Seer Laande Bazar Ki

سیر لنڈے بازار کی

تنویر حسین منگل جولائی

Seer Laande Bazar Ki
لنڈے بازار سے ہمارے تعلقات اتنے ہی پائیدار اور دیرینہ ہیں،جتنے پاکستان اور امریکہ کے ہیں ۔ہم کبھی کبھار ان تعلقات کو فروغ دینے کے لئے لنڈے بازار کی سیر کو چلے جاتے ہیں۔کہیں آپ یہ اندازہ نہ لگا لیں کہ لنڈابازارہی ہمارا اوڑھنا بچھونا ہے ۔لنڈے بازار سے ہمارا تعارف تو سب سے پہلے ہمارے چچا جان نے کرایا تھا۔دوران تعارف ہم غیرت قومی سے کچھ کچھ زمین میں بھی گڑ گئے۔

حالانکہ ہمیں اکبر الہٰ آبادی کی طرح چند بے پردہ بیبیاں بھی نظر نہ آئیں ۔بس یوں محسوس ہوا جیسے ہم لہو کا لبادہ اوڑھ کر”سرخرو“ہو چکے ہیں۔
لنڈے بازار سے اصل تعارف تو اس روز ہوا جب ہمارا ایک دوست ہمیں بہلا پھسلا کر لنڈے بازار لے گیا۔ہمیں جب اس کے منہ سے ماں باپ کے اطوار کی بجائے نیلے نیلے ،اودے اودے،پیلے پیلے پیر ہنوں کی بو آنے لگی تو ہمارے جی میں بھی آیا کہ چلو جب لنڈے بازار کی سیر کا سنہری موقع مل ہی رہا ہے تو بنیا نوں یا جرابوں کا ایک آدھ جوڑا خریدنے میں کیا حرج ہے؟پھر ہماری یہ سوچ ایک اور گہری سوچ سے بر سر پیکار ہو گئی۔

(جاری ہے)

وہ سوچ یہ تھی کہ کسی عزیز رشتے دار یا محلے دارنے ہمیں کسی ریڑھی سے گوہر مقصود نکالتے دیکھ لیا تو میرکی طرح ہماری عزت سادات بھی جاتی رہے گی۔
پھر ہم نے خود کو تسلی دیتے ہوئے کہا کہ ہم میر کی طرح کونسا عشق کررہے ہیں،ہم تو صرف شاپنگ کررہے ہیں۔ہمارا دوست چلتے چلتے ایک ریڑھی کے قریب مہنگائی کے ستائے ہوئے ان لوگوں میں کھڑا ہو گیا،جو نہ جانے کتنی دیر سے جرسیوں ،کوٹوں اور جرابوں کا تیاپانچا کرنے میں مصروف تھے۔

اس نے اس کار خیر میں ہمیں بھی شامل کرلیا۔ہماری نیت میں تو فتورتھا ہی ،اس لیے ہم اپنے دوست کی بے کسی کی لاج اور لنڈے بازار کا منہ رکھنے کے لئے کبھی کبھار ریڑھی میں دونوں ہاتھ ڈال کر یوں اٹھالیتے ،جیسے قوالی کے دوران تالی بجانے والا شخص ،یاد آنے پر اپنے دونوں ہاتھ ملا کر سامعین کے باپ دادا پر احسان کر ڈالتا ہے۔ہمارا دوست کچھ ایسا ”شیم پروف“ثابت ہوا کہ وہ بھرے بازار میں کوٹوں،جرسیوں ،جرابوں اور بنیانوں کے اندر اور باہر داخل خارج ہونے لگا۔


ہم آئینے کی مانند حیران وششدر،نہ صرف اس کی اچھل کوددیکھ کر،اس کی سپورٹس مین سپرٹ کی داد دیتے رہے بلکہ اس کے انتخاب کے محاسن اور نقائص بھی بتاتے رہے۔اس میں شک نہیں کہ ہم روز مرہ زندگی میں اپنے ہر عمل میں ،اپنی روایات کو بھول بھال کر ،انگریزوں کی طرح بڑے آدمی بننے کی ناکام کوشش کرتے رہتے ہیں۔یعنی انگریزوں کو یہاں سے گئے ایک عرصہ ہو چکا ہے مگر آج ہم ان کی اُترن پہن کر کتنا اتراتے ہیں ۔

وہ دن اور آج کا دن لنڈے بازار کو ہم نے ہمیشہ میلی کچیلی نظروں سے ہی دیکھا ہے ۔
انار کلی کا جب بھی کوئی ہمارے سامنے نام لیتا ہے ،ہم اپنے دل ستم زدہ کو تھام تھام لیتے ہیں مگر لنڈے بازار کا نام سنتے ہی ہمیں بے طرح غصہ آجاتا ہے ۔حالانکہ لنڈے بازار جانا یا اس میں سے گزرنا کوئی بری بات نہیں کیونکہ لنڈے بازار کو بیک وقت دوگرانقدر بازاروں یعنی لو ہامارکیٹ اور نولکھا بازار کی ہمسائیگی حاصل ہے۔

لنڈے بازار میں روزمحشر کا ساسماں نظر آتا ہے۔سردیوں میں لنڈے بازار کی ریڑھیوں کے اردگرد کھڑے ان گنت لوگ اپنی پسند کا سویٹر یا جرسی نکالنے کے لیے اپنی اپنی ناپسندیدہ جرسیاں اور سویٹر ایک دوسرے کے آگے پھینکتے جاتے ہیں۔
بسااوقات ایک ہی جرسی یا سویٹر بہت سے ہاتھوں کا شکار ہو جاتا ہے۔ایسے میں فیصلے کے جملہ حقوق بحق ریڑھی بان محفوظ ہوتے ہیں۔

کوٹ بیچنے والوں کی سردیاں بڑے مزے سے گزرتی ہیں۔بعض اوقات ان کے ناتواں کندھوں پر بھاری بھرکم انگریزوں کا بوجھ اتنا زیادہ ہوجاتاہے کہ انہیں دو ایک کوٹ مفت دینے میں بھی تامل نہیں ہوتا۔
ہمارے ہاں لوکل انڈرویئر بھی حقارت کی نظر سے دیکھے جاتے ہیں۔جس طرح بعض سنجیدہ مزاج دوست دوچار ملاقاتوں میں کھل جاتے ہیں،اسی طرح لوکل انڈرویئر بھی دوچار بار پہننے کے بعد نہ صرف کھل جاتے ہیں بلکہ خوب”کھلے ڈلے“ہو جاتے ہیں۔

جب ایک ہی انڈرویئر بہت سے ہاتھوں کا شکار ہو جاتا ہے ۔تو ایسے میں فیصلہ اسی کے حق میں ہوتا ہے ،جس کے بارے میں کوئی بازاری شاعرفی الفور یہی کہہ سکتاہے․․․․․
جوبڑھ کر خود اٹھالے زیرجامہ بس اسی کا ہے
لنڈے بازار میں پھیری لگانے والے رنگ برنگے کوٹ،پتلون،پاجامے،جرسیاں اور ٹائیاں اٹھائے
راہ گیروں کا قافیہ یاردیف وغیرہ تنگ کرتے ہیں ۔

راہ گیر اگر یہ کہنے کی کوشش کرے․․․․․․․بازار سے گزراہوں ،خریدار نہیں ہوں ۔تو وہ کہتے ہیں کہ آپ ایک بار پہن کر تو دیکھیں۔راہ گیر چپکے سے کھسکنے کی کوشش کرے تو پھیری والے اس کا تعاقب شروع کر دیتے ہیں اور بالآخر اسے دونوں ہاتھوں سے پکڑ کر کسی کا فراداانگریز حسینہ کی فراک نماقمیض پہنانے کی کوشش کرتے ہیں ۔پھیری والا کہتا ہے کہ ذرا بازوؤں کو ڈھیلا کرو اور گاہک بازو کے ایک جھٹکے سے اس کو پیچھے دھکیل دیتا ہے ۔

اب ایک پہنانے اور دوسرا نہ پہننے کا پختہ عزم کر لیتا ہے ۔یہیں سے کھینچا تانی شروع ہو جاتی ہے ،جو عموماً کشتی تک پہنچ جاتی ہے ۔بالآخر فراک کے بازو گاہک کے حصے میں اور اس کا بقیہ حصہ پھیری والے کے ہاتھ میں رہ جاتاہے۔
لنڈے بازار کے ریڑھی بان خواتین کی سستی نفسیات سے خوف واقف ہیں ۔وہ اپنی تمام ورائٹی کے الگ الگ دام پکارتے ہیں ۔پانچ کالے جا ،دس کالے جا اور بارہ کالے جا۔

ان آوازوں کے ہمراہ وہ کپڑے ہوا میں اچھال اچھال کر ان کا انتساب بھی بچوں کے نام کرتے جاتے ہیں ۔پپو کالے جا ،منے کالے جا ،چنے کالے جا اور کُنے کا لے جا۔تین چار خواتین کا گروپ جو گھر سے اجتماعی شاپنگ کرنے کے موڈ میں نکلتی ہیں،جو نہی کسی ریڑھی کا گھیراؤ کرتی ہیں ،ان کے ہاتھ برق رفتاری سے ریڑھی کے کپڑوں کو اوپر تلے کرنا شروع کر دیتے ہیں ۔

ان کے ذہن میں اس وقت اولاد گھوم رہی ہوتی ہے ۔یہ قمیض فلان کو پوری آجائے گی،یہ پاجامہ فلاں کی طبیعت کے لئے موزوں رہے گا۔لنڈے کے بعض پیس اتنے پیارے ہوتے ہیں کہ خواتین ان سے قطعاً کنارہ کش نہیں ہوتیں ۔وہ اس امید پر ایسے پیس خریدلیتی ہیں کہ چلو یہ کپڑے”منے“کو اس سال نہیں تو دوتین سال بعد کسی نہ کسی ”منے “کو پورے آجائیں گے ۔
لنڈے کے بعض کپڑے بہت دیدہ زیب ہوتے ہیں لیکن ان کی سلائی دیکھ کر عقل دنگ رہ جاتی ہے کیونکہ ان کا آگا بھی کھل رہاہوتا اورپیچھا بھی ۔

سب سے پہلے تو یہ پتہ نہیں چلتا کہ یہ مردانہ ورائٹی ہے یا زنانہ یادرمیانہ ۔اگر اس کی تخصیص ہو جائے تو بندے کو یہ فکر دامن گیر ہو جاتی ہے کہ یہ کس موسم کا کپڑاہے؟شادی پر پہنا جاتا ہے یا تعزیت پر؟اس کے اندر سر پہلے داخل کرناہے یا ٹانگیں۔بعض اوقات کپڑے کا حدود اربعہ ہی سمجھ نہیں آتا۔
لنڈے کی ایک آئٹم ایسی ہے ،جس کا تعلق پہننے سے نہیں بلکہ لٹکانے سے ہے۔

مسلمان ممالک کو ویسے بھی پردے کی اشد ضرورت ہے۔جس طرح دن بدن کپڑا مہنگا ہوتا جارہا ہے ،کیا خبر ہفتے میں دوتین دن پردے ہی پہن کر گزارا کرنا پڑے اور تنخواہ دار قیس لنڈے کے پردے میں بھی عریاں ہی نکلیں۔ہمارے ہاں بعض مرد بقول اکبر اپنی عقل بھی ڈھانپتے ہیں ،اس لئے ان کے لیے یہی پردے مفید ہوں گے۔
انگریزوں کے ہاں تن کی عریانی سے بہتر کوئی لباس نہیں،جس طرح کم بولنے اور کم کھانے میں حکمت ہے،اس طرح ان کے ہاں کم پہننے میں بھی کئی حکمتیں پوشیدہ ہیں۔

ہمارے ہاں عوام الناس کو اپنی آمدنی کے محدود وسائل کے اندر کھانے اور تن ڈھانپنے کی فکر کھائے جاتی ہے لیکن انگریز بہادر جلد از جلد اپنے کپڑوں سے نجات حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے اور زیادہ تر گلے اور سر کو ہی ڈھانپتا ہے ۔یہی وجہ ہے کہ اس کا پوشیدہ لباس چھتری ،ٹائی اور ہیٹ ہے۔
”کپڑے گرتے ہیں تو بے چارے مسلمانوں پر“
لنڈے بازار میں مناسب پیس خریدتے ہوئے خریدار بعض اوقات اپنے پہنے ہوئے کپڑوں سے بھی ہاتھ دھو بیٹھتا ہے۔

ایک خاتون اپنی سفید پوشی کا بھرم سیاہ برقع سے قائم رکھے،لنڈے بازار گئیں۔فٹ پاتھ پر ایک سیل مین لمبی سی چھڑی کی نوک پر جرسیوں اور سویٹروں کو فضا میں بلند کر رہا تھا۔سلائی ،کڑھائی ،دھلائی اور مہنگائی جیسے قافیوں پر خواتین واہ واہ کرتی ہوئی بڑھ چڑھ کر جرسیوں کی نبضیں اور اپنے پرس ٹٹول رہی تھیں،سیل مین”مفت ہی لے جا“آج ہی لے جا اور سارے ہی لے جا،کے نعرے لگا لگا کر خود ہی رقص کر رہا تھا۔

چیخ چیخ کر اس کی آواز بیٹھ چکی تھی اور اب صرف اس کا چہرہ سرخ ہوتا تھا اور آخر میں”چاں“کی آواز نکلتی تھی،برقع پوش خاتون زمین پر بیٹھ گئیں۔تھوڑی دیر بعد انہیں محسوس ہوا، جیسے ان کے سر سے کوئی چیز کھسک رہی ہے۔ایک نوواردبی بی عورتوں کی آڑ میں ان کا برقع اتار کر سیل مین سے مخاطب ہو ئیں۔ ”اس کی جائز قیمت لگانا۔“

Your Thoughts and Comments