Hum Tu Dobe Hain Mian

ہم تو ڈوبے ہیں میاں

حافظ مظفر محسن بدھ جولائی

Hum Tu Dobe Hain Mian
انسان اپنی حرکتوں سے پہچانا جاتا ہے،کچھ لوگ اپنی گاڑی کے رنگ سے پہچانے جاتے ہیں۔اسلم صاحب نے موٹر سائیکل خریدی تو دفتر میں دوستوں نے شرطیں لگالیں کہ یہ رنگ موٹر سائیکل کا خاص فرمائش کرکے لیا گیا ہے،جیسے بڑی گاڑیاں بہت زیادہ مالیت کی گاڑیاں گاہک کے حکم پر تیار کی جاتی ہیں۔رنگ ۔۔۔رنگ کیسا ؟اسٹیئرنگ کیسا؟کہاں کہاں سونا چاندی یا ہیروں کا استعمال ہو گا۔

ایسے ہی اسلم کی موٹر سائیکل۔۔۔واہ واہ۔۔ایک دن مجھے کہنے لگے،میں نے سردی میں منہ پر مفلر لپیٹا ہوتا ہے ،اس پر ہلمٹ بھی۔۔۔آپ ہیں کہ دور سے جان لیتے ہیں۔
میاں اپنی موٹر سائیکل پر غور کرو،کسی سے پوچھ لو بلکہ میں شرطیہ کہتا ہوں کہ پورے بر صغیر میں اس رنگ کی موٹر سائیکل کسی کے پاس نہ ہوگی۔

(جاری ہے)

کچھ لوگ اپنی ڈبل عینک ،ڈبل شیڈبالوں(کہیں سفید کہیں براؤن کہیں سے کالے )ڈبل چن(ٹھوڑی )اور ڈبل پیٹ سے پہچانے جاتے ہیں جیسے ڈبل ڈیکربس دور ہی سے نظر آجاتی تھی۔

۔پہلے یہ بس۔۔۔بہت پہلے لاہور کے ریلوے اسٹیشن سے پاگل خانے جاتی تھی،لوگ پوچھنے پر بتاتے۔۔۔ذرا پاگل خانے تک جارہا ہوں۔۔اب کچھ دوستوں سے شام کو پوچھو کدھر کا ارادہ ہے تو ہنس کے کہہ دیتے ہیں،ذرا پاگل خانے۔۔یعنی گھر تک جارہا ہوں۔
کچھ عورتوں سے پوچھو۔۔۔بھابھی کہاں ہیں بھائی صاحب۔۔۔”وہ پاگل“۔۔۔باہر نکلا ہے۔۔
”موبائل ہو گا اس کے پاس؟ادھر ہی کہیں چھوڑگیا ہو گا۔

۔موبائل تو عقل مندوں کے لئے ایجاد ہوئے ہیں؟اور اگر ایسے مردوں سے اُس کی بیویوں کے بارے میں پوچھ لو۔۔۔تو ہنس دیں گے پھر سنجیدہ ہو جائیں گے۔۔”یارپچاس سال سے اس کے گلے شکوے سن سن کر تنگ آ گیا ہوں چڑ یا گھر تک گیا تھا کم از کم وہاں”گھر “سے تو زیادہ سکون ہوتا ہے؟!اور کچھ جانوروں سے دوستی بھی ہو گئی ہے ،پانچ روپے کی ٹکٹ میں دوہرا مزا ۔

بھائی کے اصرار پر میں بھائی اور بھابھی کے ساتھ بھیاء کا معائنہ کروانے گیا۔اپنے ڈاکٹر افتخار صاحب کے پاس ایک کالج کے پرنسپل بھی رہے ہیں۔۔
مزاح کو سمجھتے ہیں،مریض کی تسلی وتشفی کے لئے مذاق بھی کرتے ہیں اور ماحول خاصا خوشگوار رہتا ہے۔
دوسرے ڈاکٹروں کی طرح دوتین ہزار کے ٹیسٹ کروالیتے ہیں۔ایسی دوائیاں بھی لکھ دیتے ہیں جو ان کے اپنے سٹور کے علاوہ کہیں سے بھی نہیں مل سکتیں۔

ہاں ہاں محسن خیر ہے تم دونوں بھائیوں نے پیٹ بڑھانے کا مقابلہ کیوں شروع کردیا ہے۔جناح باغ میں داخلے کی ٹکٹ تو نہیں۔۔۔کچھ علاج کرو اپنا۔۔وغیرہ ۔۔۔بھائی صاحب نے بازو آگے کی۔۔ڈاکٹر صاحب نے گھور کر عینک کے بیچ میں سے دیکھا۔۔۔اوہ میاں ہوش کرو،بے بہا بلڈ پریشر ہائی ہونا اچھی علامت نہیں۔کیا وجہ ہے اس قدر ہائی بلڈ پریشر کی۔۔۔؟”یہ“بھائی جان نے بھابھی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا۔

۔ہم سب ہنس دیے۔بھابھی صاحبہ سنجیدہ ہی رہیں۔۔۔ڈاکٹر صاحب ہم چودہ پندرہ سال سے کینیڈا میں مستقل رہائش پذیر ہیں۔۔جب بھی پاکستان آتے ہیں یہاں لنڈے سے کپڑے خرید کرلے جاتے ہیں اور پہننے پر مجبور کرتے ہیں۔۔میں احتجاج کرتی ہوں تو کہتے ہیں،محنت سے کمائے ڈالروں کو اپنے ہاتھوں آگ نے لگاؤ۔۔پھر دانت میں درد ہوتو علاج نہیں کرواتے۔۔کہتے ہیں کہ کینیڈااور امریکہ میں دانتوں کا علاج باقی بیماریوں کے مقابلے میں بہت زیادہ ہے۔

۔اپنی دائیں گال دوماہ تک سوجن کا شکار رہی۔
علاج نہیں کروایا،ہائے ہائے کرتے رہے۔پاکستان جاؤں گا تو علاج ہو گا۔۔یہاں پاکستان آئے ہیں کسی بہن بھائی سے نہیں ملے۔سیدھا ریلوے سٹیشن کے باہر بیٹھے دانتوں کے معالج کے پاس لے گئے۔اس بچارے نے پندرہ بیس روپے لیے۔۔فخر سے بولے،دیکھا ہزاروں ڈالر بچ گئے۔اس لیے میں پاکستان اور ان کے دندان سازوں سے بے حد محبت کرتاہوں۔

۔ڈاکٹر صاحب نے پوری تفصیل سنی،انھوں نے کہا۔۔بی بی تم بھی اپنا بلڈ پریشر چیک کراؤ۔۔بھائی صاحب نے بھابھی کو گھورا۔۔مگر اُنہوں نے جھٹ بازو آگے کردیا۔۔۔”ٹھس“”ٹھس “”ٹھس“ڈاکٹر صاحب نے آلہ لگایا ۔۔”اُف“یہ تو نا قابل برداشت حد تک زیادہ ہے بلڈ پریشر۔ڈاکٹر صاحب نے مجھے گھورتے ہوئے بھابھی سے کہا۔”بی بی اس قدر ہائی بلڈ پریشر کی کیا وجہ ہے۔

”یہ صاحب“بھا بھی صاحبہ نے بھیا کی طرف شارہ کرتے ہوئے کہا۔اور بھائی صاحب نے سڑک کی طرف منہ پھیر لیا۔جیسے چوبرجی کے باہر ساکت وجامد کھڑے کنڈم کیے ہوئے جہاز کو دیکھ رہے ہوں۔اپنی ذمہ داری جہاز پر شفٹ کررہے ہوں۔میں بھیا اور بھابھی صاحبہ کو حیرت اور پریشانی سے دیکھ رہا تھا اور سوچ رہا تھا کہ دونوں میں کس قدر انڈر سٹینڈگ ہے ۔
دونوں ایک دوسرے کے ہائی بلڈ پریشر کا باعث بن رہے ہیں۔

دونوں ایک دوسرے کی مشکلات اور پریشانیاں آپس میں بانٹ رہے ہیں۔شیئر کررہے ہیں اور سچے بھی کتنے ہیں کہ ڈاکٹر بیماری کی وجہ کے بارے میں پوچھ رہا ہے اور کس قدر”محبت“سے دونوں کہہ رہے ہیں کہ یہ بیماری کا”تحفہ “مجھے بیوی نے دیاہے اور بھابھی کہہ رہی ہیں کہ یہ سب ان کے کرم سے ہوا ہے !ویسے ڈاکٹر صاحب پر مجھے اُس وقت بہت غصہ آیا،مجھے وہ بہت برے لگے۔اور میں نے عہد کیا کہ جب عنقریب میری بیوی ہائی بلڈ پریشر کی وجہ سے مجھے ڈاکٹر کے پاس لے جانا چاہے گی تو میں ایسے سچے اور کھرے ڈاکٹر کے پاس ہر گز ہرگز نہیں جاؤں گا کیونکہ ڈاکٹر نے بھیا اور بھابھی صاحبہ کی باتیں سننے کے بعد آہستہ سے کہا۔!؟
”خود توڈوبے ہیں”میاں“تم کو بھی لے ڈوبیں گے“

Your Thoughts and Comments