Ulta Chor Kotwal Ko Dante

الٹا چور کوتوال کو ڈانٹے

جمعہ 13 نومبر 2020

Ulta Chor Kotwal Ko Dante
سید عارف نوناری
بھارت ریڈیو‘ٹیلی ویژن‘اخبارات اور دیگر ذرائع سے بار بار یہ کہا جا ر ہا ہے کہ پاکستان حریت پسندوں کی امداد کرکے بھارت اور مقبوضہ کشمیر میں دہشت گردی پھیلا رہا ہے اور مقبوضہ کشمیر میں آئندہ الیکشن روکنے کے لئے ایسے اقدامات کر رہا ہے۔جبکہ پاکستان کا موقف ہے کہ بھارت کشمیریوں پر ظلم وستم‘قتل وغارت کر رہا ہے۔نہ پاکستان اپنے موقف کو بین الاقوامی سطح پر منوا سکا نہ بھارت بین الاقوامی سطح پر یہ ثابت کر سکا کہ کشمیر بھارت کا اٹوٹ انگ ہے پاکستان کی نسبت بھارت کے ذرائع اور میڈیا زیادہ موٴثر نظر آرہے ہیں ریڈیو اور بھارت کے ٹی وی پر کشمیر پر تبصرے روزانہ نشر کئے جاتے ہیں۔

بھارت نے یہ بھی کہا ہے کہ انگلستان پارلیمنٹ کے دو ممبر جنہوں نے کشمیر آکر مشاہدہ کیا تھا وہ واپس جاکر اپنے خیالات کا اظہار یہ کرتے ہیں کہ پاکستان مقبوضہ کشمیر میں دہشت گردی پھیلا رہا ہے۔

(جاری ہے)

ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان کے ذرائع اور میڈیا متحرک ہو جائیں اور جس طرح بھارت پراپیگنڈا میں مصروف ہے یہ بھی دنیا کو ثابت کر دے کہ کشمیر بھارت کا نہیں بلکہ پاکستان کا حصہ ہے۔


مسئلہ کشمیر حل نہ ہونے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ حکومتی سربراہوں نے اسے اتنی شدت سے نہ محسوس کیا فقط پاکستانی عوام کو تسلی اور بھروسہ پر رکھا بھارت کے سکھوں کا خیال ہے کہ مسئلہ کشمیر اگر حل ہو گیا تو سکھوں کو خالصتان کے حصول میں بہت آسانی رہے گی۔بھارتی لابیاں اور بھارتی بین الاقوامی تعلقات جنرل اسمبلی کے سیکرٹری جنرل بطروس غالی پر بھی بہت دباؤ ڈال لیتے ہیں جبکہ پاکستان اس معاملہ میں سست ثابت ہو رہا ہے۔

بھارت تمام دنیا کے سامنے حقائق کو دبا رہا ہے اور بار بار الزام لگا رہا ہے یعنی الٹا چور کوتوال کو ڈانٹے اور یہ الزام تراشی بین الاقوامی سطح پر پاکستان اور حریت پسندوں کے لئے نقصان دہ ہے۔بھارت کے ریڈیو پر تبصرے سن کر کوئی غیرت مند مسلمان چپ نہیں سادھ سکتا۔
بے نظیر بھٹو مسئلہ کشمیر کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے کے لئے اقدامات کر رہی ہیں حریت پسندوں کا موقف ہے کہ بے نظیر حریت پسندوں کی مدد نہیں کر رہی ہیں۔

میرا خیال ہے کہ غلط ہے اگر پاکستان اقوام متحدہ میں اپنا موقف بیان کرکے منوانے میں کامیاب ہو جاتا ہے تو پھر دنیا کی کوئی طاقت کشمیر کو پاکستان کا حصہ بننے سے نہیں روک سکتی پاکستان کے لئے سب سے ضروری یہ ہے کہ بھارتی پراپیگنڈا کا تدارک کیا جائے ۔ بھارت کی یہ بھول ہے کہ مقبوضہ کشمیر پاکستان کبھی حاصل نہیں کرے گا بلکہ بھارت یہ کہہ رہا ہے کہ استصواب رائے بھی پاکستان کے حق میں نہیں ہے یہ پاکستان کا خام خیال ہے ادھر طاعون کی بیماری کے علاوہ حکومت بھارت کو مقبوضہ کشمیر میں حریت پسندوں کا سامنا ہے۔

بھارت عالمی دنیا پر اپنا دباؤ بڑھانے کیلئے کاوشیں اور اقدامات کر رہا ہے اور پاکستان اقدامات کی مخالفت دن رات کر رہا ہے۔
جہاد کی اہمیت اور ترغیب کے علاوہ مجاہدین کو بھارت کی افواج کا مقابلہ کرنے کے لئے سر توڑ کوشش کے علاوہ ان تمام رکاوٹوں کا خاتمہ کر دینا چاہئے جو ان کی راہ میں حائل ہیں۔مسئلہ کشمیر کی مخالفت کی یہ وجہ ہے کہ بھارت کے ساتھ غیر مسلم اور کافر ہیں جو سب کچھ جانتے ہوئے بھی اس مسئلہ کو نظر انداز کرکے قرار دادوں کو ہمیشہ رد کرنے کے لئے اقدامات کرتے ہیں۔


بھارت یہ کہتا ہے کہ شملہ معاہدہ اور قرار دادیں اب وقت کے ساتھ ساتھ اپنی اہمیت کھو بیٹھی ہیں اور پاکستانی حکمران غلط کہتے ہیں کہ کشمیر بھارت کا نہیں۔ضرورت اس امر کی ہے کہ ایسے فورم بنائے جائیں جن کی بنیاد پر کشمیر کو اچھالا جائے جس طرح مسئلہ افغانستان کے لئے بین الاقوامی قوتیں متحرک ہو گئی تھیں اسی طرح مسئلہ کشمیر پر بھی عالمی آواز مل کر اٹھائی جائے۔

کشمیر میں بھارتی درندوں سے مسلمانوں کی قتل و غارت‘تشدد’عورتوں کی بے حرمتی‘بچوں اور بوڑھوں کا قتل ان سب کو بھارت کے ذرائع و ابلاغ کب تک چھپائیں گے‘ان کی چالیں ضرور ایک دن ناکام ہو جائیں گی اور حقائق دنیا کے سامنے آجائیں گے۔اتنی دلیری اور غلط بیانی سے بھارت کا مسئلہ کشمیر کو مسئلہ نہ کہنا‘آخر کس کی شہہ پر بھارت ایسے بیانات دے رہا ہے۔


بھارتی میڈیا کیوں غلط حقائق نشر کرنے میں لگا ہوا ہے اور رائے عامہ کو مسخ کر رہا ہے بلکہ عالمی رائے عامہ کو غلط رنگ دے کر اپنے مقاصد کے حصول میں لگا ہوا ہے اب وہ وقت دور نہیں جب پاکستان کے لئے ایک ہی راستہ ہو گا اور وہ راستہ جارحیت کا ہے۔پاکستان کو اینٹ کا جواب پتھر سے دینا ہو گا پھر ہی بھارتی درندوں کو ہوش آئے گا۔بھارت کا الزام کہ پاکستان کشمیر میں جمہوریت کا خاتمہ کرکے جمہوریت کا دعویدار ہے ایسی غلط قسم کی خبریں روزانہ سننے اور دیکھنے کو ملتی ہیں جس سے بھارت کی اصلیت کھل کر سامنے آجاتی ہے۔

مقبوضہ کشمیر میں بھارتی ظلم وستم جاری ہیں۔کئی ہفتوں سے کرفیو لگا ہوا ہے اور بھارتی افواج بربریت کا مظاہرہ کر رہی ہے۔حریت پسندوں پر ظلم کی انتہا کر دی گئی ہے۔اور استصواب رائے سے انکار بین الاقوامی سازشوں کا حصہ ہے۔عمران خان کئی بین الاقوامی فورم پر مسئلہ کشمیر اور کشمیری مجاہدین کی آواز کو اُٹھا چکے ہیں۔مسئلہ کشمیر کا حل صرف جارحیت کے علاوہ کچھ نہیں۔بھارتی حکومت کبھی بھی بات چیت کے ذریعہ اس مسئلہ کو حل کرنے میں مخلص نظر نہیں آئی۔

Your Thoughts and Comments