Neend Nahi Aati

نیند نہیں آتی

پیر اکتوبر

Neend Nahi Aati
 اعتبار ساجد
ایک دور تھا جب نیند نہ آنے کی شکایت دو قسم کے افراد کو ہوتی تھی۔شاعر کو اور عاشق کو ۔شاعر شعر کہنے میں رات گزار دیتا تھا اور عاشق ستارے گننے میں اس سے یہ فائدہ ہوا کہ دو قسم کے مضامین متعارف ہو گئے شماریات اور اختر شماریات۔ملکی سائنس کو بھی عاشقوں کی شب بیداریوں سے بہت فروغ حاصل ہوا لیکن رفتہ رفتہ نیند نہ آنے کی شکایت عام ہونے لگی اور جوں جوں مشینی زندگی انسانی زندگی میں داخل ہوتی گئی۔

نیند نہ آنا یا آکر چلے جانا یا آتے آتے رہ جانا ایک روزمرہ کا معمول بن گیا اب تو خیر سے نیند نہ آنا فیشن میں شامل ہے۔
بعض لوگ خود کو جب کسی طرح بھی دانشور ثابت نہیں کر پاتے تو بے خوابی یا کم خوابی کا بہانہ لیکر بیٹھ جاتے ہیں اور پوری رات کی روداد سنانے لگتے ہیں مخاطب سنتے سنتے تنگ آجاتاہے۔

(جاری ہے)


”تو صاحب !جب رات کے بارہ بجے․․․․․“وہ صاحب ڈرامائی انداز میں اپنی بے خوابی کی درد ناک داستان سناتے ہوئے کہتے ہیں۔


”تو میں نے اٹھ کر ایک گلاس پانی پیا․․․․کلی کی․․․․․․پلنگ کے گردپشت پر ہاتھ باندھ کر ٹہلنے لگا۔اتنے میں آسمان پر نظر پڑی تو کیا دیکھتا ہوں کہ کہ لاکھوں اربوں ستارے ٹمٹمارہے ہیں اور پلکیں جھپک جھپک کر مجھے حیرت سے دیکھ رہے ہیں اسی وقت خیال آیاکہ اگر ستارے ناطق ہوتے ․․․․بول سکتے․․․․تو ضرورمجھ سے مخاطب ہوکرکہتے۔
”بھائی صاحب:اب آپ سوجائیں ۔

گردش کا کام ہم پر چھوڑ دیں یہ ہمارا شعبہ ہے اس میں آپ دخل درمعقولات نہ فرمائیں۔“
آپ تنگ آکر مخاطب سے جان چھڑانے کے لیے کہتے ہیں ۔پھر غالباً رات کا ایک بج گیا ہو گا اور آپ کو نیند آگئی ہو گی۔“
”ارے نہیں صاحب․․․․“وہ بڑے جھنجھلائے ہوئے انداز میں بتاتے ہیں․․․․․
”ابھی کہاں․․․․․ابھی تو سمجھئے میں نے رات کے بارہ بج کر نومنٹ تک کی داستان آپ کو سنائی ہے اصل کہانی تو آگے آرہی ہے․․․․“
”اصل کہانی․․․․․“آپ حیرت میں پڑجاتے ہیں․․․․“
”جی ہاں․․․․․“وہ صاحب بے حد نہال ہو کر کہتے ہیں ۔

جب ٹہلتے ٹہلتے میرے پاؤں دکھنے لگنے تومیں بک شلف کے پاس گیا ۔اور میں نے شماریات کی ایک کتاب نکالی․․․․․پھر ایک گلاس پانی پیا اور کتاب پڑھنے لگا۔ساتھ ساتھ اہم نوٹس بھی لیتا گیا۔ذرا ٹھہرئیے۔میں وہ نوٹس آپ کو پڑھ کر سناتا ہوں۔“یہ کہہ کر جیسے ہی وہ اپنا بریف کیس کھولتے ہیں یکا یک آپ کو دیر سے رکاہوا کوئی ضروری کام یاد آجاتاہے اور آپ نہایت شائستگی کے ساتھ منظر سے غائب ہو جاتے ہیں۔


یہ اور بات کہ جب آپ رات کو معمول کے مطابق اپنے بستر پر جاتے ہیں تو ان صاحب کی باتیں یاد کرتے ہی آپ کی نیند اچاٹ ہوجاتی ہے۔یا تو آپ اختر شماری کرتے ہیں یا شماریات کی کوئی کتاب ڈھونڈنے لگتے ہیں ۔تاکہ مناسب نوٹس تیار کرکے جواب آں غزل کے طور پر اگلے دن ان صاحب کی خدمت میں پیش کردیں۔
ڈاکٹر وضع دار لوگ ہوتے ہیں دلوں کو ٹانکے تو لگادیتے ہیں دل توڑتے کبھی نہیں۔

لہٰذا وہ نیند نہ آنے کا سبب معدے کی خرابی بتاتے ہیں ۔حالانکہ نیند نہ آنے کا سبب معدے کی خرابی سے زیادہ دماغ کی خرابی ہے دل کے شاعرانہ امراض بھی اسباب میں شامل سمجھئے۔لیکن شاعر نے زیادہ زور دماغ پر دیا ہے مثلاً غالب کا یہ مصرعہ
کہتے ہیں جس کو عشق خلل ہے دماغ کا
دراصل یہاں عشق سے مر اد عشق نہیں بے خوابی ہے شاعر چونکہ لطیف انداز میں اظہار کے عادی ہوتے ہیں لہٰذا انہوں نے عشق کو بے خوابی سے جورڑدیا ہے ہمارے ایک دوست کا کہنا ہے کہ نیند نہ آنے کی صورت میں قطعاً کسی ڈاکٹر سے مشورہ کرنے کی ،دوائیں کھانے کی ،یااور کوئی جتن کرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔

ایک دن ہم نے ان سے پوچھ ہی لیا․․․․“
”پھر کیا کرنا چاہیے․․․․“
انہوں نے نہایت تاسف انگیز انداز میں ہماری طرف دیکھا بولے․․․
”آپ میری بات نہیں سمجھے۔بھئی الٹی سیدھی دوائیں لے کر اپنا عصابی نظام خراب کرنے کا فائدہ نہیں نیند آتی تو مت سوئیے۔کون سی قیامت ٹوٹ پڑے گی۔
”اگر مسلسل نیند نہ آئے تو پھر․․․؟“ہم نے احتیاطاً پوچھ لیا۔

وہ فیصلہ کن انداز میں بولے۔”تو پھر جاگتے رہیے کیا ضرورت ہے سوکر چار چھ گھنٹے ضائع کرنے کی۔یہی وقت ہم کسی نیک کام میں لگائیں تو خود سوچئیے ترقی کی دوڑمیں ہم کہاں سے کہاں پہنچ جائیں گے۔“
ہم نے انہیں یاد دلایا․․․․”اللہ میاں نے دن کام کے لیے اوررات آرام کے لیے بنائی ہے۔“فوراً بول اٹھے۔
آرام سے ہیں وہ جو تکلف نہیں کرتے
آپ بھی نیند کا تکلف چھوڑ دیجئے۔

ویسے بھی زندہ اقوام کے افراد کو ذہنی طور پر ہی نہیں جسمانی طور پر بھی بیدار رہنا چاہیے۔کیا پتہ کس کام میں ان کی ضرورت پڑجائے۔“
میر تقی میرکے مطالعے کے بعد ہم اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ نیند انہیں بھی نہیں آتی تھی صرف جاگتے ہی نہیں تھے جاگتے بھی تھے کیا خوب فرمایاہے۔
جو اس زور سے میر روتا رہے گا
تو ہمسایہ کاہے کو سوتا رہے گا
اس شعر سے ثابت ہواکہ قوم کی بیداری میر کے زمانے میں بھی خاصی اہمیت کی حامل تھی۔

اقبال نے تو خیر قوم کی خودی کو بیدار کیا میر صاحب نے تو پورے محلے کو سر پڑاٹھالیا مقصد یہ تھا کہ نیند ہمیں نہیں آتی تو ہمسائے کو کیا حق پہنچتا ہے کہ وہ آرام سے سوئے حالی اور اقبال نے درس خودی دے کر قوم کو بیدار کیا میر صاحب نے تھیوری کو پریکٹکل میں بدل دیا۔غالب نے خواب آور دوائیوں کی بجائے ایک اور نسخہ پیش کیاہے۔
نیند اس کی ہے دماغ اس کا ہے راتیں اس کی
جس کے شانوں پر تری زلفیں پریشاں ہو گئیں۔

Your Thoughts and Comments