Daakkhana Nahi Bhoot Bangla

ڈاکخانہ ․․․․․․نہیں ․․․․․․بھوت بنگلہ

حافظ مظفر محسن منگل جنوری

Daakkhana Nahi Bhoot Bangla
ایک بڑے سے ٹرک کے گزرنے سے یوں لگا جیسے تیز آندھی چل رہی ہو اور ہم سب اندھے ہوگئے ہوں دھول اڑرہی تھی اور کچھ نظر نہ آرہا تھا۔ میرا سانس گھٹ رہا تھا اور دل کی دھڑکن کبھی اپنی رفتار سے بہت تیز ہوجاتی تھی اور کبھی بالکل سست۔ اڑتی ہوئی دھول میں کوئی نرم سی چیز میرے پاؤں میں لگی۔ میں بھاگ کے تھوڑا ایک سائیڈ پر ہوا۔ چاؤں چاؤں کی آواز سے پتہ چلا کہ یہ کوئی کتے کا بچہ تھا۔

جو نہ جانے کیا سوچ کرمیرے پاؤں پر چڑھتا جارہا تھا۔ اڑتی دھول میں شاید وہ اپنی منزل سے بھٹک گیا تھا‘ یقینا اس کی منزل کسی قصاب کی دکان کا پھٹہ ہوگا کہ جس کے نیچے بیٹھ کر وہ ہڈیاں چبائے گا۔میری منزل علاقے کا ” ڈاک خانہ “ تھا کہ جس سے میں نے کچھ خطوط پوسٹ کرنا تھے مگر ایک بڑے ٹرک کے گزرنے سے میری منزل میری نظروں سے اوجھل ہوگئی۔

(جاری ہے)

ایسے حالات میں منزل پالینا مشکل کام ہوتا ہے جب سے اعصاب ساتھ نہ دیں۔

جب مطلع صاف ہوا تو مجھے اپنی منزل سامنے نظرآئی سڑک سے دو فٹ نیچے ایک نہایت بوسیدہ عمارت۔ شاید قیام پاکستان سے چند سال بعد یا پہلے سفیدی ہوئی ہوگی۔ میں یقین سے کچھ نہیں کہہ سکتا کیونکہ کئی سال پہلے میں نے جھوٹ بولنا چھوڑ دیا تھا ( کبھی کبھی مجبوری میں جھوٹ بولنا شروع کردیتا ہوں )۔ ڈیڑھ کمرے پر مشتمل ڈاک خانے کی بلڈنگ شہر کی چند خاص بلڈنگوں میں شمار ہوتی ہے۔

امید ہے چند سال بعد یہ بلڈنگ بھی غیر ملکی سیاح دیکھنے آیا کریں گے اور محکمہ آثار قدیمہ اس بلڈنگ کو اپنے قبضے میں لے لے اور اس بلڈنگ کو دیکھنے کیلئے فیس بھی مقرر کی جائے ( شاید اسی سے ڈاک خانہ کا سالانہ خسارہ کچھ کم ہوجائے )
ڈاک خانے کے دروازے کے دو حصے ہیں ایک حصہ لگتا ہے کئی سال پہلے کسی ٹھیکہ دارنے حامی بھر لی تھی کہ وہ پینٹ کردے گا۔

دوسرا حصہ اس نے آدھا پینٹ کر دیا تھا سرخ رنگ کا مگر پھر شاید معاہدہ ختم ہوگیا اور باقی دوسرا پینٹ ہونے سے رہ گیا تھا۔ ” نوٹس بورڈ“ استعمال ہوتا ہے لیکن افسوس کہ ” جناح باغ “ کے غسل خانوں کی طرح وہاں بھی چند بے ہو دہ تحریریں ہی لکھی گئی تھیں یا پھر اشتہارات ” جوان بن جائیے “ یا مرد کبھی بوڑھا نہیں ہوتا “ میں بیرونی منظر کی شاید بہت کچھ ٹھیک عکاسی نہیں کر سکا اور باتیں اپنی شرمندگی کی وجہ سے آپ سے چھپا گیا ہوں کیونکہ میں محلے کا باسی ہوں کہ جہاں یہ ” خوبصورت “ بلڈنگ ڈاک خانہ موجود ہے۔


میرا خیال تھا شاید باہر والا حصہ ہی مثالی حیثیت کا حامل ہے مگر واہ رے واہ اندر والا حصہ بیرونی حصے سے بھی زیادہ قابل دیداور تعریف کے قابل تھا۔ باہر والا فرش سڑک سے دو میٹر اونچا تھا اندر والا حصہ مزید ایک فٹ گہرائی میں تھا۔ ایک مخصوص قسم کی بدبونے میر ااستقبال کیا اور میں بھول گیا کہ میں یہاں کس کام سے آیا تھا۔ اس سے پہلے کہ میں موجود اہلکار سے آدھا کلو مونگ پھلی مانگتا مختصر قسم کی ” ٹھک ٹھک ٹھک ٹھک “ کی آواز نے مجھے یاد دلایا کہ یہ پنساری کی دکان نہیں وسن پورہ لاہور کا ڈاک خانہ ہے۔

دائیں دیوار پر ہلکے رقم شدہ نشانوں پر میری نظر پڑی اور میں غور کرنے لگا۔ اندازہ لگایا مگر کچھ سمجھ نہ آیا۔ ڈاک خانہ کے اہلکار کو میری پریشانی کا اندازہ ہوا تو بھانپ گئے اور بولے ” باؤ ․․․․․․ تم پریشان نہ ہونا یہ گوندکے نشان ہیں تم جیسے گاہک یہاں آتے ہیں گوند کے ڈبے میں انگلی ڈبو تے ہیں اور لفافے پر جوڑنے کے لئے لگاتے ہیں اور گوند سے بھری اپنی انگلی دیوار کے ساتھ رگڑ کر صاف کرلیتے ہیں ۔

میں سمجھ گیا اور شرمندہ بھی ہوا۔ یہاں میرا شرمندہ ہونا جائز تھا کیونکہ ایک دفعہ کچہری کے ایک دفتر میں بائیں ہاتھ کا انگوٹھا کسی کاغذ پر لگانے کے بعد میں نے بھی انگوٹھا دیوار کے ساتھ رگڑ کر نہ مٹنے والی جامن رنگ کی سیاہی چپکا کر صاف کیا تھا اور والد صاحب نے جو ساتھ تھے میرے منہ پر ایک چار انگلیوں والا تھپڑرسید کیا تھا۔ اس چارانگلیوں والے تھپڑکے بعد آج تک میں نے دوبارہ دفتروں ں کی دیواروں پر ”نقش ونگار “ کایہ کام نہیں کیا۔


میری نظر پڑی ڈاک خانے کا اہلکار ٹکٹ اور لفافے بھی بیچ رہاتھا۔ رجسٹریاں اور یو ایم ایس بھی کر رہا تھا۔ اسلحہ لائسنس اور گاڑیوں اور ڈرائیونگ لائسنس بھی ریونیو کر رہاتھا۔ پوسٹل لائف انشورنس کے کاغذات پر پریمیم بھی جمع ہورہے تھے۔ یہ چھوٹا سا بنک بھی تھا اور بل بھی جمع ہورہے تھے اور اس دوران اس نے کان میں خارش کرنے کے لئے تین چار دفعہ انگلی کان میں ڈالنا چاہی مگر لوگوں کا ہجوم اور کچھ لوگوں کے بے ہودہ بیانات اس بے چارے کوکان میں خارش کرنے سے مسلسل روک رہے تھے ( نہ جانے اسے کب کان میں خارش کرنے کاموقع ملا ہو )۔


” بھائی جی ․․․․․․ آپ پندرہ سولہ قسم کی ذمہ داریاں اکیلے ہی عہدے نبھارہے ہیں آپ کی تنخواہ کیا ہے۔ میں نے ان سے پوچھاتو چیخ کر بولے ․․․․․ ” کیا تم اے جی آفس سے آئے ہو۔ اپنے کام سے کام رکھو۔ میں گھبرا گیا اور چپ کرنے میں ہی بہتری سمجھی کیونکہ ممکن ہے کام کی زیادتی اور میرے بے ہودہ سوالات کی وجہ سے وہ میری رجسٹری بدوملہی کی بجائے بدین شہر بھیج دے۔

مجھے دس بارہ سال بعد اس ”چھوٹی سی غلطی “کا پتہ چلے۔
اس دوران میری ہنسی نکلی اور پھر تین چار مزید لوگ بھی بے ساختہ ہنس پڑے۔ ڈاک خانے والے ”بابو“ کی چائے شیشے کے گلاس میں پڑی پڑی ٹھنڈی برف ہوگئی تھی اور جب اس بے چارے نے ہاتھ بڑھا کر گلاس پینے کے لئے پکڑنا چاہا تو ا یک مکھی اڑتی ہوئی آئی اور ڈبکی لگاکر چائے کے گلاس میں غرق ہوگئی۔

کاش سٹی گورنمنٹ پتنگ اڑانے کے ساتھ ساتھ مکھیوں کے اس طرح بغیر پوچھے اڑنے اور چائے کے گلاسوں میں غرق ہونے پر پابندی لگا سکے۔
میرا کام ہوچکا تھا” بابو“ نے سخت مصروفیت کے باوجود مجھے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ رخصت کیا تو میں پھولانہ سمایا اور تیزی سے باہر نکلنا چاہااور دھڑام میرا پاؤں ڈاک خانے کے اندر موجود گڑھے میں گیا اور میں جوگرا تو اس ڈیڑھ فٹ کی دیوار پر میرا منہ لگاجو انہوں نے اپنی مدد آپ کے تحت بارش کا پانی ڈاک خانے کے اندر آنے سے روکنے کے لئے بنائی تھی۔ منہ ٹیڑھا ہوگیااور خون بہنے لگا․․․․․ میں مزید نہیں لکھ سکتا۔ اس چوٹ والے دانت میں شدید درد ہورہی ہے اور ڈاک خانہ میری آنکھوں میں گھوم رہاہے ۔

Your Thoughts and Comments