Dewan E Khas Ul Khas

دیوانِ خاص الخاص

وحیدر انور زاہر جمعہ جون

Dewan E Khas Ul Khas
عنفوان بچپن سے ہی دل کچھ حساس واقع ہونے کی کوشش کرنے لگ گیا تھا۔یہ ان دنوں کی بات ہے جب رنگت تن سے بے نیاز تن آسانی کی خاطر ہم صرف نیکر ہی زیب تن کیا کرتے تھے۔ ۔ اور تو اور جوتے بھی آزادی جسم و جاں میں مانع تصور کیے جاتے تھے۔محلے کیا گاوں کے تمام شاہین بچے اس دِگرگونی حالت میں پاے جایا کرتے تھے ۔اس لیے کچھ بھی غیر مناسب یا غیر قانونی نہیں لگتا تھا۔

۔ یہ آج کل کے ’ میرا جسم میری مرضی‘ والے اور والیاں کیا جانیں، گاوں کی آزادیاں۔ خیر بات حساس واقع ہونے کی ہو رہی تھی۔کچھ پری چہرے دیکھ کردل میں گھنٹیاں سی بجا کرتی تھیں۔یہ گھنٹیاں کچھ دیر بعد اس بڑے ٹل(بڑا گھنٹا) میں اس وقت تبدیل ہوتیں جب بھینس اپنے گلے کو دائیں بائیں ہلا ہلا کر پانی پانی ڈکارا کرتی اور اسکے گلے کا ٹل سارے جذبات کا بیڑہ غرق کر دیتا۔

(جاری ہے)

گرمی کے دنوں میں بھینسوں کو پانی دکھانا(پلانا) بھی ناچیز کے جملہ فرائض میں شامل ہوا کرتا تھا۔ خیر انہی گھنٹیوں اور ٹلوں کی آنکھ مچولی میں ہم سے میٹرک سرزد ہو گیا۔
 منصوبہ بندی(اچھے مستقبل کی) کے بادشاہ،وزیر، مشیر،حزب مواقف و مخالف، سب کچھ بڑے بھائی صاحب تھے۔چنانچہ مزید ڈگریاں فتح کرنے ہم ساہیوال چلے آئے۔یہاں آکر ایک فائدہ ہوا کہ گھنٹیوں میں سے َٹل کی آواز منہا ہو گئی(بھینس جو پیچھے رہ گئی)۔


اب جب ہم نے ان گھنٹیوں کو ڈیکوڈ (decode)کرنا شروع کیا تو اس سے شعر بننا شروع ہو گئے۔
پھر کیا تھا ہر دوسرے چوتھے روز ایک آدھ غز ل سرزد کر ڈالتے۔پھر سوچا کہ یہ اردو ادب کا گرانقدر اثاثہ اگر محفوظ نہ کیا گیا تو عاشقان علم و فن اپنی پیاس بجھانے کہاں جائیں گے۔ پس ہم نے ایک عدد مخملیں جلد سے مزین ڈائری خریدی اور اس کے اندر یہ ادبی خزانہ محفوظ کرنا شروع کر دیا۔

جلد ہی اتنا مواد اکٹھا ہو گیا کہ جس سے ایک عدد دیوان چھاپا جا سکتا تھا۔ڈائری کے باہر جلی حروف میں ’دیوانِ خاص‘ لکھ دیا۔
ہمارے اپنے خیال کے مطابق یہ مواد ایسا تھا جس سے ادبی دنیا میں بھونچال برپا ہو جاتا۔ لوگ غالب، فیض،قاسمی صاحب کو بھول جاتے۔ہر طرف نئے سورج کے چرچے ہو جاتے۔۔۔
اگلامرحلہ اپنے مداح پیدا کرنا تھا۔اپنے حلقہ احباب سے ابتدا کی گئی۔

کالج میں یار دوستوں کو اکٹھا کر کے ہم نے انہیں اس عظیم کلام سے روشناس کرنا شروع کر دیا۔کچھ حیران ہوئے،کچھ پریشان ہو گئے۔ایک دو کی ہنسی نکل گئی البتہ غزل مکمل سنا دی گئی۔ایک دو قریبی دوستوں نے داد بھی دی۔ ہم نے نتیجہ اخذ کر لیا کہ یار لوگ حسد میں مبتلا ہیں۔
سب سے قریبی دوست جو اس تمام عرصے میں خاموشی سے ساری کارروائی دیکھتا رہا تھا۔

مجھے ایک طرف لے گیا اور گویا ہوا۔
یار سکول و کالج میں بارہ تیرہ سال اردو کا رٹا لگا لگا کر مجھے شعر و ادب کی کچھ کچھ سمجھ بوجھ آ گئی ہے۔ تمھاری غزل سننے کے بعدمیرا دل گواہی دے رہا ہے کہ تم میں کچھ ہے ۔ بہتر ہو گا کہ اپنی یہ غزل اردو کے پروفیسر صاحب کے گوش گزار بھی کر لو۔ تمہارا شک نکل جائے گا اور میرا یقین۔ گو کہ ہمیں معلوم تھا کہ ہمارے یار اردو پرچے کی ۱۰۰ میٹرکی دوڑ میں ۳۳ میٹر سے آگے کبھی نہ جا سکے تھے، پھر بھی اسکی بات دل کو لگی۔


مواد کو چوری ہونے سے بچانے کے لئے ہم نے ان پروفیسر صاحب کا انتخاب کیا جو بقلم خود عشق و محبت کے شاعر نہیں تھے۔ لیکن ادب سے عشق کرتے تھے۔
وقت غیر مقررہ پر ان کے گھر جا وارد ہوئے اور مدعا بیان کیا۔پروفیسر صاحب نے پہلے مدعا اور پھر ایک غزل نہایت صبرو تحمل سے سنی۔سن کر خاموش ہو گئے۔ایک بار میری طرف اور دو بار غزل کی طرف کچھ ایسی نظروں سے دیکھا جن کا ترجمہ ہم سے آج تک نہ ہو سکا۔

کہ ان نظروں میں داد تھی یا داد شجاعت۔
کچھ دیر سوچتے رہے پھر گویا ہوئے۔ بر خوردار کس جگہ سے تشریف لائے ہو؟ ہم نے خبر دی کہ جملہ آٹھ کلو میٹر سفر بذریعہ سائیکل طے کر کے ہم منزل مقصود پر پہنچے ہیں۔ گرمی میں اس لمبے سفرکی تکان اور وہ بھی ادب کے لیے۔شاید یہ سوچ کر ان کے تیور کچھ بدل گئے اورانہوں نے ہم سے غزل لے کر اس کے ایک ایک شعر کی جراحی شروع کر دی۔

صرف دس منٹ میں ورق رہ گیا اس میں سے میری غزل تو نہ جانے کہاں گئی البتہ کاٹ چھانٹ اور الفاظ کے شدید ردوبدل کے بعد انہوں نے جو کچھ میرے حوالے کیا وہ پتہ نہیں کیا تھا۔
بہرحال ہم نے دل پر نہ لیا۔اب ہم ہر ہفتے اپنا دیوان خاص لیے جا حاضر ہوتے۔پروفیسر صاحب نہایت تحمل سے ایک ایک لفظ آگے پیچھے کرتے چلے جاتے۔نیجتا جو بنتا وہ ہمارے لحاظ سے کچھ اورہی ہوتا۔

چھٹے چکر تک ہم سائیکل کے پُر زور سفر سے اور پروفیسر صاحب ہماری ادبی تخلیقات سے پُر ہو چکے تھے۔چنانچہ چھٹی غزل پر جب جناب کا بس نہ چلا تو گویا ہوئے۔ برخوردار۔اب تمہارا وزن تو کافی بہتر ہو گیا ہے۔ تمہیں اب کسی بڑے شاعر کی ضرورت ہے جو تمھارا خیال ٹھیک کرے۔
ہم نے مسرت سے انکی طرف’ فخریہ‘ دیکھا جبکہ ادھر سے کچھ بھی ’رشکیہ‘ نہ پایا۔

درخواست کی کہ آپ ہی رہنمائی فرمائیں۔ نہایت مسرت سے بولے۔
 عارف افروزی کے پاس چلے جائیں۔ ان کو میرا بتائیے گا۔ وہ آپکو شاگرد کر لیں گے۔
ہمیں بڑا شاعر دیکھنے کا اتنا ہی اشتیاق تھا جتنا گاوں کے بچوں کو شہر کے چڑیا گھر میں زیبرا دیکھنے کا۔چنانچہ ہم اگلے ہی ہفتے اپنا دیوان خاص سمیت انکے دولت خانہ پر جا حاضر ہوئے ۔جناب کا گھر ساہیوال کے خوشحال علاقے میں وقوع پذیر تھا ۔

بیرونی دیوار کے ساتھ خوبصورت تراشیدہ گھاس زور زور سے۔۔پرے ہٹ، پرے ہٹ۔۔ کہہ رہی تھی۔گھنٹی بجانے کے دو منٹ بعد دروازے پر ایک پریشان حال ، بیحساب بالوں میں الجھے (بعد میں علم ہوا کہ یہ زلفیں بھی بناوٹی تھیں)، خاصے گہرے رنگ کے صاحب نمودار ہوئے۔ ہم نے عرض کیا۔عارف امروزی صاحب سے ملوا دیں۔ بولے کیوں؟ کہا۔ فریدی صاحب نے بھیجا ہے۔ غزل کی اصلاح اور شاگردی دونوں بیک وقت درکار ہیں۔

بولے۔ برخوردار مذکورہ صاحب’ ہم‘ ہی ہیں۔ یہ کہہ ،کر باہر امڈ آئے۔ ’پرے ہٹ، پرے ہٹ‘ کرتی گھاس پر ہمیں بھی تشریف فرما کر ا لیا اور خود بھی ہو گئے۔بولے کچھ سناو!۔ ہم نے دو تین غزلیں کھری کھری سنا دیں۔ سنا، سوچا، پھر بولے۔ برخوردار ہمارے پاس وقت کی ذرا کمی ہوتی ہے۔ تم دو تین غزلیں دے جاو۔ اگلے ہفتے اصلاح شدہ لے جانا اور بے راہ رَو مواد مزید دے جانا۔


ہم نے سنا ہوا تھا کہ مشہور شاعر گمنام شاعروں کا کلام ’لپیٹ‘ لیا کرتے ہیں۔لہٰذا ہم نے اپنی قبول صورت سی غزلیں’ حوالہٴ امروز‘ کردیں۔وہ غزلیں جھپٹ کر داخل دروازہ ہو گئے۔ یقین جانئیے ۔ہمیں بڑادکھ ہوا کہ بندہ پانی ہی پوچھ لیتا ہے۔پھر حوصلہ کیا کہ عظیم لوگوں کے ساتھ شروع میں ایسے ہی ہوا کرتا ہے۔
اگلے ہفتے جا کرپھر ’ درِ مرشد‘ پہ جا دستک دی۔

اس بار در ایک قبول صورت انسان نے وا کیا۔ملازم تھا۔ مقصدِ آمد بتایا ۔ دو منٹ بعد واپس آکر بولا۔ صاحب آج نہیں مل سکتے۔انکی ایک مدح جو انکی شاگرد بھی ہیں، شاعرہ بھی ہیں اور ایک عدد کرنل کی تازہ بیوہ بھی ہیں۔ وہ انکے ساتھ بیٹھے ہیں۔ ہماری چشم تصور نے دیکھا کہ جناب ان کی شعری اور اپنی بصری اصلاح میں دل و جان سے مصروف ہیں۔ ملازم مزید بولا۔

آپ پھر ’کبھی ی ی ی ‘ تشریف لائیے گا۔
ہمیں بڑی شرمندگی ہوئی۔ ہم مستوراتی نہ سہی، شاگرد تو تھے ہی۔یہ ’کبھی ی ی ی‘ ہمارے لیے ’کبھی نہیں‘ ہو گیا
پس ہم وہاں سے ہمیشہ ہمیشہ کیلیے لوٹ آئے۔ اپنی تین اصلاح شدہ غزلیں بھی صیاد شاعر کی قید میں ہی چھوڑ آئے۔ شاعری سے دل ہی کھٹا ہو گیا۔
پھر وقت پر لگا کر اڑ نے لگا۔کہ ’ تجھ سے بھی دلفریب تھے غم روزگار کے‘ ۔

بیس سال بیت گئے۔
۔چند دن پہلے پرانی کتابوں کو ادھر ادھر کرتے ہوئے۔ہمیں اپنا دیوانِ خاص نظر آیا۔ شاعر نے ادھیڑ عمر انگڑائی لی۔لیکن،
’کھلی جو آنکھ تو وہ تھا، نہ وہ زمانہ تھا ‘ ۔ دل میں آئی کہ خود اصلاح کر کے دیکھتے ہیں۔
عصرِ حاضر نے جدیدیت تمام حدیں عبور لر لی ہیں۔ چند لمحوں میں ہمارے موبائل میں رموزِ شاعری کی تین چار کتابیں اور ایک عدد ’ App ‘ آ چکی تھی۔

رموزِ شعر پڑھی تو شاعری کی ادھیڑ عمر انگڑائی کا حال کچھ یوں ہوا ۔بقول شاعر ۔
 دیکھ کر مجھ کو وہ انگڑائی ادھوری ان کی
تیر چلنے بھی نہ پایا کہ کماں ٹوٹ گئی
 شاعری کے اسرار و رموز تو ہمارے اوپر سے گزر گئے۔ہم نے پڑھا کہ بحر کس بلا کا نام ہے اور اس کی بھی درجنوں قسمیں ہیں۔ الفاظ کے مروجہ اوزان ہیں۔ اشعار کی تقطیع کرنا پڑتی ہے۔

ایک غزل کے تمام اشعار ہم وزن اور تقطیع پر پورے اترنا ضروری ہوتے ہیں۔قافیہ، ردیف، مطلع و مقطع وغیرہ۔اور تو اور شعر کو اعداد میں بدل کربھی دیکھا جاتا ہے۔بھلا شعر مین ریاضی کا کیا کام؟
خیر اب جو ہم نے اپنے دیوانِ خاص کو بحر و تقطیع کی سولی پر چڑھایا تو ،سوائے چار پانچ غزلوں کے، ساری کی ساری سولی پر ہی ٹنگی رہ گئیں۔ بیس سال بعد ہم نے فریدی صاحب اور عارف امروزی کے صبر و ہمت سلام پیش کر کے ’ دیوانِ خاص‘ اٹھا کر سٹور کے پرانے ڈبوں میں پھینک دیا۔


پھر خیال آیا کہ یہ ہم نے کیا کردیا؟
دیوانِ خاص اگر شعری اصطلاع پر پورا نہیں اترا تو کیا ہوا؟
 اس کے الفاظ کے اوزان میں بے ترتیبی ہے تو کیا ہوا؟
 اگر وہ قابلِ طباعت نہیں تو کیا ہوا؟
 اسکے ایک ایک لفظ سے ہماری تمام یادیں وابستہ ہیں، ایک ایک شعر، ایک ایک غزل سے منسوب ہزار وں جذبے ہیں۔ وہ جذبے جو انمول ہیں۔ہر لفظ کے ساتھ وہ گھنٹیاں منسوب ہیں جن کی بازگشت آج بھی ہماری نیندیں اڑا دیتی ہے۔

ہم پہروں جاگ کر اس بازگشت میں اپنا ماضی تلاش کرتے رہتے ہیں۔ وہ ماضی جو ہمارے جینے اور آگے بڑھنے کا جواز ہے۔
کیا یہ دیوانِ خاص کوئی عام چیز ہے؟ نہیں بالکل نہیں۔ اس کا ایک ایک لفظ انمول ہے۔ کم از کم ہمارے لیے تو یہ دنیا جہان کی قیمتی ترین چیز ہے۔
بھیگی آنکھوں کے ساتھ ہم نے ’دیوانِ خاص‘ کو بوسیدہ ڈبے سے نکال کر دل سے لگا لیا۔
آج ہمارے ناقابلِ اشاعت دیوان کی اکلوتی کاپی کمپیوٹر سے پرنٹ ہو کر سنہری سرورق میں ملبوس ہمارے چھوٹے سے کتاب خانے میں چمک رہی ہے۔

سب کتابوں سے نمائیاں ہے، کیوں نہ ہو؟ آخر اس میں وہ گھنٹیاں مقید ہیں۔جو بجتی ہیں تو ہمارے ماضی کی طرف کا دروازہ کھلتا ہے۔ اور جن کی آواز زمان و مکاں کے اُس پار لے جاتی ہے جہاں ماغی، حال مستقبل سب مل بیٹھتے ہیں۔
البتہ ہم نے اس کا نام تبدیل کر دیا ہے۔
 اب اس کا عنوان ہے۔۔دیوانِ خاص الخاص۔

Your Thoughts and Comments