Hijamat Se Siasat Tak

”حجامت سے سیاست تک“

حافظ مظفر محسن بدھ جولائی

Hijamat Se Siasat Tak
اس کے ہاتھ میں پکڑا تیز دھار والا”ہتھیار “میری گردن کے بالکل قریب تھا․․․․․․اور پھر اس کی آنکھوں میں یہ خوانخواری ”توبہ“میرے خدا میرادل بڑی تیزی سے دھڑکنے لگا۔مجھے ڈاکٹر گلزار یاد آگیا جو کہتا ہے کہ پچاس فیصد لوگوں میں پاگل پن کے جراثیم موجود ہوتے ہیں اور اس پچاس فیصد میں سے پانچ فیصد ایسے بھی ہوتے ہیں جن پر کبھی کبھی پوری طرح سے پاگل پن کا اچانک دورہ پڑتا ہے اور اس اچانک دورے کے وقت و ہ اپنا یا اپنے پاس بیٹھے کسی شخص کا نقصان بھی کر سکتا ہے اور پھر سب سے بڑھ کر یہ کہ وہ نقصان کسی کی موت کی صورت میں بھی ہو سکتاہے۔


میری آنکھوں کے سامنے اندھیرا ساچھانے لگا․․․․․․شابو چچا آپ کی طبیعت تو ٹھیک ہے ․․․․․ہاں․․․․ ہاں ہاں بیٹا میں بالکل ٹھیک ہوں․․․․․وہ بولا تو پھر شیو نہیں کر رہے؟․․․․․کرنے لگا ہوں․․․․․شابو چچا نے استرا میرے کان کے نزدیک نیچے کی طرف گال پر پھیرتے ہوئے جواب دیا۔

(جاری ہے)

یوں میری جان میں جان آئی․․․․․مگر دل پر گھبراہٹ ابھی طاری تھی․․․․․دوسری طرف شابو کے چہرے پر ابھی تناؤ موجود تھا۔


چچا شہاب دین․․․․․آج ویسے کوئی بات ہے ․․․․․نہیں نہیں”باؤ“کوئی بات وات نہیں․․․․وہ بولا تو پھر آج تم خاموش کیوں ہو؟․․․․․”نئے وزیراعظم “آجانے سے تو تمہاری کہیں دل شکنی نہیں ہوئی؟․․․․․․․میں نے پوچھا اور ہاں چچا آج نہ تو تم سیاست پر بات کررہے ہو نہ امریکہ کی نئی سیاسی پالیسیوں پر روشنی ڈال رہے ہو․․․․․ حالانکہ تمہارے یہ سیاسی نوعیت کے تجزےئے بہت سے نامور تجزیہ نگاروں سے کافی بہتر ہوتے ہیں ․․․․․وہ میری اس بات پر مسکرایا․․․․․”چچا تم کہیں بھارتی جاسوس تو نہیں ہو“․․․․․․اس بات پر تو وہ زور زور سے قہقہے لگانے لگا․․․․․بابو یہ بات تم نے خوب کہی․․․․․”جاسوس والی“ہاں ہاں چچا شابو سنا ہے اندرون بھاٹی گیٹ 30سال سے ایک حجام کام کرتا تھا اور وہ بھارتی فوج کا اعلیٰ افسر تھا․․․․مگر یہاں وہ جاسوسی کیلئے حجام کے روپ میں آیا ہوا تھا میری یہ تدبیر کار گرثابت ہوئی اور چچا بول اٹھا”بیٹا اصل میں․․․․․․میں بڑھتی ہوئی تنخواہوں اور آسمان سے باتیں کرتی ہوئی مہنگائی کے بارے میں سوچ رہا تھا․․․․․تم جیسے سرکاری ملازم ہڑ تالیں کرکے تنخواہ بڑھالیتے ہیں․․․․․ڈاکٹر ز تو سُنا ہے گلی محلے میں ہڑتال کرکے ہسپتالوں میں مریضوں کو رسوا کرکے ہرمطالبہ منوالیتے ہیں ․․․․دکاندار منہ مانگے دام لے لیتے ہیں ․․․․․․ہم کہاں جائیں․․․․․․وہ بہت زیادہ پریشان تھا․․․․․․”چچا تم بھی دام بڑھادو‘․․․․․․․میں نے مشورہ دیا․․․․․․”مگر کیسے؟․․․․․․وہ جھنجھلا کر بولا۔


چچا میں تو آج سے شیو کرانے کے تمہیں بیس روپے دیدیا کروں گا․․․․وہ تھوڑا سا خوش ہوا ․․․․مگر پھر بولا تم تو پچاس بھی دے سکتے ہو ․․․․․کیونکہ تمہیں خودشیوکرنی نہیں آتی ․․․․مجھے یاد ہے چھ سات سال پہلے جب تم نے گھر خود شیو کرنے کی کوشش کی تو منہ کو خونوں خون کر لیا تھا تو پھر چچا تم دام بڑھانے کے لیے ہڑتال کردو․․․․․ارے واہ بیوقوفوں کے سردار ہم کونسا یہاں سونا بناتے ہیں ؟․․․․․یا بیوٹیشن ہیں جو ٹیڑی ناک یا آنکھ سیدھی کرنے کا فن جانتے ہیں یا سادہ سے باؤ پھٹیچر منڈے کو ہیروبنا ڈالتے ہیں․․․․․․شاہ نورسٹوڈیو کے باہر رسواہونے کیلئے․․․․․جو حکومت یا عوام ہماری ہڑتال کا نوٹس لیں گے؟․․․․․․میری ہڑتال سے مراد ہے کہ تم بھی دوسرے لوگوں کی طرح منہ مانگے دام وصول کرو․․․․․میں نے وضاحت کی اور اگر لوگوں نے گھر پر شیو خود ہی کرنا شروع کردی تو پھر ہمارا کیا ہو گا․․․․․اُس نے گھبراہٹ بھرے لہجے میں پوچھا․․․․․تو چچا تو گھٹیا بلیڈ اور فضول ساصابن(سستے والا)لگانا شروع کردومیں نے مفت مشورہ دیا(ایک ”محب وطن“پاکستانی کی طرح)اور لوگوں کی گالیں چیردوں تاکہ وہ میرے خلاف اقدام قتل کا پرچہ کٹواسکیں․․․․․․اور پولیس پیچھے پیچھے شابو․․․․․آگے آگے․․․․․واہ تیری عقلمندیاں․․․․․․وہ چیختے ہوئے بولا۔


میں نے دیکھا چچا شہاب دین سینہ تان کر کھڑا ہو گیا اس کی آنکھوں میں چمک آ گئی اور چہرہ سرخ ہو گیا․․․․․․ہاں ہاں اب نہ تو شیو کے پیسے بڑھانے کی ضرورت ہے ․․․․․نہ ہڑتال کی اور نہ ہی گھبرانے کی ضرورت ہے․․․․․․ہڑتالیں اب صرف بے چا رے ڈاکٹرز ہی کریں گے․․․․میں اب الیکشن لڑوں گا اسمبلیوں کے الیکشن بھی قریب ہیں ۔اس بار میں ضرور کاغذات جمع کراؤگا تم ووٹ دوگے ناں․․․․․وہ پوچھنے لگا ہاں ہاں میں کیاپورا محلہ تمہیں ووٹ دے گا․․․․چچا شہاب دین میں نے اسے مطمئن کر دیا اور وہ پرانا بدبو دار تولیہ پکڑ کر میرامنہ صاف کرنے لگا۔

جو شاید ایک ڈیڑھ سال سے اس نے کبھی نہیں دھویا تھا۔اس میں سے کسی مردہ جانور کی سی بُو محسوس ہورہی تھی۔
مجھے یوں لگا جیسے ہمارے سیاست دانوں میں ایک اہم سیاستدان کا اضافہ ہو گیا ہو اور چچا شہا بو،چوہدری شہاب دین لوہاری گیٹ والا بن کے ایوان میں کھڑا خطاب کر رہا ہو۔ایوان میں چلتی جوتیوں ،گالیوں اور گھونسوں کی پرواہ کئے بغیر۔
اس طرح تو ہوتا ہے اس طرح کے کاموں میں
ہاتھ مارتے ہو کیوں دوسروں کے ”چھابوں “میں

Your Thoughts and Comments