ماچی، ماچا، چارپائی، نواری، مسہری، منجی۔
یہ نامکمل سی فہرست صرف اردو کی وسعت ہی نہیں بلکہ چارپائی کی ہمہ گیری پر دال ہے اور ہمارے تمّدن میں اس کا مقام و مرتبہ متّعین کرتی ہے۔


لیکن چارپائی کی سب سےخطرناک قسم وہ ہے جس کے بچے کھچے اور ٹوٹے ادھڑے بانوں میں اللہ کے برگزیدہ بندے محض اپنی قوت ایمان کے زور سے اٹکے رہتے ہیں۔ اس قسم کے جھلنگے کو بچے بطور جھولا اور بڑے بوڑھے آلہ تزکیہ نفس کی طرح استعمال کرتے ہیں۔ اونچے گھرانوں میں اب ایسی چارپائیوں کو غریب رشتے داروں کی طرح کونوں کھدروں میں آڑے وقت کے لیے چھپا کر رکھا جاتا ہے۔

خود مجھے مرزا عبدالودود بیگ کے ہاں ایک رات ایسی ہی چارپائی پر گزارنے کا اتفاق ہوا، جس پر لیٹتے ہی اچھا بھلا آدمی نون غنہ (ں) بن جاتا ہے۔
اس میں داخل ہو کر میں ابھی اپنے اعمال کا جائزہ ہی لے رہا تھا کہ یکایک اندھیرا ہو گیا، جس کی وجہ غالباً یہ ہوگی ایک دوسرا ملازم اوپر ایک دری اور بچھا گیا۔ اس خوف سے کہ دوسری منزل پر کوئی اور سواری نہ آ جائے، میں نے سر سے دری پھینک کر اُٹھنے کی کوشش کی تو گھٹنے بڑھ کے پیشانی کی بلائیں لینے لگے۔

کھڑ بڑ سن کر مرزا خود آئے اور چیخ کر پوچھنے لگے بھائی آپ ہیں کہاں؟ میں نے مختصراً اپنے محل وقوع سے آگاہ کیا تو انہوں نے ہاتھ پکڑ کر مجھے کھینچا۔ انہیں کافی زور لگانا پڑا اس اس لیے کہ میرا سر اور پاؤں بانوں میں بری طرح الجھے ہوئے تھے اور بان سر سے زیادہ مضبوط ثابت ہوئی۔ بمشکل تمام انہوں نے مجھے کھڑا کیا۔
اور میرے ساتھ ہی، مجھ سے کچھ پہلے، چارپائی بھی کھڑی ہوگئی!
کہنے لگے ”کیا بات ہے؟ آپ کچھ بے قرار سے ہیں۔

معدے کا فعل درست نہیں معلوم ہوتا۔“
میرے جواب کا انتظار کیے بغیر وہ دوڑ کر اپنا تیارکردہ چُورن لےآئے اور اپنے ہاتھ سے میرے منہ میں ڈالا۔ پھنکی منہ میں بھر کر شکریہ کے دوچار لفظ ہی کہنے پایا ہوں گا کہ معاً نظر ان کے مظلوم منہ پر پڑ گئی جو حیرت سے کھلا ہوا تھا۔ میں بہت نادم ہوا۔ لیکن قبل اس کے کہ کچھ اور کہوں انہوں نے اپنا ہاتھ میرے منہ پر رکھ دیا۔

پھر مجھے آرام کرنے کی تلقین کرکے منہ دھونے چلے گئے۔
میں یہ چارپائی اوڑھے لیٹا تھا کہ ان کی منجھلی بچی آ نکلی۔ تتلا کر پوچھنے لگی:
”چچا جان! اکڑوں کیوں بیٹھے ہیں؟“
بعد ازاں سب بچے مل کر اندھا بھینسا کھیلنے لگے۔ بالاخر ان کی امی کو مداخلت کرنا پڑی۔
”کم بختو! اب تو چپ ہو جاؤ! کیا گھر کو بھی سکول سمجھ رکھا ہے؟“
چند منٹ بعد کسی شیر خوار کے دھاڑنے کی آواز آئی مگر جلد ہی یہ چیخیں مرزا کی لوریوں میں دب گئیں جن میں ڈانٹ ڈانٹ کر نیند کو آنے کی دعوت دے رہے تھے۔

چند لمحوں بعد مرزا اپنے نقش فریادی کو سینہ سے چمٹائے میرے پاس آئے اور انتہائی لجاجت آمیز لہجے میں بولے:
”معاف کیجئے! آپ کو تکلیف تو ہوگی۔ مگر منّو میاں آپ کی چارپائی کے لیے ضد کر رہے ہیں۔ انہیں دوسری چارپائی پر نیند نہیں آتی۔ آپ میری چارپائی پر سو جائیے، میں اپنی فولڈنگ چارپائی پر پڑ رہوں گا۔“
میں نے بخوشی منو میاں کا حق منو میاں کو سونپ دیا اور جب اس میں جھولتے جھولتے ان کی آنکھ لگ گئی تو ان کے والد بزرگوار کی زبان تالو سے لگی۔


اب سنئے مجھ پرکیا گزری۔ مرزا خود تو فولڈنگ چارپائی پر چلے گئے مگر جس چارپائی پر مجھے خاص طور پر منتقل کیا گیا اس کا نقشہ یہ تھا کہ مجھے اپنے ہاتھ اور ٹانگیں احتیاط سے تہ کرکے بالترتیب سینہ اور پیٹ پر رکھنی پڑیں۔ اس شب تنہائی میں کچھ دیر پہلے نیند سے یوں دوچشمی ھ بنا، یونانی میزبان پروقراط کے بارے میں سوچتا رہا۔ اس کے پاس دو چارپائیاں تھیں۔

ایک لمبی اور دوسری چھوٹی۔ ٹھنگنے مہمان کو وہ لمبی چارپائی پر سلاتا اور کھینچ تان کر اس کا جسم چارپائی کے برابر کر دیتا۔ اس کے برعکس لمبے آدمی کو وہ چھوٹی چارپائی دیتا اور جسم کے زائد حصوں کو کانٹ چھانٹ کر ابدی نیند سلا دیتا۔
اس کے حدود اربعہ کے متعلق اتنا عرض کر دینا کافی ہوگا کہ انگڑائی لینے کے لیے مجھے تین چار مرتبہ نیچے کودنا پڑا۔

کودنے کی ضرورت یوں پیش آئی کہ اس کی اونچائی”درمیانہ“ تھی۔ یہاں درمیانہ سے ہماری مراد وہ پست بلندی یا موزوں سطح مرتفع ہے، جس کو دیکھ کر یہ خیال پیدا ہو کہ:
نہ تو زمیں کے لیے ہے نہ آسماں کے لیے
گو کہ ظاہر بین نگاہ کو یہ متوازی الاضلاع نظر آتی تھی مگر مرزا نے مجھے پہلے ہی آگاہ کر دیا تھا کہ بارش سے پیشتر یہ مستطیل تھی۔ البتہ بارش میں بھیگنے کے سبب جو کان آگئی تھی، اس سے مجھے کوئی جسمانی تکلیف نہیں ہوئی۔

اس لیے کہ مرزا نے از راہ تکلف ایک پائے کے نیچے ڈکشنری اور دوسرے کے نیچے میرا نیا جوتا رکھ کر سطح درست کر دی تھی۔ میرا خیال ہے کہ تہذیب کے جس نازک دور میں غیور مرد چارپائی پر دم توڑنے کی بجائے جنگ میں دشمن کے ہاتھوں بے گور و کفن مرنا پسند کرتے تھے، اسی قسم کی مردم آزار چارپائیوں کا رواج ہوگا۔ لیکن اب جب دشمن سیانے اور چارپائیاں زیادہ آرام دہ ہو گئے ہیں، مرنے کے اور بھی معقول اور باعزت طریقے دریافت ہوگئے ہیں۔


ایک محتاط اندازے کے مطابق ہمارے ہاں ایک اوسط درجہ کے آدمی کی دو تہائی زندگی چارپائی پر گزرتی ہے۔ اور بقیہ اس کی آرزو میں! بالخصوص عورتوں کی زندگی اسی محور کے گرد گھومتی ہے جو بساطِ محفل بھی ہے اور مونسِ تنہائی بھی۔ اس کے سہارے وہ تمام مصائب انگیز کر لیتی ہیں۔ خیر مصائب تو مرد بھی جیسے تیسے برداشت کر لیتے ہیں مگر عورتیں اس لحاظ سے قابل ستائش ہیں کہ انہیں مصائب کے علاوہ مردوں کو بھی برداشت کرنا پڑتا ہے۔

آپ نے دیکھا ہوگا کہ مئی جون کی جھلسا دینے والی دوپہر میں کنواریاں بالیاں چارپائی کے نیچے ہنڈیا کلہیا پکاتی ہیں اور اوپر بڑی بوڑھیاں بیتے ہوئے دونوں کو یاد کر کے ایک دوسرے کا لہو گرماتی رہتی ہیں (قاعدہ ہے کہ جیسے جیسے حافظہ کمزور ہوتا جاتا ہے، ماضی اور بھی سہانا معلوم ہوتا ہے!) اسی پر بوڑھی ساس تسبیح کے دانوں پر صبح و شام اپنے پوتوں اور نواسوں کو گنتی رہتی ہے اور گڑگڑا گڑگڑا کر دعا مانگتی ہے کہ خدا اس کا سایہ بہو کے سر پر رہتی دنیا تک قائم رکھے۔

خیر سے بہری بھی ہے۔ اس لیے بہو اگر سانس لینے کے لیے بھی منہ کھولے تو گمان ہوتا ہے کہ مجھے کوس رہی ہوگی۔ قدیم داستانوں کی روٹھی رانی اسی پر اپنے جوڑے کا تکیہ بنائے اٹواٹی کھٹواٹی لے کر پڑتی تھی اور آج بھی سہاگنیں اسی کی اوٹ میں ادوان میں سے ہاتھ نکال کر پانچ انگلی کی کلائی میں تین انگلی کی چوڑیاں پہنتی اور گشتی نجومیوں کو ہاتھ دکھا کر اپنے بچوں اور سوکنوں کی تعداد پوچھتی ہیں۔

لیکن جن بھاگوانوں کی گود بھری ہو، ان کے بھرے پرے گھر میں آپ کو چارپائی پر پوتڑے اور سویاں ساتھ ساتھ سوکھتی نظر آئیں گی۔ گھٹنیوں چلتے بچے اسی کی پٹی پکڑ کر میوں میوں چلنا سیکھتے ہیں اور رات برات پائینتی سے مدمچوں کا کام لیتے ہیں۔ لیکن جب ذرا سمجھ آ جاتی ہے تو اسی چارپائی پر صاف ستھرے تکیوں سے لڑتے ہیں۔ نامور پہلوانوں کے بچپن کی چھان بین کی جائے تو پتہ چلے گا کہ انہوں نے قینچی اور دھوبی پاٹ جیسے خطرناک داؤ اسی محفوظ اکھاڑے میں سیکھے۔


جس زمانے میں وزن کرنے کی مشین ایجاد نہیں ہوئی تھی تو شائستہ عورتیں چوڑیوں کے تنگ ہونے اور مرد چارپائی کے بان کے دباؤ سے دوسرے کے وزن کا تخمینہ کرتے تھے۔ اس زمانے میں چارپائی صرف میزان جسم ہی نہیں بلکہ معیار اعمال بھی تھی۔ نتیجہ یہ کہ جنازے کو کندھا دینے والے چارپائی کے وزن کی بنا پر مرحوم کے جنتی یا اس کے برعکس ہونے کا اعلان کرتے تھے۔

یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں کہ ہمارے ہاں دبلے آدمی کی دنیا اور موٹے کی عاقبت عام طور خراب ہوتی ہے۔
برصغیر میں چند علاقے ایسے بھی ہیں جہاں اگر چارپائی کو آسمان کی طرف پائینتی کرکے کھڑا کر دیا جائے تو ہمسائے تعزیت کو آنے لگتے ہیں۔ سوگ کی یہ علامت بہت پرانی ہے گو کہ دیگر علاقوں میں یہ عمودی (١) نہیں، افقی (-) ہوتی ہے۔ اب بھی گنجان محلوں میں عورتوں اسی عام فہم استعارے کا سہارا لے کر کوستی سنائی دیں گی۔

”الٰہی! تن تن کوڑھ ٹپکے۔ مچمچاتی ہوئی کھاٹ نکلے!“ دوسرا بھرپور جملہ بددعا ہی نہیں بلکہ وقت ضرورت نہایت جامع و مانع سوانح عمری کا کام بھی دے سکتا ہے کیونکہ اس میں مرحومہ کی عمر، نامرادی، وزن اور ڈیل ڈول کے متعلق نہایت بلیغ اشارے ملتے ہیں۔ نیز اس بات کی سند ملتی ہے کہ راہی ملک عدم نے وہی کم خرچ بالا نشین وسیلہ نقل و حمل اختیار کیا جس کی جانب میر اشارہ کر چکے ہیں:
تیری گلی سدا اے کشندہ عالم
ہزاروں آتی ہوئی چارپائیاں دیکھیں
قدرت نے اپنی رحمت سے صفائی کا کچھ ایسا انتظام رکھا ہے کہ ہر ایک چارپائی کو سال میں کم از کم دو مرتبہ کھولتے پانی سے دھارنے کی ضرورت پیش آتی ہے۔

جو نفاست پسند حضرات جان لینے کا یہ طریقہ جائز نہیں سمجھتے وہ چارپائی کو الٹا کر کے چلچلاتی دھوپ میں ڈال دیتے ہیں۔ پھر دن بھر گھر والے کھٹمل اور محلے والے عبرت پکڑتے ہیں۔ اہل نظر چارپائی کو چولوں میں رہنے والی مخلوق کی جسامت اور رنگت پر ہی سونے والوں کی صحت اور حسب نسب کا قیاس کرتے ہیں (واضح رہے کہ یورپ میں گھوڑوں اور کتوں کے سوا، کوئی کسی کا حسب نسب نہیں پوچھتا) الٹی چارپائی کو قرنطینہ کی علامت جان کر راہ گیر راستہ بدل دیں تو تعجب نہیں۔

حد یہ کہ فقیر بھی ایسے گھروں کے سامنے صدا لگانا بند کر دیتے ہیں۔
چارپائی سے پراسرار آوازیں نکلتی ہیں، ان کا مرکز دریافت کرنا اتنا ہی دشوار ہے جتنا کہ برسات کی اندھیری رات میں کھوج لگانا کہ مینڈک کے ٹرانے کی آواز کدھر سے آئی یا کہ یہ تشخیص کرنا کہ آدھی رات کو بلبلاتے ہوئے شیر خوار بچے کے درد کہاں اٹھ رہا ہے۔ چرچراتی ہوئی چارپائی کو میں نہ گل نغمہ سمجھتا ہوں، نہ پردہ ساز، اور نہ اپنی شکست کی آواز! درحقیقت یہ آواز چارپائی کا اعلان صحت ہے کیونکہ اس کے ٹوٹتے ہی یہ بند ہو جاتی ہے۔

علاوہ ازیں ایک خود کار الام کی حیثیت سے یہ شب بیداری اور سحر خیزی میں مدد دیتی ہے۔ بعض چارپائیاں اس قدر چغل خور ہوتی ہیں کہ ذرا کروٹ بدلیں تو دوسری چارپائی والا کلمہ پڑھتا ہوا ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھتا ہے۔ اگر پاؤں بھی سکیڑیں تو کتے اتنے زور سے بھونکتے ہیں کہ چوکیدار تک جاگ اٹھتے ہیں۔ اس کا یہ فائدہ ضرور ہوتا ہے کہ لوگ رات بھر نہ صرف ایک دوسرے کی جان و مال بلکہ چال چلن کی بھی چوکیداری کرتے رہتے ہیں۔ اگر ایسا نہیں ہے تو پھر آپ ہی بتائیے کہ رات کو آنکھ کھلتے ہی نظر سب سے پہلے پاس والی چارپائی پر کیوں جاتی ہے۔

Your Thoughts and Comments