چیف جسٹس کا خواجہ حارث سے مکالمہ،دلچسپ چٹکلے پر عدالت میں قہقے

میرے ڈاکٹر نے مجھے بتایا ہے کہ خواجہ حارث جب آپ کے سامنے پیش ہوتے ہیں تو آپ کے دل کی دھڑکن بڑھ جاتی ہے، چیف جسٹس کا خواجہ حارث سے مکالمہ

Muqadas Farooq مقدس فاروق اعوان پیر نومبر 15:01

چیف جسٹس کا خواجہ حارث سے مکالمہ،دلچسپ چٹکلے پر عدالت میں قہقے
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 12نومبر 2018ء) :سپریم کورٹ میں شریف خاندان کی سزا معطلی کے خلاف نیب اپیل پر سماعت ہوئی۔چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سماعت کی۔ دوران سماعت چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ یہ معاملہ ضمانت کا نہیں سزا معطلی کا ہے۔ابھی ہم نے نیب کی اپیل سماعت کے لیے منظور نہیں کی۔چیف جسٹس خواجہ حارث سے مکالمہ کرتے ہوئے کہنا تھا کہ آپ کی ضمانت والا فیصلہ قائم رکھتے ہیں۔

اگر ہم اس کیس کو قابل سماعت قرار دیں اور ضمانت برقرار رکھیں گے تو سزا معطلی والا معاملہ دیکھ لیتے ہیں۔دیکھ لیتے ہیں کہ معاملے پر لارجر بینچ بنانا ہے یا نہیں۔یہ اصول دیکھنا ہے کہ اپیلوں کی سماعت سے پہلے سزا معطلی سے کیس کا میرٹ تو متاثر نہیں ہوا۔

(جاری ہے)

چیف جسٹس نے نیب پراسیکوٹر سے کہا کہ اپنے نکات لکھ کر دیں۔آپ کو گذشتہ سماعت پر بھی کہا تھا کہ اپنے پوائنٹس تحریری طور پر دیں۔

ہم نے قریقین نے تحریر معروضات مانگی تھیں۔چیف جسٹس نے کہا کہ خواجہ حارث نے تفصیلی جواب دیا ہے۔خواجہ حارث نے لارجر بینچ بنانے کی استدعا کی۔دیکھتے ہیں کہ لارجر بینچ بننا ہے یا اسی بینچ نے سننا ہے۔اس کا فیصلہ فریقین کی تحریری معروضات کی روشنی میں کریں گے۔ہم نے نمبر کے ساتھ مفروضات طلب کی تھیں یہ مقدمہ سماعت منظوری کا ہے۔دوران سماعت چیف جسٹس نے خواجہ حارث سے دلچسپ مکالمہ بھی کیا اور کہا کہ جب آپ پیش ہوتے ہیں تو میرے دل کی دھڑکن بڑھ جاتی ہے۔

میرے ڈاکٹر نے مجھے بتایا ہے کہ خواجہ حارث جب آپ کے سامنے پیش ہوتے ہیں تو آپ کے دل کی دھڑکن بڑھ جاتی ہے۔چیف جسٹس کے ریمارکس پر کمرہ عدالت قہقہوں سے گونج اٹھا۔ سپریم کورٹ نے شریف خاندان کے خلاف نیب کی اپیلوں کو سماعت کے لیے مقرر کر دیا۔عدالت نے لارجر مبینچ تشکیل دینے کے لیے وکلاء سے تحریری مفروضات مانگ لیں۔عدالت نے سماعت 12دسمبر تک ملتوی کر دی۔

اسلام آباد شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments