Hum Aik Motor Khareede Ge

ہم ایک موٹر خریدیں گے

بدھ جون

Hum Aik Motor Khareede Ge
 احمد ندیم قاسمی
کہتے ہیں موٹر سازی کے کارخانوں میں روز بروز اضافہ ہورہا ہے ۔ہورہا ہو گا۔ہماری قسمت تو وہی کھڑ کھڑاتے ہوئے پہیوں والی بے ڈھنگی سی ٹمٹم ہی لکھی ہے جس پر سوار ہو کر انسان کی قوت خودی اور غرور نفس کو کچھ اس طرح ٹھیس پہنچی ہے کہ جی میں آتا ہے ابھی جا کر موٹر میں سوار ہو جائیں اور ٹریفک کے اصولوں سے بے پرواہوکر شکر موں سے ٹکراتے،یکوں کو ٹھکراتے،سائیکلوں کو کچلتے ،مکانوں کو ڈھاتے ،پیدل چلنے والوں کو پیستے ہوئے کہیں نکل جائیں۔

۔۔۔بہت دور جہاں ٹمٹموں کا نشان تک نہ ملے۔
جہاں موٹر ہی موٹر ہوں ،سریلے ہارنوں والے شیشے کے بنے موٹر، ٹمٹم پر بیٹھتے ہی اکثر اس قسم کے خیالات ہمارے دل میں آئے اور کئی دفعہ ہم نے اس پر خرد جال پر بیٹھے ہوئے اپنے آپ کو موٹروں پر تھرکتے ہوئے محسوس کیا لیکن پہیے کی اچانک چیخ یا ٹٹو کے اچانک بیٹھ جانے سے اکثر ہمارے یہ خواب مادی دنیا کے شور شغب میں کھو جاتے ہیں!اور ہم کو چبان پر دانت پیسنے کے سوا اور کچھ نہیں کر سکتے۔

(جاری ہے)


لیکن ارادہ ہے کہ ہم ایک موٹر خریدیں گے۔ایسا موٹر جس میں ڈرائیور سیٹ عام سطح سے ڈیڑھ گز اونچی ہوگی۔تاکہ دنیا کو معلوم ہو سکے کہ مشین کے ناخدا کہاں تشریف فرما ہیں ورنہ یوں تو ہرایراغیر امال روڈ پراڑتا پھرتا ہے۔
موٹر خرید کر پہلے ہم اپنی اہلیہ محترمہ کو مبارک باددیں گے ۔ان کے لئے موٹر کی پچھلی سیٹ ریزروکردی جائے گی۔شاید اس طرح ان کی پیشانی کی شکنیں کم ہو جائیں اور ہمیں کھانا وقت پر مل جایا کرے گا۔

مابعد شہر میں ڈھنڈ وراپٹوایا جائے گا کہ آج جناب۔۔۔۔صاحب نے موٹر خرید لیا ہے ہر شخص کو چاہیے کہ وہ منٹ دومنٹ کے بعد اپنے اردگرد دیکھتا جائے ورنہ اگر کوئی حادثہ ہو گیا تو صاحب موصوف اس کے ذمہ دار نہ ہوں گے کیونکہ مالک موٹر کو حق حاصل ہے کہ وہ کائنات کے جس حصے میں چاہے موٹر چلائے۔
اس کے بعد پٹرول میں عرق گلاب اور روح کیوڑہ ملا کر انجن میں ڈالاجائے گا۔

موٹر کی پچھلی سیٹ پر بیگم کو ریشم کی رسی سے باندھ کر بیٹھا دیا جائے گا ۔کیونکہ رفتار کی تیزی یا کسی حادثہ سے ان کے باہر جاپڑنے کا خطرہ ہو گا۔ہم خود چکر تھام کر پیچ گھمادیں گے اور موٹر کا پنجر چیختا ہوا آگے بڑھے گا۔آخر کاریہ خاموش خاموش شرمیلے شرمیلے انجنوں والے موٹر کس کام کے ہیں ۔چپکے سے کھسک جاتے ہیں اور کسی کوکانوں کان خبر بھی نہیں ہوتی کہ کوئی صاحب ادھر سے موٹر سائیکل پر سوار نکل گئے۔

ہمارا موٹر چیختا چلاتا،دھاڑتا ہوا چلے گا سڑک پر یقینا تماشائیوں اہل ذوق حضرات کے ٹھٹ کے ٹھٹ لگ جائیں گے۔ہم ہر ایک سے سوال کریں گے ۔مسکرامسکرا کر جھک جھک کر ،ہارن ،بجابجا کر اور پھر کسی پینٹر کی دکان پر جا کر رُک جائیں گے اور وہاں سے اس مضمون کے دو تختے ،بنوا کر موٹر کے آگے پیچھے لٹکادیں گے۔
”جو صاحب موٹر میں سوار ہونا چاہیں وہ ہاتھ کھڑا کریں۔


اس طرح سیاسی دنیا کی عظیم الشان تحریک سوشلز کاپر چار بھی ہوتا رہے گا اور آنے والی نسلیں بھی ہمیں عزت واحترام کی نظروں سے دیکھا کریں گی۔
جہاں تک ”کیپ لیفٹ “(بائیں جانب رہو)لکھاہو گا ،وہاں ہم موٹر کو دائیں طرف لے جائیں گے ۔”موٹر زوے“لکھا ہو گا۔وہاں ”ویٹ دے“لے جائیں گے ۔جہاں ”نوپارکنگ ہیر کا تختہ لٹک رہا ہو گا۔وہیں موٹر کھڑا کریں گے۔

“”آخر دو آنے کی لکڑی کے ایک معمولی سے تختے کے دو الفاظ سے ڈر کر ہمارا چار ہزار روپے والا موٹر کیسے رک سکے گا؟جہاں پانچ میل رفتار کا حکم ہو گا وہاں پچاس میل پر چھوڑ دیں گے۔جہاں آہستہ چلاؤ کا حکم ہو گا وہاں ساٹھ ،ستر ،اسی میل فی گھنٹہ کی رفتار سے چلائیں گے اول تو انشاء اللہ ہم اسے الٹنے ہی نہ دیں گے اور اگر الٹ بھی گیا تو پھر سیدھا ہو سکتا ہے ۔


یہ بات آج تک ہماری سمجھ میں نہیں آئی کہ موٹر گیراج میں کیوں رکھے جاتے ہیں کیا ان کے مالکوں کو ان کی یاد نہیں ستاتی ہم تو موٹر کو اپنے پاس سے ایک پل کے لئے بھی جدا کرنا گوارہ نہ کرسکیں گے ۔کھاٹ کو اس کے انجن سے باندھ کر سور ہیں گے ورنہ اس کے اندر ہی پڑارہنے میں کیا حرج ہے۔
جولوگ آج کل ہمیں ایک نظر دیکھنا بھی گوارہ نہیں کر سکتے۔ہماری راہ میں آنکھیں بچھائیں گے،ہمارے موٹرکو شہر کے دیگر موٹروں میں ایک امیتاز خصوصی حاصل ہو گا اور اس طرح ہم جدھر جائیں گے ہمارے لئے راستہ صاف ہو گے۔

ٹریفک کے اصول ہماری مرضی کے تابع ہوں گے ۔قوت دینا کی سب سے بڑی حکمران ہے ۔کیا آپ نے وہ واقعہ نہیں سنا۔ایک دفعہ ایک مسافر ایک جنگل سے گزر رہا تھا کہ سامنے سے ایک شیر آتا ہوا دکھائی دیا۔آتے ہی کم بخت نے مسافر کی گردن دبو چ لی اور کہے گا”بتا شیر انڈے دیتا ہے یا بچے دیتا ہے ؟“مسافر جانتا تھا کہ ھز میجسٹی کنگ آف جنگل اپنی قوت کے بل بوتے پر اس کی معلومات کا امتحان لینے پر تلے ہوئے ہیں ۔

اس نے سوچا کہ اگر میرے منہ سے کوئی ایسا کلمہ نکل گیا جس سے بادشاہ سلامت کو ٹھیس پہنچی تو دم بھر میں انجر پنجر بکھر کررہ جائے گا ۔اس نے ہاتھ جوڑ کر عرض کی ”حضور شیر مرضی کا مالک ہے ،کبھی انڈے دے دیتا ہے اور کبھی بچے دے دیتا ہے ۔“اس طرح اس کا چھٹکارا ہوا۔”موٹر خریدلیں تو ہماری مثال اسی شیر کی سی ہوگی۔“
موٹروں کا طوفان مہذب دنیا کی طرف سے ہم غیر مہذب کا لے لوگوں کی طرف امڈا چلا آرہا ہے ۔

کہتے ہیں قیامت کے دن اور حشر کے سامنے ہر شخص اپنے اپنے موٹر میں سوار ہو کر حاضر ہو گا۔اس پروردگار دوجہان کو لا تعداد گیراج بنوانے پڑیں گے ،جس نے کن سے دو عالم کی تخلیق فرمادی ہے ،اس کے آگے دس بارہ کر وڑسنگھ گیرج بنانے میں کیا دیر لگے گی۔بیچارے فرشتوں پر جو آفت آئے گی اس کا تصور کرتے ہی دماغ میں موٹر چلنے لگتے ہیں۔
آہ ۔۔۔موٹر۔۔۔موٹر! اکثر چاندنی راتوں میں جب فضائے خموش میں ہر طرف قدرت کی دلفریب نیر نگیاں بے نقاب ہو کر رقص کرتی ہیں،جب کائنات سکوت کے پردوں میں چھپ کر مستقبل کے خواب دیکھا کرتی ہے ۔

جب چوراہوں سے ٹریفک کے سنتری چلے جاتے ہیں ،جب مال روڈ پراکے دکے موٹر لہراتے ہوئے سامنے سنہر ے مدہم غباروں میں گم ہو جاتے ہیں۔جب کسی تنگ گلی میں بے روزگار گریجویٹ میونسپل کمیٹی کے لیمپ کی روشنی میں بیٹھ کر کسی بیمہ کمپنی کی ایجنٹی کے لئے درخواستیں لکھا کر تے ہیں ۔
جب قدرت کے افکار وحوادث اور ”مطالبات “کے لشکر یعنی کا لجوں کے برخود غلط نوجوان خواب میں کریموں اور پوڈروں کے سمندر میں غوطہ زن ہوتے ہیں ۔

اس وقت اکثر ہم خیال ہی خیال میں موٹر میں سوار ہو جاتے ہیں ۔ہمارا موٹر زمین کو چھوئے بغیر تھر کتا ہوا محسوس ہوتا ہے ہم چلے جاتے ہیں اور دھند لے اُفق کے پار۔۔۔لاانتہاوسعتوں میں ۔۔۔اور پھر بوقلموں فضاؤں کو چیرتے۔۔۔تاروں کو چومتے ۔۔۔کہکشاں کی پکی سڑک پر تیرنے لگتے ہیں ۔نورانی سنتری ہمیں آگے سے ہٹ ہٹ کر راستہ دیتے جاتے ہیں ۔
کائنات سنہر اغبار بن کر ہمارے موٹرکے پہیوں سے لپٹی ہوئی دکھائی دیتی ہے ۔

ہم اُڑتے جاتے ہیں ”اُڑتے جاتے ہیں ،اور آخر چاندکے مرمریں قرص سے ٹکرا جاتے ہیں ۔۔۔! اور جب ہماری آنکھ کھلتی ہے تو بیگم ہمیں فرش پر سے اٹھا کر کھاٹ پر ڈالنے کی کوشش میں مصروف ہوتی ہیں ۔ہم پوچھتے ہیں ”ہمارے موٹر کو نقصان تو نہیں پہنچا؟اور جواب ملتا ہے کہ آج آٹا ختم ہو گیا ہے میری بالیاں گروی رکھ کر کچھ پیسے لے آؤ نکھٹو۔“آہ قدر ناشناس دنیا تیرے پاس ہمارے لئے ایک موٹر بھی نہیں ہے ؟تیرے ٹمٹموں کو آگ لگے۔

تیرے یکے جل جائیں،تیرے سائیکلیں پنچر ہو جائیں ،تیری ریلیں پچک جائیں ،تیرے ہوائی جہاز زمین سے چمٹ جائیں تیرے پاس ہمارے لئے ایک موٹر نہیں ہے ۔۔۔ایک موٹر کا نمونہ ۔۔۔یا ایک موٹر کا پنچر ۔۔۔جو صرف رینگ سکتا ہو ۔۔۔جو صرف کھڑا رہ سکتا ہو ۔۔۔ایک موٹر ۔۔۔بس ایک موٹر۔۔۔
لیکن پھر بھی ارادہ ہے کہ ہم ایک موٹر خریدیں گے اور جس طرح پہلے بیان کر دیا گیا ہے کہ ہم اسے اسی نوے میل فی گھنٹہ کی رفتار سے چلایا کریں گے ۔

اگر وہ کبھی الٹ کرٹوٹ گیا تو ہمارے احباب کا یہ فرض ہو گا کہ اس کے پرزے لندن کے عجائب گھر میں لے جائیں ۔جن کے پاس سنگ مرمر کے ایک تختہ پر موٹر کی شکل بنا کر نیچے یہ حروف کنند ہ کرائیں۔
”ایک ایسے گریجویٹ کے موٹر کے پرزے جس نے اپنے موٹر کے غرور کی حفاظت کے لئے ٹریفک کے اصولوں کی مخالفت کی اور آخر اسی راہ میں شہید ہو کر حیات جاودانی پا گیا،خدا کرے اسے آئندہ زندگی میں ایک موٹر نصیب ہو ۔“

Your Thoughts and Comments