Rawangi - Aik Purisrar Mission Per

”روانگی ․․․․․ایک پر اسرار مشن پر؟“

حافظ مظفر محسن منگل جولائی

Rawangi - Aik Purisrar Mission Per
وہ چہرے سے پر امید نظر آرہا تھا․․․․گھر کی بہو بیٹیاں پریشانی کی حالت میں اپنے بزرگ کو الوداع کرنے کے لیے گھر سے باہر آچکی تھیں۔چھوٹے بچے اپنے دادا کو بڑے غور سے دیکھ رہے تھے اور طرح طرح کے سوالات کا سلسلہ بد ستور جاری تھا۔رحمو باباسوال کا بڑا تسلی بخش جواب دے رہا تھا۔میرے ذہن میں طرح طرح کے سوالات سر اٹھا رہے تھے۔وہ لوگ بارہ بجے سے کھڑے تھے اور رحمو بابا اگر چہ اپنے اہل خانہ کے درمیان کھڑا گفتگو میں مصروف تھا مگر اس کی نظریں بار بار مشرق کی جانب اٹھ رہی تھیں۔

اسے شاید کسی کا انتظار تھا؟۔شاید وہ اس سفر پر جانے سے پہلے اپنے کسی نہایت قریبی عزیز سے لازمی مل کر جانا چاہتا تھا۔
”حالانکہ میں نے انیس بیٹے کو بتایا بھی تھا․․․․․مگر وہ ابھی تک نہیں آیا․․․․․نہ جانے کیوں؟“۔

(جاری ہے)

رحمو بابا کی بیوی نے مشرق کی طرف گلی کے موڑ پر نظریں جماتے ہوئے کہا․․․․․اس دوران رحمو بابا کے ایک پوتے نے آگے بڑھ کر گلاب کے پھولوں کا ایک ہار بابا کے گلے میں ڈالا اورماحول پر بجائے خوشی کے مزید اداسی چھا گئی․․․․ایسے میں رحمو بابا کی بہو بھاگم بھاگ گھر کے اندر گئی۔

سب نے اشاروں ہی اشاروں میں کچھ بات کی اور پھر سر گوشیوں میں مشغول ہو گئے۔
شاید رحمو بابا کونسلر کا الیکشن لڑنا چاہتا تھا اور وہ کاغذات نامزدگی داخل کرانے جارہا ہو؟۔میرے ذہن میں خیال آیا مگر پھر میرے سامنے رحموبابا کی خاندانی حیثیت اور شرافت کی ایک فلم سی گھوم گئی․․․․․․رحمو بابا اور اس کے خاندان میں سے کسی کو بھی”سیاست“کی بیماری نہیں․․․․ویسے بھی سیاست کا جراثیم ایڈز کے جراثیم سے کافی مختلف ہے ایڈز کا جراثیم تو دس سال تک چھپا بیٹھا رہتا ہے اور جب دل چاہے نمودار ہوتا ہے․․․․․اور مریض کو تہس نہس کر دیتاہے․․․․․مگر سیاست کے جراثیم تو پیدا ہوتے ہی اثر دکھاتے ہیں اورمسجد میں دکان پر ،محلے میں،یہاں تک کہ گھر میں بھی بندہ اپنی حرکات سے ثابت کر دیتا ہے کہ فلاں شخص ”سیاست زدہ“ہے اور لوگ سیاست کے مریض سے جان چھڑانے کی فکر میں رہتے ہیں․․․․․مگر جس سے دور کا بھی تعلق واسطہ نہ ہو،سیاسی مریض آگے بڑھ کر بغلگیر بھی ہو جاتا ہے اور ماں باپ کی صحت تک دریافت کرنے لگتا ہے خواہ ملاقاتی کے ماں باپ سا لہا سال پہلے وفات پا چکے ہوں!۔


پھر ایک دم سے میرے ذہن میں آیا کہ شاید رحموبابا حج پر جارہا ہو میرے سامنے 1967ء کا زمانہ آگیا کہ جب حج پر جانے کے لیے قرعہ اندازی ہوا کرتی تھی․․․․میں اس وقت پرائمری سکول میں پڑھتا تھا․․․․میں صبح صبح سکول جارہا تھا کہ مسجد کے مولوی صاحب اور دوسرے لوگ مجھے راستے میں روک کر مبارکباد دینے لگے۔میں نے اس فوری مبارکباددینے لگے۔میں نے اس فوری مبارکباد کا سبب پوچھا تو انہوں نے خوشی سے بتایا کہ تمہارے دادا جان کا نام قرعہ اندازی میں حج کے لیے نکل آیا ہے اور اس پورے علاقے میں تمہارے دادا جان اور دادی اماں واحد(بلکہ جمع)خوش نصیب ہیں کہ جن کا نام حج کے لیے قرعہ اندازی میں نکلا ہے۔


”ہم نے رات مسجد سے اعلان بھی کروایا تھا“․․․․․مولوی صاحب نے مجھے بتایا اور پھر میرے کان کے ساتھ منہ جوڑ کر آہستہ سے کہا۔
”انہیں کہنا آتے وقت مکہ مدینہ شریف سے میرے لیے کھجوریں ،آب زمزم اور”توپ “بھی لیتے آئیں۔“
”توپ“․․․․․میری ہنسی نکل گئی․․․․․مولوی صاحب”آپ“اور ”توپ“․․․․․مولوی صاحب نے میرا کان کھینچا ”ارے اُلو ․․․․․یہ”توپ“․․․․اس لمبی قمیض کو کہتے ہیں جو عرب میں لوگ پہنتے ہیں۔


اور نہ چاہتے ہوئے بھی کافی شرمندہ ہوا۔
مگر رحموبابا حج پر کیسے جا سکتاہے؟․․․․․یہ تو ربیع الاول کا مہینہ ہے!․․․․․․میری پریشانی بڑھتی جارہی تھی․․․․ شاید رحموبابا ویسے ہی سعودی عرب جارہا ہو․․․․”کمائی“کے لیے․․․․مگر ایک ستر سالہ شخص اس عمر میں سعودی عرب یا دبئی جا کر کیا کرے گا؟۔
میرے ذہن میں بڑی کشمکش تھی اور خواہ مخواہ کی پریشانی بھی مگر میں ٹھہرا!”مخصوص“قسم کا محلے دار․․․․․ یہ موجودہ حالات کا تقاضا ہے کہ محلے دار کو اپنے بچے کی خبر ہو نہ ہو وہ اپنے ہمسائے کے بچوں کی پل پل کی خبر رکھتاہے۔


اچانک ہر طرف خوشی کی لہر دوڑ گئی․․․․․رحمو بابا کے چہرے پر بھی پہلے سے زیادہ سرخی چھا گئی․․․․․ماحول میں خاصی”گرمی“پیدا ہو چکی تھی۔مشرقی سے میں نے رحمو بابا کے بیٹے کو آتے دیکھا۔”انیس “تیز تیز موٹر سائیکل چلاتا ہوا آرہا تھا۔
”اباجی“وہ اپنے باپ سے چمٹ گیا۔
”تو بھول گیا تھا․․․․․ میرے بچے․․․․کہ آج میں جاناہے“․․․․رحموبابا نے اس کے گال تھپتھپاتے ہوئے پوچھا۔


”نہیں اباجی․․․․․اصل میں نے آدھی چھٹی کے لیے اپنے افسر کو صبح ہی درخواست دے دی تھی مگر”داتا دربار“کے پاس ٹریفک روز کی طرح رُکی ہوئی تھی۔لوگ تو اب بھی ٹریفک کے ہجوم میں پھنسے ہوں گے․․․․․․مگر مجھے آپ کی تڑپ کھینچ لائی“۔
انیس جو ایک سست طبیعت آدمی ہے ،آج بھاگم بھاگ کام کررہا تھاجیسے آخری جائزہ لے رہا ہو سارے”انتظامات“کا۔


سب خاموش تھے․․․․․ایسے میں بھاگتی ہوئی رحموبابا کی بہو باہر آئی․․․․․اس کے ہاتھ میں ایک خوبصورت تھرما س تھی․․․․اس نے ادب سے ”تھرماس“رحموبابا کے ہاتھ میں تھمادی۔
”ابا جی․․․․ساڑھے پانچ بجے تھکاوٹ محسوس ہوتو اس میں چائے ہے،ضرور پیجئے گا۔اب لوگ ہاتھ ہلا ہلا کر رحمو بابا کو خدا حافظ کہہ رہے تھے۔رحموبابا بھی مسکرا مسکرا کر مگر کسی گہری سوچ میں گم اپنے بچوں کو ہاتھ ہلا ہلا کر پیار کا جواب پیار سے دے رہا تھا۔


یا اللہ خیر․․․․مجھ سے رہانہ گیا۔میری طبیعت دیدنی․․․․میں نے بڑھ کر انیس کو بلایا اور ایک طرف لے جا کر آہستہ سے پوچھا․․․․”انیس بھائی خیر ہے․․․․باباجی․․․․․․کہاں جارہے ہیں؟․․․․․دبئی یا سعودی عرب ؟۔ویسے امریکہ اور کینیڈا میں بھی آپ کی نئی نئی رشتہ داری ہوئی ہے۔
”ارے ارے․․․․․نہیں․․․․․نہیں محسن بھائی․․․․․․ابا جی تو”بجلی کابل ”جمع کرانے جارہے ہیں بنک میں․․․․“اور میں ”شرمندہ “ہو گیا․․․․․حالانکہ ”شرمندہ“تو واپڈا والوں کو ہونا چاہیے․․․․․مگر انہیں اس کی فرصت کہاں․․․․․”اس لوڈ شیڈنگ “کے زمانے میں؟۔

Your Thoughts and Comments