Rishkwat Ko Pakrain Kidher Ja Rahi Hai

رشوت کو پکڑیں کدھر جا رہی ہے

منگل نومبر

Rishkwat Ko Pakrain Kidher Ja Rahi Hai
سید عارف نوناری
وطن عزیز میں رشوت ستانی و بدعنوانی انتہا کو پہنچ چکی ہے اور حالات ایک عظیم بگاڑ کا نقشہ پیش کر رہے ہیں۔رشوت خور بدعنوان حکومتی اہلکاروں نے ظلم کی حد تک بالادستی قائم کر لی ہے اور اپنا تسلط قائم کر لیا ہے وہ قہر و غضب ڈھا رہے ہیں۔سائل مجبور عاجز ہو کر رہ گیا ہے اس کے لئے کوئی چارہ کار باقی نہیں رہا‘کوئی شنوائی نہیں‘شکایت بے معنی ہو چکی ہے رشوت خور عناصر عوام کی بوٹیاں نوچ رہے ہیں۔

ممکن ہوتا تو وہ بلا خوف و خطر سائلین کے خون کے مٹکے چوراہوں میں فروخت کرتے اور روپیہ کماتے۔ان پر کوئی گرفت نہیں۔
در حقیقت مرتشی اور مرشی کے مابین جرم کا توازن بگڑ چکا ہے ان میں زمین آسمان کا فرق آچکا ہے۔موجودہ حالات میں فقط راشی مجرم ہے۔ مجبور سائل ہر گز مرتشی نہیں رہا اور مجرم نہیں۔

(جاری ہے)


رشوت ستانی،بدعنوانی قومی و ملکی‘اخلاقی و معاشرتی اور اقتصادی و معاشی بلکہ تمام برائیوں کی جڑ ہے اسی لعنت کے سبب معاشرہ میں ہر طرح کی برائیاں پھیل رہی ہیں‘معاشرہ غیر انسانی ہو گیا ہے‘اب ظالم کو ہیرو کہا جاتا ہے‘اسی لعنت کی بناء پر ملکی خزانہ متاثر ہوا ہے‘قومی سیاست دگرگوں ہوئی ہے‘ملکی ترقی رکی ہوئی ہے اور افلاس بڑھ رہی ہے‘حقوق چھینے جا رہے ہیں‘جرائم بڑھ رہے ہیں‘اخلاقی اقدار پامال ہو رہی ہیں‘احساس جرم و گناہ نہیں رہا۔

تعیش کے سامان کی فراوانی‘تحفے تحائف‘جہیز دعوتیں مختلف رسم و رواج‘ٹھاٹھ باٹھ اور عالی شان عمارتیں تمام رشوت ستانی و بدعنوانی کی چکا چوند ہیں غریب عوام مایوس ہیں کہ گزر اوقات کیسے ہو اور سب سے بڑھ کر یہ کہ نئی پود جس نے آئندہ ملکی تعمیر کے لئے آگے آنا ہے اس لعنت سے مفاہمت کرتی جا رہی ہے ان میں احساس زیاں ختم ہوتا جا رہا ہے۔گو وطن عزیز کے ہر فرد کی آرزو ہے کہ یہ لعنت دور ہو جائے لیکن یہ موذی مرض بڑھتا ہی چلا جا رہا ہے اس کا کوئی علاج ہے نہ انتہا نظر آتی ہے۔

یہ ایک کرب ناک درد کی ٹیس ہے جو ہر آن مسلسل بڑھتی ہی چلی جا رہی ہے۔
ایسا معلوم ہوتا ہے کہ حکومتیں بھی مجبور ہیں تب ہی تو رشوت ستانی و بدعنوانی کی بیخ کنی کا تہیہ کئے ایوان اقتدار میں داخل ہوتی ہیں اور بصد حسرت و یاس مسند چھوڑ کر چلی جاتی ہیں لیکن کرپٹ ملی بھگت قائم رہتی ہے اسے کوئی گزند نہیں پہنچا پاتیں۔ کڑے مارشل لاء‘عوامی حکومتیں اور منتخب حکومتیں بھی اس لعنت کا سدباب نہ کر سکیں دراصل حکومتیں تو سخت ترین قوانین ہی پاس کر سکتی ہیں جو نفاذ کی خاطر پھر سے ملی بھگت کے کرپٹ ہاتھوں میں آجاتا ہے جہاں رشوت مزید بڑھ جاتی ہے اور مزید خرابی کا باعث ہوتا ہے۔

بڑے بڑے ایڈمنسٹریٹر‘دانشور‘مدبر‘ قانون دان اور علماء و فضلا بھی انگشت بدنداں ہیں وہ اس ابتر صورت حال کا جائزہ تو ضرور لیتے ہیں لیکن کوئی حل پیش نہیں کر سکتے وہ کبھی حکومت کو ذمہ دار گردانتے ہیں کبھی عوام کے عدم تعاون پر اظہار افسوس کرتے ہیں۔
ادھر قانون فطرت ملت کے گناہوں پر نظریں جمائے ہے اور ہم گھمبیر صورت حال سے نظریں چرائے ہلاکت کی سمت بڑھتے چلے جا رہے ہیں یہی نیرو کی بانسری بجانا ہے‘ہو سکتا تھا کہ فطرت کا ہلاک آفرین قانون ان بے راہ روبستیوں پر وارد ہو جاتا لیکن نہیں ابھی نہیں کیونکہ ابھی ان بستیوں کے مکینوں میں زندگی کی کچھ رمق باقی ہے‘دلوں میں برائی کے خلاف نفرت اور رد عمل کا جذبہ موجود ہے ان تاریکیوں میں حالات سے بیزاری کا ایک پلو شیدہ الاؤ جزن ہے‘نہی عن المنکر کے جذبات کی شمع روشن ابھی نہیں بجھی اور ولولہ ختم نہیں ہوا۔


اس لئے وقت انتظار میں ہے کہ عوام کب اٹھیں‘آنکھیں کھولیں اپنی سوچ میں تغیر پیدا کریں‘موقعہ کو غنیمت جانیں اور رشوت ستانی و بدعنوانی کے خلاف آہنی محاذ بن جائیں پھر حکومت سے مناسب قانون سازی کا مطالبہ کریں‘اپنی تجاویز پیش کریں اور دست تعاون بڑھائیں یوں اپنی تقدیر بدلنے کی جدوجہد کریں۔
حیرت ہوتی ہے کہ حکومت دانشوروں اور عوام جو تینوں ملک کی بڑی طاقتیں ہیں اپنے ہی مٹھی بھر ملازمین کے کرپٹ رویہ سے عاجز آچکی ہے اور کوئی راہ نجات نہیں سوجھ رہی ہے تو یہاں بھی اس کا حل ممکن ہو سکتا ہے لیکن تمام قوتوں کو اپنی اپنی جگہ سوچ و بچار اور جدوجہد کرنا ہو گی۔


اندریں حالات جب کہ رشوت ستانی و بدعنوانی کے عفریتوں نے پورے معاشرے کو اپنی اپنی ہوس و لالچ کے آہنی پنجوں میں جکڑ رکھا ہے اور ہر طرف ظلم و استبداد اور لوٹ کھسوٹ کا دور دورہ ہے اور کوئی نجات کا راستہ نظر نہیں آرہا ہے۔

Your Thoughts and Comments