قانون کی نظر میں ایک ملزم تب تک مجرم نہیں ہوتا جب تک جرم ثابت نہ ہو جائے ،جھوٹا اور بے بنیاد مقدمہ کسی فرد کے عزت و وقار کیلئے ایک بڑا دھچکا ہوتا ہے،لاہور ہائی کورٹ

جمعرات نومبر 20:21

لاہور۔26نومبر  (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 26نومبر2020ء) :لاہور ہائیکورٹ نے بجلی چوری کے جھوٹے مقدے میں پھنسانے پر سول عدالت کی طرف سے ہتک عزت کا دعوی مسترد کئے جانے کے خلاف قرار دیا ہے کہ آج ہم جس معاشرے میں رہتے ہیں وہاں جس شخص پر الزام لگ جائے اسے گنہگار تصور کر لیا جاتا ہے حالانکہ قانون کی نظر میں ایک ملزم تب تک مجرم نہیں ہوتا جب تک جرم ثابت نہ ہو جائے، جھوٹا اور بے بنیاد مقدمہ کسی فرد کے عزت و وقار کیلئے ایک بڑا دھچکا ہوتا ہے جب قانون جھوٹے الزامات کے تحت حرکت میں آسکتا ہے تو کیا اس سے متاثرہ شخص کیلئے بھی داد رسی کا کوئی فورم موجود ہے۔

کسی شہری کی تضحیک کا سوال پیدا ہو تو فوری ذہن میں آتا ہے کہ ہمارا قانون اچھائی پھیلانے کی بات کرتا اور برائی کو روکتا ہے۔

(جاری ہے)

لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس شاہد وحید اور جسٹس چودھری محمد اقبال پر مشتمل دو رکنی بنچ نے درخواست گزار نعیم احمد کی دیوانی اپیل پر 8 صفحات کا تحریری فیصلہ جاری کیا۔فیصلہ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اچھائی کی ترویج ہی انسانی وقار کی بنیاد ہے، آئین بھی شہریوں کی زندگی، آزادی اور وقار کے تحفظ کی ضمانت دیتا ہے قانون بنانے کا مقصد شہریوں کے وقار کا تحفظ اور جرائم کی روک تھام ہے مشاہداتی مطالعہ کے مطابق لوگ جھوٹے مقدمات درج کروانے میں کوئی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرتے مقدمہ خارج ہونے یا مقدمہ سے بریت کے باوجود بھی فرد معاشرے میں پہلے جیسا مقام ، وقار اور عزت دوبارہ حاصل نہیں کر پاتا ایک بے گناہ فرد کو ساری زندگی اسی جھوٹے مقدمے کے بد نما دھبے کے ساتھ جینا پڑتا ہے جھوٹے مقدمہ میں ملوث فرد کی آنے والی نسلوں کو بھی اسی رسوائی کا سامنا کرنا پڑتا ہے دوسری طرف جھوٹے الزامات لگانے والے اپنی زندگی کی موجیں لوٹ رہے ہوتے ہیں ایسی دو فروعی تقسیم ہی حقوق اور فرائض کے درمیان توازن کو خراب کرتی اور انسانی تعظیم کو نقصان پہنچاتی ہے پراسکیوشن کے لفظ کی ابھی تک کوئی تشریح اور نہ ہی جھوٹی پراسکیوشن کیخلاف کوئی قانون سازی موجود ہے ہمارے معاشرے میں جھوٹے الزامات عائد کرنا عام بات ہو چکی ہے لوگ کسی سے بدلہ لینے، دشمنی نکالنے، جان چھڑوانے اور سستی شہرت حاصل کرنے کیلئے جھوٹے الزامات عائد کرتے ہیں 2015 میں بجلی کے زیادہ بل بھجوانے پر درخواست گزار نعیم احمد نے ماڈل ٹاﺅ ن سوسائٹی انتظامیہ کیخلاف احتجاج کیا تھا ماڈل ٹاﺅن سوسائٹی عہدیداروں نے مئی 2016ءمیں نعیم احمد پر بجلی چوری کا جھوٹا مقدمہ درج کروایا تھا پولیس نے درخواست گزار نعیم احمد کو بے گناہ قرار دے کر 2017ئ میں مقدمہ خارج کر دیا تھا درخواست گزار نعیم نے ماڈل ٹاﺅ ن سوسائٹی کی جانب سے بجلی چوری کا جھوٹا مقدمہ درج کروانے پر سول عدالت سے رجوع کیا تھا سول عدالت نے ماڈل ٹاﺅن سوسائٹی کے سابق عہدیداروں کیخلاف 20 کروڑ روپے سے زائد مالیت کی ہتک عزت دعوی خارج کر دیا تھا لاہور ہائیکورٹ نے سول کورٹ کو ماڈل ٹاﺅن سوسائٹی کے سابق عہدیداروں کیخلاف ہتک عزت کے دعوی پر دوبارہ سماعت کا حکم دے دیا۔


لاہور شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments