Neher Wale Pul Tey

نہر والے پُل تے

جمعہ نومبر

Neher Wale Pul Tey
اعتبار ساجد
کھچا کھچ بھری ہوئی ویگن ،گرمی ،حبس،دھوپ ،بعض سواریوں کی آزادانہ سگریٹ نوشی اور اس عالم میں ویگن کے ٹیپ ریکارڈ ر کی چیختی چنگھاڑتی آواز
سانوں نہر والے پل تے بلا کے․․․․․․
ہمارے قریب بیٹھے ہوئے ایک بزرگ نے کانوں پر دونوں ہاتھ رکھ کر ایسا منہ بنا رکھا تھا گو یا کونین مکسچر کی ایک پوری بوتل ابھی ابھی حلق سے اتاری ہے۔ایک نوجوان ہماری بغل میں گھستا ہوا اپنے گھٹنے کی بجائے ہمارے گھٹنے پر تال دے رہا تھا۔

ایک صاحب کی ٹوپی ردم کے ساتھ ہل رہی تھی۔آگے بیٹھی ہوئی زنانہ سواریوں کے سر جڑے ہوئے تھے اور کھسر پھسر ہورہی تھی۔ایک بڑے میاں اپنی چھڑی اگلی سواری کی ٹانگوں پر الجھا کر اپنی طرف کھینچ رہے تھے اور بار بار لاحول پڑھ رہے تھے۔اچانک ایک جمپ آیا۔

(جاری ہے)

ہمارے سر چھت اور ایک دوسرے سے ٹکرائے۔ٹیپ کی آواز اور اونچی ہو گئی۔
جھلا کر بڑے میاں بولے۔

”بھئی آہستہ کر و یہ آواز․․․․․کیا مذاق ہے۔“
کنڈکٹر نے بھوئیں سکیڑ کر بڑے میاں کی طرف دیکھا ضرور․․․․کچھ کہا نہیں ۔اس پر وہ بگڑ گئے۔”میں کہتا ہوں آہستہ کرویہ آواز۔“
کنڈکٹر نے انکار میں سر ہلا دیا۔بولا۔”یہ آواز آہستہ نہیں ہو سکتی پہلوان جی۔“
بڑے میاں سینک سلائی آدمی تھے۔ایک تو انہیں پہلوان جی کے خطاب پر فوری غصہ آیا۔

دوئم اپنی بات کے ردکئے جانے پر تلملا گئے۔چیخ کر بولے ۔”کیوں نہیں ہو سکتی یہ آواز آہستہ۔“
کنڈکٹر نے مضحکہ اڑانے والے انداز میں ان کی طرف دیکھا۔بولا۔”کہہ جو دیا کہ نہیں ہو سکتی۔کیوں میرے مگر پے گئے او۔“
ہمارے بغل میں گھسا ہوا نوجوان رینگ کر اپنا سر باہر نکالتے ہوئے بولا۔”آخر کوئی وجہ؟“
کنڈکٹر اپنے ماتھے پر ہاتھ مار کر زچ ہو جانے والے انداز میں کہنے لگا۔

”ٹیکنیکل خرابی ہے جی۔آواز نیچی بھی کروتو پھر اونچی ہو جاتی ہے۔“
اب ہم نے بھی مداخلت کی۔”تو پھر بند کر دو ناں اس گیت کو؟“
”کیوں بند کر دیں جی․․․․․“اب کنڈکٹر کے ساتھ ہی ڈرائیور نے بھی چلا کر کہا۔
”ٹیپ اپنے شغل میلے کے لیے لگا رکھی ہے ۔میوزک نہ ہوتو بندہ بور ہو جائے۔“
بڑے میاں بولے۔”میاں،یہ اپنا شغل میلہ اپنے گھرمیں کیا کرو۔

سفر میں سواریوں کو تنگ نہ کیا کرو۔“
اس پر ڈرائیور نے ایک دم سے بریک لگائے۔گرج کر بولا۔”اوئے زبان سنبھال کر بات کراوئے بابے۔گھر شرتک نہ پہنچ۔“
ہمارا بغلی نوجوان ہڈکاٹھ کا مضبوط تھا فوراً بڑے میاں کی حمایت کے لیے میدان میں آگیا۔دھارنے والے انداز میں بولا۔”اوئے تمہیں تمیز نہیں بڑے سے کیسے بات کی جاتی ہے۔“
ڈرائیور نے پوری بریک لگا کر انجن بند کر دیا۔

مڑ کر بولا۔”اوئے سکھاؤں تجھے تمیز۔“
نوجوان آستین چڑھا کر بولا۔”باہرنکل اوئے بد معاش ۔“
ہم نے بیچ بچاؤں کرانے کی کوشش کی لیکن نوجوان خاصے جوش میں تھا۔ادھر ڈرائیور اچھل کرویگن سے باہر آگیا تھااور اپنے بالکے کی معیت میں کھڑا چنگھاڑرہا تھا۔پل بھر میں پیچھے ٹریفک کارش ہوگیا۔ ڈرائیور اور کنڈکٹربرادری ،سواری برادری ،اسٹوڈنٹ برادری اور تماشائی برداری ۔

ساری برادریاں جمع ہو گئیں۔ہاتھ پائی اور مارپیٹ تک نوبت پہنچ گئی۔ایک ٹریفک سارجنٹ اپنی موٹر سائیکل پھٹپھٹا تا ہوا جائے وار دات پر پہنچا۔مجمع نے اس کی موٹر سائیکل کی گھڑرر گھڑررشوں شوں کو امدادی کمک سمجھ کر نعرہ ہائے تحسین بلند کئے۔
”لے بھئی قانون پہنچ گیا ہے۔“ایک ریڑھی والے نے اپنی ر یڑھی پیچھے کھسکاتے ہوئے اپنے ساتھی کو اطلاع کی۔

”ہن کھڑا ک ہو وے ای ہووے۔“
بڑے میاں تو بھیڑ میں کہیں روپوش ہو گئے۔نوجوان جوش میں بھرا ہوا سارجنٹ کے پاس پہنچا۔”دے آرکلنگ می۔“کہہ کر اس نے بات کا آغاز کیا اور آدھی اردو،آدھی پنجابی اور آدھی انگریزی کی کاک ٹیل بنا کر اپنی روداد سارجنٹ کی خدمت میں پیش کی ۔ہم نے اور ہمارے ساتھ دو ایک سواریوں نے بھی نوجوان کے بیان کی تصدیق کی اور اس بات پر سخت احتجاج کیا کہ گاڑیوں میں ریکارڈنگ کی ممانعت کے باوجود ڈرائیور اور کنڈکٹر حضرات اپنی من مانی کرتے ہیں اور قانون کی دھجیاں اڑاتے ہیں۔

سمجھانے کی کوشش کروتو مرنے مارنے پر تل جاتے ہیں۔لہٰذا اس کا کوئی پکا بندوبست ہونا چاہیے۔آخر ویگنوں اور بسوں میں سفر کرنے والی خواتین کا کیا قصور ہے کہ انہیں بغیر کسی فرمائش کے ،زبردستی فضول اور لچر فلمی گیت سننے کو ملیں ۔سفر بہر حال سفر ہوتا ہے ۔کوئی پکنک پارٹی یا جنج پارٹی تو نہیں ہوتا۔پھر کیا خبر کہ کون کس عالم میں سفر کررہا ہے۔

آیا کسی کا کوئی عزیز فوت ہو گیا ہے،کوئی بچہ بیمار ہے،کسی نا گہانی مصیبت کا سامنا ہے کوئی قلبی اور روحانی پریشانی ہے۔
ہماری باتیں سن کر سارجنٹ سر ہلاتا رہا۔بیچ بیچ میں کہتا بھی رہا۔”وہ تو ٹھیک ہے جی مگر۔“اس مگر کے آگے کسی نے اسے بولنے نہیں دیا۔کئی بار اس نے کہا۔”وہ تو جی ٹھیک ہے مگر۔“
جب سواریوں کی شکایت طول کھینچنے لگی۔ٹریفک کارش اور لوگوں کا ہجوم بڑھنے لگا۔

گاڑیوں کے ہارن بار بار صدادینے لگے تو اس نے آخری بار سامعین سے مخاطب ہو کر کہنے کی کوشش کی۔”وہ ٹھیک ہے جی مگر۔“اس کے ساتھ ہی اس نے ڈرائیور کے کندھے پر بڑے پیار،بڑی اپنائیت سے ہاتھ رکھا ۔محبت بھری را زدار نظروں سے اسے گھورا․․․․کھنکھار کر گلا صاف کیا۔کہنے لگا۔”یارفضل دین۔سواریوں کا ذرا خیال کیا کر․․․․جا میری جان رب راکھا․․․․آئندہ خیال رکھنا۔


ڈرائیور ہنسا․․․․․اس کے گلے میں بازوڈال کر بولا۔”تا بعدار ہوں باچھا ہو․․․․بس آپ حکم کریں شاہ جی۔ویسے آپ کی کیسٹ میں نے ابھی نہیں دینی۔اگلے پھیرے میں دوں گا۔ابھی آدھی سنی ہے۔“
پھر وہ مسافروں پر تحقیر آمیز اچٹتی سی نگاہ ڈال کر کنڈکٹر سے مخاطب ہوا․․․․”چل اوئے ماجے․․․․سواریوں کو اندر بٹھا․․․․دیر ہورہی ہے۔“
اپنی اپنی منزلوں کا پورا کرایہ دے چکنے والی سواریاں ایک ایک کرکے پھر اندر آگھسیں۔

ان میں پر جوش نوجوان بھی تھا جو سر ہماری بغل میں حسب سابق گھسیڑ کر منہ ہی میں بڑ بڑا رہا تھا۔البتہ بڑے میاں اپنی چھڑی سمیت غائب تھے۔
ویگن اسٹارٹ ہوئی تو کنڈکٹر نے دروازہ بند کرکے پکارا۔”ٹاپوٹاپ استاد جی․․․․․جانے دو․․․․ڈبل ہے․․․․․“
ڈرائیور نے ویگن کی اسپید بڑھاتے ہوئے ڈیش بورڈ کا بٹن دبایا ۔پورے زور وشور کے ساتھ موسیقی کی تانیں پھر ہر طرف پھیل گئیں۔
سانو ں نہر والے پُل تے بلا کے!

Your Thoughts and Comments