Larana

لڑانا

تنویر حسین بدھ جولائی

Larana
 ہمارے ہاں ہمسایوں کا ایک ہی فائدہ ہے کہ ان کی موجودگی میں بیوی کو خاوند سے لڑنے کا کم سے کم موقع ملتا ہے ۔گزشتہ دنوں ہمارے ایک ایسے ہمسائے ویگن کی طرح اپنی بیوی کے اشارے توڑتے ہوئے ہمارے سامنے آ”پارک“ہوئے۔”تمہارا بھائی ہے ناں․․․․․․“اور انہوں نے بات اپنی شخصیت کی طرح ادھوری چھوڑ دی۔میں سمجھ گیا وہ کیا کہنا چاہتے ہیں! دراصل محلے میں میری ساری عزت چھوٹے بھائی کے دم قدم سے ہے،یعنی لوگ اس کی حرکتوں سے اس قدر تنگ ہیں کہ اب مجھے اچھا کہنے لگے ہیں،لیکن موصوف نے چہرے کے چورا ہے پر دھرنا مارے بیٹھی ناک کو دائیں بائیں سلام پھراتے ہوئے اپنے منہ کے ڈرا پر سے میرے کانوں میں لفظوں کے وہ قطرے ڈالے کہ مجھے یقین ہو گیا کہ ضرور میرے کان خراب ہیں۔

فرمایا”تمہارا چھوٹا بھائی ایک دن ضرور بڑا آدمی بنے گا،اس میں بڑے آدمیوں والی خوبیاں ہیں“۔

(جاری ہے)

وجہ یہ بتائی کہ آج اس نے محلے کے دولڑکوں کو لڑایاہے اور امید ظاہر کی کہ اگر وہ اسی طرح محنت کرتا رہا تو کل دومحلوں کو لڑائے گا،پھر پورے شہر کو اور آخر میں ملکوں کو لڑائے گایعنی صدر بن جائے گا۔
میرا دوست ”ف “جس کے ہاں عمر کے علاوہ کسی چیز میں پختگی نہیں ،کہتا ہے کہ بڑے آدمی بنتے نہیں بلکہ پیدا ہوتے ہیں اور مثال کے لیے خود کو پیش کرتا ہے ۔

بلاشبہ بڑا ہونے کی اس میں پیدائش خوبی ہے کہ وہ سب بھائیوں سے بڑا ہے بلکہ اس کی بہن جس نے موصوف کو گود میں لے کر کئی گل کھلائے،وہ بھی اسے خود سے بڑا کہتی ہے۔
دنیا میں وہ کام جسے صرف بے وقوف آسانی سے کر سکتا ہے اور جوں جوں عقل مند ہوتا ہے اس کے لیے یہ مشکل ہو تا جاتا ہے ،لڑنا ہے ۔اور وہ کام جو بے وقوف کے لیے مشکل اور جوں جوں انسان عقل مند ہو تا جائے آسان ہوتا جاتا ہے وہ لڑانا ہے۔


لڑنا توان کاموں میں سے ہے جن میں عقل استعمال کرنا عقل مندی نہیں،بلکہ وہ بڑا بے وقوف ہے جو لڑنے کے لیے عقل کا استعمال کرے۔اگر آپ دو آدمیوں کو لڑاتے ہیں تو آپ ان کے رحم وکرم پر ہیں۔اگر دوملکوں کو لڑاتے ہیں تو وہ آپ کے رحم وکرم پر ہیں۔
لڑنے میں ہار جیت اور لڑانے میں جیت ہی جیت ہوتی ہے۔کہتے ہیں امن چاہتے ہوتو لڑنے کے لیے تیار ہو۔میں کہتا ہوں”امن چاہتے ہوتو لڑانے کے لیے تیار رہو“اگر خود ہی لڑنے بیٹھ جاؤ گے تو امن سے خاک رہو گے۔

انگریزوں کی ہندوستان پر حکومت”لڑاؤ اور حکومت کرو“کی عملی تفسیر ہی تو ہے۔
لڑنا دنیا کا وہ واحد کام ہے جو بلا سوچے سمجھے ہی بہتر کیا جا سکتا ہے ۔عورتوں اور مردوں کے لڑنے میں یہ فرق ہے کہ مرد لڑنے سے پہلے وجہ ڈھونڈتے ہیں اور عورتیں لڑنے کے بعد۔ہمارے ہاں باتیں کرنے ،لڑنے اور کھانے کا ایک ہی اصول ہے یعنی سب سے پہلے شروع کرو اور سب سے آخر میں ختم کرو۔

میں تو اپنے حق کے لیے بھی لڑنے کے حق میں نہیں کہ لڑنے سے مسائل حل نہیں ہوتے بلکہ یہ تو بذات خود دور حاضر کا سب سے بڑا مسئلہ ہے۔
لڑنے اور لڑانے سے آدمی کی اصلیت کا پتہ چلتا ہے۔جتنی معمولی بات پر کوئی لڑنے لگے اتنا ہی وہ کمینہ ہو گا اور جوجتنی معمولی بات پر لڑائے گا وہ اتنا ہی ذہین اور عقل مند ہو گا۔
انسانی تہذیب کا پورا سفر لڑنے کے گھٹیا فعل سے لڑانے کے منصب عالیہ تک پہنچنے کی کہانی ہے۔

پہلے وہ جانوروں کی طرح لڑتا رہتا،پھر اس نے ایک دن عقل لڑائی اور انسان بن گیا۔آج بھی انسان اور جانور میں بڑا فرق یہ ہے کہ جانور لڑتے ہیں اور انسان لڑاتا ہے۔
لڑنے والے تو مٹ جاتے ہیں۔آپ تاریخ کے گریبان میں جھانکیں تو پتہ چلے کہ جتنے بھی بڑے بڑے حکمران ننگی تلواریں لیے آپ کو کھوررہے ہیں وہ سب لڑانے والے ہیں،لڑنے والے نہیں۔
کہتے ہیں شادی کے بعد آزادی چھن جاتی ہے جس کی وجہ یہ بتائی جاتی ہے کہ شادی کے بعد آدمی لڑانے والے کی بجائے لڑنے والا بن کررہ جاتا ہے ۔

اسے تو آنکھیں تک لڑانے کی اجازت نہیں ہوتی اور بیوی جس کے ساتھ چاہے اسے لڑاسکتی ہے ۔دنیا میں زن ،زراور زمین کی کمی لڑنے کا باعث ہے،جب کہ زن ،زراور زمین کی زیادتی لڑانے کا۔کسی دانشور کا مقولہ ہے:”لڑاؤ ،کھاؤاور مزے اڑاؤ“۔
لیکن”ف“ کے خیال میں یہاں لڑانے سے مراد آنکھیں لڑانا ہے ۔اسے کہنا بھی یہی چاہیے کہ یہی وہ لڑانا ہے جس میں عقل کی بجائے صرف آنکھیں استعمال کی جاتی ہیں۔


میں جب بھی آسمانی کی طر ف دیکھتا ہوں ،مجھے وہ بہت بڑی نیلی سی آنکھ لگتا ہے جو مسلسل زمین پر لگی ہوئی ہے ۔جب یہ آنکھ بخارات سے اٹ جاتی ہے تو اس میں آنسو آجاتے ہیں۔پھر یہ اس قدر روتی ہے کہ اس کے پورے بدن پر نیل پڑ جاتے ہیں۔یہ آنکھ وہ تما شائی ہے جس نے زمین پر نیکی بدی کو لڑا رکھا ہے۔ا س آنکھ کا نور اس لڑائی کا باعث ہے۔جس دن یہ لڑائی ختم ہو گئی،یہ آنکھ بند ہو جائے گی اور قیامت آجائے گی۔


میرادوست ”ف“کہتا ہے ”لڑانا ایک نسوانی مرض ہے“لیکن میرے خیال میں خود اسے مرض نسواں لاحق ہے جو وہ ہر خوبی عورتوں کے کھاتے میں ڈال کر ”بری الخوبی“ہوجاتا ہے اور تو اور اسے تو
”خوشبو“بھی پروین شاکر کی پسند ہے۔لیکن جہاں تک لڑانے کے عمل کا تعلق ہے وہ کسی عورت کا محتاج نہیں ۔تاریخ گواہ ہے کہ ہمیشہ عورتوں نے اس کا سہارا لیا۔یہ الگ بات ہے کہ لڑانا ان کے بائیں ہاتھ کا کھیل بلکہ آج کل تو ان کے بائیں بازو کا کھیل ہے۔

وہ اس وقت بھی لڑانے کے فن سے آشنا ہوتی ہیں جب وہ لڑنے کے مکروہ عمل سے بے خبر ہوتی ہیں۔شاید اسی لیے ہمارے ہاں اب بھی گھر میں لڑکی پیدا ہوتے ہی لڑائی شروع ہو جاتی ہے جو اس وقت تک جاری رہتی ہے جب تک وہ بڑی ہو کر خود یہ کام کرنے کے قابل نہ ہو جائے۔
اس دور میں عشق لڑانے کا ایک ہی اصول ہے ،اس سے بیشتر کہ دوسرے کو آپ سے اچھا مل جائے اور وہ عرف عام میں بے وفائی کر جائے ،آپ اس سے اچھا ڈھونڈلیں۔

یہی اصول لڑانے میں ہے ۔اس سے پہلے کہ کوئی آپ کو دوسرے سے لڑادے،آپ اسے کسی سے لڑادیں۔یاد رہے لڑنے میں جلدی اور لڑانے میں دیر نہیں کرنی چاہیے۔”ف“کہتا ہے”عشق لڑایا نہیں جاتا،بس ہو جاتاہے“میں اس کی بات سے متعلق ہوں،کیونکہ ہم جب بھی غلطی کرتے ہیں تو یہی کہتے ہیں”بس جی ہو گئی!“
گزشتہ دنوں ”ف“مجھے ایک تاریخی عمارت کی سیر کو لے گیا ۔

کہنے لگا،وہاں بڑی خوبصورتی ہوتی ہے،یہ بھی بتا دیا کہ پچھلے پہر چلیں گے کہ ساری خوبصورتی اسی وقت آتی ہے۔بات درست تھی۔ان خوبصورتیوں نے جوانی کے آگے کپڑوں کے یوں بند باندھ رکھے تھے کہ طغیانی آئی ہوئی تھی۔انہیں کنٹرول کرنے کے لیے ہر چوک میں لڑکے اشارے کررہے تھے۔یہ خوبصورتیاں کمال کی چال چل رہی تھیں۔یوں لگتا تھا جسم کا ہر حصہ الگ الگ قدم اٹھا رہا ہو۔

تمام حاضرین تاریخ کو تفریح بنا کر دوسروں کو ہنسنے کا موقع دے رہے تھے۔میں سب کو یہاں چھوڑ کر کئی سوبرس پیچھے پلٹ گیا ،یکدم مجھے اس عمارت کی جگہ بے بس کے آنسوؤں کی طرح نہ ختم ہونے والی فنکاروں کی قطاریں عمارت کی بنیادوں میں اترتی نظر آئیں۔یادرہے یہاں فن کار سے مراد وہ لوگ نہیں جو فن دے کر کار لیتے ہیں۔برسوں کے انتظار کے بعد جب وہ نہ پلٹے تو میں نے بنیادوں میں جھانکا تو دیکھا وہ سب اینٹیں اور گار ابن کر اس عمارت کی شکل دھار گئے ہیں اور اس پر بنوانے والے کا بڑا سا نام کندہ کر دیا گیا۔

سوچتا ہوں جیسے ان فنکاروں نے مل کر یہ تاریخی عمارت بنائی مگر انہیں جانتا ۔ایسے ہی لڑنے والے اینٹیں بن کر عمارت بناتے ہیں جس پر لڑانے والے کا نام کندہ ہوتا ہے کہ لڑنے والا سپاہی ہوتا ہے اور لڑانے والا فاتح جرنیل۔
لڑانے والا یہ وہ ڈاکٹر ہے جو مرض اور مریض کو لڑا دیتا ہے۔اس لڑائی میں مریض جیت جائے تو یہ ڈاکٹر کی جیت ہے ،اگر مرض جیت جائے تو یہ ہار صرف مریض کی ہوتی ہے۔


لڑانا ایک فن ہے۔مختلف لوگوں کو مختلف طریقوں سے لڑایا جاتا ہے ۔نئی نسل کو پرانی نسل سے لڑانے کے لیے مغربی تعلیم ،لڑکوں کو لڑانے کے لیے مخلوط تعلیم ،نمازیوں کولڑانے کے لیے مولوی،گھروالوں کو لڑانے کے لیے شادی اور سیاست دان کو لڑانے کے لیے کرسی ہوتی ہے۔
ویسے سنا ہے لڑنے سے آپس میں محبت بڑھتی ہے۔اس لیے گھر میں چھوٹا موٹا لڑائی جھگڑا ہونا چاہیے۔
یقین نہ آئے تو لڑکر دیکھ لیں!

Your Thoughts and Comments