Sharif Admi Ka Badalta Faisla

شریف آدمی کا بدلتا فیصلہ

حافظ مظفر محسن جمعرات جولائی

Sharif Admi Ka Badalta Faisla
”اوئے “یہ کیا بد تمیزی ہے میرا فون تمھارے پاس کہا ں سے آیا۔۔۔میں تمھیں ابھی پولیس کے حوالے کردوں گا۔۔جلدی سے مجھے ملو اور میرا فون واپس کرو“مجھ سے مزید نہ سنا گیا۔۔۔میرے اندر کا شریف النفس انسان غصے میں آگیا۔۔۔اس نے اپنا خوبصورت فیصلہ بدلہ اور۔۔۔موبائل فون۔۔۔
گاڑی میں بیٹھے بیٹھے۔۔لاہور کی خوبصورت نہرمیں پوری طاقت کے ساتھ پھینک دیا گاڑی کو چوتھے گیئر میں ڈالا اور ٹیپ ریکارڈر پر یہ گانا چلا دیا۔


”میں بارش کردوں پیسوں کی“
”جو تو ہو جائے میری“
میں سروسزہسپتال سے باہر نکلا۔۔۔پارکنگ میں ایک گاڑی کے پاس ایک نہایت نفیس اور مہنگاموبائل فون پڑا تھا۔۔۔میں نے وہ موبائل سیٹ اٹھایا ادھر ادھر دیکھا کوئی نظر یہ آیا تو میں نے ساتھ والی سیٹ پر رکھا اور گاڑی اسٹارٹ کرکے نہرکی طرف چل نکال۔

(جاری ہے)

۔۔میں نے غیر ارادی طور پر فون کو بائیں ہاتھ سے پکڑا۔

۔۔شیطان بھی میرے ساتھ ساتھ شاید نہرکی مٹرگشت کو نکلا تھا۔۔۔اس نے موازنہ شروع کر دیا۔۔۔میرے پاس جو نیا موبائل ہے جو پچھلے ہفتے میں نے اس رقم سے خریدا جو مجھے میرے باس نے میری نہایت اچھی کارکردگی پر مجھے دیا تھا۔۔۔جب میں نے نیا موبائل سیٹ خریدلیا اور سم ڈال کر مزے سے مختلف بٹن دبانے لگا یعنی کھیلنے لگا۔۔۔چھیڑ خوانی کرنے لگا تو دل میں خیال آیا کہ کاش یہ موبائل سیٹ نہ لیتا۔

۔۔وہ جو اس نے سب سے پہلے دکھایا تھا جس میں فنکشن بھی اس سے کہیں زیادہ تھے محض اس سیٹ سے سات ہزارروپے زیادہ دینے پر مل سکتا تھا،میں لے لیتا۔۔۔مجھے خود پر غصہ بھی آیا اور صنوبر خان پر بھی جس نے مشورہ دیا کہ محض فون پر بات کرنے کے لیے یا شوشا کے لیے ہاتھ میں پکڑنے کے واسطہ بندہ اتنے زیادہ پیسے کیوں ضائع کرے۔حالانکہ لوگ اس طرح کے کاموں کے لیے کروڑوں ضائع کر دیتے ہیں۔

۔۔محض شوبازی کے لیے یا خود کو بڑا ثابت کرنے کے لیے۔
اب وہ سیٹ۔۔۔میرے سپنوں کا شہزادہ سیٹ میری ساتھ والی سیٹ پر پڑا مسکرابھی رہا تھا۔۔۔اور چیخ بھی رہا تھا ۔۔جس کا تھا۔۔۔وہ بار بار گھنٹی بجا رہا تھا۔۔۔اچھی میوزکل ٹون اس نے سیٹ کی تھی ۔۔۔میں میوزک میں کھوسا گیا۔۔۔جدید دور ہے آپ چاہیں تو نہایت قدیم میوزک بھی بطور ٹون لگا کر سن سکتے ہیں۔

لطف مزہ دوبالا ہو جائے گا۔۔یکدم خیال ابھرا۔۔۔بندکردوں،اس کی سم نکال کر نہر میں پھینک دوں،سیٹ رکھ لوں۔۔۔میں نے اس خیال کو جھٹکا ۔۔۔نہیں چند ماہ قبل جب میرا موبائل فون گم ہوا تھا تو چند منٹ بعد ہی جس کو ملا تھا اس نے فون کرکے خوشخبری دی اور چند منٹ بعد میراگم شدہ فون میرے ہاتھ میں تھا۔(ایسے شریف آدمی اب کم کم ہی ملتے ہیں)
میں نے خود کو ذلیل کیا۔

۔۔اپنے اس عمل پر شرمندہ ہوا جو مجھ سے سرزد ہونے والا تھا۔۔۔میں نے شیطان سے بحث تکرار کی۔اور ساتھ والی سیٹ پر پڑا نہایت خوبصورت موبائل ہاتھ میں پکڑا۔۔کہ بار بار اس فون کا مالک بیل پہ بیل کیے جارہا ہے۔۔۔اسے خوش کردوں مطمئن کردوں۔۔۔اور جلدی سے اس کی گم شدہ چیز اس تک پہنچادوں تاکہ وہ کہے کہ آج بھی اچھے لوگ دنیا میں ہیں جن کی وجہ سے دنیا میں امن ہے۔

۔۔انصاف ہے۔۔۔حق کا بول بالا ہے۔۔۔میں یہ عمل کرنے کا سوچ کر خوش بھی ہورہا تھا اور خود کو بڑا انسان محسوس کررہا تھا۔۔شکرہے میرے والدین نے میری اچھی تربیت کی۔۔۔ورنہ میں فون زمین سے اٹھاتا ،اپنی سم اس میں ڈالتا ،مزے سے خاص خاص دوستوں کوفون کرتا۔۔بتاتا کہ میں نے نیا نہایت خوبصورت سیٹ لیا ہے۔۔۔بھلا میں کیوں کر بتاتاکہ میں نے تو پارکنگ میں زمین سے اٹھایا ہے اور کسی کی چیز کو اپنا سمجھ کے یا اپنا بنا کے استعمال کرنا شروع کر دیا ہے۔


”ہیلو “۔۔۔۔میں نے مزہ لیتے ہوئے مسحور کن انداز میں کہا۔۔۔”ہیلو“۔۔۔اس ہیلو کا انداز ہی اور تھا۔۔۔”ہائیں“میں ٹھیک سن رہا ہوں۔۔میرارنگ پیلا پڑ گیا۔۔۔چہرے کی رنگینی غائب۔۔۔آنکھوں اور گالوں پر عجب تناؤ محسوس ہورہا تھا۔۔۔سر میں یوں لگا جیسے پسینہ سا آگیاہو
۔۔۔جذبات کا بہاؤ الٹی جانب چل پڑا۔۔۔میرے ہیلو کے جواب میں کوئی نہایت بے ہودہ تلخ لہجے والا۔

۔۔جاہل سا ان پڑھ ساشخص بول اٹھا۔۔۔
”اوئے ۔۔۔یہ کیا بد تمیزی ہے ۔۔۔میرا فون تمھارے پاس کہاں سے آ گیا۔۔۔جلدی سے مجھے ملو۔۔۔اور میرافون واپس کرو۔۔۔ورنہ تمھیں پولیس کے پاس لے جاتا ہوں“۔
مجھ سے مزید نہ سنا گیا،میرے اندر کا شریف النفس انسان یکدم غصے میں آگیا۔۔اس نے اپنا خوبصورت فیصلہ بدلا اور ۔۔۔موبائل فون بائیں سیٹ سے اُٹھایا۔۔۔گاڑی میں بیٹھے بیٹھے ۔۔۔
دائیں ہاتھ میں پکڑا اورلاہور کی خوبصورت نہر میں پوری طاقت کے ساتھ پھینک دیا۔۔دل تذبذب کا شکار تھا۔۔۔میں نے گاڑی کو چوتھے گیئر میں ڈالا۔۔۔اور ٹیپ ریکارڈ ر پر تیز آواز کے ساتھ یہ گانا چلا دیا۔۔۔
”میں بارش کردوں پیسے کی“
”جوتو ہو جائے میری“

Your Thoughts and Comments