Raaye Aama Zehreela Sanp

رائے عامہ زہریلا سانپ

بدھ نومبر

Raaye Aama Zehreela Sanp
سید عارف نوناری
جہاں سیاست کا ذکر آتا ہے وہاں رائے عامہ کا ذکر بھی ضرور آتا ہے رائے عامہ سیاست میں جہاں نکھار پیدا کرتی ہے وہاں اس کے اثرات منفی و مثبت دونوں قسم کے ہوتے ہیں سیاست میں حصہ لینے کے لئے رائے عامہ کا سہارا لینا پڑتا ہے بلکہ رائے عامہ کو آپ ایک ایسا ہتھیار کہہ سکتے ہیں جو کسی ایٹمی ری ایکٹر سے کم نہیں۔اگر دیکھا جائے تو ہمیں معلوم ہوتا ہے اور تاریخ بھی گواہ ہے کہ باقی اشیاء کا رد عمل ختم ہو جاتا ہے لیکن رائے عامہ کے اثرات دیرپا ہوتے ہیں یہ اثرات ماحول میں تبدیلی یا حالات میں تبدیلی کے سبب تبدیل ہوتے ہیں۔

رائے عامہ کا تصور بہت قدیم ہے لیکن سیاسی شعور میں پختگی نہ ہونے کے سبب ہم اس تصور سے بے خبر رہے۔وقت اور سیاسی تقاضوں کے ساتھ ساتھ اس نے اپنا احساس اور اہمیت واضح کرنا شروع کر دی۔

(جاری ہے)

اگر ہم رائے عامہ کے کردار پر ترقی یافتہ ممالک پر نظر ڈالیں تو وہاں بھی اس کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا ہے جہاں لوگوں میں سیاسی شعور ہوتا ہے وہاں سیاست اور اس میں رائے عامہ کے حصہ پر بحث کی جائے تو پتہ چلتا ہے کہ پاکستان کی سیاست کا دارومدار رائے عامہ کی تبدیلی پر ہے پاکستان کے لوگوں میں اگرچہ سیاسی سوجھ بوجھ ہے لیکن ان کے نظریات میں سیاسی مضبوطی نظر نہیں آتی۔


پاکستان میں رائے کو عامہ میں لاکر اس سے کئی طریقوں سے ناجائز فائدے اٹھائے جاتے ہیں لوگوں کو سیاسی حقائق سے جس حد تک ہو سکے دور رکھا جاتا ہے۔اس طرح عوام میں سیاسی تربیت کے جذبات بھی کم ہو جاتے ہیں اور لوگوں میں بعض اوقات شکوک و شبہات بھی پیدا ہو جاتے ہیں ۔سیاست کا اصول ہے کہ عوام کو دھوکہ میں رکھا جائے۔اصل حقائق پر پردہ پوشی کا غلاف چڑھایا جاتا ہے۔

پہلے رائے عامہ کو ہموار کرنے کے لئے ذرائع مو اصلات نشر و اشاعت بہت کم تھے پھر بھی رائے کو عامہ میں بدلنے کے لئے بہت سے طریقے اپنائے جاتے تھے لوگوں کو سیاسی حالات سے آگاہی کے لئے مختلف قسم کے افراد اپنا کردار ادا کرتے۔پاکستان میں حکومت ذرائع نقل و حمل ونشر و اشاعت کو اپنی پالیسی کے تحت استعمال میں لاکر اپنی حکومت کی مضبوطی و استحکام کے لئے ہمہ وقت مصروف رہتی ہے۔

بعض ملکوں میں ذرائع ابلاغ مختلف واقعات کو اس طرح بیان کرتے ہیں کہ غیر حقیقی رنگ دینے میں کامیاب رہتے ہیں۔
نواز شریف کا اپنا علیحدہ ٹیلی ویژن اسٹیشن بنانے کا مقصد بھی یہی ہے۔پاکستان کی سیاست کا اگر تجزیہ کیا جائے تو یہ کہنا بے جا نہ ہے کہ سیاست محض کاروباری سطح پر آتی ہوئی نظر آرہی ہے اور مزید بھی آجائے گی۔اگر ذرائع رائے عامہ کو محدود کر دیا جائے یا ان کا استعمال موزوں و مناسب اوقات کے ساتھ ساتھ انصاف کے تقاضوں کے مطابق کیا جائے تو پھر سیاست میں مخلصی نظر آنے کے امکانات روشن ہوتے ہیں۔

پاکستان کے اخبارات خاص طور پر اس معاملہ میں دیانت داری سے کام نہیں لیتے ہیں وہ حقائق سے پردہ اٹھانے میں ناکام نظر آرہے ہیں یعنی ہم کہہ سکتے ہیں کہ صحافت اور صحافی کا قلم کبھی بھی آزادانہ طور پر حرکت نہیں کر سکتا بلکہ وہ زنجیروں میں جکڑا رہتا ہے۔ جب اخبارات کا یہ حال ہو تو رائے عامہ کے اثرات مثبت نہیں بلکہ منفی پڑتے ہیں۔ترقی یافتہ ممالک میں بھی پریس کا کردار رائے عامہ کے متعلق اتنا واضح نہیں ہے لیکن پاکستان کی نسبت پھر بھی بہتر ہے اگر ذرائع نشر و اشاعت غلط انداز میں استعمال ہوں تو سیاسی شعور کے باعث لوگ اصلیت کو ظاہر کرنا شروع کر دیتے ہیں۔


اب سوچنے کی بات یہ ہے کہ پاکستان میں رائے عامہ کو ہموار کرنے اور اپنے حق میں لانے کے لئے موجودہ حکومت اور آئندہ حکومتیں ایسے ہی ہتھکنڈے استعمال کرتی ہیں۔یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں جس حکومت نے بھی اپنے قدم مضبوط کرنے کے متعلق سوچا اس نے سب سے پہلے رائے کو عامہ میں لانے کے لئے اپنی پہنچ کے مطابق تمام ذرائع بروئے کار لاکر لوگوں کو اصلیت سے بہت دور رکھا۔

1958ء میں ایوب کا دور آیا۔1969ء میں دور ایوب کا خاتمہ ہوا‘1977ء متحدہ محاذ۔یہ سب واقعات اس بات کا ثبوت ہیں کہ ان کا واقع ہونا رائے عامہ میں تبدیلی کے باعث تھا۔رائے عامہ ہر میدان میں اپنی اہمیت کو واضح کرنے میں کامیاب رہی ہے۔پہلے ادوار میں رائے عامہ کو پھلنے پھولنے کے مواقع کم ملتے تھے۔رائے عامہ کو مدنظر رکھ کر ضیاء الحق کے دور کو پرکھا جائے تو وہ رائے عامہ کو اپنے حق میں مسلسل رکھنے کے لئے اسلامی نظام کے نفاذ کا دعویٰ کرکے حکومت کو طول دینے میں کامیاب رہے۔

اگر رائے عامہ ان کے خلاف ہو جاتی تو اتنی دیر حکومت نہ کر پاتے۔
سیاست دنیا کے کسی کونے میں بھی صحیح نظر نہیں آتی ہے لیکن فرق نظر ضرور آتا ہے۔رائے عامہ کو سیاست کے لئے ہر ملک میں مختلف انداز میں اپنایا جاتا ہے۔کیا یہ ممکن ہے کہ پاکستان کی سیاست کو پاک و صاف کرنے کے لئے رائے عامہ کو بھی پاک و صاف کیا جائے۔ایسا ہونا اس صورت میں ممکن ہے جب حکومت میں سچائی کے عناصر پیدا ہو جائیں تو عوام سچائی کی طرف راغب ہوں گے لیکن یہ کیسے ہو۔

اس کے لئے سوچنا حکومت کا فرض ہی نہیں بلکہ عوام کی ذمہ داری بھی ہے کہ وہ رائے عامہ کی تحقیقی کرے کہ اس میں سچائی کے عناصر کہاں تک غالب ہیں لوگوں میں ایسے نظریات و خیالات یعنی صوبائی و مرکزی تعصبات کو رائے عامہ کی نظر سے دیکھا جائے تو نتیجہ سامنے ہے غلط رائے عامہ کے پرچار اور پریس کے منفی کردار نے ملک کو اس دوراہے پر لاکھڑا کیا ہے کہ یا تو رائے عامہ کو کچھ ایسے اقدامات کرنے چاہئیں کہ ملک کے حالات نارمل ہو جائیں۔

اس سلسلہ میں دونوں پر ہی فرائض لاگو ہوتے ہیں رائے عامہ بھی اس سلسلہ میں مثبت کردار کرنے میں کامیاب ہو سکتی ہے کیونکہ سیاست کا بگڑنا بننا رائے عامہ پر ہی ہے۔کسی طرح سے بھی سیاست میں سے رائے عامہ کو علیحدہ نہیں کیا جا سکتا ہے کیونکہ سیاست اور رائے عامہ لازم و ملزوم کی حیثیت رکھتے ہیں۔دنیا بھر میں رائے عامہ کی اہمیت و افادیت میں مسلسل اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔اور رائے عامہ اب عوامی سوچ کو تبدیل کرنے میں موٴثر ہتھیار بن گیا ہے۔رائے عامہ کے ہموار کرنے کے موٴثر طریقے دریافت ہو گئے ہیں اس کی مدد سے بڑی خوبصورتی سے حکومتوں کی تبدیلی ممکن ہو گئی ہے۔

Your Thoughts and Comments