فرانس میں گستاخانہ خاکوں کیخلاف کراچی کے صحافیوں کا پریس کلب کے باہر احتجاجی مظاہرہ

فرانس میں گستاخانہ خاکوں کی اشاعت کے خلاف کراچی کی صحافی برادری سراپا احتجاج بن گئی

جمعرات اکتوبر 23:37

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 29 اکتوبر2020ء) فرانس میں گستاخانہ خاکوں کی اشاعت کے خلاف کراچی کی صحافی برادری سراپا احتجاج بن گئی۔ فرانس میں حکومتی سرپرستی میں گستاخانہ خاکوں کی اشاعت کیخلاف کراچی یونین آف جرنلسٹس دستور،کراچی پریس کلب اور کراچی کی تمام صحافتی و فوٹو گرافر تنظیموں نے جمعرات کے روز کراچی پریس کلب کے باہر مشترکہ احتجاجی مظاہرہ کیاجس میں پرنٹ والیکڑونک میڈیا سے تعلق رکھنے والے صحافیوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

احتجاجی مظاہرین نے فرانس کے صدر کے خلاف شدید نعرے بازی کی اور گستاخانہ خاکوں کی اشاعت پر شدید غم وغصے کا اظہار کیا۔ شرکا نے ہاتھوں میں کتبے اور بینرز اٹھارکھے تھے جن پر فرانس کے مکروہ اقدام کے خلاف نعرے درج تھے اور فضا فرانس مردہ باد کے نعروں سے گونجتی رہی۔

(جاری ہے)

احتجاجی مظاہرے سے کراچی یونین آف جرنلسٹس دستور کے صدر ریاض احمد ساگر،سیکرٹری محمد عارف خان،کراچی پریس کلب کے صدر امتیاز خان فاران،سیکرٹری ارمان صابر،کراچی یونین آف جرنلسٹس کے صدر حسن عباس،سیکرٹری عاجز جمالی،جی ایم جمالی،پیپ کے صدر محمد جمیل،جنرل سیکرٹری عباس مہدی،کراچی پریس کلب کے سابق سیکر ٹری اے ایچ خانزادہ،عامر لطیف سمیت دیگر نے خطاب کیا۔

مقررین نے کہا کہ فرانسیسی صدر انتہا پسندی کو ہوا دے رہے ہیں،آزادی اظہار رائے کی آڑ میں دنیا بھر کے مسلمانوں کی حرمت کی توہین کی گئی جس سے ہر مسلمان دل گرفتہ ہے۔ آزادی اظہار رائے کی آڑ میں ایک ارب 90 کروڑ مسلمانوں اور ان کی حرمت کی توہین کی گئی جس سے صرف انتہا پسندی کو تقویت ملے گی۔ہم اپنے پیارے نبی حضرت محمدؐ کی ناموس کی حفاظت کے لیے کچھ بھی کرگزرنے کو تیار ہیں۔

ہم ایسی کسی آزادی کو نہیں مانتے جس میں رسول اللہ کی گستاخی کی جائے۔اس کو اظہار رائے کی آزادی قرار دینا ظلم ہے۔گستاخانہ خاکوں کی اشاعت سے دنیا بھر میں بسنے والے مسلمانوں کے جذبات مجروح ہوئے ہیں۔کراچی پریس کلب کے صدر امتیاز خان فاران نے کہا کہ فرانسیسی صدر میکرون نے پورے عالم اسلام کے جذبات کو مجروح کیا ہے فرانس میں گستاخانہ خاکوں کی اشاعت حکومت کی سر پرستی میں کی گئی ہے جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے وہ کم ہے اس لیے ضروری ہے کہ فرانس سے ہر سطح پر تعلقات ختم کیے جائیں۔

سیکرٹری ارمان صابر نے کہا کہ کوئی مسلمان حضرت محمد ؐ کی شان میں گستاخی برداشت نہیں کر سکتا فرانس نے پورے مسلم دنیا کے مسلمانوں کے جذبات مجروح کیے ہیں،انہوں نے کہا کہ فرانسیسی صدر انتہا پسندی کو ہوا دے رہے ہیں،فوری طور پرفرانسیسی سفیر کو ناپسندیدہ شخصیت قرار دے کر ملک بدر کیا جائے،صحافی برادری حضور ؐکی شان میں کسی گستاخی پر خاموش نہیں رہیں گے،صحافی برادری اس اقدام کی شدید مذمت کرتی ہے اور سراپا احتجاج ہے۔

کراچی یونین آف جرنلسٹس دستور کے صدر ریاض احمد ساگر نے کہاکہ ہم فرانس کے صدر کی طرف سے گستاخانہ خاکوں کی اشاعت کے فیصلے کی شدید مذمت کرتے ہیں۔ پیغمبر اسلام حضرت محمدؐ کی بے حرمتی کرنے والے دنیا کے امن کے ساتھ کھیل رہے ہیں۔فرانسیسی صدر کا اس معاملے کو آزادی اظہار رائے کا بیان دینا قابل مذمت ہے۔سیکرٹری محمد عارف خان نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پیغمبر اسلام محمدؐ کے خاکے بنانے والوں اور ان کے سرپرستوں کو قانون کی گرفت میں لایا جائے۔

مغرب میں مسلمانوں پر حجاب، قرآن، مساجد، اسلامی تعلیمات، اسلامی شعائر کے خلاف منفی پروپیگنڈا بند کیا جائے۔او آئی سی اس اسلسلہ میں موثر اقدام کرے۔ حکومت پاکستان امت مسلمہ اور پاکستانی صحافیوں کے جذبات فرانس تک پہنچائے۔کراچی یونین آف جرنلسٹس کے صدر حسن عباس نے کہا کہ فرانس میں بار بار شان رسالت محمد ؐکی شان میں گستاخیاں کی جارہی ہیں۔

فرانسیسی حکومت کی زیر سرپرستی میگزین میں توہین آمیز خاکے شائع کئے گئے ہیں۔توہین آمیز خاکوں کی اشاعت کے بعد امت مسلمہ کے دل اور جذبات مجروح ہوئے ہیں۔فرانس کے صدر کا بیان سلام اور امت مسلمہ کے خلاف ہے جو کہ قابل مذمت بھی ہے اور ہم اس کی بھرپور مذمت کرتے ہیں۔جی ایم جمالی نے کہا کہ آزادی اظہار رائے کے نام پر اسلام اور مسلمانوں کے خلاف سازشیں بند کی جائیں۔دنیا کے کسی بھی معاشرے میں رائے کے اظہار کی ایسی آزادی نہیں دی جاتی جس سے دوسروں کے جذبات مجروح ہوں۔

کراچی شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments