Lao Kitne Chahiyeen?

لاؤ کتنے چاہئیں؟

پیر نومبر

Lao Kitne Chahiyeen?
 اعتبار ساجد
ہمارے ایک عزیز ہیں۔ان کا تکیہ کلام ہے۔”لاؤ کتنے چاہئیں؟“بات کسی موضوع پر ہورہی ہو،مسئلہ کیسا ہی کیوں نہ ہو وہ چٹکی بجاکر فوراً بیچ میں کود پڑیں گے۔”لاؤ کتنے چاہئیں۔“خالص گھی کی نا دستیابی کا مسئلہ ہو یا سستے مگر اچھے آموں کی کمیابی کا معاملہ ۔وہ فوراً چٹکی بجا دیں گے۔”لاؤ کتنے چاہئیں؟“
کل ہمارے ایک دوست کے والدفوت ہو گئے۔

بس ہم سے یہ غلطی ہوئی کہ ان کے عزیز کو بھی تعزیت کے لیے اپنے ساتھ لے گئے دوست غم سے نڈھال تھا۔روروکر غریب کی آنکھیں سوج گئی تھیں،بال بکھرائے شیو بڑھائے وہ ہمارے گلے سے لگ کر پہلے تو خوب رویا ۔ہم نے اس کے اور اپنے آنسو پوچھے۔تسلی دی۔خدا کی رضا پرشا کر ہونے کوتلقین کی۔”صبر کرو بھائی۔خدا کی مرضی کے آگے انسان بے بس ہے۔

(جاری ہے)

ہر ذی روح کا ایک وقت رخصت مقررہے نہ ایک سکینڈ آگے نہ ایک سکینڈ پیچھے۔

اللہ بخشے مرحوم بہت نیک ،متقی اور پر ہیز گار تھے۔انتہائی شفیق اور مہربان بزرگ تھے ۔ایسا باپ تو خوش نصیب اولاد ہی کو ملتاہے۔“
ہمارے اس عزیز نے فوراً چٹکی بجائی۔تو بولے”لاؤ کتنے چاہئیں؟“
دوست سے تو خیر ہمارا قطع تعلق ہو گیا۔لیکن عزیز محترم سے تعلقات بدستور ہیں ،کچھ تو عزیز داری کا لحاظ ،کچھ ان کی ناراضگی کا خوف۔کچھ اپنی حد سے بڑھی ہوئی مروت کی مجبوری ۔

بس یہ سب چیزیں مل جل کر ہمارے اور ان کے درمیان میل ملاپ کی وجوہات خاص ہیں۔
عمر تو ان کی پچاس کے لگ بھگ ہے۔لیکن اب تک وہ اپنی ڈیٹ آف برتھ کے سلسلے میں مطمئن نہیں ۔گاہے بگاہے دیر تک یقین دلاتے رہتے ہیں کہ ان کے ابا مرحوم سے تاریخ پیدائش لکھواتے وقت دانستہ غلطی ہوئی۔ایک بار ہم نے انہیں ٹوکنے کی جسارت کرلی ۔کہا․․․․․
”آپ نے بعد میں تاریخ پیدائش درست کیوں نہ کروائی۔


بولے۔”کچھ قانون پیچیدگیاں تھیں۔“
ہم نے پوچھا۔”مثلاً کون کون سی؟‘
کہنے لگے۔”یہ کیا سوال پوچھ لیا میاں آپ نے۔قانونی پیچیدگیاں پیدا ہوتے دیر لگتی ہے ۔لاؤکتنی چاہئیں۔“
ایک دن سچے اور اچھے دوستوں کے فقدان پر بات ہورہی تھی۔ہمارے یہ عزیز بار بار اپنا ٹریڈمارک بول رہے تھے۔”لاؤ کتنے چاہئیں؟“
”تنگ آکر ہم نے کہا۔”آپ ایک لاکر دکھائیے،اگر پسند آیا تو دوسرے کا آرڈر دیں گے۔


ہماری کوشش تو یہی ہوتی ہے کہ جہاں معاملہ نازک ہو یا مسئلہ گھمبیر ہوانہیں دخل درمعقولات سے روکا جائے۔قریب نہ پھٹکنے دیا جائے۔دورہی دور سے ٹال دیا جائے۔مگر وہ ٹلنے والی اسامی نہیں ۔ایسے موقعوں پر بڑی مسکین سی صورت بنا کر بیٹھ جائیں گے۔تاثر یہی دیں گے کہ انہیں زیر غور مسئلے سے کوئی تعلق کوئی واسطہ نہیں،محض ابرزور کی حیثیت سے ہمارے درمیان تشریف فرماہیں۔

لیکن جیسے ہی گفتگو کے دوران کوئی وقفہ یا مناسب موقع آئے گا فوراً چٹکی بجا کر میدان میں کود پڑیں گی۔
ان کے چٹکی بجانے کا انداز یہ ہے کہ سیدھے ہاتھ کو ڈنڈے کی طرح اکڑا کر اپنے سر سے بلند کر لیتے ہیں یا سنگین چڑھی رائفل کی طرح مخاطب کے سامنے کر دیتے ہیں ،نیا آدمی ہوتو پریشان ہو کر سیدھے نشانے کی زد سے بچنے کی کوشش کرتاہے یا بوکھلا کر کہہ بیٹھتا ہے۔

”طبیعت تو ٹھیک ہے ناں آپ کی۔“
وہ اپنی رو میں رہتے ہیں ،کبھی کسی مخاطب کی بات کا متعلقہ جواب نہیں دیتے ۔ہر چند لوگ ان سے بدکتے ہیں ۔مگر ان کے سفیدبالوں کی وجہ سے ان کے سامنے چپ سادہ لیتے ہیں،مگر پچھلے دنوں ان کے سفید بال دفاعی حصار قائم نہ رکھ سکے۔عزیزوں میں اچھی خاصی جنگ چھڑگئی۔
ایک نوجوان عزیزہ کے شوہر ہوائی حادثے میں ہلاک ہوئے ۔

قریبی رشتہ داری کے پیش نظر ہم سب کام چھوڑ کر تعزیت کے لئے پہنچے۔وہاں سارا خاندان جمع تھا۔بیوہ کو تسلیاں دی جارہی تھیں ،نظر اٹھائی تو کیا دیکھتے ہیں کہ آپ بھی اس ہجوم میں موجود ہیں اور اپنی باری کا انتظار کررہے ہیں۔
ایک بزرگ نے خاتون بیوہ کا سر اپنی گود میں لے رکھا تھا۔دوسرے ہاتھ سے ان کی پیٹھ تھپک رہی تھیں۔”نہ رو میری بچی ۔ہونی کو کون روک سکتاہے۔

اچھا بھلا خوش و خرم سفر پر روانہ ہوا تھا ،کیا خبر تھی کہ قیامت ٹوٹ پڑے گی۔کیسا پیا را جوان تھا۔کتنے اچھے اخلاق والا تھا۔کیسی ادب تمیز سے باتیں کرتا تھا۔ہائے تیرے نصیب اجڑ گئے ۔ایسا راج دلارا اتنا پیارا شوہر کسے ملتاہے۔“
ہمارے عزیز محترم نے ہاتھ ڈنڈے کی طرح سر سے بلند کیا ۔چٹکی بجا کر بولے۔”لاؤ، کتنے چاہئیں؟“

Your Thoughts and Comments