Hawale Deena

حوالے دینا

جمعہ نومبر

Hawale Deena
 اعتبار ساجد
مغربی اور یورپی ادیبوں کے حوالے دینا ایک فیشن ہے ۔اس کے کئی فائد ے ہیں۔پہلا یہ ہے مخاطب پر آپ کی علمی قابلیت کی دھاک بیٹھ جاتی ہے۔دوسرے یہ کے صحیح ماخذ کی تلاش میں کوئی آدمی اصلی ادیب تک نہیں پہنچ پاتا۔اور سب سے بڑی بات یہ کہ بہت سے ایسے نام آپ بے تکلف لے سکتے ہیں جن کا ادب میں تو درکنارروئے زمین پر پایا جانا بھی ممکن نہیں۔

مثلاً ایک دوست ہیں ہمارے۔مطالعے کے بہت شوقین۔جب دیکھئے کتابیں بغل میں ۔پائپ منہ میں اور عینک ناک پر۔چلے آرہے ہیں سوچ میں ڈوبے ہوئے۔علم وادب میں کھوئے ہوئے۔آتے ہی ایک کرسی پر ڈھیر ہو جائیں گے پہلے چند گہرے گہرے سانس لے کر اوسان بحال کریں گے۔پھر پائپ کی راکھ خریدتے ہوئے پوچھیں گے۔”بھئی وہ میاں ۔تم نے اولیو گالڈر ہلیڈ کو پڑھا ہے؟“
ظاہر ہے یہ نام کبھی سننے میں نہیں آیا۔

(جاری ہے)

ہم معذرت خواہانہ انداز میں سر ہلا کر اپنی لاعلمی کا اظہار کر دیتے ہیں۔
وہ دھیرے سے مسکراتے ہیں۔پائپ سلگا کر کہتے ہیں ۔”خیراب کہیں سے بلیڈ کی کتابیں ڈھونڈ کر پڑھ لینا۔ البتہ سردست سیموئیل ڈی فنجان کی کتابیں دیکھ لو۔“
اس نئے نام پر ہم چوک کر مشکوک انداز میں ان کی طرف دیکھتے ہیں تو ہماری آنکھوں میں چھپا ہوا مفہوم یا سوال کچھ کچھ بھانپ جاتے ہیں لہٰذا ایک دم وضاحت کر دیتے ہیں۔

”بھئی یہ سپنشین رائیٹر ہوگذرا ہے کوئی دو سو سال پہلے۔بہر حال اس کی کتابیں آسانی سے ملتی نہیں۔میں ڈھونڈوں گا انشاء اللہ۔مل گئی تو لادوں گا۔مگر صاحب جوزف ڈیلی بریٹ کی کیا بات ہے․․․․“
ایک اچھی بھلی سنجیدہ ادبی محفل میں کسی صاحب کے افسانے پر بحث ہورہی تھی۔ موافقین اور مخالفین مختلف حوالے دے رہے تھے۔اتنے میں ہمارے یہ پائپ والے دانشور دوست کہنے لگے۔

”جہاں تک ان افسانہ نگار صاحب کا تعلق ہے تو ان کا انداز نگارش فرانس کے مشہور مزاح نگار فانسے ڈی انفلونزا سے ملتا جلتاہے۔“
اس پر سب کے کان کھڑے ہو گئے۔مگر بولا کوئی نہیں کہ کم علمی کا بھرم نہ کھل جائے ہمارے اس دانشور نے محفل کا رنگ دیکھ کر فوراً پینترا بدلا۔اپنی کرسی آگے لے آئے کہنے لگے۔”میں دیکھ رہاہوں کہ آپ میں سے بہت سے لوگ یہ نام سن کر حیران اور مشکوک ہورہے ہیں۔

لیکن پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔کیونکہ میں نے بھی اس کی صرف چار ہی کتابیں پڑھی ہیں۔بہر حال اسی رنگ میں لکھنے والا ہم سب کا جانا پہچانا رائیٹر ڈی ایچ لارنس ہے۔مگر لارنس سے بھی آگے کی ایک اور چیز ہے۔پی کیو فلورنس․․․․اس کے علاوہ ڈیگلوگونگو افریقی رائیٹر اور وکٹرواش مین یورپی رائیٹر۔“
سننے والے عموماً اجنبی نام سن کر بھی چپ سادھ لیتے ہیں ۔

اس کی ایک وجہ تو یہ ہوتی ہے کہ اس نام کو وہ جانتے نہیں۔ دوسری وجہ یہ کہ وہ کسی طولانی بحث میں پڑنا نہیں چاہتے کیونکہ دھڑکا لگا رہتاہے کہ بات طول کھینچنے گی تو بہت سے حوالے مزید ٹپک پڑیں گے۔
دراصل گفتگو میں اب عقل اور استدلال سے جنگ نہیں ہوتی۔حوالوں سے حوالوں کا مقابلہ ہوتاہے۔مصنف سے مصنف کا ٹکراؤ ہوتاہے۔آپ افریقہ سے ڈیگلو گونگو دریافت کرتے ہیں میں برازیل سے وکٹر باسکٹ بال ڈھونڈ نکالتاہوں۔

نہ آپ کا گونگو کسی کی سمجھ میں آتاہے۔نہ میرا باسکٹ بال کسی کے پلے پڑتاہے۔البتہ سننے والے آخر میں ہم دونوں کی علمی وادبی قابلیت سے متاثر ضرور ہو جاتے ہیں۔
لیکن اجنبی ناموں میں بعض اوقات بڑی قباحتیں پیدا ہو جاتی ہیں۔مثلاً کسی محفل میں ایک صاحب زور وشور سے پیٹر لیبل فاسٹ کا حوالہ دے رہے تھے کسی نے جرات کرکے انہیں ٹوک دیا کہ یہ نام کبھی سننے میں نہیں آیا۔

براہ کرم موصوف کا پورا محل وقوع سمجھائیے۔ان صاحب نے اپنی چرب زبانی سے پیٹر لیبل فاسٹ کو ایک ویہی یورپی علاقے کا معروف شاعر ثابت کرنا شروع کر دیا۔اس پر ٹوکنے والے صاحب نے انہیں چیلنج کر دیا۔”اگر آپ ان پیٹر صاحب کی کتاب لے آئیں تو میں آج سے شاعر کہلوانا ترک کر دوں گا۔“
ان صاحب نے رٹا رٹا یا جواب دیا۔”پیٹر کی شاعری آج سے چودہ برس پہلے میں نے پڑھی تھی اور حافظے میں اب تک محفوظ ہے۔

کتاب خدا جانے اب کہاں پڑی ہو گی بہر حال میں نیپکن ہارورڈ کا شعری مجموعہ آپ کو ضرور دے دوں گاجن کا انداز کلام بہت کچھ پیٹر صاحب سے ملتا جلتاہے۔“بعض لوگ یورپی فلمی ستاروں اور ادیبوں کے نام گڈمڈ کر دیتے ہیں۔مثلاً کل ہی ایک صاحب اداکاروں کی تعریف کرتے ہوئے کہہ رہے تھے۔”صاحب شرے مکلین ،جین فونڈا اور تھامس ہارڈی کے علاوہ سب سے زیادہ مجھے انگیتھا کرسٹی کی اداکاری پسند ہے۔


اداکاری سے چلتی ہوئی بات ادیبوں تک آئی تو انہوں نے حسب موقع ایک ہی سانس میں کئی ادیبوں اور فنکاروں کے نام گڈمڈ کر دئیے اور آخر میں یہ کہتے ہوئے اٹھ کھڑے ہوئے۔”آپ کبھی جیمز بانڈ کی فلم دی مین ودھ دی گولڈن گن دیکھئے گا جس کا ہیرو آئین فلیمنگ ہے۔“
ہم نے کہا۔”مگر ․․․․․آئین،فلیمنگ تو ایکٹر نہیں رائٹر ہے۔․․․․․“
جھنجھلا کر بولے۔”گولی مارئیے صاحب۔نام میں کیا رکھا ہے۔“

Your Thoughts and Comments