Chor Chori Se Na Jaye Fashion Se Jaye

چور چوری سے نہ جائے فیشن سے جائے

جمعرات نومبر

Chor Chori Se Na Jaye Fashion Se Jaye
سید عارف نوناری
فیشن انگریزی اصطلاح ہے جس کے معنی رواج کے ہیں۔ رواجات کی تاریخ بہت پرانی ہے۔ برطانیہ کے آئین میں بہت سے رواجات کو آئین میں شامل کیا گیا ہے موجودہ دور میں فیشن‘بناؤ سنگھار شخصیت میں نکھار پیدا کرنے کو کہتے ہیں۔ آج کا دور فیشن کا دور ہے جس میں عورتوں کو خصوصی ملکہ حاصل ہے ایک صدی یا تقریباً اس سے کم عرصہ سے مرد بھی فیشن کی دنیا میں شامل ہو گئے ہیں۔

فیشن اصل میں پیسے کا ضیاع ہے انگلش میں کہتے ہیں کہ بیوٹی نیڈز نو آرنا منٹس اور اردو میں ”نہیں محتاج زیور کا جسے خوبی خدا نے دی“ فیشن کی ضرورت کیوں نصف صدی سے زیادہ محسوس کی گئی۔ اس کی بہت سی وجوہات ہیں۔ اپنے رتبہ اور مرتبہ کو قائم رکھنا امیر عورتوں کے لئے بہت ضروری ہے کیونکہ اگر وہ فیشن ایبل نہ کہلائیں تو ان کی روٹی ہضم نہیں ہوتی۔

(جاری ہے)

غریب طبقہ میں اگرچہ فیشن پایا جاتا ہے لیکن وہ فیشن ایبل نہیں ہیں۔ فیشن کے لئے وافر مقدار میں روپوں کی ضرورت ہے۔ پاکستان کی نصف آبادی خواتین پر مشتمل ہے اس میں سے 30 فیصد خواتین فیشن کرتی ہیں جبکہ دیہاتی خواتین میں فیشن نہیں ہے۔
فیشن کی ضرورت کیوں ہوتی ہے۔ صرف بیوٹی میں نکھار پیدا کرنے کے لئے اسے اپنایا جاتا ہے۔ فیشن معاشی نقطہ نظر سے بھی سرمایہ کو ضائع کرنے کے مترادف ہے فیشن سے مصنوعی اور وقتی حسن و خوبصورتی میسر آتی ہے۔

شہری عورتوں میں فیشن کا رواج زیادہ ہے۔ بناؤ سنگھار کرنا شخصیت کے مطابق یا جسم و چہرہ کے مطابق لباس اور جوتے پہننا‘نیل پالش لگانا‘ناخن رکھنا بالوں کے مختلف سٹائلز چہرے کا میک اپ فیشن کے زمرے میں آتے ہیں۔ شادی بیاہ یا تقریبات میں فیشن کرنا جزو زندگی تصور کیا جاتا ہے۔ یورپ میں فیشن ہے تو ضرور لیکن کم ہے وہاں اکثر عورتوں کی بیوٹی قدرتی ہے۔


اگر پاکستان میں فیشن کو معاشی نقطہ نگاہ سے دیکھا جائے تو آمدنی کا تقریباً 25 فیصد فیشن پر خرچ کیا جا رہا ہے۔ فیشن یورپ سے ایشیاء میں آیا اب یہ ایشیاء میں پروان چڑھ رہا ہے۔ کوئی بھی تقریب ہو‘ملاقات ہو‘شادی وغیرہ فیشنی عورتیں آپ کو نظر آتی ہیں۔
عورتیں اصل میں مردوں کی توجہ اپنی طرف مبذول کرنے کے لئے میک اپ یا فیشن کو اپناتی ہیں۔

خاص کر غیر شادی شدہ لڑکیاں،سکول و کالج کی لڑکیاں ایسے ملبوسات استعمال کرتی ہیں جس سے چہرہ اور جسم سڈول نظر آئے۔ کپڑوں کے نئے نئے ڈیزائن بھی فیشن کے زمرہ میں آتے ہیں۔
رواجات کے نقصان زیادہ ہیں جبکہ فائدے کم ہیں۔ ان کے باعث ذہنی تناؤ‘گھریلو تنازعات‘لڑائی جھگڑے پیدا ہوتے ہیں۔ فیشن کا براہ راست اثر معاشرہ پر پڑ رہا ہے فیشن کے سبب جرائم میں اضافہ ہو رہا ہے۔

نصف صدی قبل معاشرہ کو دیکھا جائے تو فیشن کم ہونے کے باعث جرائم کم تھے۔ معاشرہ سیدھا سادھا تھا۔مسائل کا پیدا ہونا بھی فیشن کے باعث ہی ہے۔ رواجات اگرچہ قوم و تہذیب کی علامت ہیں لیکن صرف اچھے رواجات۔
قتل و غارت‘جوا‘شراب جیسی بیماریاں جو معاشرہ کو گھن کی طرح چاٹ رہی ہیں بلکہ رشوت و بدعنوانی بھی اس زمرہ میں آتی ہے سب فیشن و رواجات کا نتیجہ ہیں ان کا تعلق براہ راست گھریلو زندگی کے ساتھ ہے۔

عورتوں کے مطالبات مرد کو یہ سب کچھ کرنے پر مجبور کرتے ہیں۔
اصلاح جرائم کا حل صرف اور صرف عورتوں کی ضروریات لباس‘بناؤ سنگھار اور دیگر بناؤٹی اشیاء کی کمی کی وجہ سے ممکن ہے۔ فیشن نے مسلم تہذیب پر بھی اثرات مرتب کئے ہیں اور یہ اثرات مثبت کم جبکہ منفی بہت زیادہ ہیں۔ فیشن کا رواج پاکستان میں کیوں اور کیسے داخل ہوا؟ اس کی ضرورت کیوں محسوس کی گئی؟کیا اس کے بغیر پاکستان کا گزارہ مشکل ہے۔

اصل میں مغرب کی تہذیب نے ہمیں فیشن دیا جو کئی صدیوں سے وہاں رائج ہے پھر اس کی آمیزش پاکستان کی تہذیب میں شامل ہوئی جس سے نہ صرف معاشرتی بلکہ گھریلو مسائل میں اضافہ ہوا۔
مختصر سے پس منظر کے بعد اب یہ چیز واضح ہو گئی ہے کہ عورتیں خصوصی طور پر فیشنز کو اپناتی ہیں۔ مردوں میں اس کی شرح کم ہے۔ اب دیہات کی عورتوں میں فیشن پروان چڑھ رہے ہیں اور رفتہ رفتہ دیہاتی عورتوں میں بھی رجحانات میں اضافہ سے ذہنی تناؤ بڑھ رہا ہے۔

لباس انسان کی شخصیت میں نکھار پیدا کرتا ہے بلکہ اچھا لباس شخصیت کے علاوہ معاشرہ میں رتبہ و مقام کا تعین بھی کرتا ہے لہٰذا تعلیم یافتہ غریب طبقہ کو بھی فیشن اپنانا پڑتا ہے۔ غریب طبقہ بھی سوسائٹی میں اپنا مقام و رتبہ برقرار رکھنے کے لئے مختلف طریقوں سے اپنی شخصیت کو جاذب نظر بناتا ہے جس سے آمدنی کا کافی حصہ صرف ہوتا ہے اور باقی ضروریات دھری کی دھری رہ جاتی ہیں۔

اگر حقیقت پسندی کو سبھی سمجھ لیں یا قبول کر لیں تو یقینا فیشن میں کمی سے روپیہ بچایا جا سکتا ہے جو معاشی لحاظ سے بھی ملک کی تعمیر و ترقی میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ اچھا لباس زیب تن کرنا انسان کی مجبوری بن گئی ہے اعلیٰ خاندان کا شخص اگر کم قیمت کے لباس میں دفاتر جائے تو اس کو گیٹ کے اندر نہیں جانے دیا جاتا اور اگر وہی شخص خوبصورت و قیمتی لباس میں اسی دفتر جائے تو اس کا استقبال کیا جاتا ہے۔

تعلیم یافتہ شخص اگر فیشن ایبل نہ ہوتو اس کو تعلیم یافتہ تصور نہیں کیا جاتا اس کے مد مقابل اگر ان پڑھ سرمایہ دار‘جاگیردار خواتین نمایاں وضع قطع بنائے ہوئے ہو تو معاشرہ اعلیٰ تعلیم یافتہ انسان کی نسبت ان کو زیادہ اہمیت دیتا ہے۔
فیشنز انسان کی مجبوری اور معاشرہ کی ضرورت بن کر رہ گئے ہیں۔ یورپ میں ایسا نہیں بلکہ فیشن روٹین ورک ہے۔

سادہ زندگی سے سادہ معاشرہ کی تشکیل اور ہر طرح کے مسائل‘پریشانیاں کم ہو جاتی ہیں۔ اگر ماضی کے زمانہ اور موجودہ زمانہ کا موازنہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ پہلے فیشن ایبل سوسائٹی نہیں تھی جس سے پرامن زندگی کا تصور تھا اب ایسا نہیں بلکہ اب زندگی میں فیشن کی وجہ سے مصائب ہی مصائب ہیں۔ کیا فیشن پروان چڑھتا جائے گا اور معاشرہ اسی ڈگر پر رہے گا۔

اس کا جواب تو آنے والا وقت ہی بتائے گا لیکن اتنا ضرور ہے کہ مسائل و پریشانیوں میں اضافہ ضرور ہو گا۔ اگر اس فیشن ایبل زندگی کو ختم کر دیا جائے تو یقین سے کہا جا سکتا ہے کہ غار کا زمانہ پھر آجائے گا کیونکہ میک اپ کو نمایاں کرنے کے لئے‘افعال لباس کا خیال رکھنا کم ہو جائے گا۔
فیشنز امیر عورتوں کے لئے تو مالی طور پر نقصان دہ نہیں لیکن غریب طبقہ کی عورتوں کے لئے نقصان دہ ہے کیونکہ ان کو گھریلو ضروریات کم کرکے فیشنز اپنانے ہوتے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ حقیقت پسندی کے نظریات کو پروان چڑھانے کے طریقے سوچے جائیں اور اختیار کئے جائیں تاکہ فالتو فیشنز سے بچا جا سکے۔

Your Thoughts and Comments