Writer Kahan Hai?

رائٹر کہاں ہے؟

پیر نومبر

Writer Kahan Hai?
 اعتبار ساجد
ڈرامے دیکھنے کا ہمیں شوق تو ہے،فرصت نہیں،لیکن کوئی اصرار کرے تو ہم انکار بھی نہیں کرتے۔یہی وجہ ہے کہ جب احمق قرطاس پوری نے ہمیں اپنا ڈرامہ دیکھنے کی پر زور دعوت دی تو ہم انکار نہ کرسکے۔ویسے بھی موسم شدید گرم ہوتو ایئر کنڈیشنڈ ہال میں ڈرامہ یا ورائٹی شودیکھنے کے بہانے بندہ اطمینان سے دوڈھائی گھنٹے سو سکتاہے۔بقول شاعر
نیند سولی پہ بھی آجاتی ہے آرام کے ساتھ
چنانچہ ہم ڈرامہ دیکھنے گئے۔

ماشاء اللہ اس میں سب چیزیں تھیں۔مثلاً سٹیج ،روشنیاں،اداکار،ان کا میک اپ،مکالمے،پس منظر موسیقی ،منتظم اعلیٰ،نائب منتظم اعلیٰ،مہمان خصوصی اور مہمان خصوصیات خصوصی وغیرہ۔البتہ ایک چیز نہیں تھی اور وہ تھا رائٹر۔بحمد اللہ پورا ڈرامہ ہم نے جاگتی آنکھوں سے دیکھا۔

(جاری ہے)

اگر چہ درمیان میں ایک آدھ جھپکی بھی لے لی۔دو چار جمائیاں اور انگڑائیاں وغیرہ بھی لیں۔

تاکہ نیند پوری نہ ہو سکے تو کم از کم جسم کو تھوڑا بہت آرام تو مل جائے لیکن ایک سوال ہمیں بار بار پریشان کرتا رہا ہے اور آخر یہ ہمارے سامنے ہو کیا رہا ہے۔یہ کسی اسکرپٹ کے تحت ہورہا ہے تو اس کا رائٹر کون ہے اور یہ کس قسم کا رائٹر ہے اور کیا کہنا چاہتا ہے۔بہت غور کیا،خاصا دماغ لڑایا،لیکن یہ عقدہ وانہ ہوا۔تنگ آکر ہم نے اگلے دن اپنے احمق قرطاس پوری منتظم اعلیٰ ڈرامہ ہذا سے پوچھا۔

پہلے تو ان کی سمجھ میں ہمارا سوال نہیں آیا۔سگریٹ سلگا کر سر کھجانے لگے۔اس کام سے فارغ ہوئے تو دوسری مرتبہ سگریٹ سلگایا ادھر سے کچھ اطمینان ہوا تو پھر سر کھجانے کا عمل شروع کر دیا اور آخر میں تیسرا سگریٹ سلگانے سے پہلے ہم سے پوچھا۔”آپ کی بات سمجھ میں نہیں آئی ذرا وضاحت کریں۔“
ہم نے گزارش کی۔”دیکھے احمق صاحب۔اپنے تخلص جیسا دوسروں کو مت سمجھئے۔

صرف اتنا بتائیے کہ جو کچھ کل آپ نے دکھایا ہے وہ آپ ہی آپ ہوتا چلا گیا یا اس کے پیچھے رائٹر نام کی کوئی چیز بھی تھی؟“
احمق صاحب ہنس پڑے۔بولے”آج کل رائٹر کی کون سی ضرورت باقی رہ گئی ہے۔جناب کون سا کام ہے۔جو ہمارے آرٹسٹ نہیں کر سکتے۔وہ زمانہ گزر گیا،جب ڈرامے کے لیے ایک رائٹر کا ہونا ضروری تھا،ڈائریکٹر کا ہونا ضروری تھا۔اب تو جہاں چار آرٹسٹ جمع ہوئے سمجھ لیں ہٹ پلے تیار ہو گیا۔

بیچ میں کوئی کمی بیشی رہ گئی تو دو چار ٹوٹے ڈال دئیے۔کوئی اِدھر سے کوئی اُدھر سے۔اللہ اللہ خیر سلا۔ڈرامہ تیار ہے۔نوش فرمائیں۔“
ہم نے حیرت سے پوچھا۔”لیکن جس چیز کو اسکرپٹ کہا جاتاہے آخر وہ بھی تو کوئی درجہ رکھتی ہے تاکہ منظوری کے لئے متعلقہ افراد کے سامنے پیش کی جاسکے اور ڈیٹ مل سکے۔“
اس پر ہمارے احمق صاحب قہقہہ مار کے ہنسے بلکہ جھپا مار کر ہنسے۔

دیر تک ہماری لا علمی،بے خبری اور نان ٹیکنیکل ہینڈ ہونے کا ذکر کر کے وقفے وقفے سے چکر کھا کر قہقہوں کے پٹاخے چھوڑتے رہے۔آخر میں ازرہ شفقت فرمایا۔”سوچ سوچ کر اپنی صحت خراب نہ کریں۔بھائی میرے۔اب ہر چیز سسٹم کے تحت ہے۔ڈیٹ لینا ڈیٹ بیچنا۔ڈیٹ آگے سپلائی کرنا۔اسکرپٹ کی جلد بازی کروانا۔اس کی منظوری لینا۔ آرٹسٹوں سے معاوضے طے کرنا۔ڈرامہ کرنا ۔

ٹکٹیں بیچنا۔انکم میں ہیر پھیر کرنا۔مہمان خصوصی پکڑنا۔سپانسر پھانسنا پبلسٹی کے ٹوٹکے چلانا۔یہ سب ایک ٹیکنیکل مہارت اور سسٹم سے گہری واقفیت کے بعد ہی ممکن ہے اور آپ ہیں کہ ڈرامے میں رائٹر ڈھونڈ رہے ہیں۔موتیوں والی سرکار۔رائٹر تو بعد کی بات ہے۔ہم تو ڈائریکشن بھی آرٹسٹوں میں بانٹ لیتے ہیں۔“
ہم نے کہا۔”یہی وجہ ہے کہ ہمارا سٹیج ڈرامہ روز بروز اس سطح سے نیچے پھسل رہا ہے ۔

جسے معیار کہتے ہیں۔“
”معیار ؟“احمق صاحب چنگھاڑ کر بولے۔”کس چیز کا معیار؟ڈرامے کا؟صرف ڈرامے کا؟کیوں جی سیمنٹ کا معیار کیوں نہیں؟گھی کا معیار کیوں نہیں؟لال مرچوں کا معیار کیوں نہیں؟ہمارے اجتماعی اخلاق کا معیار کیوں نہیں؟صرف ڈرامے ہی کا معیار کیوں؟آپ تنقید نگاروں کو فائن آرٹ کے ہر شعبے کی غلطی فوراً نظر آجاتی ہے ۔فوراً آپ ڈنڈالے کر معیار معیار کرتے ہوئے فنون لطیفہ پر ٹوٹ پڑتے ہیں ،اور جو حقیقی زندگی کے ڈب کھڑبے معاملے ہیں،مسائل ہیں،چیزیں ہیں۔

ان پر واویلا کیوں نہیں کرتے۔کبھی آپ نے چائے کی پتی کی غیر معیاری ہونے کا تخلیقی اور تنقیدی سطح پر نوٹس لیا ہے؟تو ریکارڈ پر لائیں،ہمیں دکھائیں۔“
ہم نے کہا”اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم ہر غیر معیاری کام کو اس لیے قبول کرتے چلے جاتے ہیں کہ دنیا کی دیگر چیزیں کونسی معیار ہیں؟یہ تو کوئی بات نہ ہوئی۔“
احمق قرطاس پوری نے آٹھواں سگریٹ سلگا کر اطمینان سے دھواں چھوڑتے ہوئے کہا۔

”اچھا تو آپ معترض حضرات کرلیں جو ہمارا کرنا ہے ۔کروائیں برآمدگی ہمارے اسکرپٹوں اور ڈراموں سے رائٹر کی۔جب یہ رائٹر آپ کو دستیاب ہو جائے تو ہمیں بھی دکھائیے۔تاکہ ہمیں بھی خوشی ہو کہ کھویا ہوا رائٹر ڈرامے کی دنیا میں لوٹ آیا ہے۔ورنہ خالی خولی تنقیدیں نہ کریں ٹکٹ خریدیں اور چپ چاپ بیٹھ کر ڈرامہ دیکھیں۔”آئی سمجھ۔“!

Your Thoughts and Comments