Gada Or Gadagar

گدااور گداگر

ہفتہ جون

Gada Or Gadagar
 خالد محمود
پولیس نے شہر کے مختلف علاقوں سے کوئی دو سو”بھک منگے“پکڑ لیے اور صرف پکڑے ہی نہیں بلکہ پکڑ کر اپنے ،غریب خانے ،یعنی متعلقہ تھا نے بھی لے گئی۔یقینا ان کی ”خاطر تواضع“فرمانے کے لیے لے گئی ہوگی۔آپ تو جانتے ہی ہیں کہ ہماری پولیس کتنی ”غریب نواز “ہے۔
ہمارا خیال تھا کہ اس بہانے پولیس ان سے پیشہ ورانہ راز(Business Secrets) اگلوانے اور ان کے ذریعے سے اور اپنی آمدنی مزید بڑھانے کی کوشش کرے گی مگر ہمارے ایک ساتھی ،جو ہم سے ہم خیال نہ ہو سکے،کہنے لگے۔


”یہ تو پیشہ ورانہ رقابت کا شاخسانہ معلوم ہوتاہے۔“
ایک اور صاحب جو ہم دونوں میں سے کسی سے بھی متفق الخیال نہیں تھے،اپنے پلسیانہ خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہنے لگے:
”کیا آپ صاحبان کو علم نہیں کہ سر عام بھیک مانگنا بھی تعزیرات پاکستان کی رو سے قابل دست اندازی پولیس جرم ہے؟“
اب تو ہم دونوں ان سے بھڑ گئے۔

(جاری ہے)

ہم نے کہا:
”ہے۔۔۔

ہے۔۔۔علم ہے مگر کیا پولیس کو آج علم ہوا ہے ؟پہلے کیوں نہ پکڑا۔“
ابھی وہ جواب دے کر ہمیں لاجواب کرنے کی سوچ ہی رہے تھے کہ ہمارے دوسرے ساتھی بول پڑے:”محض سر عام مانگتے پھر نا کوئی جرم نہیں ۔یہاں تو بقول عوام خود ہمارے صدر صاحب کے ایک پولیس اہلکار سے لے کر ایک اعلیٰ ترین افسربہ کار خاص تک سب سر عام مانگتے پھر تے ہیں حتیٰ کہ ہماری حکومت بھی کشکول اٹھاتی ہے اور ملکوں ملکوں مانگنے نکل جاتی ہے۔


ان سے کوئی اور جواب تو بن نہ پڑا،کہنے لگے۔”اس زاویہ نظر سے دیکھیے تو بقول اقبال۔۔۔شاہ سلطاں سب گدا ہیں۔۔۔۔ہیں،مگر بندہ پرور!سب کو پکڑ کر تو اندر نہیں کیا جا سکتا نا؟“
ہمارے ساتھی انہیں ڈانٹتے ہوئے بولے:”تو کیا غصہ صرف ان فقیروں کی جھولی پر اتار اجا سکتا ہے جو محض ایک روپے کی بھیک مانگ رہے تھے؟“
”جناب بھیک نہیں مانگ رہے تھے۔


ہمارے اخبارکے ایک رپورٹر نے کمرے اور گرما گرم بحث میں داخل ہوتے ہوئے بہ آواز بلند انکشاف کیا ”پکڑے اس لیے گئے ہیں کہ بد بخت گلی گلی جا کر ووٹ مانگ رہے تھے!“
”ہائیں؟!!!“
سب کی صدائے حیرت ایک ساتھ بلند ہوئی۔ہم نے حیران ہو کر کہا”یہ کیسے ہو سکتا ہے ؟“
ہمارے رپورٹر نے کر سی پر بیٹھتے ہوئے کہا”میں ابھی آپ کو پوری کہانی سناتا ہوں۔


ہوایوں کہ ہمارا رپورٹر جو آج کل قابل اشاعت خبروں کی تلاش میں مارا مارا پھرتا رہتا ہے ،ان گداگروں کی گرفتاری کی خبر سن کر ان سے حوالات میں ملاقات کرنے پہنچا تو اس نے دیکھا کہ گرفتار شدگان اپنی اپنی جھولیاں اور اپنے اپنے کشکول پھیلائے ،سخی داتا،یعنی تھانے کے ان داتا ،تھانیدار صاحب سے اپنی رہائی کی خیرات مانگ رہے تھے۔تھانے دار صاحب تھے کہ حوالات کی ہوا میں لات گھما گھما کر ان مصروف صدافقیروں کو چپ کرا رہے تھے۔

بالآخر ان کے اجتماعی شوروغوغا سے تنگ آکر تھانے دار صاحب ذرا اِدھر اُدھر ہوئے تو ہمارے رپورٹر نے ان کے کشکولوں میں ایک ایک اٹھنی ٹھنکائی اوران کی طرف ملتجیا نہ نگاہوں سے دیکھنے لگا۔
ان میں سے ایک بھکاری جو نہایت مستند اور مسٹنڈا بھکاری نظر آتا تھا،اس نے اپنے لمبے لمبے بال جھٹک کر آنکھیں میچ کر اور آسمان کی طرف منہ اٹھا کر کہا”مانگ کیا مانگتا ہے؟“
ہمارے رپورٹر نے انہی کے سے انداز میں عرض مدعا کیا”ایک انٹرویو کا سوال ہے بابا!“
بابا نے بے نیازی کا مظاہرہ کرنے کے لیے’ہوحق‘کا ایک عدد نعرہ اس زور سے مارا کہ ان کے پہرے پر سوئے ہوئے سپاہیوں کا دل دہل گیا،وہ ہڑ بڑا کر اٹھ بیٹھے پھر (گالیاں)بڑ بڑا کر دوبارہ سوگئے۔

نعرہ مارنے کے بعد بابا نے خالی مٹھی مکے کے انداز میں ہمارے رپورٹر کی طرف جھٹکے سے بڑھائی اور کوئی فرضی چیز فضا میں پھینکتے ہوئے بولا”جا تیری مراد پوری ہوگی۔“
ہمارے نمائندے نے جھٹ اپنی جینز کی پتلون دائیں بائیں دونوں ہاتھوں سے ملائی اور آلتی پالتی مار کروہیں زمین پر بیٹھ گیا پھر پتلون کی پچھلی جیب سے کاپی اور کان پر اٹکی پنسل نکال کروہیں انٹرویو شروع کر دیا:
”بابا !یہ بتائیے کہ آپ کو آخر کیا سوجھی کہ نوٹ مانگنے کے بجائے ووٹ مانگنا شروع کر دیا۔


بابا نے کہا ”اللہ تجھے خوش رکھے سخیا!تو نے تو ہماری مرضی کا سوال پوچھ لیا۔ارے بابا!جب سے یہ ووٹ کے منگتے آپہنچے ہیں تب سے ہمارا دھنداہی مندا ہو گیا ہے ۔کئی دن سے بچے بھوکے ہیں بابا!دے جا اللہ کے نام پہ۔۔۔ہاں آگے پوچھو۔“
ہمارے رپورٹر نے پوچھا:”آپ کا دھندا کیسے مند اہو گیا ؟ان کا دھنداالگ ہے آپ کا دھندا الگ ؟“
بابا نے بتایا”جس گلی کو چے میں جاؤ۔

۔۔ہر دروازے پر ایک نہ ایک ووٹ منگتا کھڑا ملتا ہے۔۔۔کوئی در ہمارے لیے خالی نہیں ملتا۔جودرخالی ملتا ہے اس سے ہمیں ا س کے چیلے چانٹے بھگا دیتے ہیں کہ صاحب ووٹ مانگنے آئے ہیں تم بھاگو یہاں سے !“
ہمارے نمائندے نے پوچھا”مگر آپ نے کیوں ووٹ مانگنے شروع کر دیے؟ووٹ سے تو پیٹ نہیں بھر سکتا۔“
”جب ہمیں گلی گلی سے بھگایا جانے لگا تو ہم نے مجبوراً یہ کہنا شروع کر دیا کہ ہم بھی ووٹ مانگنے آئے ہیں ،اس سے ہمیں دو ہر افائدہ ہوا۔


”وہ کیسے ؟“
”جب کسی درسے ہمیں ٹکا سا جواب ملتا کہ ہم تمہیں تو ووٹ نہیں دے سکتے ،تم ہمارے کس (ناجائز)کام کے؟تو ہم کہتے ہیں کہ ہمیں ووٹ نہیں دینا تو نوٹ دے دے سختیا۔یوں لوگ باگ کچھ دے دلاکر ہم سے جان چھڑاتے۔“
ہمارے نمائندے نے کہا”یہ تو ایک فائدہ ہوا دوسرا فائدہ کیسے پہنچا؟“
”دوسرا فائدہ۔۔۔“بابا نے خوش ہو کر بتانا شروع کیا”یہ پہنچا کہ جس گلی میں کوئی امید وار ہماری یلغار ہوتے دیکھتا وہ اپنی کنویسنگ کا بیڑا غرق ہو جانے سے بچانے کے لیے خود ہی ہمیں کچھ دے دلا کر رخصت کر دیتا کہ لو یہ نوٹ لے لوبابا مگر خدا کے واسطے کم از کم تم توووٹ نہ مانگو!“
”پھر آپ لوگ پکڑے کس طرح گئے؟“
”بس جی!کیا بتاؤں ،ایک ووٹرنے ایک امیدوار کو ہم سے مک مکا کرتے دیکھ لیا۔


”پھر کیا ہوا ؟“
”ووٹرنے امید وار سے پوچھا کہ جب یہ بھی آپ کی طرح ووٹ مانگ رہے ہیں تو کیا آپ انہیں پیسے دے کر بٹھا یعنی دولت کے ذریعے سے حریفوں کو ہٹا رہے ہیں؟“
”پھر امید وار نے کیا جواب دیا؟“
”اس امید وار نے یہ کہہ دیا کہ یہ گدا گر ہیں ،میں ان کی امداد کررہا ہوں ۔بس یہ سن کر میرے تو تن بدن میں آگ لگ گئی!“
”پھر آپ نے کیا کیا؟“
”میں نے کہا کہ سخی داتا!ہم تو صرف گدا ہیں “گدا گر ،تو یہ خود ہیں جنہوں نے پوری قوم کو گداکرکے رکھ دیاہے۔

۔۔آجاتے ہیں منگتے الیکشن کے الیکشن ووٹ مانگنے کے لیے!پھر کھا جاتے ہیں فقیروں کی بھی کمائی۔۔۔بس صاحب یہ سننا تھا کہ امید وار کے کارکن ہاتھا پائی پر اترآئے۔“
”پھر کیا ہوا؟“
”پھر ہونا کیا تھا ؟پولیس آئی اور ہمیں پکڑ کر یہاں لے آئی جب کہ وہ وہیں مانگتے پھر رہے ہیں ،اب تک!“
اتنے میں تھانیدار صاحب دونوں ہاتھوں سے اپنی توند پر پتلون چڑھاتے اور درمیانی وقفہ میں ڈنڈا گھماتے وہاں آپہنچے ۔

۔۔ہمارے رپورٹر کو دیکھ کر اپنی لال لال انگارہ سی آنکھیں نکال کر بولے:
”اوئے۔۔۔اوئے۔۔۔جنٹلمین کی اولاد۔۔۔تو یہاں کیا کررہا ہے؟“
ہمارے رپورٹر نے ہکلاتے اور منمناتے ہوئے معصومیت سے جواب دیا”وہ جی ۔۔۔وہ جی۔۔۔میں تو ان سے ۔۔۔دوچار سوال کررہا تھا۔“
”اچھا؟!!“
تھانیدار صاحب نے ادھر ادھر نظر دوڑائی اور ایک سوتے ہوئے سپاہی کو خواب غفلت سے بیدار کرنے کے لیے ہانک لگائی”اوئے۔

۔۔چمگادڑ سے پتر!“
وہ ہڑ بڑاتا ،بڑ بڑاتا اور گھبراتا ہوا سلیوٹ مارنے کھڑا ہواتو اس سے کہا”پکڑاسے ۔۔اور لات مار کر اسے بھی اندر کر دیے۔۔یہ بھی سوالی ہے !“
مگر قبل اس کے کہ وہ پوری طرح جاگ پاتا،ہمارے رپورٹر نے کسی دبے ہوئے اسپرنگ کی طرح اچھل کر چھلانگ لگائی اور ایسا سرپٹ بھاگا کہ دفتر پہنچ کرہی دم لیا۔

Your Thoughts and Comments