نیب ہر قسم کی بدعنوانی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کیلئے پرعزم ہے، جسٹس (ر) جاوید اقبال

نیب بدعنوان عناصرکو قانون کے کٹہرے میں لانے کیلئے ’احتساب سب کا‘ کی پالیسی پر عمل پیرا ہے،چیئرمین نیب کا اجلاس سے خطاب

منگل اکتوبر 23:59

نیب ہر قسم کی بدعنوانی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کیلئے پرعزم ہے، جسٹس (ر) ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 22 اکتوبر2019ء) قومی احتساب بیورو(نیب) کے چیئرمین جسٹس (ر) جاوید اقبال نے کہا ہے کہ نیب ہر قسم کی بدعنوانی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کیلئے پرعزم ہے، میگا کرپشن وائٹ کالر کرائمزکے مقدمات کو منطقی انجام تک پہنچانا نیب کی اولین ترجیح ہے، نیب بدعنوان عناصرکو قانون کے کٹہرے میں لانے کیلئے ’’احتساب سب کا‘‘ کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔

نیب ہیڈکوارٹر میں ادارے کی مجموعی کارکردگی سے متعلق جائزہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ نیب کی آگاہی ،تدارک اور قانون پر عملدرآمد پر پالیسی کے شاندار نتائج سامنے آئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نیب بڑے پیمانے پر لوگوں سے دھوکہ دہی سے لوٹ مار، مالی کمپنیوں میں فراڈ، منی لانڈرنگ، بینک فراڈز، اختیارات کے ناجائز استعمال اور سرکاری ملازمین کی جانب سے سرکاری فنڈز میں خرد برد کے مقدمات کو ترجیحی بنیادوں پر نمٹاتا ہے۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ نیب نے ان کی قیادت میں گذشتہ 23 ماہ کے دوران بدعنوان عناصر سے 71 ارب روپے وصول کئے ہیں جو ایک نمایاں کامیابی ہے، نیب نے ادارہ جاتی خامیوں، آپریشن، پراسیکیوشن، انسانی وسائل کی ترقی ، آگاہی اور تدارک سمیت تمام شعبوں کے تفصیلی جائزہ کے بعد مجموعی طریقہ کار میں اصلاحات کی ہیںجس سے نیب فعال ادارہ بن چکا ہے۔ چیئرمین نیب نے کہا کہ نیب نے اپنے قیام سے لے کر اب تک بدعنوانی کے 1230ریفرنس متعلقہ احتساب عدالتوں میں دائرکئے ہیں اور تقریباً300 ارب روپے وصول کرکے قومی خزانے میں جمع کرائے ہیں، نیب کو 2018ء کے مقابلے میں2019ء میں دوگنا شکایات موصول ہوئی ہیں،گذشتہ23 ماہ کے اعدادوشمارکے جائزے سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ نیب کے تمام افسران سخت محنت اور لگن سے کام کررہے ہیں اور بدعنوانی کے خاتمے کو اپنا قومی فرض سمجھ کر ادا کررہے ہیں، نیب میں شکایات میں اضافہ نیب پر عوام کے اعتماد کا اظہار ہے۔

انہوں نے کہا کہ نیب نے جدید فرانزک سائنس لیبارٹری قائم کی ہے جس میں ڈیجیٹل فرانزک، سوالیہ دستاویزات اور فنگر پرنٹ کے تجزیہ کی سہولت موجود ہے۔ چیئرمین نیب نے کہا کہ پلڈاٹ، مشعال پاکستان، ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل اور عالمی اقتصادی فورم جیسے معتبر قومی اور بین الاقوامی اداروں نے بدعنوان کے خاتمہ کیلئے نیب کی کاوشوں کی سراہا ہے، گیلانی اینڈ گیلپ سروے کی رپورٹ کے مطابق 59فیصد لوگ نیب پر اعتماد کرتے ہیں۔

جسٹس جاوید اقبال نے کہا کہ نیب نے مقدمات کو تیزی سے نمٹانے کیلئے 10ماہ کا عرصہ مقرر کیا ہے۔ انہوں نے نیب کے تمام ڈائریکٹر جنرلز کو ہدایت کی کہ وہ مقررہ مدت میں شکایات کی جانچ پڑتال ، انکوائریاں اور انویسٹی گیشن نمٹائیں۔ انہوں نے نیب افسران کو یہ بھی ہدایت کی ہے کہ وہ بلا خوف وخطر ہو کر قانون کے مطابق اپنے فرائض سرانجام دیں۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ تمام مقدمات کو ٹھوس شواہد کی بنیاد پر میرٹ پر نمٹایا جائے گا۔

چیئرمین نیب نے کہا کہ نیب افسران ہائی پروفائل وائٹ کالر کرائم کی تحقیقات کررہے ہیں تاہم ہر شخص کے عزت و احترام کا خیال رکھا جائے اور اس پر لگائے گئے الزامات میں اسے صفائی کا پورا موقع فراہم کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ نیب افسران مقدمات کے دوران انتہائی صبروتحمل اورعزم کا مظاہرہ کریں اور بدعنوان عناصرکو قانون کے مطابق انصاف کے کٹہرے میں لانے کیلئے مقدمات کی تفتیش بروقت مکمل کریں۔

اسلام آباد شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments