گلشن اقبال میں مسکن چورنگی پر عمارت میں دھماکہ کی تحقیقات کی جارہی ہیں،سعید غنی

جب تک قانون نافذ کرنے والے ادارے کوئی رپورٹ نہیں دے دیتے نہیں کہا جاسکتا کہ یہ دہشتگردی ہے یا کوئی اور وجہ سے ہوا ہے سانحہ میں جاں بحق اور زخمیوں کی سندھ حکومت مکمل مدد کرے گی، ہماری اولین ترجیح عمارت میں پھنسے لوگوں کو ریسکیو کرنا ہ ، اس کے بعد متاثرہ افراد کی طبی مدد فراہم کرنا ہے، وزیر تعلیم و محنت سندھ

بدھ اکتوبر 21:34

گلشن اقبال میں مسکن چورنگی پر عمارت میں دھماکہ کی تحقیقات کی جارہی ..
کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 21 اکتوبر2020ء) وزیر تعلیم و محنت سندھ سعید غنی نے کہا ہے کہ گلشن اقبال میں مسکن چورنگی پر عمارت میں ہونے والے دھماکہ کی تحقیقات کی جارہی ہیں اور جب تک قانون نافذ کرنے والے ادارے کوئی رپورٹ نہیں دے دیتے نہیں کہا جاسکتا کہ یہ دہشتگردی ہے یا کوئی اور وجہ سے ہوا ہے۔ سانحہ میں جاں بحق ہونے والوں اور زخمیوں کی سندھ حکومت مکمل مدد کرے گی۔

ہماری اولین ترجیح عمارت میں پھنسے لوگوں کو ریسکیو کرنا ہے اور اس کے بعد ہم متاثرہ افراد کی طبی مدد فراہم کرنا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوںنے بدھ کی صبح مسکن چورنگی، گلشن اقبال میں عمارت میں دھماکہ کے فوری بعد سانحہ کے مقام پر جاری ریسکیو کے کاموں کا جائزہ لینے کے دوران کیا۔ اس موقع پر کمشنر کراچی، ڈپٹی کمشنر ایسٹ اور دیگر متعلقہ افسران بھی موجود ہیں۔

(جاری ہے)

سعید غنی نے کہا کہ وزیراعلیٰ سندھ نے فوری طور پر ریلیف کے کاموں کو تیز کرنے کی ہدایات دی ہیں اور ہماری پہلی ترجیع وہاں پھنسے لوگوں کو ریسکیو کرنا اور جو زخمی ہیں ان کو فوری امداد فراہم کرنا ہے۔ انہوںنے کہا کہ دھماکہ کے اسباب اور دیگر کے حوالے سے ابھی معلومات لی جارہی ہیںابتدائی طور پر 19 افراد کے زخمی ہونے کی اطلاع ہے، جبکہ ریسکیو حکام نے بتایا ہے کہ عمارت کے ملبہ میں پھنسے تمام افراد کو ریسکیو کرلیا گیا ہے۔

ایک سوال کے جواب میں سعید غنی نے کہا کہ متاثرین اور جو یہاں سے بے گھر ہوئے ہیں ان کو حکومت ریلیف فراہم کررہی ہے۔ ایک اور سوال پر انہوںنے کہا کہ یہ عمارت اب رہائش کے قابل نہیں رہی ہے اس لئے اس کو توڑا جائے گا۔ تحقیقات کے حوالے سے سوال کے جواب میں سعید غنی نے کہا کہ اس حوالے سے تحقیقاتی ادارے شواہد اکٹھا کررہے ہیں اور اس کے بعد ہی اس سانحہ کی اصل وجہ کا تعین کیا جاسکتا ہے۔#

کراچی شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments