Chirya Ghar

چڑیا گھر

عطاالحق قاسمی ہفتہ اگست

Chirya Ghar
زندگی اگر چڑیا گھر ہے ‘تو ہم سب وہ پرند ہیں جنہیں اپنے اپنے پنجروں میں دانہ دنکا مل جاتا ہے اور پھر رفتہ رفتہ انہیں وہ مصرعہ بھی بھول جاتا ہے جس کے مطابق
اپنی اپنی بولیاں سب بول کر اڑجائیں گے
کیونکہ چڑیا گھر کے پنچھی اپنی اپنی بولیاں تو بولتے ہیں’‘بس اڑنے کے آداب بھول جاتے ہیں۔کھلی فضاؤں میں پرواز‘کھلی فضاؤں میں سانس لینے والے پنچھیوں ہی کا مقدر ہوتی ہے۔


مکر یہ بات تو کچھ سنجیدہ سی ہو گئی،حالانکہ خدا گواہ ہے ہمارا مقصود یہ نہیں تھا‘یہ تو چڑیا گھر کے حوالے سے اپنے کچھ عجیب وغریب بھائی بندوں کو ہم نے چڑیا گھر سے اس لئے منسوب کیا کہ یہ خاصی دلچسپ عادات کے مالک ہیں‘چنانچہ چڑیا گھر کے باسی اگر آزاد ہوں‘تو وہ خود ٹکٹ خرید کران کے پنجرے کے گرد”پیلاں“ڈالتے دکھائی دیں۔

(جاری ہے)

مثلاً ان ملاقاتیوں میں سے ہمارے ایک ملاقاتی ایسے ہیں جو بوقت ملا قات ہمیشہ ادھورا سوال پوچھتے ہیں۔

مثلاً وہ پوچھیں گے”ان صاحب کا کیا حال ہے؟“اب ظاہر ہے اس ”ان“کا کوئی جواب نہیں‘چنانچہ پوچھنا پڑتاہے:”کون سے ان صاحب؟“اس پر وہ وضاحت کرتے ہیں۔”وہی جو آپ کے دوست رشید صاحب ہیں۔“ان ملاقاتی صاحب کا دوسرا سوال کچھ اس قسم کا ہوتاہے”وہاں گئے تھے؟“ظاہر ہے ”ان “کی طرح اس ”وہاں“کا بھی جواب نہیں چنانچہ ایک بار پھر پوچھنا پڑتا ہے”کون سے وہاں“اس پر مکر روضاحت فرماتے ہیں ”میو ہسپتال میں“اس پرہمیں کہنا پڑتا ہے کہ بھائی ہم میو ہسپتال کیوں جائیں ۔

یہ کورا سا جواب سن کر وہ مایوس نہیں ہوتے بلکہ یاد دلاتے ہیں کہ منور صاحب ہسپتال میں ہیں۔ہم ایک بار پھر پوچھتے ہیں۔”کون سے منور صاحب؟“جواب میں بڑے اطمینان سے فرماتے ہیں”آپ ان منور صاحب کو نہیں جانتے وہ دراصل میرے اپنے ملنے والے ہیں۔“
اس ”چڑیا گھر“کے ایک اور باسی سے ہماری رسم دراہ ہے اور یہ باسی“کچھ زیادہ ہی ”باسی“ہے۔موصوف کی زیادہ تر گفتگو موت وحیات کے فلسفے ہی کے گرد گھومتی ہے ۔

ویسے یہ موت کے ساتھ ہم نے حیات کا لفظ یوں ہی محاورة لگادیا ہے‘وگرنہ ان کی تمام تر گفتگو کا محور موت ہی ہوتی ہے۔
ایک روز صبح صبح موصوف غریب خانے پر تشریف لائے۔ہم اس وقت شیو کرکے اور نہادھو کر بہت شگفتہ موڈمیں ناشتے کی میز پر بیٹھے تھے۔ان حضرت نے چائے کا گھونٹ لیتے ہوئے فرمایا:”تم ایک بات جانتے ہو؟“
”کیا؟“ہم نے پوچھا۔
”یہی کہ تم نے ابھی ابھی شیو کیا ہے۔

نہا کر فارغ ہوئے اور اب صاف ستھرے کپڑے پہن کر ناشتے کی میز پر بیٹھے چہک رہے ہو۔ایک دن آئے گا کہ لوگ تمہیں تنگ وتاریک قبر میں اتار دیں گے؟“
یہ سن کر ہمارے ہاتھ سے چائے کی پیالی گرتے گرتے بچی اور پھر ہم نے اپنا سانس درست کرتے ہوئے کہا:”یہ دن آپ پر بھی آئے گا‘کیونکہ موت سے کسی کو مفر نہیں ‘مگر آپ کہنا کیا چاہتے ہیں؟“
”بس یہی کہ ہمیں ہر وقت موت کے بارے میں سوچنا چاہئے۔


ہم نے عرض کی:”حضور!موت ہمیں پوری طرح یاد ہے۔آپ کو ریمائنڈر بھجوانے کی ضرورت نہیں‘البتہ آپ کبھی کبھی زندگی کو بھی یاد کر لیا کریں کہ یہ بھی اس کی دی ہوئی جس نے موت کو ایک حقیقت بنایا ہے۔“
اس پر ان کو موڈ کچھ آف ہو گیا۔ہم نے جو صبح صبح زندگی کی باتیں شروع کردی تھیں۔
اور بات تو گھوم پھر کر وہیں آن پہنچی ہے‘جسے ہم نے سنجیدہ جان کر آغاز ہی میں نامکمل چھوڑ دیا تھا اور وہ یہ کہ کھلی فضاؤں میں پر واز‘کھلی فضاؤں میں سانس لینے والے پنچھیوں ہی کا مقدر ہوتی ہے۔

جو پرندے چڑیا گھر میں دانہ دنکا چن کر زندگی بسر کرتے ہیں‘وہ رفتہ رفتہ زندگی کے نارمل رویے بھول جاتے ہیں۔ کچھ یہی حال ان انسانوں کا بھی ہے’چنانچہ جب وہ اپنے گرد کھنچی آہنی چار دیواری میں رہتے رہتے نارمل رویے بھول جاتے ہیں‘تو ادھوری باتیں کرتے ہیں۔ناشتے کی میز پر موت کی باتیں کرتے ہیں۔

Your Thoughts and Comments