Munne Mian No 2

منے میاں نمبر 2

منگل نومبر

Munne Mian No 2
 اعتبار ساجد
خیر سے ایک اور منے میاں ہیں۔یہ صرف سوالات ہی نہیں کرتے فرمائشیں بھی کرتے ہیں۔مناسب سمجھتے ہیں ،تو حکم بھی صادر فرما دیتے ہیں۔ابھی پچھلے دنوں ہم نے ان کی چھٹی سالگرہ میں شرکت کی اور ان کے لے گیند بلے کا تحفہ لے گئے۔یہ تحفہ انہوں نے نیم دلی سے قبول تو فرمالیا مگر ساتھ ہی پوچھ بیٹھے”انکل،میری وکٹیں اور دوسری چیزیں کب لائیں گے؟“
ہم نے مزید فرمائشوں سے بچنے کے لئے جھٹ کہہ دیا۔

”تمہاری اگلی سالگرہ پر“یہ سن کر خفا ہو گئے ،منہ بسور کر بولے۔”اتنی دیر تک میں کیا کروں گا۔سالگرہ تو بہت دیر بعد آتی ہے۔پورا ایک سال لگتا ہے ۔پچھلے سال آپ نے صرف شرٹ دی تھی۔پتلون ابھی تک نہیں دی۔“
الگے دن انہوں نے ہم سے پوچھا۔”انکل ۔لوگ شادی کیوں کرتے ہیں۔“
ہم نے کہا۔

(جاری ہے)

”اکٹھے رہنے کے لئے۔“
بولے۔”اکٹھے رہنا کیوں ضروری ہے۔


ہم نے سمجھایا۔”تاکہ امن سکون سے رہیں۔وقت پر کھانا کھائیں۔گھر کے کام کریں ٹی وی دیکھیں۔مزے سے سیریں کریں۔شاپنگ کریں۔“
کچھ دیر تک وہ کچھ سوچتے رہے۔پھر بولے۔”یہ سارے کام تو آدمی اکیلا بھی کر سکتا ہے۔پھر شادی کے لئے اتنے پیسے خرچ کرنے کی کیا ضرورت ہے۔“
ہم نے کہا۔”ذرا اس سے معاشرے میں سکون پیدا ہوجاتاہے۔ایک گھر بن جاتاہے۔

اسی طرح ایک ایک کرکے بہت سے گھر بن جاتے ہیں اور بہت سے گھر جب مل جائیں تو شہر بن جاتے ہیں۔“
وہ ہمارے جواب سے کچھ مطمئن نہیں ہوئے۔لیکن اپنا اضطراب ہم پر ظاہر نہیں کیا۔تھوڑی دیر بعد بولے۔”اچھا فرض کریں،اگر میں شازیہ سے شادی کرلوں۔پھر ایک گھر بن جائے گا۔“
اس پر ہم بوکھلا گئے۔پوچھا۔”کیا مطلب؟“
کہنے لگے۔”شازیہ میری کلاس فیلو ہے ناں۔

سالگرہ میں بھی آئی تھی،بڑی پیاری لگ رہی تھی۔یاد آیا؟“
ہم نے کہا۔”بالکل یاد آیا۔مگر اس نیک کام کے لئے دس پندرہ سال انتظار کرنا پڑے گا،تاکہ آپ دونوں کی تعلیم مکمل ہو جائے۔“
یہ سن کر منے میاں کا منہ لٹک گیا۔انتہائی مایوسی سے بولے۔”اتنی دیر تک میں کیا کروں گا۔شازیہ تو ایک دن سکول نہ آئے تو میرا دل نہیں لگتا۔“
منے میاں کے سوال وجواب یہیں ختم نہیں ہوئے۔

کہنے لگے۔شادی کے لئے کیا کرنا پڑتا ہے انکل؟“
ہم نے کہا۔”لڑکی کے والد سے بات کرنی پڑتی ہے۔“
اس پر ان کی سٹی گم ہو گئی بولے۔”توبہ توبہ․․․․شازیہ کے والد تو بڑے سخت ہیں میں نہیں کر سکتا ان سے یہ بات۔میری طرف سے آپ جا کر بات کرلیں۔“
ہم نے کہا۔”اچھا کرلیں گے۔اب آپ جا کر باہر کھیلیں اور اچھے بچوں کی طرح ہمیں کام کرنے دیں۔“
وہ طوہاًوکرہاًاٹھے ۔

جاتے جاتے بولے”کیا کام کریں گے آپ؟“
ہم نے کہا۔”خط لکھیں گے۔“
فوراً بولے۔”کس کو ۔آپ کی بھی کوئی شازیہ ہے۔“
دو تین دن تک وہ وقفے وقفے سے ہمارے کمرے میں جھانک کر پوچھتے رہے ”انکل۔آپ نے شازیہ
 کے ابو سے بات کی تھی۔“
ہم ٹالتے رہے کہ فرصت نہیں ملی۔جیسے ہی فرصت ملے گی،سیدھے شازیہ کے ابو کے پاس جا کر تمہارا پیغام دیں گے۔لیکن منے میاں زیادہ دن تک اپنی فرمائش پر قائم نہیں رہے۔

ایک دن صبح ہی صبح ہمارے پاس آگئے۔کہنے لگے۔’‘’انکل ۔آپ نے شازیہ کے ابو سے بات تو نہیں کی۔“
ہم نے مسکین سی صورت بنا کر کہا۔”کرلیں گے یار۔فکر نہ کرو۔ذرا تھوڑی سی فرصت مل جائے۔“
بولے۔”نہیں انکل۔اب رہنے دیں۔شازیہ کے ابو سے کوئی بات نہ کریں۔میری اس سے کٹی ہوگئی ہے۔“
ہم نے پوچھا۔”کیوں۔“
بولے۔”مجھے اپنی کلاس ٹیچر پسند آگئی ہیں۔اب میں ان سے شادی کروں گا بے شک آپ ان کے ابو سے جاکر ابھی بات کرلیں میں تیارہوں۔

Your Thoughts and Comments