Vip

وی آئی پی

حافظ مظفر محسن جمعرات دسمبر

Vip
کار سوار تو اس سلسلہ میں سب سے زیادہ نمبر لے جاتے ہیں”میں تمہاری پیٹی (بیلٹ)اتروادوں گا۔اپنی پیٹی کا نمبر بتاؤ؟“اس قسم کے فقرے مال پر اکثر سنائی دیتے ہیں اور ہمارے پولیس کو خواہ مخواہ سردیوں میں بھی پسینے میں شرابور ہونا پڑتاہے۔
ہمارے گھر میں بذات خود ہم وی آئی پی ہیں اور اس کا اندازہ آپ اس بات سے لگاسکتے ہیں کہ گرمیوں کی چھٹیوں میں سیر سپاٹا کرتے جب ساری چھٹیاں گزرنے لگتیں تو ہم پر وی آئی پی دورہ پڑتا اور ہم”بستہ سر پر اٹھا لیتے“تو گھر والے ٹھنڈے پانی کے دوگلاس پلانے کے بعد جب اس وی آئی پی قسم کی شکل بنانے کی وجہ دریافت کرتے تو ہم چھٹیوں کا کام نہ کرپانے کی وجہ بتاتے۔

ہماری دادی اماں کمال شفقت سے چار پانچ دن میں ہمارا سارے کا سارا چھٹیوں کاکام خود کر دیتیں اور یوں ہم سکول میں پہلے دن وی آئی پی بن کے پہنچ جاتے۔

(جاری ہے)

یہی وجہ ہے کہ دوست ہمیں پیار سے ”نالائق“کہتے ہیں۔کہتے ہیں تو کہیں ہمیں اس سے کیا؟
خوش قسمتی کی بات ہے کہ ہمارا اس قوم سے تعلق ہے کہ جہاں ہر فرد خود کو وی آئی پی تصور کرتاہے۔چلیں کم از کم اونچا سمجھنے کی خواہش تو ہے؟بجلی کا بل جمع کرانے جائیں لوگ دھکم پیل تو کرتے ہیں قطار توڑ کر بینک کے اندر داخل ہوتے ہیں اور بیچارے کیشیئر پر خواہ مخواہ دھونس جماتے ہیں اور یوں ہمارے وی آئی پی رویوں کے باعث پندرہ منٹ میں ہونے والا کام گھنٹے میں بھی نہیں ہوپاتا۔

کام ہو نہ ہو ہم وی آئی پی تو ہوئے!
ہمارے ٹریفک پولیس والوں کو تو دن میں سینکڑوں وی آئی پی قسم کی”چیزوں “سے جھڑپ لینا پڑتی ہے۔ہر ٹرک والا ٹیکسی والا موٹر سائیکل والا ٹریفک پولیس کو اپنے وی آئی پی ہونے کی”تڑی“دیتاہے۔
بتانا یہ مقصود تھا کہ کوئی مانے یا نہ مانے ہمارے ہاں ہر آدمی خود کو وی آئی پی ثابت کرنے میں مصروف ہے۔بالکل ایسے جیسا کہ ہمارا ملک اور ہماری حکومتیں ۔

جب سے ہم نے آنکھ کھولی ہمیں یہی بتایا گیا کہ ہم پوری دنیا میں وی آئی پی ہیں۔دنیا کے بڑے سے بڑے صنعت کار پاکستان میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری بس”ابھی“کرنے ہی والے ہیں اور جب نئی حکومت آتی ہے تو وہ کہتی ہے کہ ہمارے پاس تو خالی خزانہ ہے جسے ہم”دس پندرہ “دن میں بھر دیں گے اور سچ پوچھیں گے تو ایسا ہی ہوتاہے یعنی ہر نئی حکومت چند دن بعد ہی خالی خزانہ بھر جانے کا دعوے کرتی ہے اور عوام خوشی سے ان بچوں کی طرح تالیاں بجانے لگتے ہیں کہ جوایئرپورٹ پر قطارمیں کھڑے کسی ہمسایہ ملک کے صدر کی آمد پر دھوپ میں سڑرہے ہوتے ہیں اور انہیں بتایا گیا ہوتاہے کہ جو نہی تمہیں سر پر ٹوپی پہنے سیاہ رنگ کا لمبا سا آدمی نظر آئے تو زور زور سے تالیاں بجا دینا اور ایسے میں غلطی سے ایک بینڈ ماسٹر وہاں سے نمودار ہوا تو بچوں نے”اپنا فرض“ادا کر دیا۔


Your Thoughts and Comments