Ishaye - Duaiye - Muk Mukaiye!

”عشائیے“․․․․․”دعائیے“․․․․․”مک مکائیے!

حافظ مظفر محسن جمعرات جنوری

Ishaye - Duaiye - Muk Mukaiye!
”چغلی کامیابی کی ضمانت ہے“یہ ایک خوبصورت ضرب المثل ہے۔آپ پوچھیں گے کہ یہ بے ہودہ ضرب المثل کس نے ایجاد کی تو جناب صاف صاف بتائے دیتاہوں کہ یہ بے ہودگی مابدولت سے ہی سرزد ہوئی ہے بات یہ ہے کہ سکول اور کالج کے زمانے میں تو ہمارا نظریہ بلکہ نظریات بلکہ مختلف تھے اور ہم بھی افغانستان کی جنگ کو اسلام اور کفر کی جنگ تصور کرتے تھے اسی طرح پرانے زمانے میں ہم نہ صرف چغل خوری سے اجتناب کرتے بلکہ چغل خوروں سے نفرت بھی کرتے مگر اب تو کام بالکل مختلف ہے۔

”چغل خوری“کے بعد جب ہم نے لوگوں کو اٹھارویں گریڈ سے ڈائریکٹ بیسویں میں جاتے دیکھا تو ہمیں”چغل خوری“کی افادیت کا اندازہ ہو۔
(آزمائش شرط ہے)۔
ہمارا خیال تھا کہ”چغل خوری“میں عورتیں ذرا آگے ہیں مگر اب ہمارا یہ خیال بھی بدل چکا ہے بالکل اسی طرح جیسے کہ ہمارے دوستوں کا خیال تھا کہ عورتیں ہی ہر وقت باتیں کرتی رہتی ہیں ان کیلئے خاموش رہنا خاصا مشکل ہے جبکہ ہم نے معاملہ الٹ دیکھا آپ بھی ملاحظہ کرنا چاہیں تو کسی بھی سرکاری دفتر کا دورہ کرلیں۔

(جاری ہے)

ملازمین اپنے سے بڑے ۔اس سے بڑے اور پھر سب سے بڑے افسر کی شان میں”گستاخیاں“کرتے ہوئے دکھائی دیں گے اور افسران خیر سے اپنے سٹاف کی شان میں”با ادب کلمات“ادا کرتے نہیں تھکتے؟
”رائے عامہ“ایک سیاسی اصطلاح ہے جبکہ ہم اسے”چغل خوری“کا ہی دوسرا نام دیتے ہیں۔چغلی ایک سے دوسرے․․․․․․پھر تیسرے اور یوں بہت سے لوگوں تک پہنچتے پہنچتے ”رائے عامہ“کی شکل اختیار کرجاتی ہے اور یوں سچ کو جھوٹ اور جھوٹ کو سچ بڑی سطح پر بدل دیا جاتاہے(سیاسیات کے طلبہ کو رائے عامہ کے بارے میں ہماری بیان کردہ تعریف سے استفادہ کرنے کی کھلی اجازت ہے)
چغلی کے حوالے سے خواتین کا ذکر خوامخواہ آجاتاہے ابھی چنددن ہوئے ایک عزیزہ گاؤں سے ہمارے ہاں تشریف لائیں تو کہیں فون کیا اور پھر کبھی ہنستے‘کبھی روتے اپنی بہو کی خوب خوب چغلیاں کرنے لگیں۔

بولتی گئیں۔بولتی گئیں۔ہم نے پاس بیٹھے اندازہ لگایا کہ شاید دوسری طرف موجود”محترمہ“صرف سن سکتی ہیں۔بول نہیں سکتیں‘ہماری عزیزہ نے ایک منٹ بھی خاموشی اختیار نہ کی۔ہم نے ریسیورچھین کر کان سے لگایا تو دوسری طرف سے آواز آرہی تھی۔
”السلام علیکم”․․․․․․آپ کا مطلوبہ نمبر مصروف ہے براہ مہربانی دوبارہ ٹرائی کریں شکریہ․․․․․․؟
ویسے ٹیلی فون والوں کو چاہیے کہ خواتین آپریٹرز کو دوران تربیت اس بات کی تربیت بھی دیں کہ وہ ایسی خواتین کی مدد کریں کہ جو گھر میں چغلی کیلئے ساتھی کی عدم موجودگی پر”ٹیلی فون آپریٹرز“سے بوقت ضرورت مدد طلب کر سکیں․․․․(اس نیک کام کے اضافی چارجز بھی وصول کئے جاسکتے ہیں”چغلی چارجز“کے نام سے․․․․․․؟)
جہاں چغلی ناکام ہو وہاں افواہ کا سہارا بھی لیا جا سکتاہے۔

یایوں کہہ لیں”افواہ کو چغلی ملے کر کر لمبے ہاتھ“چغلی کان سے کان تک جاتی ہے جبکہ افواہ فرد سے افراد اور افراد سے ہجوم تک جاتی ہے۔جب اسمبلی کے ایم این اے حضرات کو احساس ہوا کہ حکومت کی طرف سے ا ن کی نازبرداریوں میں کمی ہونے لگی ہے تو وہ خود ہی خود افواہ پھیلا دیتے ہیں کہ”حکومت بس․․․․․جانے ہی والی ہے اور بہت سے حکومتی ارکان نے اپوزیشن سے خفیہ رابطے بھی کرلئے ہیں۔


پھر․․․․․․پھر آپ خود سمجھدار ہیں․․․․․․”ترقیاتی کام“شروع ہو جاتے ہیں․․․․․․فائیو سٹار ہوٹلوں میں ”ظہرانے“․․․․․”دعائیے“․․․․․․مک مکائیے“اور”کھائیے کھلائیے“شروع ہو جاتے ہیں ۔اور دروازے پر بورڈ لٹکادیا جاتاہے جس پر لکھا ہوتاہے”جلنے والے کا منہ کالا“
بچپن میں ہمارے محلے میں ایک”مداری“آیا کرتا تھا وہ بچوں کو تماشا دکھاتے ہوئے ہر بات پر کہتا تھا”ہے ناں جی“یعنی کہ اپنی اچھی بری بات کی خبر اًان سے تعریف کراتا تھا۔


وہ کہتا ․․․․․․“بچو!میری بلی شیرنی ہے شیرنی ․․․․․․”ہے ناں جی“․․․․․․بچے زور سے کہتے․․․․․․”ہاں جی“․․․․․․بچو!میں ”جھرلو“پھیر کے ایک روپے کے دور وپے بنا سکتاہوں․․․․”ہے ناں جی“․․․․․․بچے پھر کہتے ”ہاں جی“وہ چیختا ․․․․․․بچو!تماشا ختم ہوتے ہی تم اپنے اپنے گھر سے آٹا اور پیسے لاؤ گے․․․․․”ہے ناں جی“بچے زور سے کہتے ”ناں جی“․․․․․اور پھر بھاگ جاتے․․․․․․!
بات ہورہی تھی ”افواہ “․․․․․اور”چغلی “کی․․․․․․اصل میں آج کل ہماری ملکی سیاست کے یہ دونوں ہی بڑے اہم ستون ہیں۔

ہماری سیاست تین اہم اور بنیادی ستونوں پر کھڑی ہے․․․․․․”افواہ“․․․․․․”چغلی “اور ”چھوٹ“․․․․․․․اس تیسرے مگر اہم ترین رکن یعنی”جھوٹ“پرپھر کبھی تفصیل سے بات کریں گے۔

Your Thoughts and Comments