Nikka Mochi Wadda Mochi

”نکا موچی․․․․․․وڈاموچی“

حافظ مظفر محسن پیر جولائی

Nikka Mochi Wadda Mochi
اے ڈی سیٹھ جب بھی بیرونی دورے سے واپس آتا ہے تو اسے ہماری تلاش ہوتی ہے ۔شاید اس لیے کہ ہم اس کی باتیں (پھڑ بازی)سب سے زیادہ غور سے سنتے ہیں․․․․․فرماتے ہیں کہ تم میں صرف ایک ہی خوبی ہے کہ تم دو بور لطیفے سننے کے بدلے میں تین لطیفے سنانے نہیں بیٹھ جاتے․․․․․ویسے جس قدر اب تک تم ہمیں بور لطیفے سنا چکے ہو․․․․․ہمیں حق حاصل ہو چکا ہے کہ ہم تمہیں کم از کم ادھار چکانے کے لیے ایک ہزار لطیفہ سنائیں ،ہم نے وضاحت کی․․․․․جاپان سے واپسی پر بھی موصوف نے ہمیں گھیر لیا۔


یار․․․․․وہ جاپان میں”مرغی کا انڈا“چار سو روپے میں ملتا ہے؟۔کیا جاپان میں بھی روپے چلتے ہیں،ہم نے دریافت کیا تو غصے میں بولے”تم کو کیا پتہ تمہاری فلائٹ زیادہ سے زیادہ بدوملہی تک گئی ہے․․․․
چک جھمرہ ریلوے اسٹیشن ،تمہاری آخری منزل ہے۔

(جاری ہے)

میں نے جاپانی کرنسی کا پاکستانی کرنسی سے موازنہ کرکے یہ چار سو روپے انڈے والی بات بتائی ہے․․․․․تو گو یا آپ پندرہ سو روپے روز کے جاپان میں انڈے ہی کھا جاتے رہے؟۔

ہاں اب سمجھے تم(امیر آدمی کو اپنی دولت کی باتوں یا شیخی بازی سے بھی دوسروں کو متاثر کرکے بڑا مزہ آتاہے)۔
پھر فرمانے لگے کہ بسلسلہ کاروبار ہمیں ایک ٹاؤن چاجی جھوٹی جانا پڑا․․․․جہاں ہمیں قلم بنانے والی فیکٹری کے مالک ”نکا موچی“سے ملنا تھا۔اے ڈی سیٹھ یہ مسٹر نکا موچی نے قلم بنانے کی فیکٹری کیوں لگائی اسے تو جوتوں کی فیکٹری لگانی چاہیے تھی؟۔

خوب ہنسے اور پھر فرمایا․․․․جب میں فیکٹری کے مین آفس گیا تو میں نے گیٹ پر اپنا تعارف کرایا تو لاہور کے چائنیز ر یسٹورنٹ کے مالک مائیکل جیسی شکل والا ایک ”لڑکا “جلدی سے آگے بڑھا اور بغیر کسی تعارف کے خود ہی بول پڑا․․․․․”تم مسٹر سیٹھ ہو پاکستان سے ناں․․․․․و ہ مسٹر نکا موچی تو دوسرے شہر گئے ہیں․․․․․تمہاری ان سے ملاقات کا وقت 9بجے
کا تھا ۔

جب کہ اب تین بج رہے ہیں․․․․․جسب معمول تم لیٹ ہو․․․․اور ہم مصروف․․․․․اومیاں مجھے لگتا ہے ہمارے لاہور میں ”ہانگ کانگ چائنیز ریسٹورنٹ کے مالک سے تیری رشتہ داری ہے․․․․․“میں نے یونہی تعلقات بہتر بنانے کے لیے بات کی تو وہ سیکورٹی گارڈ ٹائپ”لڑکا“مسکراتے ہوئے بولا․․․․مسٹر سیٹھ میں لاہور نہیں کر اچی میں ایک چینی ڈینٹل سرجن کے پاس ملازم رہ چکاہوں لیکن تیس سال پہلے․․․․․؟”ہائیں․․․․․“تیس سال پہلے․․․․․میرا منہ کھلارہ گیا کیونکہ میں تو اسی دو تین بار لڑکا سمجھ کے بیٹا بیٹا کہہ چکا تھا شکر ہے ․․․․․․اسے پنجابی زبان سمجھ نہیں آتی تھی ورنہ میں اسے داداجان․․․․دادا جان کہہ کر بدلہ اتار دیتا۔

اس سابقہ کراچی والے نے (بیان کردہ تعارف کے بعد میں نے اس کانا م چوچی کراچی والا رکھ دیا تھا)․․․․․خوشی خوشی بتایا کہ گھبرائیے مت مسٹر نکا موچی چار بجے تک واپس پہنچ رہے ہیں․․․․یار چوچی کراچی والے․․․․تم نکا موچی کی عدم موجودگی میں ہمیں”وڈا موچی “سے ملوادو۔ہاہا․․․․․ہاہا․․․․وہ زور زور سے ہنسا ․․․․․”وڈا موچی․․․․․‘ ‘اس نام کا یہاں تو کوئی نہیں البتہ آپ کو بتایا ہوا یہ نام مجھے پسند آیا ہے اور میں اپنے بیٹے سے کہوں گا کہ میرے پوتے کی ولادت پروہ اس کا نام”وڈا موچی‘’رکھ دے۔


مجھے اپنے محلے کاغلا محمد موچی یاد آگیا کہ غربت اور تنگ دستی کے باوجود اس نے اپنے بیٹے طاہر کوخوب محنت سے پڑھایا لکھایا․․․․․․یہاں تک کہ ایف۔ایس سی میں اس کے بہت اچھے نمبر آنے پر اسے کنگ ایڈور ڈمیڈیکل کالج میں داخلہ مل گیا۔شرو ع شروع میں تو طاہر اپنے گھر ہی رہا مگر بعد میں اسے موچی کا بیٹا کہلانا پسندنہ آیا تو اس نے ٹیوشن پڑھانا شروع کر دی اور میڈیکل کالج کے پاس ہی کہیں کرایے کا کمرہ لے کر رہنے لگا۔

باپ ماں اور بھائی بہنوں نے بہت منت سماجت کی کہ موچی کا بیٹا ہونا کوئی عیب نہیں مگرو ہ نہ مانا اور آہستہ آہستہ یہ دوری زیادہ بڑھ گئی۔غلام محمد موچی کی بیوی نے ایک دفعہ مجھے بتایا کہ محسن بیٹا آخری دفعہ میں جب چند سال پہلے اسے ملنے گئی تو میں نے اپنے ہاتھ سے چوری بنائی کہ میرا بیٹا شوق سے کھائے گا،لیکن جب میں نے ٹفن کھول کر طاہر کے آگے چوری رکھی․․․․تو اس نے اٹھا کر گندگی والی ٹوکری میں ڈال دی اور بولا․․․․ماں یہ ان ہائی جینک چیزیں میں نہیں کھاتااب۔


پھر طاہر ڈاکٹر بن گیا اور وہاں بھی اچھی پوزیشن لینے کے بعد اس نے ہڈی جوڑ میں سپیشلائز کر لیا ،وہیں سے ایک اعلیٰ آفیسر کی بیٹی سے عشق کیا اور شادی بھی ہو گئی․․․․․پھر تو اس نے محلے داروں سے بھی تعلق ختم کر لیا۔ہاں شفیق بخاری سے اس نے تعلق قائم رکھا،کیونکہ وہ بھی اعلیٰ سر کاری آفیسر بن چکا تھا۔
ایک شام میں گھر میں بیٹھاٹی وی دیکھ رہا تھا کہ دروازے پر گھنٹی زور سے بجی ․․․․․میں نے جلدی سے دروازہ کھولا تو غلام محمد موچی کا چھوٹا بیٹا گھبرایا ہوا کھڑا تھا․․․․․ہاں بھئی ناصر خیر ہے․․․․․؟۔

نہیں حافظ صاحب ․․․․․ابا جان سیڑھی سے اترتے ہوئے گر گئے ہیں اور ان کی ٹانگ ٹوٹ گئی ہے۔
ہم سب محلے دار بھا گم گھاگ غلام محمد موچی کے گھر گئے․․․․․وہ درد سے چیخ رہا تھا ․․․․مگر آنکھوں سے مسکراہٹ جھانک رہی تھی․․․․پندرہ بیس لوگ موجود تھے․․․․․چاچا جی سروسزہسپتال چلتے ہیں․․․․․میں نے مشورہ دیا․․․․”ناں ناں․․․․ناں پترناں“اس نے کراہتے ہوئے انگلی سے اشارے سے روکا․․․․کیوں چاچا جی ہسپتال کیوں نہیں؟۔


میں نے پھرپوچھا محسن بیٹا․․ ․․․شہر کے کسی بھی ہسپتال میں مجھے مت لے جانا․․․․․․
وہاں کہیں میرا ڈاکٹر بیٹا طاہر نہ ہو اور میری ڈاکٹر بہو ہی نہ وہاں مل جائے اور لوگوں کو پتہ نہ چل جائے کہ یہ غلام محمد موچی ،ڈاکٹر طاہر کا باپ اوہڈی جوڑ کی سپیشلسٹ ڈاکٹر کا سسر ہے ․․․․ہم نے چاچے غلام محمد کو گاڑی میں ڈالا اور دھرم پورہ کی ”ہڈی توڑ جوڑ“مارکیٹ میں لے گئے وہاں ایک جراح نے چاچے غلام محمد کا ”آپریشن “کرکے پلستر فٹ کر دیا۔

جب ہم واپس آرہے تھے تو مجھے یاد آیا کہ اس شریف آدمی کا بیٹا․․․․․اس شہر میں ہڈی جوڑنے کاماہرہے مگر ہم چاچے غلام محمدکی ٹانگ پر ایک اناڑی سے ”پلستر فٹ“کرارہے ہیں۔نہ جانے”نکا موچی “کب اپنے باپ کی یہ خطامعاف کرے گا کہ اس نے موچی کا پیشہ کیوں اپنا یا تھا․․․․․؟۔حالانکہ نکا موچی خود بھی اب ”وڈا موچی “بن چکا ہے۔

Your Thoughts and Comments