Wehem

وہم

حافظ مظفر محسن جمعرات دسمبر

Wehem
ہمارے ایک دوست تھوڑے بہت”سیاسی “ہیں۔پچھلے دنوں آئے تو بڑے پریشان تھے ہم نے وجہ پوچھی تو گھبرا گئے۔اللہ اللہ کرتے ہوئے کانوں کو ہاتھ لگانے لگے اور گویا ہوئے”محسن بھائی پاکستان کا خدا ہی حافظ ہے سنا ہے موجودہ جمہوری دور بھی اپنے وقت سے پہلے ختم ہو جائے گا․․․․․“ارے میاں․․․․․․ تمہیں وہم ہو گیا ہے ہم نے ان کی موجودہ حالت دیکھتے ہوئے اندیشہ ظاہر کیا․․․․․کیا ہو گیا ہے ہمیں․․․․․․وہ بولے․․․․․وہم․․․․․․وہم “مسکرانے لگے․․․․․․کیوں بھائی یہ”وہم“ہو جانے پر مسکرا کیوں رہے ہو ان کا علاج نہیں ان کی یہ وضاحت ہمیں پسند آئی․․․․․․مگر علاج دریافت نہ ہونے سے ہم متفق نہ تھے۔

ہم نے بتایا کہ ہمارے عزیز ڈاکٹر کمر کمانی صاحب بڑے سے بڑے مرض کا علاج دریافت کرنے کا دعویٰ کرتے ہیں اور علاج بھی ہومیو پیتھک طریقے سے کرتے ہیں چلو ہم آپ کو ان کے پاس لے چلتے ہیں پہلے تو ہمارے ساتھ چلنے سے انکار کرتے رہے مگر ہمارے اصرار پر رضا مندی ظاہر کر دی۔

(جاری ہے)


ڈاکٹر کمر کمانی بڑے سادہ دل آدمی ہیں کسی بھی مریض کا علاج کریں تین دن تک اگر مریض تندرست نہ ہوتو خود بیمار پڑجاتے ہیں اور جوٹی وی پر دواؤں کے اشتہار کے آخر میں لکھا جاتاہے کہ تمام دوائیں بچوں کی پہنچ سے دور رکھیں۔

تندرستی نہ ہوتو ڈاکٹر سے مشورہ کریں۔“اگر تین دن تک ان کی دوائی کھانے سے مریض تندرست نہ ہوتو ڈاکٹر کمر کمانی صاف کہہ دیتے ہیں کہ”تمام دوائیں بچوں کی پہنچ سے دور رکھیں۔ٹھیک نہ ہوتو ڈاکٹر سے ضرور مشورہ کریں․․․․․․“یہاں ”ڈاکٹر“سے ان کی کیا مراد ہوتی ہے یہ آپ خود غور کریں؟
ہم نے جو ڈاکٹر کمر صاحب کو سلام عرض کیا تو حیرت سے پوچھنے لگے کہ میاں پہلے بھی کہیں تمہیں دیکھا ہے۔

ذرا تعارف ہو جائے․․․․․․؟جی میں محسن․․․․․․کون سے والا محسن․․․․․کرکٹ والا یا․․․․․․؟انکل میں ہوں․․․․․․آپ کا اصلی والا بھانجا اور آپ ہیں میرے ماموں؟ارے․․․․․توتم ہو․․․․․اس زور سے چھوٹی سی میز پر ہاتھ مارا کہ جرمن میڈدوتین ہزار کی دوا والی بوتلیں توڑ ڈالیں۔
انہوں نے بتایا کہ یہ ہمارے دوست ہیں․․․․․اظہر منہاس؟بیمار ہیں؟لگتے تو نہیں“انہوں نے اوپر سے نیچے تک معائنہ کرتے ہوئے فرمایا انہیں وہم کی بیماری ہے؟ارے میاں․․․․․․یہ”وہم“بیماری نہیں۔

یہ تو مشغلہ ہے اور ہماری قوم کے پچاس فیصد افراد نے یہ مشغلہ خوشی خوشی اپنا لیا ہے․․․․․․۔نہیں ڈاکٹر صاحب ہمارے دوست نے یہ مشغلہ بیماری کی حد تک اپنا لیا ہے۔آپ علاج کریں۔
ڈاکٹر صاحب نے علامات پوچھیں اور دوائی دے دی․․․․․․کتنے پیسے؟ہم نے دوائی پکڑتے ہوئے پوچھا․․․․․․”گیارہ روپے پچاس پیسے؟“مگر پچھلے مہینے تک تو آپ ایک دن کی دوائی کے دس روپے لیا کرتے تھے․․․․․․؟ارے میاں سیلز ٹیکس بھی تو لیا ہے اب پندرہ فیصد․․․․․․․“ڈاکٹر صاحب نے وضاحت کی۔

مگر جناب آپ پر تو سیلز ٹیکس نہیں لگا ارے میاں عقل کا علاج کراؤ ہر شریف آدمی پر پندرہ فیصد سیلز ٹیکس لگ چکا ہے اور ہمیں اپنی شرافت پر شک سا ہونے لگا․․․․․․․اور ان لوگوں کے بارے میں ہم کیا کہہ سکتے ہیں کہ جنہوں نے ہڑتالوں کے زور پر سیلز ٹیکس معاف کروالیا ۔
بات ہورہی ہے اسی دوست کی تو جناب ہم نے اپنے تئیں ان کا خوب علاج کرنا چاہا مگر کچھ ہاتھ نہ آیا اور حکیم لقمان کی بات سچ ثابت ہوئی کہ”وہم“کا کوئی علاج نہیں․․․․․․کیونکہ تین دن کے علاج کے بعد جب ہم نے ان کا امتحان لینا چاہا تو وہ ہمیں پہلے سے بھی زیادہ وہمی محسوس ہونے لگے۔

وہی بات دھرانے لگے بلکہ چوہرانے لگے کہ اس بار بھی جمہوری حکومت اپنی معیاد پوری نہ کر سکے گی․․․․․․؟“ہم نے آخر وجہ پوچھ ہی لی۔تو فرمایا․․․․․”مرتضیٰ․․․․․․“ہم نے وضاحت طلب کی تو بولے کہ”مرتضیٰ کو بڑی طاقتیں استعمال کرنا چاہتی ہیں․․․․․․؟“ارے میاں ہر آدمی ہر وقت ایک ہی جیسے کام کرنے کو تیار نہیں ہوتا اور نہ ہی ہونا چاہئے․․․․․“اور پھر یہ تو جدید زمانہ ہے․․․․․․”سپر کمپیوٹر“کا زمانہ․․․․․دوست نے تھوڑی سی وضاحت طلب کی․․․․․․تو ہمیں تو ابزادہ نصراللہ یاد آگئے کہ جن کے بارے میں میاں نواز شریف کو شک تھا کہ ایم آرڈی کی طرح وہ اب موجودہ حکومت کے خلاف کسی بڑی تحریک کے ساتھ ٹرک پر سوار ہی ہو جائیں گے مگر جب انہوں نے دیکھا کہ”جمہوری ٹرک“کی بجائے اپنے نواب زادہ نصراللہ صاحب”کشمیری جہاز“پر سوار ہو کر ملک در ملک آنے جانے لگے ہیں تو انہوں نے مایوسی میں اکیلے ہی”جمہوری پجارو“پر سفر شروع کردیا۔


وضاحت کچھ زیادہ لمبی ہو گئی اور پھر ماحول پر خاموشی بھی طاری ہو گئی تو ہم نے دوست کی طرف دیکھا ارے وہ تو خواب خرگوش کے مزے لوٹ رہے تھے۔
اصل میں ہمارے وہ لوگ کہ جنہوں نے”وہم“کو بطور مشغلہ اپنا لیا ہے بڑی بڑی باتیں․․․․․․․خاص طور پر سیاسی باتیں کرتے چلے جاتے ہیں اور بڑی طاقتیں کام کر جاتی ہیں چپکے سے کہ جو ہمارے وہمی لوگوں کے وہم وگمان میں بھی نہیں ہوتا۔بلکہ ”جمہوری ٹرک“اور ‘جمہوری پجارو‘پر سوار لوگ بھی کبھی کبھی بڑی طاقتوں کے بڑے بڑے تماشے منہ کھولے دیکھتے ہی رہ جاتے ہیں ۔کون ”جمہوری ٹرک“پر سوار ہوتاہے اور کیسے”جمہوری پجارو“نصیب ہوتی ہے یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا۔

Your Thoughts and Comments