Choon-k Or Muft K Tohfey

”چونکہ“اور مفت کے تحفے

حافظ مظفر محسن ہفتہ جنوری

Choon-k Or Muft K Tohfey
ڈاکٹر الطاف بے حد پریشان تھے۔ان سے میری دوستی کچھ ایسی ہے کہ میں اس کی معمولی پریشانی بھی برداشت نہیں کر سکتا۔مگر آج تووہ بے حد پریشان تھا۔میرے پاس آیا تو میں نے فوراً اس کی پسندیدہ کافی تیار کرائی مگر اس نے کافی پینا پسند نہ کی جس سے مجھے اس کی پریشانی کی شدت کا مزید احساس ہو گیا۔
”یار الطاف صاف صاف بتاؤ․․․․مسئلہ کیا ہے؟کیا کسی مریض کو کوئی الٹی سیدھی دوائی پلا بیٹھے ہو؟“اس سے پہلے کہ میں مزید سوالات کرتا اس نے مجھے بازو سے پکڑا اور ساتھ چلنے پر اصرار کیا!
”مگر جاؤ گے کہاں؟“تمہیں سب کچھ راستے میں بتاؤں گا۔

پہلے بس تم گاڑی میں بیٹھو!
آج وہ خلاف معمول گاڑی بھی کافی آہستہ چلا رہا تھا۔ڈاکٹر الطاف اور گاڑی آہستہ چلائے یہ تو اس کی فطرت کے خلاف ہے۔

(جاری ہے)

اس کی اس بوکھلا ہٹ زدہ پریشانی نے مجھے مزید پریشان کر دیا۔
”مجھے کوئی خاص تحفہ چاہئے۔ایک خاص الخاص دوست کے لئے“وہ ایک دم بولا۔
”اوہو․․․․․․تو اتنی سی بات پر یہ پریشانی اور یہ”ہنگامی حالات“کی سی صورت؟“
میری تکرار پروہ مزید چیخا۔

”یار․․․․․․مجھے ایک بہت ہی خاص تحفہ چاہئے۔میرا دوست چونکہ واپس جارہاہے۔
”یار یہ تم نے چوہوں سے دوستی کب سے کی ہے؟“
ارے بے وقوف یہ”چونکہ“کوئی چوہا وغیرہ نہیں۔یہ مرادوست ہے جو کہ دوسرے شہر سے آیاہے۔اس نے میرے سوال پر وضاحت کی۔
”تو پھر چلو لبرٹی چلتے ہیں۔وہاں سے کوئی عمدہ سا․․․․․یاد گار تحفہ خریدلیں گے جو تمہارے دوست”چونکہ“کو کافی پسند آئے گا۔

“اور․․․․․․ہاں لبرٹی نہیں جانا․․․․․․جو تحفہ مجھے درکار ہے ،وہ کسی گندے نالے پر پرانے جوہڑسے ملے گا۔اس نے تفصیل بتائی اور مجھے بھی پریشان کر دیا۔
ارے میاں․․․․․کھل کر بات کرو۔قصہ کیا ہے یہ چونکہ․․․․․․؟میں نے پوچھا۔
یار!اصل میں بات یہ ہے کہ چونکہ صاحب میرے دوست بھی ہیں اور استاد بھی ۔یہ کل واپس جارہے ہیں اور میں تحفے میں ان کو ایک عدد کچھوا دینا چاہتا ہوں۔

جو وہ بہت مزے سے کھاتے ہیں۔“
میری ہنسی نکل گئی۔میرے پیٹ میں ہنس ہنس کر بل پڑتے رہے مگر الطاف الٹامجھ سے ناراض ہو رہا تھا۔
”یار تم تو ہر وقت مذاق کے موڈ میں ہوتے ہو اور ہر بات کو مذاق سمجھ کر دانت نکالنے لگتے ہو۔کبھی سنجیدہ بھی ہو جایا کرو؟“میں نے دیکھا وہ یہ ساری باتیں مجھے کافی سنجیدگی سے کہہ رہا تھا۔
خیر․․․․․․ہم لوگ رائے ونڈروڈ کی طرف چل پڑے۔

اس دوران الطاف نے مجھے بتایا کہ وہ”چونکہ“کے ساتھ کافی مرتبہ لاہور کی نہر کے کنارے گھنٹوں محض اس لئے بیٹھ چکا ہے کہ اسے وہاں سے مختلف قسم کی سونڈیاں اور کیڑے مکوڑے درکار ہوتے تھے جوکہ”چونکہ“پکانے کے لئے لے جاتا تھا اور مجھے یاد آیا کہ ایک دفعہ میں نے ڈاکٹر الطاف کے ہاتھ میں دو بڑے بڑے موٹے تازے مردہ چوہے بھی دیکھے تھے۔میرا خیال تھا کہ شاید وہ ان چوہوں پر کوئی تجربات کرنے کا ارادہ رکھتا تھا،مگر اب مجھے پتہ چلا کہ وہ چوہے بھی چونکہ صاحب کے لئے ہی تھے۔


خدا خدا کرکے ہمیں ایک بڑا سا جوہڑ(چھپڑ)نظر آہی گیا۔الطاف نے گاڑی روکی اور ہم دونوں جوہڑ کی طرف چل پڑے۔وہاں قریبی گاؤں کے کچھ بچے تھے۔اس سے پہلے کہ ہم ان سے مدعا بیان کرتے۔انہوں نے اپنے دلوں میں چھپی بات کہہ دی۔
”بابوجی․․․․․کیا پھر الیکشن ہورہے ہیں؟“
”کیوں بھئی تم لوگوں نے کیسے اندازہ لگایا؟“ہم نے حیرت سے پوچھا۔
”بابوجی!اصل میں جب کبھی کوئی بڑی بڑی گاڑیوں والے لوگ ہمارے گاؤں میں آئیں تو ہمیں پتہ چل جاتاہے کہ یہ ووٹ لینے آئے ہیں؟“ہمیں ان بچوں کی سیاسی“سوجھ بوجھ“اچھی لگی۔

مگر اس وقت ہم یہ سیاسی مذاق انجوائے کرنے یا بات مزید بڑھانے کے موڈ میں نہیں تھے۔اس لئے جلدی سے اپنی ضرورت بیان کردی۔
بابوجی․․․․․․کچھوا تو یہاں سے مل جائے گا مگر میں پانچ روپے لوں گا۔ایک بچے نے معصومیت سے کہا۔
”ارے بابا!لے لینا تم۔“اس سے پہلے بات آگے بڑھتی ایک اور بچہ آگے بڑھا․․․․․․
”بابو جی․․․․․میں دوروپے میں کچھوا نکال دوں گا۔

“اس نے بے چارگی سے کہا۔
میں سمجھ گیا کہ”ہارس ٹریڈنگ “اور ایک دوسرے کی ٹانگ کھینچنا اب صرف ہماری اسمبلیوں کی حد تک ہی نہیں رہا بلکہ یہ بیماری تو ہمارے ہر شہر اور گاؤں میں بھی پھیل چکی ہے۔
خیر جناب !دونوں بچے”سودا“طے ہونے سے پہلے ہی جوہڑ میں داخل ہو گئے اور مجھے اندازہ ہوا کہ شاید ہم بہت عرصہ تک ابھی ترقی یافتہ ممالک کی صف میں شامل نہ ہو سکیں۔


خداخدا کرکے ایک کچھوا مل گیا اور یہ کچھوا دوروپے مانگنے والا بچہ نکال کر لایا۔مگر الطاف نے چونکہ کی خاطر دونوں بچوں کو دس دس روپے کا ایک ایک نوٹ تھمایا اور ہم واپس چل پڑے۔
اس دن تو میں واپس آگیا مگر دوسری صبح ہی الطاف نے مجھے فون کیا اور بتایا کہ چوچی بھائی تم سے ملنا چاہتے ہیں۔میں نے دوپہر کے بعد آنے کا وعدہ کیا اور خود پرانے سٹور میں داخل ہو گیا جہاں بہت سے موٹے تازے اور طرح طرح کے چوہے موجود تھے۔

کافی کوشش اور”خون خرابے“کے بعد میں ایک چوہا پکڑنے میں کامیاب ہو گیا۔میں نے گندا سا چوہا شاپنگ بیگ میں ڈالا تو امی کی نظر پڑ گئی۔
”یہ کیا ہے؟“امی نے غصے سے پوچھا۔یہ تحفہ ہے۔جو میں چوچی بھائی کے لئے لے جارہاہوں۔خیر سگالی کے جذبے کے طورپر“
میں نے چوچی بھائی سے ملاقات کی تو الطاف نے انہیں بتایا کہ کل والا کچھوا پکڑنے میں محسن نے میری کافی مدد کی تھی۔تو وہ بے حد خوش ہوئے۔پس جب میں نے شاپنگ بیگ سے موٹا تازہ چوہا نکال کر دیا تو وہ خوشی سے اچھل پڑے اور پھر جب میں نے انہیں دوبارہ آنے کی دعوت دی اور بہت سے چوہے اور کچھوے مفت کھلانے کا کہا تو انہوں نے مجھے گلے لگالیا اور وعدہ کیا کہ وہ ضرور آئیں گے۔اپنی فیملی بھی ساتھ لائیں گے اور بہت دن یہاں قیام کریں گے۔

Your Thoughts and Comments