Kamar

کمر

یونس بٹ پیر ستمبر

Kamar
نیکی کرنے اور زنانہ لباس پہننے میں خاص بات یہی ہے کہ دوسروں کو ان کا پتہ نہیں چلنا چاہیے۔شاید اسی لیے مغرب میں ہر چیز دلفریب پیکنگ میں نظر آتی ہے۔زمین تک نے وہاں سڑک اور فرش اوڑھ رکھے ہیں۔بلکہ انہوں نے تو مذہب پر بھی پردہ ڈال رکھا ہے۔اب وہاں سوائے عورت کے کوئی چیز ننگی نہیں رہی۔مگر میرادوست ”ف“کہتا ہے”یہ جھوٹ ہے،میں نے وہاں خود کئی عورتوں کو میک اپ پہنے دیکھا ہے ،تمہیں وہ اس لیے ننگی نظر آتی ہیں کہ تمہاری آنکھیں ننگی ہیں“۔

وہ کچھ بھی کہے،میرے خیال میں جھوٹ اور عورت پر دے میں ہی بھلے لگتے ہیں۔ ہاں کمر ان کے جسم کا وہ حصہ ضرور ہے جو کپڑوں میں منہ چھپائے بیٹھی ہو یا ننگ دھڑنگ سن باتھ لے رہی ہو ،بھلی لگتی ہے۔بلکہ ہمارے ہاں کی عورتیں بھی آنکھیں اور کمر ننگی رکھنے میں عار محسوس نہیں کرتیں۔

(جاری ہے)

ہندوستانیوں کے مقبول لباس ساڑھی کا تو اصول ہی یہی ہے کہ گزوں کپڑے کو بدن پریوں لپیٹوکہ کمر پھر بھی ننگی رہے۔


کمر جسم کی خوبصورت کا راز ہے۔یہ جتنی مختصر ہوا تنا ہی اس کا ذکر تفصیل سے ہو گا۔کمر وہ شے ہے جتنی باریک ہو اتنی ہی دور سے نظر آتی ہے،لیکن یہ حقیقت ہے کہ میں اپنی خامیاں اور کمر کبھی نظر نہیں آتی۔
عورتیں جس ناز سے کمر کا غلط استعمال کرتی ہیں اتنے اعتماد سے ہم اس کا صحیح استعمال بھی نہیں کر سکتے۔پتلی کمر عورت کی خوبصورتی میں ریڑھ کی ہڈی ہے ،لیکن عورتیں نو ماہی لوڈشیڈنگ کے باوجود اتنی تیزی سے موٹی ہوتی ہیں کہ ان حالات میں کمر کی تلاش میں نکلو تو کمرہ ملتا ہے۔

کمر نہ ہوتی تو ہم پتلون ،شلوار اور دھوتی کہاں لٹکاتے؟کیونکہ کپڑے پہننے میں سوائے عربوں کے سب کمر کے محتاج ہیں۔
انسان وہ الہامی کتاب ہے جو چارا بو اب بچپن،لڑکپن اور جوانی اور بڑھاپے پر مشتمل ہے۔”ف“کہتا ہے یہ صرف مردانہ کتاب کی بات ہے،عورت کی زندگی کے باب تو بچپن ،نوجوانی ،جوانی اور جوانی ہیں کیونکہ میں نے کسی عورت کو بوڑھی نہیں دیکھا۔

وہ بھی ٹھیک کہتا ہے۔اس نے کبھی کسی بوڑھی عورت کو دیکھا ہی نہیں ۔انسانی تہذیب کی کہانی بھی ایسی ہی ہے۔جب انسان بچہ تھا،وہ چارپایوں کی طرح چلتا،اس خوف زدہ بچے نے ہاتھوں اورپاؤں سے زمین کو تھام رکھا تھا۔لڑکپن میں اس نے دوسروں پر ہاتھ اٹھانے کے لیے زمین سے ہاتھ اٹھانے شروع کر دئیے۔جب وہ ذرا مہذب ہوا یعنی دوسروں پر ہاتھ کی بجائے انگلی اٹھانے لگا تو اس کا پورا وجود ایک قد آدم انگلی بن گیا،یعنی وہ کمرا کڑ کر چلنے لگا۔

اب شاید بوڑھا ہو گیا ہے جو اس نے تیل،بجلی اور گیس کی لاٹھی تھام رکھی ہے اور پھر تین ٹانگوں پر آگیا ہے ۔لیکن انسان ارتقاء کے اتنے ادوار سے گزرنے کے باوجود چارپایوں والا زمانہ نہیں بھولا،شاید اسی لیے اس نے ہر گھر میں چارپائیاں ڈال رکھی ہیں۔چار ٹانگوں پر چلنے کا شوق آج بھی اسے بسوں اور کاروں میں لیے پھر رہا ہے لیکن آج کے انسان کی کمر کی قدر پہلے انسان سے کہیں زیادہ ہے اسی لیے تو وہ کام کم کرتا ہے اور کمر سیدھی کرنے میں زیادہ لگا رہتاہے۔


درخت وہ جاندار ہیں جو شرم کے مارے اپنا زیریں حصہ ہمیشہ زمین میں چھپائے رہتے ہیں ۔اگرکوئی انہیں الف ننگا کردے تو شرم کے مارے مر جاتے ہیں ۔تنا ان کی کمر ہے لیکن جسم انسان کا ہو یا کسی پودے کا ،وہی سر اٹھا کر جی سکتا ہیجو کمر رکھتا ہو ،ور نہ گاجروں مولیوں کی طرح اپنے جسم کو بھی اٹھانے سے قاصر رہتا ہے۔ہمیں تو اس وقت تک اپنے شادی شدہ ہونے کا یقین نہیں آتا جب تک ہمارے جملہ حقوق بدست بیوی غیر محفوظ نہ ہو جا ئیں۔

کسی حادثے کے بغیر کمر کی موجودگی کا احساس کیسے ہو سکتاہے؟اور حادثہ جو کمر سے ملاقات کا موقع فراہم کرتا ہے،کمر درد کہلاتاہے۔
کمر چاہے اتنی موٹی ہو کہ کئی بار دیکھو تو ایک بار نظر آئے یا اتنی پتلی کہ ایک بار دیکھو تو کئی بار نظر آئے۔اس میں ایک قدر مشترک ضرور ہو گی ،وہ ہے کمر درد۔ کیونکہ یہ صرف اسے نہیں ہوتا جس کی کمر نہ ہو!کمر درداسقاط نقل وحمل کا باعث ہے۔

ہر بیماری کو گل کھلانے کے لیے خاص ماحول چاہیے۔جیسے ہمارے ماحول میں فلور اور صحافی اکثر بگڑ جاتے ہیں،لیکن کمر درد کسی ماحول کا محتاج نہیں۔کمر درد کے لیے بس ایک چیز کی ضرورت ہے اور وہ ہے کمر!
کہتے ہیں بندہ ننگا بھی وہ جائے پر کمر ننگی نہ ہوتو”ستے خیراں “کیونکہ کمر ننگی ہو جائے تو مرزا صاحباں کے بھائیوں سے نہیں بچ سکتا۔جب یار شرما کر منہ کے بجائے کمر کر لے تو یکدم اس کے منہ کی قیمت منہ مانگی ہو جاتی ہے ۔

مگر جب وہ کمر دکھا جائے تو پھر ساری عمر اس کا منہ دیکھنے کو دل نہیں چاہتا۔مکان وہ جسم ہیں جن کی جان ان کے مکینوں میں ہے۔جب یہ مکان کمرے سے کمر ملا لیں تو شہر بنتے ہیں اور جب کسی قوم کے افراد یوں مل جائیں تو پھر مینار پاکستان وجود میں آتاہے۔
میرا ایک دوست کہتا ہے جانوروں کے ہاں کرسیاں اس لیے نہیں کہ وہ بیٹھیں کیسے، کمر تو وہ رکھتے نہیں!لیکن”ف“کہتا ہے”کرسی پر بیٹھنے کے لیے کمر سے زیادہ عقل کی ضرور ت ہے“لیکن یہ درست نہیں ۔

میں نے ہمیشہ ان لوگوں کو بڑی بڑی کرسیوں پر دیکھا ہے جو بے شک عقل نہ رکھتے ہوں مگر ان کی کمر مضبوط ہو۔
ٓآدمی اس وقت تک جوان رہتا ہے جب تک کسی کو کمر نہیں دکھاتا۔لیکن بڑھاپے میں جب اس کا وجود گٹھڑی بن جاتا ہے تو یہ کمر چھتری بن کر اسے اپنے نیچے چھپالیتی ہے ۔بڑھاپا انسان کی کمر جھکا کر اسے سوالیہ نشان بنا دیتا ہے،یہ بڑھاپا جب قوموں پر آتا ہے تو وہ بھی کمریں جھکا دیتی ہیں۔


رقاصہ کمر لچکا کر لوگوں کے دل فتح کرتی ہے اور فاتح جھکی کمریں دیکھ کر اپنی فتح کی تصدیق کرتے ہیں ۔کوئی بھی نقصان ہو ،بچاری کمر ہی ٹوٹتی ہے۔کسی کو حوصلہ دینا ہو یا تسلی،اس کی کمر ہی بندھاتے ہیں کیونکہ بندھے پاؤں بھی کمر باندھ لیں تو منزل کی ہر راہ ان کی طرف چلنے لگتی ہے۔مختصر یہ کہ کمر جسم کی سر تا ج ہے۔اسی لیے تو اسے خدا کے آگے جھکانے کا حکم ہے۔

Your Thoughts and Comments