Juz Qais Baqi Ghalib - Qist 4

"جز قیس باقی غالب" ۔۔ قسط نمبر 4

عابدہ ظہیر عابی پیر جون

Juz Qais Baqi Ghalib - Qist 4
غالب نے دست شفقت  قیس کے سر پر رکھا اور گداز دل  سے اپنے سینے سے لگایا
جاؤ جاکر دن کی تھکاوٹ شب کی آغوش میں بسر کرو۔۔۔ یقیناً اس سے تازہ دم ہو کر بیدار ہو گے ۔  جی بہت بہتر۔۔۔ قیس نے کہا اور اندرونی دروازے کی جانب بڑھ گیا ۔
 غالب قالین پر تکیہ رکھ کر حقے کے نٹری سے گاہے بگاہے شغل فرماتے ، قلم چلاتے چلاتے  جانے کب نیند کی وادی میں اتر گئے ۔

۔۔
 گھنٹی کی مسلسل آواز تھی کہ"  آمد خیال "  کروٹ کی تو اشعار بےقرار  قلم ذدن  ہونے شروع ہوئے۔۔۔ ادھر گھنٹی تواتر سے بچ رہی ہے۔۔۔ بجتی رہے ۔۔۔مگر قلم بھی تو رواں دواں ساغر و مے  رقم کر رہا ہے  ۔
 (نمبر 1 )
 نکوہش ہے سزا فریادی بے داد دلبر کی
مبادا خندۂ دنداں نما ہو صبح محشر کی
رگ لیلیٰ کو خاک دشت مجنوں ریشگی بخشے
اگر بووے بجاۓ دانہ دہقاں نوک نشتر کی
پر پروانہ شاید بادبان کشتی مے تھا
ہوئی مجلس کی گرمی سے روانی دور ساغر کی
کروں بے داد ذوق پر فشانی عرض کیا قدرت
کہ طاقت اڑ گئی اڑنے سے پہلے میرے شہ پر کی
کہاں تک روؤں اس کے خیمے کے پیچھے قیامت ہے
مری قسمت میں یارب کیا نہ تھی دیوار پتھر کی
بجز دیوانگی ہوتا نہ انجام خود آرائی
اگر پیدا نہ کرتا آئنہ زنجیر جوہر کی
غرور لطف ساقی نشۂ
غرور لطف ساقی نشۂ بیباکی مستاں
نم دامان عصیاں ہے طراوت موج کوثر کی
مرا دل مانگتے ہیں عاریت اہل ہوس شاید
یہ جانا چاہتے ہیں آج دعوت میں سمندر کی
اسدؔ جز آب بخشیدن ز دریا خضر کو کیا تھا
ڈبوتا چشمۂ حیواں میں گر کشتی سکندر کی
(اگر کسان اس صحرا میں جہاں مجنوں نے زندگی گزاری اور وہی  مر مٹ گیا دانے کی جگہ نشتر کی نوک بو دے تو اس  صحرا کی  خاک نوک نشتر سے رگ لیلیٰ اگا دے اور اسے پھلنے پھولنے دے ۔

(جاری ہے)

اس میں اشارہ اس قصے کی طرف ہے کہ ایک مرتبہ لیلیٰ نے فصد لگوائی تو
لوائی فصد لیلیٰ نے رگ مجنوں سے خون آیا
محبت کے لیے لازم ہے اظہار اثر ہونا ۔۔۔۔)
غالب نے قلم قلمدان میں رکھا اور سور سور (  خوشی خوشی )  دروازے  کی جانب بڑھے  کیونکہ گھنٹی وقفے وقفے سے کہہ رہی تھی در کھولو ورنہ ۔۔۔۔ورنہ ۔۔۔۔آتے ہیں بھئی ، غالب نے روم سیلیپر پہنے ، سر پر کلاہ سجایا اور پرنے کو گلے میں ڈالنا بھی نہ بھولے ۔

۔۔زعم و تمکنت سے دروازہ کھولا ۔۔۔
جی یہ آپ نے نیند حرام کرنے کا ٹھیکہ لے رکھا ہے ۔۔جو مسلسل گھنٹی بجا بجا کر جگا دیا ۔۔۔
  ” (نمبر 1 )  نوائے سروش شرحِ غالب سے اخذ کردہ “
  آداب عرض ! آنے والا ٹی سی ایس ڈیلوری بوائے تھا ۔۔۔مسکرا کر بولا ۔۔۔غالب نے ناقدانہ نگاہ ڈالی اور کہا یہ ادب و آداب  اب چھوڑو تم ڈاکیئے سے ٹی سی ایس افسر ، ہوگئے ہو ۔


 تمہاری ڈیلوری بھی ارجینٹ ہوگئی ہے تو گڈ مارننگ کہنے میں کیا قباحت ہے ؟ ۔۔۔یس سر ، ڈیلوری بوائے نے کہا ، بالکل کوئی قباحت نہیں ۔
  گڈ مارننگ یہ کہہ کر اس نے پارسل کی صورت میں ایک پیٹی نما ڈبہ پیش کر دیا اور ہلکے نیلے رنگ کا لفافے پر دستخط کے کر پھر گڈ مارننگ کہتا مگر مسکراتا ہوا رخصت ہوا ۔
 غالب نے اندازہ لگایا ۔۔۔یقیناً آم ہیں ۔

۔۔ اور لفافہ اور لکھاوٹ دیکھ کر سمجھ گئے ہائے میرے یارررر  اقبال
  ۔۔۔جیئو صبح خیزی اور آدھی ملاقات ۔۔۔آپ جھٹ سے دالان میں رکھے بانسی صوفے پر  تشریف رکھ کر لفافہ کھولا ۔
  جان من ۔۔۔
  محبوب سے محبوب تر ۔۔۔تسلی قلب و جاں ،  ٹھنڈک  عین یہ جملے تو غالب ہو یا اقبال یا اور کوئی شاعر (وزن دار ) ان کے نوک قلم کے موتی ہوتے ہیں جنھیں پرو پرو کر صفحہ قرطاس پر مزین کرتے رہتے ہیں ۔

۔۔ غالب اصل مدعے کی طرف آئے ۔۔۔۔شاعرانہ کلام گفتگو کے بعد عرض مدعا تھا کہ میں باوجہ زوجہ کی علالت کے حاضر ہونے سے قاصر ہوں۔۔۔ اب مزاج معتدل ہے ہوا ہے تو سیاحت یعنی تبدیلی آب و ہوا کے لیے امریکہ جا رہا ہوں ۔  ایک دو ماہ تو لگیں گے ۔ آموں کا تحفہ ارسال کر دیا ہے بس اس ذریعے کو ہماری حاضری ہی سمجھی جائے۔
 تمہارا مخلص
اقبال
ہونہہ ! آم بھیج کر حاضری ۔

۔۔امریکہ لے کر جاتا ساتھ اپنے ۔۔۔۔خیر ۔۔۔خوش رہیں ۔۔۔غالب میں آم کا ڈبہ کھول کر دیکھا دوسہری آموں کا خوش نما رسیلہ جوبن غالب کے منہ میں پانی بھر آیا۔۔۔واش روم جا کر دانت برش کر رہے تھے کہ پھر سے گھنٹی نے خلل مچایا۔۔۔ اب کوئی حرج نہیں تھا،  وہ دانت برش کرتے دروازے پر آئے
کون ؟ غالب نے پوچھا
جون ، میتھیو ، انشاء ۔۔۔تینوں کی آوازیں غالب کے کان میں سر کی طرح اتری اور سماعت کو خوشگوار تاثر دے کر مسحور کر گئیں  ۔

 
غالب نے جھٹ دروازہ کھولا ، تینوں نے یک دم غالب کو سلام پیش کیا ۔
میتھیو نے غالب کو دیکھ کے اندر جانے کی کوشش کی ، غالب نے شرارتا میتھیو کو روکا ۔
 میتھیو کل والے لباس میں تھی آج اس نے ہلکا ہلکا میک اپ بھی کیا  تھا اور بالوں میں گلاب کا پھول ارسال ہوا تھا غالب نے وہ پھول اس کے بالوں سے نکالا اور اپنی زلف میں اڑس لیا ۔
انشا اور جون مسکرائے ، میتھیو تم اب جاؤ اور عمدہ سی چائے بنا کر لاؤ غالب نے کہا ۔

Your Thoughts and Comments